میری بہنیں اور بیٹیاں مجھ سے کثرت سے سوال کررہی ہیں کہ وہ اپنے زیورات کی زکوٰۃ کیسے نکالیں ؟ وہ اپنی یہ پریشانی بھی رکھتی ہیں کہ ان کے پاس کچھ پیسے ہی نہیں ہیں ، پھر وہ زکوٰۃ کیسے ادا کریں؟ میں نے انہیں جواب دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کشادگی کی امید رکھیں اور جب کچھ پس انداز کرلیں تب زکوٰۃ نکال دیں _
میرے بعض احباب کو شکایت ہے کہ میں ایسے مسائل کیوں بیان کرتا ہوں جن سے خواتین کی اکثریت پریشانی میں مبتلا ہے؟ اس سلسلے میں فقہاء کا اختلاف معروف ہے _ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہر طرح کے زیورات پر زکوٰۃ ہے ، جب کہ ائمۂ ثلاثہ (مالک ، شافعی ، احمد) کے نزدیک استعمالی زیورات پر زکوٰۃ نہیں ، تو میں خواتین کے سامنے صرف امام ابوحنیفہ کا مسلک کیوں بیان کرتا ہوں؟ ان کے سامنے یہ صراحت کیوں نہیں کرتا کہ دیگر ائمہ کے نزدیک زیورات پر زکوٰۃ نہیں ، اس لیے وہ چاہیں تو ان کے مسلک پر عمل کرسکتی ہیں ، اس صورت میں ان پر زیورات کی زکوٰۃ عائد نہیں ہوگی _
عرض ہے کہ قرآن و حدیث کا جو کچھ میں نے مطالعہ کیا ہے اور جو کچھ سمجھا ہے اس سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہر طرح کے زیورات پر زکوٰۃ ادا کی جانی چاہیے ، اس لیے میں وہی بات بیان کرتا ہوں _ مجھے اس سے کچھ غرض نہیں کہ میری رائے کسی امام کے موافق ہے یا مخالف _
زیورات پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ اس سلسلے میں علما کا اختلاف ہے _ یہ اختلاف صحابہ و تابعین کے زمانے سے ہے _ حضرات صحابہ و صحابیات میں ابن عمر ، جابر ، عائشہ ، انس ، اسمابنت ابی بکر ، تابعین و متاخرین میں قاسم ، شعبی ، قتادہ ، محمد بن علی ، عمرہ ، ابو عبیدہ ، اسحاق ، ابو ثور اور ائمۂ ثلاثہ زکوٰۃ کے عدمِ وجوب کے قائل ہیں _ لیکن صحابہ ، تابعین اور فقہا کی دوسری جماعت زیورات میں زکوٰۃ واجب قرار دیتی ہے _ ان میں عمر بن الخطاب ، ابن مسعود ، عبد اللہ بن عمرو ، سعید بن المسیّب ، سعید بن جبیر ، عطا ، مجاہد ، عبد اللہ بن شدّاد ، جابر بن زید ، ابن سیرین ، میمون بن مہران ، زہری ، ثوری اور امام ابو حنیفہ قابلِ ذکر ہیں _
دونوں کی تائید میں کچھ روایات و آثار ہیں _ ذیل میں ان کا تذکرہ کیا جاتا ہے :
(1) ام المؤمنین حضرت عائشہ اپنی بھتیجیوں کو ، جو ان کے زیرِ پرورش تھیں ، سونے کے زیورات پہناتی تھیں ، مگر ان کی زکوۃ نہیں نکالتی تھیں _ ( موطا مالک)
(2) حضرت عبداللہ بن عمر اپنی صاحب زادیوں کو سونے کے زیورات پہناتے تھے ، مگر ان کی زکوٰۃ نہیں نکالتے تھے _(موطا مالک)
(3) حضرت اسماء بنت ابی بکر اپنی لڑکیوں کو سونے کے زیورات پہناتی تھیں ، مگر ان کی زکوٰۃ نہیں نکالتی تھیں _(بیہقی)
(4) حضرت جابر بن عبداللہ سے کسی نے پوچھا : کیا زیورات میں زکوۃ ہے؟ انہوں نے جواب دیا : نہیں _(بیہقی)
(5) ام المؤمنين حضرت عائشہ فرماتی ہیں : ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے میرے ہاتھوں میں چاندی کے چھلّے (بغیر نگینے کی انگوٹھیاں) دیکھے تو فرمایا : یہ کیا ہے؟ عائشہ! میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کے لیے زینت اختیار کرنے کے مقصد سے انہیں پہنا ہے _ آپ نے فرمایا : کیا ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ میں نے عرض کیا : نہیں ( یا تھوڑا بہت دے دیتی ہوں) آپ نے فرمایا : ” جہنم کی آگ سے محفوظ رہنے کے لیے ان کی زکوٰۃ ادا کرنا ضروری ہے _” (ابوداؤد : 1565)
(6) ایک عورت رسول اللہﷺ کی خدمت میں اپنی لڑکی کے ساتھ حاضر ہوئی _ اس لڑکی کے ہاتھ میں سونے کے دو موٹے کنگن تھے _ آپ نے دریافت کیا : کیا ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو؟ اس نے جواب دیا : نہیں _ آپ نے فرمایا : کیا تمہیں اچھا لگے گا کہ اللہ تعالٰی روزِ قیامت اس کے بدلے جہنم کی آگ کے کنگن پہنائے _ یہ سن کر اس نے دونوں کنگن اتار کر نبیﷺ کے آگے رکھ دیے اور کہا : یہ اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہیں _ ( ابوداؤد : 1563 ، نسائی : 2479)
(7) ام المؤمنین حضرت ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا : کیا سونے کے زیورات کا شمار بھی اس مال پر ہوگا جس کے جمع کرنے پر عذاب کی وعید سنائی گئی ہے؟ آپ نے فرمایا : ” اگر ان کی زکوٰۃ ادا کر دی جائے تو ان کا شمار ایسے مال میں نہیں ہوگا _”
(ابوداؤد : 1564)
( حضرت زینب ( حضرت عبداللہ بن مسعود کی بیوی) بیان کرتی ہیں کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمارے درمیان خطبہ دیا تو فرمایا :
تَصَدَّقْنَ يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ وَلَوْ مِنْ حَلْيِكُنَّ
(بخاری : 1466، مسلم : 1000)
” اے عورتو ! صدقہ کیا کرو ، خواہ تمہیں اپنے زیورات ہی میں سے کرنا پڑے _”
ابتدائی 4 آثارِ صحابہ و صحابیات سے معلوم ہوتا ہے کہ استعمالی زیورات پر زکوٰۃ نہیں ہے ، لیکن بعد کی 4 احادیثِ نبوی سے معلوم ہوتا ہے کہ زیورات کی زکوۃ نکالنا واجب ہے _ یہ احادیث وجوبِ زکوٰۃ کے بارے میں زیادہ صریح ہیں _ اسی لیے امام خطابی نے فرمایا ہے : ” کتاب اللہ میں مال و دولت جمع کرنے اور اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے پر عذاب کی خبر دی گئی ہے _(التوبۃ :34) اس سے ان لوگوں کے قول کو تقویت ملتی ہے جو زیورات پر زکوۃ کے وجوب کے قائل ہیں اور روایات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے _ جن لوگوں نے زیورات پر زکوۃ کو ساقط کیا ہے انہوں نے استعمالی چیزوں پر زکوۃ کے عدمِ وجود پر قیاس کیا ہے _ ان کی تائید میں چند آثارِ صحابہ ہیں _ اس لیے احتیاط کا تقاضا ہے کہ زیورات پر زکوۃ ادا کی جائے _”
اس بنا پر میری رائے یہ بنی ہے کہ ہر طرح کے زیورات پر __ اگر وہ نصاب کو پہنچ جائیں __ زکوٰۃ ادا کرنی چاہیے _ وہ خواتین قابلِ مبارک باد ہیں جو زیورات پہنتی ہیں تو ان کی زکوٰۃ ادا کرنے کی بھی فکر کرتی ہیں _ اللہ تعالیٰ ان کے لیے آسانیاں فرمائے ، آمین _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

