خود نوشت لکھنا ایک افسا نہ یا ناول سے زیادہ مشکل کام ہے۔ :عارف نقوی
شعبۂ اردو میں ادب نما کے تحت ’’اردو خود نوشت‘‘موضوع پر آن لائن پروگرام کا انعقاد
میرٹھ9؍فروری2023ء
’’پرا نے خود نوشت نگاروں کے تعلق سے سب لوگ بہت کچھ جانتے ہیں لیکن جو نئے مصنف سامنے آ ئے ہیں اور انہوں نے خود نوشتیں بھی تحریر کی ہیں۔ان کو بھی منظر عام پر آ نا چاہئے۔خود نوشت کو ہم محدود بھی کر سکتے ہیں جب ہمارے سوچنے کا ڈھنگ وسیع ہوگا تو ہماری ذہنیت میں بھی اضا فہ ہو تا جائے گا۔۔یہ الفاظ تھے جرمنی سے معروف ادیب و شاعر عارف نقوی کے جو شعبۂ اردو اور آ یوسا کے ذریعے منعقد ہفتہ واری ادب نما پروگرام میں’’اردو خود نوشت‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر کے دوران ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہم عالمی پس منظر میں دیکھیں تو ہماری خود نوشت کا دائرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ خود نوشت لکھنا ایک افسا نہ یا ناول سے زیادہ مشکل کام ہے۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیہ نعت ایم ۔اے سال دوم کی طالبہ عظمیٰ نے پیش کیا۔ پروگرام کی سرپرستی صدر شعبۂ اردو پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی۔ جب کہ مقرر ین کی حیثیت سے معروف ناقد اور سابق ڈین فیکلٹی آف آرٹس جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی پروفیسروہاج الدین علوی ،ڈاکٹر رحمت یونس ،ڈاکٹر ممتاز مجیب اور آ یوسا کی صدر ڈاکٹر ریشما پروین نے شرکت کی ۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی ،تعارف ڈا کٹر آصف علی اور نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم نے انجام دیے۔
خصوصی مقرر پرو فیسر وہاج الدین علوی نے کہا کہ اگر غالب ؔکے خطوط سے کچھ چیزیں نکالیں تو ایک بہترین خود نوشت سامنے آ سکتی ہے۔ خود نوشت کا سب سے بڑا راز سچ ہے۔ عبد الماجد در یا آ بادی انتہائی بہترین مسلمان ہیں مگر طبیعت میں ضد بھی تھی اگر کسی کو انہوں نے غلط سمجھ لیا تو وہ غلط ہی تھا۔ آج کی زبان میں خود نوشت کا فن معاشرہ کے مسا ئل کو پیش کرنا ہے۔ خود نوشت میں جھوٹ کی گنجائش نہیں ہوتی۔ خود نوشت میں اگر جھوٹ بولتے ہیں تو پکڑے جاتے ہیں اس لیے اسے سنبھالنا بھی بہت مشکل بات ہے۔ایک اچھے خود نوشت نگار کی نثر بھی نیم تخلیقی ہوتی ہے۔
اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہو ئے ڈا کٹر رحمت یونس نے کہا کہ صوفیائے کرام کے حالات زندگی کے مسائل ہمیں خود نوشت میں نظر آ تے ہیں۔ خود نوشت کی ابتدا جعفر تھانیسری کی’’ کالا پانی‘‘ سے مانی جاتی ہے۔ اس خود نوشت میں شخصیت، زندگی اور ماحول کی سچی تصا ویر نظر آ تی ہے۔ احسان دانش ’’جہاں دانش‘‘،کشور ناہید’’بری عورت کی کتھا‘‘، رفعت سروش اور ملک زادہ منظور وغیرہ نے اس صنف کو استحکام عطا کیا ہے۔
ڈاکٹر ممتاز مجیب نے کہا کہ خود نوشت سچائی کی حامل ہے یا نہیں اس تعلق سے غور کرنا چاہئے۔ اکثر مصنف اپنی ذات کا سکّہ اچھالنے کے لیے مبالغہ آ رائی سے کام لیتے ہیں۔ آپ بیتی تب مکمل ہوتی ہے جب وہ اپنی زندگی کی سچائی کو سچائی اور حقیقت کے ساتھ پیش کرے۔ آپ بیتی کے ذریعے کسی مصنف کی زندگی کی حقیقت کا پتہ چلتا ہے۔ خود نوشت ایک آ ئینہ ہے جس میں انسان اپنی زندگی کے چھپے پہلوئوں کو بخوبی جان سکتا ہے، ہمارے یہاں آپ بیتی کی حالت تسلی بخش نہیں ہے۔ جوش ملیح آ بادی کی خود نوشت’’ یادوں کی بارات‘‘ میں شاعر نے ایک نئے رجحان کو پیش کیا ہے۔ یہ ایک بے باک قسم کی سوانح عمری ہے۔ کلیم الدین احمد نے بھی’’ اپنی تلاش میں‘‘ اپنے خاندان کے حالات کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔
کشمیر سے ڈا کٹر ریاض توحیدی نے کہا کہ خود نوشت میں مصنف کی ذات ہی محور ہوتی ہے۔ تہذیب و تمدن کی جھلکیاں بھی اس میں شامل ہو تی ہیں۔ اس میں زندگی کی کہانی ہو تی ہے۔ آپ بیتی میں ایک انسان اپنی زندگی کی سوچ اور جسارت کو خوبصورتی سے پیش کرتا ہے۔ اس میں فکشن کی تکنیک بھی نظر آ تی ہے۔
صدر شعبۂ اردو اور معروف ادیب و ناقد پروفیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ خود نوشت ایک ایسا فن ہے جس میں اپنے معاشرے کی پا بندیوں اور مسائل کو بیان کیا جاتا ہے۔’’یادوں کی بارات‘‘ نے ایک زلزلہ پیدا کردیا تھا۔’’ ایک بری عورت کی کتھا‘‘ پر بھی بڑا ہنگامہ ہوا۔ کشور ناہید پر کافی اعتراض کیے گئے۔ عورت کو مصلحت سے کام لینا چاہئے۔ مذہب اور معاشرہ خواتین پر کچھ پابندیاں بھی عائد کرتا ہے جن کو ہمیشہ فولو کرنا چاہئے۔قدرت اللہ شہاب کے’’ شہاب نامہ ‘‘کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ آج کے طلبا مطالعہ کم کرتے ہیں،انہیں بھی خود نوشت لکھنا چاہئے اور خوب پڑھنا چاہئے۔
لکھنؤ سے آیو سا کی صدر ڈاکٹر ریشما پروین نے کہا کہ آج کا موضوع نہایت ہی اہم ہے۔اردو خود نوشت واقعی ایک ایسا فن ہے جس میں انسانی زندگی کے مختلف پہلو ہمارے سامنے آ تے ہیںاور ان سے بہت کچھ سیکھنے سمجھنے کی صلاحیت ہمارے اندر پیدا ہوتی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

