احمد ندیم قاسمی بیک وقت شاعر اور افسانہ نگار دونوں ہی حیثیت سے جانے جاتے ہیں. بہ حیثیت افسانہ نگار ان کی اہم خصوصیت یہ ہے کہ انہوں نے پنجاب کی دیہاتی زندگی کی عمدہ مصوری کی ہے. ہیروشیما سے پہلے، ہیرو شیما کے بعد، الحمداللہ اور پرمیشر سنگھ ان کا مشہور و معروف افسانہ ہے جس میں بےلاگ خارجیت اور حقیقت نگاری ہے جو اپنے حدود سے نکل کر ایک وسیع مفہوم اختیار کر لیتا ہے.
افسانہ ‘پرمیشر سنگھ’ میں احمد ندیم قاسمی نے نہ صرف واقعہ بیان کیا ہے بلکہ اس کے ایک کردار کے اس نفسیات کو دریافت کرنے کی کوشش کی ہے جو اسے سیکولر انسان بنانے پر آمادہ کرتی ہے. اور یہ احساس دلاتی ہے کہ دنیا سے انسانیت ابھی معدوم نہیں ہوئی بلکہ اس کی رمق باقی ہے.
اس افسانے کا مرکزی کردار یعنی پرمیشر سنگھ ان بدنصیبوں میں ہے جس کا پانچ سالہ لڑکا ‘کرتارا’ پاکستان سے ہندوستان
آتے ہوئے راستہ میں بچھڑ گیا ہے اور اس کی کوئی خبر نہیں ہے. دوسری طرف ہندوستان سے پاکستان جاتے ہوئے ‘اختر’ اپنی ماں سے بچھڑ گیا ہے اور سکھوں کے نرغے میں ہے
جہاں کچھ سکھ اس کو جان سے مار دینے کی کوشش میں ہیں کیونکہ وہ مسلمان ہے. لیکن پرمیشر سنگھ یہ کہتے ہوئے انہیں ایسا کرنے سے روکتا ہے کہ "مارو نہیں یارو – اسے مارو نہیں. اس بچے کو بھی تو اس واہگورو جی نے پیدا کیا ہے جس نے تمھیں اورتمھارے بچوں کو پیدا کیا ہے. اور پھر سکھوں نے اختر کو پرمیشر سنگھ کے حوالے کر دیا تاکہ وہ اسے اپنا کرتارا بنا لے.
لیکن جیسا کہ ابتدائی پیراگراف میں اس امر کا ذکر کیا جا چکا ہے کہ احمد ندیم قاسمی نے صرف واقعہ ہی بیان نہیں کیا ہے. اگر ایسا ہوتا تو ‘اختر’ واقعی ‘کرتارا’ بن جاتا اور کہانی یہاں ختم ہو سکتی تھی اور قتل و غارت گری کے خونی ماحول میں میں کہانی کے اس انجام پر بھی انسان دوستی کا درس حاصل کیا جا سکتا تھا. تاہم واقعہ یہ ہے کہ افسانے کا سارا منطق اور اس کے تاثر کی شدت اس نئے صورتحال کی گہرائی میں پنہاں ہے جہاں اختر اپنی ماں کے پاس جانے کی ضد کرتا ہے اور پرمیشر سنگھ اسے کرتارا بنانا چاہتا ہے. کیونکہ اختر کے ایک ایک حرکت میں اسے اپنےکرتارا کی جھلک دکھائی دیتی ہے. اس کے پڑوسی اور گرنتھی جب پرمیشر سنگھ کو اس بات کی اجازت دے دیتے ہیں کہ اس کو سکھ بنا کر اپنا بیٹا بنا لے تو پرمیشر سنگھ کے لئے راستہ صاف ہو جاتا ہے. لیکن اختر کے اس معصوم سوال سے
کہ "میں اماں کے پاس جاؤنگا” وہ لرز جاتا ہے. اختر کا یہ سوال اس کے اندر تلاطم برپا پیدا کر دیتا ہے اور آخرکار اس کے اندر کا انسان جاگ اٹھتا ہے. وہ یہ سوچتا ہے کہ ایک مسلمان بچے کو زبردستی اس کے مذہب سے چھڑا کر اپنے مذہب کا پیرو بھلا کیوں بنایا جائے. لہٰذا وہ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ اختر مسلمان ہی رہے گا.
"……….. تم کتنے ظالم لوگ ہو یارو. اختر کو کرتارا بناتے ہو اور اگر ادھر کوئی کرتار ے کو اختر بنا لے تو؟ اسے ظالم ہی کہو گے نا. پھر اس کی آواز میں گرج آ گئی. یہ لڑکا مسلمان ہی رہے گا دربار صاحب کی سون. ”
برصغیر کے تقسیم کے پس منظر میں پرمیشر سنگھ کا یہ فیصلہ دراصل انسانیت کا اعتراف و اقرار ہے جو سیکولر بصیرت کا ثبوت پہنچا تا ہے. لہٰذا اس کا کردار ایک انسان دوست اور
وسیع المشرب انسان کی حیثیت سے سامنے آتا ہے جو فرقہ پرستی اور تنگ نظری سے کوسوں دور ہے. اس تعلق سے وہ صرف قول کا ہی غازی نہیں ہے بلکہ فعل کا بھی غازی ہے. کیونکہ ایک دن وہ اختر کو اپنے کاندھے پر لاد کر سرحد کی طرف چل پڑتا ہے تاکہ اس کی ماں کو اپنا اختر مل جائے اور اختر کو اپنی ماں. لیکن اختر جب پاکستان کی سرحد کے قریب پہنچتا ہے تو اس کی پگڑی اور اس کے بالوں کو دیکھ کر پاکستانی سرحد کے محافظ اسے سکھ سمجھتے ہیں اور اسے روک لیتے ہیں. اس وقت پرمیشر سنگھ کو احساس ہوتا ہے کہ وہ اس کے بال کاٹنا کیوں بھول گیا. اور اس احساس کے تحت جب وہ ادھر جاتا ہے تو پاکستانی سرحد کے محافظین اسے گولی مار دیتے ہیں جو اس کے ران پر لگتی ہے. اس وقت وہ کہتا ہے –
"مجھے کیوں مارا تم نے. میں تو اختر کے کیس کاٹنا بھول گیا تھا. میں اختر کو اس کا دھرم دینے آیا تھا یارو.”
اور اختر بھاگا آ رہا تھا اور اس کے کیس ہوا میں اڑ رہے تھے. ”
افسانے کا یہ اختتام ایک بنیادی سوال پیدا کرتا ہے کہ مذہب آخر کیا ہے؟ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سوال کا جواب وہ خون ہے جو پرمیشر سنگھ کی ران سے پھوٹ کر نکل رہا ہے. اور ایسے میں وہ خون ان لوگوں پر بے پناہ تنقید ہے جنہوں نے مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہو کر مذہب کی پاکیزگی نیز اس کی وسیع تر انسان دوستی کو فنا کرنے کی سعی کی. اس امر کا برملا اظہار افسانے میں بھی کیا گیا ہے.
"اور مذہب کیا ہے دوستو – اس نے کہا تھا -” دنیا کا ہر مذہب انسان کو انسان بننا سکھاتا ہے اور تم مذہب کا نام لے کر انسان کو انسان سے لڑا دیتے ہو ان کی آبرو پر ناچتے ہو اور کہتے ہو ہم سکھ ہیں، ہم مسلمان ہیں، ہم واہگوروجی کے چیلے ہیں، ہم رسول کے غلام ہیں. ”
المختصر افسانے کے اس جائزے کے پیش نظر یہ کہا جا سکتا ہے کہ احد ندیم قاسمی کا کمال فن یہ ہے کہ انہوں نے اول پرمیشر سنگھ کے کردار میں انسانی جذبات و احساسات کو تلاش کرنے کی کوشش کی اور دوسرے مختلف طریقوں سے اس کے پوشیدہ وجود کو ظاہر کیا جو اس حقیقت کا مذاق اڑاتا ہے کہ مذہب اور علاقائیت کے خطوط پر تشکیل پانے والی قومیت وسیع تر انسانی اقدار کو تباہ کرنے کی کوشش کے سوا کچھ نہیں. تاہم پرمیشر سنگھ کا کردار ان حالات میں بھی جس طرح مذہب اور انسانیت سے ہم آہنگ ہو کر خلوص و رواداری کی مثال کرتا ہے وہ ایک سیکولر فکر و احساس کی ایسی روشنی ہے جس سے فرقہ پرستی، تعصب پرستی، منافرت اور تنگ نظری کی تاریکیوں کو ختم کرنے کی ترغیب ملتی ہے. ڈاکٹر انوار احمد ‘پرمیشر سنگھ’ کے متعلق لکھتے ہیں –
"1947کے فسادات پر لکھے جانے والے افسانوں میں اگر تین موثر ترین اور فنی اعتبار سے کامیاب افسانے منتخب کئے جائیں تو پرمیشر سنگھ ان میں سے ایک افسانہ ہوگا. اس میں ترقی پسند تحریک کی معروف انسان دوستی، لائق کرداروں کے عمل اور ردعمل کے فطری بہاؤ کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئ ہے. اختر، امر کور، پرمیشر سنگھ کی بیوی اور دوسرے کئی افراد افسانے کی تاثیر کو بڑھاتے ہیں. مگر پرمیشر سنگھ کا کردار اردو کے افسانوی ادب میں لازوال حیثیت کا حامل ہے.”
(ڈاکٹر انوار احمد – اردو افسانہ تحقیق و تنقید-ملتان ،1988 صفحہ-362)
*******
Dr.Md Shahnawaz Alam
Assistant Professor
Deptt.of Urdu
Millat College, Darbhanga
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

