مَیں جب 1970میں گورنمنٹ ڈِگری کالج اورنگ آباد کی سرکاری ملازمت سے مستعفی ہو کر بمبئی کے ایک پرائیوٹ کالج میں شعبۂ انگریزی کے صدر کے طور پرآیا،اُس وقت یہاں( بمبئی) کا ادبی اُفُق چھوٹے بڑے ستاروں سے جگمگا رہا تھا۔فکشن رائٹرز میں راجندر سنگھ بیدی،قرۃ العین حیدر،کرشن چندر، عصمت چغتائی اور بالکل نئے لوگوں میں (جنہوں نے آگے چل کر بڑ ا نام کمایا)انور خان،سلام بن رزاق،انور قمر،ساجد رشید وغیرہ اورشاعروں میں اختر الایمان ،علی سردار جعفری، جاں نثار اختر،مجروح سلطانپوری،ساحر لدھیانوی، کیفی اعظمی ،عزیز قیسی ، باقر مہدی،اعجاز صدیقی اور ندا فاضلی وغیرہ تھے۔ندا فاضلی کا تعلق 1960کی جدید ادبی نسل سے ہے۔
باقرمہدی اور عزیزقیسی 1954-55 ہی سے مشہورہونے لگ گئے۔ان لوگوں نے اپنے آپ کو جدیدیت سے کبھی منسوب نہیں کیا مگر جدیدیت کے اثرات سے محفوظ بھی نہیں رہ سکے۔
اسی دوران (بمبئی کے) مکتبہ جامعہ میں اُٹھنے بیٹھنے والوں میں ایک منفرد حلقہ بن گیاتھا جس میں شاعروں اور ادیبوں کے علاوہ کچھ ایسے بھی تھے جو خود توشاعر یا ادیب نہ تھے لیکن انہیں شعر وادب،خصوصاً جدید شاعروں اور جدید شاعری سے گہری دلچسپی تھی۔
تصدیق سہاروی(جنہیں ہم سب تصدیق بھائی کہتے تھے)کو توجیسے جدیدیت اور جدید شعراسے اللہ واسطے کا عشق تھا۔قدمے سخنے سے لے کر دامے درمے تک اپنی بساط کے مطابق مدد کرنے کے لیے تیار رہتے تھے۔ آگے بڑھنے سے پہلے تصدیق بھائی سے متعلق دو ایک باتیں اور لکھناچاہتا ہوں۔ان کا تعلق علی گڑھ کے شیروانی خاندان سے تھا۔نوجوانی ہی میں کسی بات پر ناراض ہو کر بمبئی آگئے تھے۔پھر کبھی لوٹ کر نہیں گئے۔بمبئی ہی میں اُس زمانے کے مشہور اور دبنگ صحافی اور روزنامہ ’ہلال‘کے مالک ومدیر حافظ علی بہادرخاں کی چھوٹی بیٹی رضیہ سے شادی کرلی۔ممکن ہے کہ وہ روزنامہ ’ہلال ‘ میں کام کرتے رہے ہوں۔حافظ صاحب کی بڑی بیٹی کی شادی ہمالیہ ڈرگس کے مالک محمد منال صاحب کے ساتھ ہوئی تھی۔رضیہ بھابھی کبھی کبھی اپنی بہن سے ملنے جایا کرتی تھیں مگر تصدیق بھائی نہیں جاتے تھے۔وہ دولت مندوں سے نفرت کرتے تھے۔ تصدیق بھائی کو کم عمری ہی میں عارضۂ قلب لاحق ہوگیا تھا۔بمبئی سینٹرل پر’’سینٹرل نرسنگ ہوم‘‘تھا۔وہیں وہ بغرضِ علاج داخل ہو جایاکرتے تھے۔ایک دن وہ داخل ہوئے تومَر ہی کر گھر واپس آئے۔ 9بجے شب میں ان کا ہارٹ فیل ہوگیا۔
رضیہ بھابھی بھی اسپتال ہی میں تھیں۔اُنہوں نے وہیں سے سب سے پہلے اخترالایمان کے گھر فون کیا۔اختر صاحب نے رضیہ بھابھی کو دِلاسہ دیتے ہوئے یقین دِلایا کہ وہ سارے ضروری انتظامات کر کے زیادہ سے زیادہ آدھ گھنٹے میں وہاں پہنچتے ہیں۔رضیہ بھابھی کو فون کرنے کے بعدانہوں نے محمود چھاپرا کوفون کیا کہ وہ کفن دفن کے سارے انتظام کریں،جن دوستوں کو اطلاع کرنا ممکن ہو، اُنہیں مطلع کردیں۔اخترصاحب نے نرسنگ ہوم کے مالک اورانچارج ڈاکٹر ایرانی کو بھی فون کیاکہ وہ اپنی تمام Formalitiy پوری کر کے رکھیں۔ایک ایمبولنس کا بھی انتظام کر رکھیں تاکہ نرسنگ ہوم میں وقت ضائع نہ ہو۔اسپتال کے سارے اخراجات اختر صاحب ہی نے ادا کیے۔بات یہ ہے کہ اُس زمانے میں فون بہت کم لوگوں کے پاس ہوتا تھا۔ فون کنکشن ملنے میں برسوں گزر جاتے تھے۔خود میرے گھر پر فون نہیں تھا۔خوش قسمتی سے میرے پڑوس میں چاند سریواستوانامی ایک فلم ڈائریکٹر رہتے تھے جنہوں نے ایک ایرانی نژاد خاتون عصمت خانم سے شادی کی تھی۔اُنہی دنوں چاند صاحب کی ایک فلم ’دھرما‘ باکس آفس پر بہت کامیاب ہوئی تھی۔اس کے بعد ہی ان کے پاس موٹر اور فون دونوں آگئے تھے۔رات بے رات کہیں سے فون آئے عصمت میرے گھر کی بیل بجاتی تھیں۔
کوئی دس بجے عصمت نے آکر فون کی اطلاع دی،میں نے ان کے یہاں جا کر فون پر ہیلوکہا:
’’دوسری طرف محمود چھاپرا تھے۔جنہوں نے اس اندوہناک حادثے کی اطلاع دی اور یہ بھی کہا کہ ’’تجہیز وتکفین بعد نمازِ فجر ہوگی۔‘‘
میرے استفسار پر کہ اتنی جلد کیوں رکھ رہے ہیں۔محمود نے کہا کہ ’’چھٹی کا دِن توہے نہیں،کام دھندے کا دن ہے، لوگ مٹی سے فارغ ہو کر اپنے اپنے کام پر چلے جائیں گے۔‘‘
کفن کی قیمت اور سِلائی سے لے کر گورکنوں کے حقِ محنت تک جتنے بھی اخراجات ہوئے تھے وہ سب اختر بھائی نے پائی پائی کا حساب کر کے محمود کو چکا دیا۔پیسوں کا حساب کتاب ہوتے دیکھ کر ادھیڑعمر کے ایک صاحب آگے آئے۔قیمتی شیروانی زیب تن،سفید پاجامہ ،پیروں میں بہت مہنگے قسم کے جوتے،چہرے پر نہایت خوشنما ترشی ہوئی کھچڑی داڑھی مونچھیں بالکل صاف۔اختر صاحب کو بڑی لجاجت سے مخاطب کرتے ہوئے بولے:
’’مجھے تصدیق کا ہم زلف نہیں بڑا بھائی سمجھئے۔ یہ کام مجھے کرنے دِیجئے۔‘‘
اختر بھائی نے نرم لیکن محکم لہجے میں جواب دیا’’آپ بجا فرماتے ہیں لیکن تصدیق میرے سب سے گہرے اور اکلوتے دوست تھےاگر مَیں آپ کی بات مان لوں توقیامت کے دِن اپنے دوست کو کیا منہ دکھاؤں گا۔‘‘
منال صاحب بہت دولت مند مگر مذہبی آدمی تھے قیامت کا ذکر آیا تو پسیج گئے۔جلد ہی انہوں نے ہم سے رخصت لی۔بعد میں اختر بھائی مجھے اور محمود کو ایک کونے میں لے گئے۔محمود کی بے لوث محبت کا شکریہ ادا کیا۔مجھے ہدایت دی کہ دوچار دِنوں کے اندرکالج میں تعزیتی نشست کا انتظام کرلوں۔سردار جعفری ،مولانا شہاب مالیر کوٹلوی،مجروح صاحب،ظ انصاری وغیرہ کو فون کردوں،باقر کے یہاں خود چلاجاؤں ، علاوہ ازیں وقت،دن تاریخ اور مقام کی تفصیل کے ساتھ نشست کا اعلان اُردو اخباروں میں بھجوا دوں۔
لیکن یہ ساری باتیں توتصدیق بھائی کے انتقال کے بعدکی ہیں۔کئی سال پہلے تک وہ ہمارے درمیان تھے۔نہایت ہی دوست نواز اور شریف النفس آدمی تھے۔ہرشخص سے بڑے پیار سے ملتے۔اگر مکتبہ (جامعہ۔ ممبئی)کے بعدآس پاس کے کسی ہوٹل میں بیٹھنے کا پروگرام بنتا تو اصرار کر کے سارا بِل خود ادا کرتے۔ایک سنیچر کی شام میں جب محفل بھرپورطریقے سے جمی ہوئی تھی، تصدیق بھائی دُکان کی سیڑھیوں سے اُترکر فٹ پاتھ پر کھڑے ہو گئے۔ وہاں سے مجھے نیچے آنے کا اشارہ کیا۔مَیں گیاتو میرے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے: ’’اختر الایمان اوران کی فیملی کے ساتھ میرے گھریلو تعلقات ہیں۔ ہم لوگ ہر اتوار کو ان کے گھر جاتے ہیں،اگر کسی اتوار کو کسی وجہ سے جانا ممکن نہ ہوسکے تووہ اور سلطانہ بھابھی خود ہمارے گھر آجاتے ہیں۔ہم لوگ کل اختر صاحب کے گھر باندرہ جا رہے ہیں۔آپ بھی آجائیں۔پچھلے اتوار کو وہ آپ کے بارے میں پوچھ بھی رہے تھے۔‘‘
میں نے کہا کہ ’’ٹھیک ہے کل صبح گیارہ بجے باندرہ(لوکل) ریلوےاسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک پر ملتے ہیں۔‘‘
میں وقت مقررہ پر باندرہ اسٹیشن پہنچ گیا۔پانچ سات منٹ بعدتصدیق بھائی بھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ آگئے۔ان کے ساتھ رضیہ بھابھی، ۱۳سال کی بیٹی اور نودس سال کا بیٹا بھی تھے۔اسٹیشن کے ٹھیک سامنے 221نمبر کا بس اسٹاپ تھا،جس کاآخری پڑاؤبینڈاسٹینڈ تھا۔آج بینڈاسٹینڈ باندرہ کی سب سے زیادہ پرکشش تفریح گاہ سمجھا جاتاہے اوراسے بے حد شاندار (Posh) علاقے کے طور پر جانا جاتاہے۔
1972-73میں ایسا نہیں تھا۔بمبئی کی کل آبادی 40لاکھ تھی۔مضافات میں زمین ہی زمین تھی۔حکومت کو آپریٹیوہاؤسنگ سوسائٹیزکو نہ صرف فیاضی کے ساتھ زمینیں الاٹ کرتی تھی بلکہ بلڈنگ بنانے کے لیے بہت ہی معمولی شرحِ سودپر قرض بھی دیتی تھی۔ بچپن،لڑکپن اور نوجوانی میں اختر صاحب نے جو سختیاں اور صعوبتیں جھیلی تھیں انہوں نے اختر صاحب کو خاصا عملی (Pragmantion) آدمی بنادِیاتھا۔
بمبئی آنے کے بعدانہوں نے پہلے محبوب اسٹوڈیو کے پاس کوئی چھوٹا سافلیٹ کرائے پر لیا تھا جو آخری وقت تک ان کے قبضے میں رہا۔اس میں ان کابیٹا رامش رہتا تھا۔اس نے گھر والوں کو بتائے بغیر کسی عیسائی لڑکی سے شادی کرلی تھی۔
اختر صاحب کے رہنے کاانتظام توہوگیاتھا مگر یہ نکتہ ان کے ذہن نشین ہوگیاتھا کہ بمبئی میں اگر مستقل طور سے رہنا ہے تو ایک ایسا گھر ہونا چاہیے جو اپنا بھی ہو اور اچھا بھی ہو۔چنانچہ اُنہوں نے دس بارہ افراد کو اپنا ہم خیال بنا کر ’’بینڈ اسٹینڈکوآپریٹیو سوسائٹی‘‘کی بنیاد رکھی۔بینڈ اسٹینڈ کے بس اسٹاپ پر اُترکر بائیں جانب جو سڑک اوپر جاتی ہے اسی کے دائیں طرف ایک چھوٹی سی پہاڑی پر دویا تین بلڈنگیں ہیں انہی میں سے کسی ایک میں اختر صاحب رہتے تھے۔مَیں تصدیق بھائی کی قیادت میں لفٹ میں گھسا،لفٹ پانچویں منزل پر پہنچ کر رُک گئی۔ہم لوگ باہر نکلے۔ادھر کئی بند دروازے نظرآئے۔بیچ کے ایک دروازے پر ایک چھوٹی سی تختی لگی ہوئی تھی جس پر ’’اختر الایمان ‘‘لکھا ہوا تھا۔ تصدیق بھائی نے ’’کال بیل ‘‘دبائی۔کسی خاتون نے دروازہ کھولا اور سب کواندرآنے کے لیے کہا۔
ہم لوگوں کو پہلے جوتے چپل اُتارنے پڑے کیوں کہ ہال میں یہاں سے وہاں تک یعنی دِیوار سے دیوار تک دبیز قالین بچھا ہوا تھا۔آگے بڑھے توپہلے میرا تعارف سلطانہ بھابھی سے اور پھر اختربھائی سے کرایاگیا۔اختر بھائی بڑی یگانگت اور گرم جوشی سے ملے،پھر اپنے ساتھ ہی صوفے پر بٹھا لیا۔
اِدھر اُدھر کی باتیں شروع ہوئیں۔پہلے کالج کے بارے میں پوچھا،میں نے کہا ’’بہت اچھا چل رہاہے۔‘‘بولے ’’ہاں تصدیق بتا رہے تھے ،مجھے بہت افسوس ہے کہ میں باقر والے جلسے میں شریک نہیں ہو سکا۔ عین وقت پر کوئی ضروری کام آگیاتھا۔‘‘پھر میری رہائش کی بابت سوال کیا۔میرے ’چار بنگلہ‘کہنے پر کہا کہ ’آپ نے یہ بہت اچھا کیاکہ رہنے کے لیے چار بنگلے کا انتخاب کیا۔نہایت ہی پر سکون اور پرفضا جگہ ہے۔میں دو تین بار اُدھر جاچکا ہوں۔
میں نے اس کے لمبے چوڑے ہال،اس کے فرنیچر اور تزئین کی تعریف کی۔ اختر صاحب کا رنگ چونکہ کافی پکا تھا اس لیے ان کے چہرے سے ان کے تاثرات کااندازہ لگانا مشکل تھا۔ان کی ہنسی،ان کی خوشی یاپسندیدگی کی اوران کا اچانک خاموش ہوجانا اور اِدھر اُدھر بلا وجہ دیکھنا ان کی ناراضی کی علامت تھی۔اختر صاحب نے ہال اور فرنیچروغیرہ کی تعریف سن کر کہا کہ بات یہ ہے کہ اس ہاؤسنگ سوسائٹی کی بنیاد میں نے رکھی تھی۔میں ہی سوسائٹی کا صدرتھا بلکہ اب بھی ہوں۔میں نے دو بڑے فلیٹ خریدکر دونوں کوایک کرادیا۔اس طرح کئی کمرے نکل آئے اور ہال توآپ کے سامنے ہے۔‘‘
ملازمہ چائے کی ٹِرے لیے آئی۔کھانے کے لیے مٹھائی،نمکین اور بسکٹ تھے۔اختر بھائی کے علاوہ بلکہ ان سے زیادہ میں نے اور تصدیق بھائی نے چائے اور دیگر لوازمات کے ساتھ انصاف کیا۔پھر میں نے اجازت چاہی۔ اختر بھائی نے کھانے کے لیے اصرار کیا،مگر میں نے کہا کہ ’’اتوارہی کا ایک دن ملتاہے،میں بچوں کے ساتھ ہی کھانا کھاؤں گا۔‘‘
اختر بھائی سے رُخصت ہو کر میں نے تصدیق بھائی اور رضیہ بھابھی کو خدا حافظ کہا۔سلطانہ بھابھی نے ہنستے ہوئے کہا ’’بیوی کو تونکالیے،انہیں کیوں گھر میں بند کر کے رکھا ہے؟‘‘
میں نے کہا : ’’بیوی کو بند کر کے نہیں رکھا۔وہ برقعہ پوش بھی نہیں ہیں۔بچوں کی وجہ سے کہیں آناجانا ذرا مشکل ہی سے ہوتا ہے۔‘‘
اس سے پہلے کہ میں دروازے سے باہر قدم نکالتا،اختر بھائی نے قدرے بلندآوازمیں کہا :
’’فضیل،تم کو جب موقع ملے آجانا ،تصدیق کے ساتھ کا انتظار نہ کرنا۔‘
‘میں خدا حافظ کہہ کر نکل آیا۔
اس ملاقات میں کوئی ادبی بات چیت نہیں ہوئی۔میں نے سوچا پھر کبھی ! دس بارہ دن کے بعدکوئی چھٹی پڑگئی۔میں نے اختر بھائی کو فون کیا۔ خیال تھا کہ چھٹی والے دن اگر وہ گھر پر ہوئے توملاقات بھی ہو جائے گی اورمیرا اِتوار بھی بچ جائے گا۔فون اُنہوں نے ہی اٹھایا۔میری بات سن کر بولے ’’ٹھیک ہے گیارہ بجے آجاؤ۔میں گھر ہی پر رہوں گا۔ ‘دوسرے دن میں وقت مقررہ پر پہنچ گیا۔گھنٹی بجائی توملازمہ نے دروازہ کھولااوراندرآنے کے لیے کہا۔اختر بھائی صوفے پر بیٹھے تھے۔اُٹھ کر چند قدم آگے آئے۔بڑے خلوص کیساتھ میرے شانے کو تھپتھپا یا۔ چائے سے فارغ ہونے کے بعدکہا کہ چلیے اسٹڈی روم میں بیٹھتے ہیں۔
ہال کیساتھ ہی ایک چھوٹاسا کمرہ تھا جس میں دوچھوٹی چھوٹی کرسیوں اور ایک چھوٹی سی میز کے علاوہ ایک پلنگ بھی تھا۔دیواروں پر شیلف لگے تھے جن میں سلیقے کے ساتھ کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔کمرے کو دیکھ کرمیراپہلا تاثر یہ تھا کہ وہ کمرہ اختر صاحب کااسٹیڈی روم ہی نہیں بیڈروم بھی تھا۔بہرحال میں نے اس تعلق سے کوئی سوال نہیں کیا۔
اِدھر اُدھر کی بات کرنے کے بعداختر صاحب نے جدیدیت کاذکر چھیڑ دیا۔کہنے لگے کہ ’’آجکل جدیدیت کابڑاغلغلہ ہے۔پھرآپ لوگوں کے درمیان جدیدیت کے مسئلے پر کوئی اتفاق رائے بھی نہیں۔ وحید اختر کے نزدیک جدید یت ترقی پسندی کی توسیع ہے ،باقر مہدی ابھی تک ترقی پسندی اور جدید یت کی کشمکش کو سلجھانے میں لگے ہیں، شمس الرحمن فاروقی اندرونِ ذات وغیرہ میں الجھے ہوئے ہیں۔ میں آپ سے پوچھتاہوں کہ ایک جدید شاعر اورادیب کی حیثیت سے آپ کے اپنے مسائل کیاہیں؟‘‘
مَیںنے کہا کہ میرے بلکہ تمام جدید لکھنے والوں کے مسائل وہی ہیں جن کا ذکر آپ وقتاً فوقتاً اپنی مختلف تحریروں میں کرتے رہے ہیں۔ معاشرے اور افراد کے آپسی رشتوں کا منقطع ہوجانا، نراجیت کا ماحول ، عقائد اور اقدار کی شکست وریخت ، انتشار، بکھراؤاور بدحواسی کی فضا۔ آپ کے اور نئے لکھنے والوں کے درمیان صرف نسل کا فرق ہے۔ اگرچہ آپ لفظ نسل سے چڑتے ہیں کیونکہ آپ کے نزدیک نسل تو گھوڑوں کی ہوتی ہے، مگر کیا کیا جائے۔ مجبوری ہے۔ Generationکے لیے اردو میں نسل کے علاوہ کوئی اور مناسب اصطلاح نہیں ہے۔
اسی طرح جب کبھی میں اختر صاحب کے گھر جاتا کسی نہ کسی مسئلے پر بات چیت ہوتی۔ماحول ہمیشہ خوشگوار رہتا۔ ایک دِن ترقی پسندی کا ذکر چھڑ گیا۔ کہنے لگے کہ ’’میں ترقی پسندی کا ہرگز مخالف نہیں ہوں۔ میں اُن ترقی پسندوں کا مخالف ہوں جنہوں نے اتنی عظیم تحریک کو روسی کمیونزم اور روسی حکومت کی دہلیز پر قربان کردیا۔‘‘
اختر صاحب ترقی پسندوں میں سب سے زیادہ علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی سے ناراض رہا کرتے تھے۔ مجھے سَن تو یاد نہیں مگر اتنا یاد ہے کہ 1982والے د ہے میں روزنامہ قومی آواز (لکھنؤ) کا بمبئی ایڈیشن شائع ہونا شروع ہوا۔
اُن دنوں اندراگاندھی وزیراعظم تھیں۔ ان کے ایک خاص صلاح کار ،یشپال کپور پورے ہیرالڈگروپ کے انچارج تھے۔ مشہور صحافی خلیل زاہد کو’قومی آواز‘ کا ریزڈِنٹ ایڈیٹر بنایا گیا۔ ’قومی آواز‘ کا سنڈے میگزین بہت پاپولر تھا۔ سعید حمید (روزنامہ ’صحافت‘ (لکھنؤ) کے موجودہ ‘بمبئی ایڈیٹر) نے سنڈے ایڈیشن کے لئے اختر صاحب کے دو گرما گرم انٹرویوز لیے تھے۔ ایک میں انہوں نے بڑے دھار دار انداز میں علی سردار جعفری کو نشانہ بنایا جب کہ دوسرے میں تلوار کا رُخ کیفی اعظمی کی طرف تھا۔ دونوں کا لب ِلباب یہ تھا کہ جعفری اور کیفی شاعر نہیں، محض متشاعر ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ ان لوگوں کی شاعری کو زیادہ سے زیاد ہ کلامِ ِموزوں کہا جاسکتا ہے۔ ان دونوں انٹروِیوز نے اردو والوں میںکافی گرمی پیدا کردی۔ اختر صاحب کی حمایت اور مخالفت دونوں میں کافی قارئین نے اپنی آرا کا اظہار کیا۔ مخالفت میں شائع ہونے والے خطوط کی تعداد زیادہ تھی کیونکہ اختر صاحب کے مقابلے میں عوامی سطح پر جعفری اور کیفی کی مقبولیت کہیں زیادہ تھی۔ کیفی صاحب تو خاموش رہے مگر سردار جعفری پرانے مناظرہ باز تھے۔ اُنہوں نے بہت سخت لہجے میں جواب دیا۔ حسبِ دستور کچھ دنوں بحث چلی پھر اخبار کے سرد خانے میں چلی گئی۔
اب میں دو ایسے واقعات کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے اختر صاحب کے معتقد کی حیثیت سے میرے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ میرے کانوں میں اُڑتی اُڑتی یہ خبر پہنچی تھی کہ اختر بھائی کی ایک بہن بھی ان کے ساتھ رہتی ہیں، (میں اس خبر کی صداقت یا عدم صداقت کے بارے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہہ سکتا۔) لیکن یہ نہیں معلوم تھا کہ ان کی والدہ بھی بمبئی ہی میں رہتی ہیں۔والدہ کو اپنے ساتھ رکھ کر اختر صاحب نے اپنی لائقی اور انسانیت کا ثبوت دِیا تھا۔
اسی درمیان میری ملاقات محمود چھاپرا (مشترکہ دوست) سے ہوئی۔ محمود جو تجارت پیشہ تھے، سماجی کاموں میں مہارت رکھتے تھے اور سب کی مدد کرنے میں پیش پیش رہتے تھے، انہوں نے بتایا کہ اختر بھائی کی والدہ کا انتقال ہوگیا۔ میں نے کہا کہ مجھے تو کچھ پتہ نہیں، نہ تو ان کی زندگی کے بارے میں مجھے کوئی اطلاع تھی اور نہ ہی ان کی موت کی خبر ملی۔ محمود نے کہا کہ کچھ دنوں سے علیل تھیں اور ’’ہولی فیملی اسپتال‘‘ میں داخل تھیں۔دو تین دن پہلے انتقال ہوا ہے۔
اختر بھائی نے مجھے بلالیا تھا۔ چونکہ مجھے ایسے معاملات کا تجربہ ہے اس لیے تمام کام سلیقے سے ہوگئے۔ پھر محمودؔ نے مجھے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’’بھائی! یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ لاش کو نہلا دھلا کر اور کفن پہنا کر بلڈنگ کے نیچے ہی سے قبرستان روانہ کردیا گیا۔اختر بھائی ماں کو اوپر نہیں لے گئے تاکہ گھر کے سب لوگ آخری دیدار کرلیتے ‘‘۔
یہ سن کر افسوس تو ہوا مگر میں نے اختر صاحب سے کچھ نہیں کہا۔ اختر صاحب نے اپنی ماںکے انتقال کے بعد 1983 میں جو نظم لکھی وہ ان کی ذہنی ایمانداری اور خود اعترافی کا بین ثبوت ہے۔ نظم کا عنوان ہے’تحلیل‘۔ آپ بھی ملاحظہ فرمائیں:
میری ماں اب مٹی کے ڈھیر کے نیچے سوتی ہے
اس کے جملے اس کی باتیں ،جب وہ زندہ تھی۔کتنابرہم کرتی تھیں
میری روشن طبعی…اس کی جہالت
ہم دونوں کے بین ایک دیوار تھی ،جیسے
’’رات کو خوشبو کا جھونکاآئے…ذکر نہ کرنا
پیروں کی سواری جاتی ہے
دن میں بگولوں کی زد میں مت آنا
سائے کا اثرہوجاتاہے
’’بارش،پانی میں گھر سے باہر جانا تو چوکس رہنا
بجلی گرپڑتی ہے ،توپہلوٹھی کا بیٹا ہے‘‘
’’جب تو میرے پیٹ میں تھا،میں نے اک سپنا دیکھاتھا
گود میں اپنے سانپ لیے بیٹھی ہوں…تیری عمر بڑی لمبی ہے
لوگ محبت کر کے بھی تجھ سے ڈرتے رہیں گے‘‘
میری ماں اب ڈھیروں من مٹی کے نیچے سوتی ہے
سانپ سے میں بے حد خائف ہوں
ماں کی باتوں سے گھبرا کر میں نے اپنا سارا زہراُگل ڈالاہے
لیکن جب سے لوگوں کو معلوم ہوا ہے میرے اندرکوئی زہر نہیں
اکثر لوگ مجھے احمق کہتے ہیں!
دوسرے افسوسناک واقعے کا تعلق راجندرسنگھ بیدی سے ہے۔بیدی صاحب کی زندگی کے آخری چند سال بڑے اذیت ناک ثابت ہوئے۔ان کی آخری فلم’’آنکھن دیکھی‘‘بری طرح ناکام ہو گئی تھی اور بیوی کے انتقال کے بعدان کی ذاتی زندگی ایک عذاب بن گئی تھی۔سیٹھیا سدن (ماٹونگابمبئی)والا مکان انہوں نے فروخت کردیاتھا۔کار بھی بِک گئی تھی۔وہ اپنے آنجہانی بیٹے نریندرکی بیوہ اوربچوں کے ساتھ رہنے کے لیے کھار آگئے تھے۔پھر ان پر فالج کاحملہ ہوا۔ابھی وہ فالج سے جوجھ ہی رہے تھے کہ کینسرمیں مبتلا ہو گئے ۔ ان حالات میں بھی بیدی صاحب کی روایتی شرافت اورانسانی اقدار کی پاسبانی کی فطری جبلت زندہ تھی۔
غالباً1983کی بات ہے۔یوسف ناظم کی بیٹی کی شادی تھی۔اس کے لیے انہوں نے لنکنگ روڈ پر واقع پامپوش ہوٹل کے سامنے کوئی ہال لیا تھا۔بارات ابھی نہیں آئی تھی۔بیدی صاحب مہمانوں کی اگلی صف میں بیٹھے تھے۔میں ان کے پیچھے والی نشست پر تھا۔بیدی صاحب نے مجھے اشارے میں آگے بلایا اور ہاتھ میں ایک لفافہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’یوسف ناظم کہیں نظرنہیں آرہے ہیں۔آپ میری طرف سے یہ لفافہ انہیں دے دیجئے گا۔مجھ سے اب اور بیٹھا نہیں جاتا۔آپ مجھے گھر تک چھوڑآئیے۔
محمود چھاپرابھی وہیں تھے۔میں نے انہیں بھی ساتھ لے لیا۔ہم لوگ جیسے ہی بیدی کو لے کر ہال سے باہر آئے،اختر الایمان اپنی کار چلاتے ہوئے اندرآتے دکھائی دِیے۔میں نے بڑھ کر سلام دعا کی اور پھر ان سے درخواست کہ ’’چلئے بیدی صاحب کو ان کے گھر کھار ٹیلی فون ایکسچینج تک چھوڑ آتے ہیں ،وہ بیمار ہیں اور کافی کمزور ہو گئے ہیں۔‘‘
اختر صاحب نے جواب میں جو کہا ،وہ یہ تھا:’’میں ابھی ابھی آیا ہوں۔میرے پاس ڈرائیورنہیں ہے میں خود گاڑی چلا کرآیا ہوں۔اب میں کہیں نہیں جا سکتا۔‘‘
اختر صاحب کے منہ سے یہ سن کر مجھے افسوس ہوا۔بصورتِ دیگروہ نہایت ہی ملنسار،شریف اورانسان دوست آدمی تھے۔
میں اورمحمود،بیدی صاحب کو ایک ٹیکسی میں بٹھا کر ان کے گھر لے گئے اور اسی ٹیکسی سے واپس آگئے۔آنے جانے میں صرف 10منٹ لگے۔11نومبر 1984کو بیدی صاحب کا انتقال ہوگیا۔اُردو کی ادبی تاریخ میں وہ لافانی ہوگئے۔
بحیثیت انسان اختر الایمان کے جس وصف نے مجھے سب سے زیادہ متاثرکیا، وہ ہے ان کی غیرتمندی اور خودداری۔1990والے دہے کی ابتدا میں کسی وقت اُن کی طبیعت خراب ہوئی۔پھر معلوم ہوا کہ ان کے دونوں گردے بیکار ہو گئے ہیں۔ ڈائیلسیس کا سلسلہ شروع ہوا۔ہفتے میں ایک دن ،پھر دودن، پھر تین تین دن۔گردوں کا یہ علاج آج بھی بہت مہنگا ہوتاہے۔اُس وقت اور بھی زیادہ مہنگا تھا۔اختر بھائی کے پاس کوئی جمع شدہ دولت نہیں تھی لیکن اُنہوں نے کسی حکومت ،نجی ادارے یا کسی اردو اکیڈمی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلایا۔
اختر بھائی نے اپنابینڈاسٹینڈوالا شاندار فلیٹ بیچ دِیا اور کارٹر روڈ پر ’روی درشن‘نامی بلڈنگ کی پہلی منزل پر ایک چھوٹا سا فلیٹ لے لیا۔ہوسکتا ہے وہ بھی کرائے پر لیا ہو۔اسی بلڈنگ کی چوتھی منزل پر باقر مہدی رہتے تھے۔کسی زمانے میں اختربھائی اورباقر کے درمیان بہت گاڑھی چھنتی تھی،پھر کسی بات پر کھٹ پٹ ہوگئی۔ خیر!ڈائیلسِس کے لیے اختر، ناناوتی اسپتال (وِلے پارلے ۔ممبئی)جاتے تھے۔میں دو تین بار اسپتال انہیں دیکھنے کے لیے گیا۔ علاج کے دوران کبھی کبھی ان کی پنڈلیوں کی نسیں پھٹ جاتی تھیں اور خون نکلنے لگتا مگر وہ ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے۔عیادت کے لیے آنے والوں سے بہت سی باتیں کرتے مگر کبھی اپنی تکلیف کا ذکر نہیں کرتے تھے۔
میری یادداشت کے مطابق اختر الایمان کا انتقال 9مارچ 1996کو ہوا تھا۔میں اُن دنوں بلٹز(Blitzاُردوِیکلی)کا ایڈیٹر تھا اور اسی روزجے پور چلا گیا تھا۔شام میں جب مَیں نے دفتر کا حال چال جاننے کے لیے ایک رفیقِ کار کو فون کیاتو انہوں نے یہ اندوہناک اطلاع دی۔رہے نام اللہ کا۔
سلطانہ بھابھی بفضلِ خدا اَبھی حیات ہیں۔اللہ تعالیٰ ان کی عمر دراز کرے اور صحت مند رکھے۔شادی کے بعد سے آخری وقت تک انہوں نے ہر قدم پر اور ہر طرح سے اختر بھائی کا بہت ساتھ دیا۔اب وہ مستقل طور سے اپنی بڑی بیٹی شہلا(مشہور اداکار امجد خان کی بیوہ) کے ساتھ رہتی ہیں۔٭
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

