شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی میں خصوصی خطبہ بعنوان : ‘اردو میں ادبی رسائل کی تاریخ ‘کا انعقاد
نئی دہلی : شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کے زیر اہتمام خصوصی خطبے کا انعقاد کیا گیا، اس خصوصی خطبے کی صدارت معروف شاعر و عروض داں پروفیسر سیدسراج اجملی نے کی اور خصوصی خطبہ معروف افسانہ نگار اور رسالہ آجکل کےسابق مدیر خورشید اکرم نے پیش کیا. اس موقع پر شعبہ اردو کی صدر پروفیسر نجمہ رحمانی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے طلبا و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ لوگ جانتے ہین کہ گزشتہ دو برس سے ہم نے خصوصی خطبات شروع کیے ہیں، ان خطبات کا مقصد یہ ہے کہ ہمارے طلبا بیدار ہوں، ہمارے سماج اور دنیا میں ہونے والی تبدیلیوں سے واقف ہونا ضروری ہے. ہمارے طلبہ کو مختلف علوم سے واقف ہونا ناگزیر ہے، کسی بھی شعبے کے طلبا وطالبات کا ہمارے پروگراموں میں استقبال ہے، آج کا موضوع ہمارے طلبا وطالبات کے لیے بہت اہم ہے، رسائل پر بات کرتے ہوئے، طلبا چند ہی رسائل کا ذکر کرتے ہیں، جب کہ طلبا وطالبات کا قدیم وجدید ادبی رسائل سے واقف ہونا ناگزیر ہے، قدیم رسائل سے شناسائی کا فائدہ آپ کو ریسرچ ورک میں بھی ہوگا. آج کے خطبے کا موضوع طلبا و طالبات کو پیش نظر رکھتے ہوئے منتخب کیاگیا ہے.
پروفیسر ابوبکر عباد نےمہانوں کا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ کم لکھ کر بھی خورشید اکرم سے ادبی حلقہ بخوبی واقف ہے، ان کا تعارف دراصل ان کے افسانے، نظمیں اور ان کے اداریے ہیں، سراج اجملی صاحب کی خصوصیت یہ ہے کہ ہمارے اساتذہ بھی شعری معاملات میں ان سےرجوع کرتے ہیں، سراج اجملی صاحب پختہ شاعراور نستعلیق شخصیت کے مالک ہیں، علی گڑھ یونیورسٹی کے اساتذہ میں آپ مقبول ترین شخصیت کے مالک ہیں، انھوں نےمزید کہا کہ ہندوستان کے تمام شعبہ ہائے اردو اگر شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کی طرح طلبا وطالبات پر رسائل خریدنا لازم کردیں تو بہت سے رسائل کی زندگی طویل ہوجاےگی.
اردو میں ادبی رسائل تاریخ پرخصوصی خطاب کرتے ہوئے معروف افسانہ نگار اور آجکل کے سابق مدیر خورشید اکرم نے کہا کہ رسائل پر بات کرتے ہوئے لوگ اس کی تاریخی ترتیب بتاتے ہیں، لیکن میں نظریاتی سطح پر رسائل کے حوالے سے بات کرنا چاہوں گا. رسالے معاصر ادبی صورت حال، رویے اور رجحانات سے واقفیت کا ذریعہ ہیں اور رسائل بنیادی طور پر ادب کے پہیے ہیں ، رسائل وجرائد ادبا، رجحانات اور نظریات کو متعارف کراتے ہیں، قاری اور کتاب کے درمیان رابطہ قائم نہیں ہوپاتا، لیکن رسائل قاری اور مصنف کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی ہیں، رسائل و جرائد کی تاریخ بہت پرانی نہیں ہے، سب سے پہلے دل گداز کے نام سے 1887میں عبدالحلیم شررنے پہلا رسالہ نکالا، 1910میں شرر صاحب نے ہی باضابطہ رسالہ نکالا، دراصل اردو رسائل کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے، شررنے نظم معری کو فروغ دیا، اور اپنے عہد کے رومانی شعرا کو نظم گوئی کے لیے مدعو کیا اور انھوں نے نظمیں کہیں، ہماری تحریکوں اور ادبی اصناف کو فروغ دینے میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے، رسائل کی وجہ سے ہی نئے لکھنے والے ادب کی طرف راغب ہوئے، مخزن نے اقبال اور مولانا ابوالکلام آزاد کو متعارف کرایا، نیرنگ خیال پہلا اردو ادبی رسالہ تھا، جو مصور تھا، یہ رسالے ادبی سرگرمیوں کے بڑے مراکز تھے، رسائل نے ہی نثر اور نثری اصناف کو فروغ دیا، نیرنگ خیال، دلگداز اور مخرن اردو کے ادبی رسائل کے لیے سنگ میل کی حیثیت رکھتے ہیں.
ادب لطیف ترقی پسندوں کا ترجمان بنا،نیاادب بھی ترقی پسندوں کا معروف رسالہ تھا، نیادور پاکستان سے صمد شاہین نے جاری کیا اور نئے ادب کوانھوں نے ترجیح دی، نقوش خاصا مشہور ادبی رسالہ ہے، بعد میں ترقی پسند نظریے سے جدیدیت کی طرف مراجعت کرگیا، جدید ادب کے دور میں صبا نکلا، سوغات بھی جدید ادب کا ترجمان تھا، نئی نظم کی تحریک کی ابتدا محمود ایاز نے کی اور سوغات نے ترجیحی بنیادوں پر نئی نظم کو اہمیت دی، شب خون کی اشاعت ادبی دنیا میں خاصی اہمیت رکھتی ہے، شب خون نے ادب کے ٹھہرے ہوئے پانی میں کنکر پھینکنے کا کام کیا، شب خون تقریباً پچیس برسوں تک شاندار معیار و منھاج کے ساتھ شائع ہوتا رہا، شب خون کے صفحات پر زبردست بحثیں چلیں، جدید ادب کو صحیح معنوں میں شب خون سے فروغ ملا، آہنگ کلام حیدری گیا سے نکالتے تھے، جو جدیدیت کا رسالہ تھا، اس کا افسانوی نمبر بہت اہم تھا، جس نے نئے افسانہ نگاروں کو متعارف کرایا، بیسویں صدی کی چھٹی اور ساتویں دہائی میں پبلشنگ انڈسٹری کو خاصی ترقی ہوئی، اس زمانے میں پبلشنگ انڈسٹری میں انقلاب آگیا، 80کے بعد چھوٹے رسالے نکلتے رہے، بڑے رسائل بند ہونے لگے تھے، اس زمانے میں دو رسائل تھے، جو پابندی کےساتھ نکل رہےتھے، آجکل اور شاعر، آجکل سرکاری معاونت سے نکل رہاتھا اورشاعر عوام کی معاونت سے، ذہن جدید نے نئی طرح کی ادبی صحافت کو فروغ دیا، 90سے2000تک پانچ سات رسائل متحرک رہے اور انھوں نے ادبی بحثوں کو فروغ دیا، آخری دور میں اثبات بہت اہم رسالہ ہے، اس عہد میں کوئی ایسا رسالہ نہیں، جس نے مقبولیت حاصل کی ہو، سوشل میڈیا کی آمد سے رسائل کی دنیا سمٹ گئی اور مسلسل سمٹ رہی ہے، کسی رسالے کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اس میں شائع شدہ موادکسی مدیر کے ذریعہ قاری تک پہنچتا ہے، جب کہ سوشل میڈیا پر یہ ممکن نہیں ہے.اس کو دیکھ کر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ادبی رسائل کا ماضی شاندار ہے مگر مستقبل خطرے میں ہے.
سید سراج اجملی نے کہا کہ خصوصی خطیب کے مقالے کا ایک حصہ عملی تجربے پر مبنی تھا، جو عمدہ تھا، پچھلی صدی تخلیقی ادب کے فروغ کا زمانہ تھا، شاہد علی خان رسالہ جامعہ کے مدیر تھے، انھوں نے مہمان اداریہ لکھوانا شروع کیا، جس سے نئے لکھنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوئی. بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں کچھ ایسے رسائل وجرائد تھے، جنھوں نے اپنی منفرد شناخت قائم کی، انھوں نے مزید کہا کہ یہ میرے لیے خوشی کی بات ہے کہ آج میں اپنی مادر علمی میں مسند صدارت پر بٹھایا گیا ہوں.
اس پروگرام میں بالخصوص پروفیسر مظہر احمد، پروفیسر حسنین اختر،پروفیسر ارجمند آرا،پروفیسر مشتاق عالم قادری ،ڈاکٹر متھن کمار،ڈاکٹر مہتاب جہاں، ڈاکٹر سرورساجد، ڈاکٹر فیاض محمود ہاشمی، ڈاکٹر ظفیر الحسن، ڈاکٹر عالم شمس، ڈاکٹر احمد امتیاز، ڈاکٹر ارشاد نیازی، ڈاکٹر علی احمد ادریسی، ڈاکٹر شاذیہ عمیر، ڈاکٹر ہردے بھانو پرتاپ، ڈاکٹر شمیم احمد، ڈاکٹر فرحت کمال، ڈاکٹر زاہد ندیم احسن، ڈاکٹر سنیل کمار، طلبا وطالبات اور ریسرچ اسکالر نے شرکت کی.
کیپشن :پوڈیم پر خورشید اکرم، ان کے بعد پروفیسر ابوبکر عباد،صدرشعبہ اردو پروفیسر نجمہ رحمانی اور پروفیسر سید سراج اجملی
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

