ریڈ لائٹ جل چکی تھی ،وہ اپن بچے کو لیکر جلدی سے کراسنگ کی طرف دوڑی وہ باری باری سے ساری گاڑیوں کے سامنے سے ہاتھ پھیلا کر مانگتی چلی گئی ۔مگر وہاں پر کوئی فریاد کو سننے والا نہیں تھا ۔ہر کسی کے پاس التجا کرتے ہو ئے آخر تک پہونچ گئی ۔اتنے میں گرین سگنل ہو گیا ۔ساری گاڑیا ں تیز رفتاری کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔اب پھر وہ اپنے بچے کی پیاس بجھانے کی خاطر اپنی جگہ واپس آکر سوکھے ہوئے چھاتیوں سے لگا لیا ۔مگر بچہ برابر روتا رہا ،بچے جس چیز کی تلاش تھی۔ وہ اس کے جسم سے ختم ہو چکی تھی ۔بچے کی تسلی کی خاطر بار بار اپنے سینے سے چمٹاتی رہی ۔مسلسل اسی کوشش میں لگی رہی، اسی دوران سگنل پر ریڈ لائٹ پھر نمودار ہوئی ۔اس امید کے ساتھ پھر دوڑی کی شاید کوئی مدد کرے گا ۔
پہلی ہی گاڑی پر اس کی مدد کے لیے ایک آدمی نے شیشہ کھو لتے ہوئے کہا ۔
’’اس بچے کا باپ کون ہے ،‘‘؟؟
’’جب بچے کو کھلانے کا ذریعہ نہیں ہے تو بچے پیدا کیوں کرتے ہو ،‘‘؟؟
’’اس طرح کے چبھتے ہوئے الفاظ اس کی کانوں میں گونجنے لگے ۔سسکیاں اس کے گلے تک آچکی تھیں آنکھیں بھر آئیں نظر کو جھکا تے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
فقیرن کے دل میں یہ بات گھر کر گئی کہ اس بچے کا باپ کون ہے ؟؟؟کیوں بچہ پیدا کرتی ہو ؟؟
لالچ میں پھر واپس اس کے پاس آئی کہ شاید کچھ پیسے مل جائیں ۔اس بار سیٹھ اس کو غور سے دیکھنا شروع کیا ۔اوپر سے نیچے تک فقیرن کے سارے کپڑے بوسیدہ اور پھٹے ہوئے تھے ۔اس کے کپڑے سے بھینی بھینی بو آرہی تھی ۔اب سیٹھ کی نظر اس کے سارے جسم کی سیر کرتا ہو ا ،اس کے پھٹے ہوئے بلاوز پر آکر رک گئی آستین کا ایک حصہ پھٹا ہو ا تھا ۔جو کی اس کے جسم کی نمائش بنا ہوا تھا ،گندمی رنگ اس کی پنڈولیامحور بن گئی ۔فقیرن ابھی صرف دو بچوں کی ماں تھی، کوئی خاص عمر نہیں تھی ہونٹ سوکھے ہوئے تھے ۔کئی دنو ں سے نہ نہانے کی وجہ سے چہرے پر دھول جمی ہوئی تھی ۔
یہ سب دیکھنے کے بعد سیٹھ بول پڑا
’’کام کروگی میرے گھر بہت پیسے ملیں گے ‘‘
نہیں ساب نہیں جائیگی‘‘
’’کھانا کپڑا رہنے کے لیے گھر سب کچھ ملے گا ‘‘
’’کیسا کام ملے گا کیا کرنا ہوگا مجھے ۔اس کے بعد بچے کو دیکھتے ہوئے فقیرن نے کہا ٹھیک ہے میں کروں گی ،اب سیٹھ جلدی سے اپنا کارڈ دیا جس پر اس کے فارم ہاؤس کا پتہ لکھا ہوا تھا ۔اوروہاں سے چلا گیا ،گرین سگنل ہو چکا تھا ۔
اس کے بعد فقیرن دوسری گاڑی کی طرف بڑھی وہاں سے دس روپیہ کا نوٹ ملا ،، اس نے جلدی سے واپس آتے ہوئے اپنے بچے کے لئے سامنے نے والی ہو ٹل سے دودھ لیا ایک جگہ پر بیٹھ کر بچے کو دودھ پلا نے لگی ۔بچے کو دودھ پلاتے ہوئے وہ سیٹھ کے بارے میں سوچنے لگی ۔
کسی طرح سے رات گزاری۔ صبح اٹھتے ہی اپنے فقیر دوستوں سے ایک اچھا سا مانگا ہوا کپڑا مانگا ۔ پیچھے ایک بڑے سے نالے پر بیٹھ کر نہا یا جسم کی صفائی کی کپڑے بدلے ،بال کو اچھی طرح سے کنگھا کیا ۔ اپنے بچے ہوئے کپڑے کو دوپٹے میں باندھا اور ساتھ میں لے لیا ۔پھر اس کارڈ کولے کر پتہ پوچھنے لگی حیران وپریشان تلاش ومعاش کے بعد شام کے وقت اندھیرے میں اس کے گھر پر پہونچی۔دروازے پر کھڑی آواز دینے لگی سیٹھ ؟؟ْسیٹھ دروازہ کھولو زور زور سے چلانے لگی ۔کچھ دیر کے بعد نوکر نے دروازہ کھولا ،
’’کیا بات ہے ابھی تمہارے بھیک مانگنے کا وقت ختم نہیں ہوا ؟؟؟؟
کیوں اس وقت یہا ں آئی ہو ‘‘؟؟؟
’’ارے ساب مجھے سیٹھ نے بلا یا تھا اس لیے آئی ہوں ‘‘
’’اچھا رکو ‘‘
نوکر اندر گیا سیٹھ سے کہا‘‘
کون ہے ؟؟؟ کیسی ہے ‘‘
’’ایک فقیر عورت ہے اس کے پاس ایک بچہ بھی ہے‘‘
’’وہ بول رہی ہے آپ نے بلا یا ہے ‘‘
’’ہا ں ٹھیک ہے یہ کنجی لو اور اس کو پیچھے والے کمرے میں بٹھا و ٔمیں نے اسے بلا یا تھا‘‘۔
نوکر تعجب کرتے ہوئے کنجیوں کا گچھہ اٹھا یا واپس آکر فقیرن کو ساتھ لیا۔اور پیچھے کے راستے سے روم تک اسے چھوڑ دیا ۔ نوکرواپس آکر اپنے کام میں مشغول ہو گیا ۔فقیرن کو جس کمرے میں ٹھہرایا تھا اس میں ضرورت کے سارے سامان موجود تھے ۔۔باتھ روم، کچن ،بیڈ صوفہ، الماری ،سنگھاردان وغیرہ ۔ابھی فقیرن سارا سامان دیکھ حیرت و تعجب میں گھوم ہی رہی تھی کہ اتنے میں سیٹھ کی آمد ہوئی ۔ آتے ہی اس نے کہا تم جلدی سے نہا دھو کر الماری سے کپڑے نکا ل کر پہن لو ۔تم تھک گئی ہوگی ۔ تھوڑا ٓرام کرلو ،نوکر کھانابھی لاکر تم کو دے دیگا کل صبح تم کو کام پر جانا ہے ۔اتنا کہہ کر اس کے بعد سیٹھ چلا گیا ۔
فقیرن نے جلدی گرم پانی سے نہایا۔ زندگی میں پہلی بار ایسا باتھ روم دیکھا تھا۔ آج اسے بہت خوشی محسوس ہو رہی تھی ۔نہانے کے بعد کپڑے بدل لئے بالکل نئے کپڑے تھے۔ کچھ میک اپ بھی کرلیا تھا ۔اتنے میں نوکر کھانا بھی لے کر آگیا ۔فقیرن کی زندگی میں کبھی ایسا گھر ملے گا کبھی اس نے سوچا نہیں تھا ۔وہ سوچ رہی تھی کی کاش اپنی زندگی میں ایک گھر اپنا بھی ایسا ہی ہو۔ مگر ہماری زندگی میں یہ سب کہا ں ممکن ہے میرا گھر تو سڑک کا کنارا ہے اتنے میں سیٹھ کی بات بھی یاد آنے لگی آخر کون سا کام مجھے کرنا ہوگا ،کہا جانا ہے۔ مجھے تو کام کرنے کے لئے لایا تھا ۔اب بچہ بھی بھوک سے رونے لگا اس نے جلدی سے بچے کو کھانا کھلا یا اور سلادیا، کھانے کو بعد وہ بھی سو گئی ۔
سیٹھ کئی سالوں سے تین بیویا ں چھوڑ چکا تھا اب اس کی زندگی میں کوئی نہیں تھا ۔گھر جائیدادکا وار ث کوئی نہیں تھا ۔بس ایک نوکر جو اس کی خدمت کرتا تھا اس کے علاوہ صرف دولت اس کے پاس تھی رات کہیں بھی گزار لیتا تھا ۔یہ سب ان بیویوں کے چھوڑے ہوئے کپڑے موجود تھے ۔
صبح ہوتے ہی سیٹھ پھر نمودار ہوا ،ناشتہ کرنے کے بعد اسے لیکر اپنے فارم ہاؤس پر گیا ۔وہاں پہونچ کر کہا یہاں تم کو رہنا ہے اس کی صفائی ستھرائی کرنا ہے ۔آج سے تم یہیں پر رہوگی ،جو بھی تمہاری ضرورت ہوگی سب پوری کی جاے گی ۔اس کے بعد سیٹھ جانے لگا تو فقیرن مخاطب ہوئی۔تو سیٹھ رک گیا ،اور وہ بولی
’’ٹھیک ہے سیٹھ میں کروں گی ‘‘
ارے یہ بچہ تم کیوں ساتھ لائی ہو ‘‘
’’کیوں ساب یہ میرا بچہ ہے تو میرے ساتھ ہی رہے گا نہ ‘‘
’’تم اسے کسی اور کو دے دیتی ‘‘
’’کیا کروگی ،کیوں یہ مصیبت پال رہی ہو ‘‘
’’میں سوچتا ہوں تم یہاں صرف اکیلی رہو اور اپنا ساراکام کرو ‘‘۔
آج سیٹھ کو و ہ فقیرن حد سے زیادہ خوبصورت لگ رہی تھی ۔بالکل نئی نویلی دلہن کی طرح ۔سیٹھ کے دیکھنے کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا کہ اب وہ اس کی دلہن بن جاے گی ،اور رانی بن کر اس گھر کی رکھوالی کرے گی ۔یہ سب کچھ فقیرن کے دل و دماغ میں چل رہا تھا ۔خواہشات کے سمندر میں غوطہ لگار ہی تھی ،کہ اچانک سیٹھ بول پڑا ۔
’’اچھا ایک کام کرو‘‘
’’وہ کون سا کام ساب ‘‘
’’تم اس بچے کو اسکول میں ڈال دو تا کہ اس کی پڑھائی بھی ہو تی رہے گی اور تم کام بھی کر لیا کروگی‘‘ ۔
’’ ہاں ساب یہ ٹھیک ہے ‘‘
کچھ دنوں کے بعد بچے کو اسکول میں داخل کرادیا ۔بچہ اسکول بھی جانے لگا تھا ۔اوراب سیٹھ کی ساری مشکلا ت دور ہو چکی تھی ۔جاتے ہوئے سیٹھ نے کہاں میں رات کو آ یا کروں گا تم سے ملنے ، تم تیا ر رہنا ۔
’’ٹھیک ہے ساب لیکن رات میں کیوں دن میں کیوں نہیں ؟؟؟؟
’’تم جانتی ہو اتنا بڑا میرا کارو بار ہے میں دن میں نہیں آسکتا نا‘‘
’’ٹھیک ہے ساب جیسی آپ کی اچھا ہو ‘،
رات کے وقت سیٹھ آیا ۔ بو لا کھانا کھا لیا تم نے ؟؟ جی ہاں کھالیا۔آج رات میں یہی سوؤں گا ۔
وہ کیوں ساب ؟؟ بچہ بھی سو چکا تھا اس نے کچھ پیسے دیے ۔اور کہا کہ تم اسے اپنے پاس رکھنا اپنے کھرچ کے لئے ،دھیرے دھیرے اس کے قریب آیا ،کیا بات ہے آج بہت خوش لگ رہی ہو ۔ہاں جی اچھالگ رہا ہے یہا ں کام کرتے ہوے بات کرتے کرتے اس کے اتنے قریب آگیا کہ اس کے جسم کی گرمی کو محسوس کرنے لگا ۔اس کے بعد دونوں ایک دوسرے سے لپٹ گئے۔ اس کا ہاتھ فقیرن کے جسم کے ابھار کی طرف تیزی سے دورنے لگا ،کبھی دونوں ایک دوسرے کو دبوچنے کی کوشش کرتے ۔سیٹھ کو وہ جسم آج کسی حسین ملکہ سے کم نہیں لگ رہا تھا اس کے سارے کپڑے اتار دیئے ننگے جسم کے ساتھ اس نے کھیلنا شروع کردیا ۔مگر فقیرن بار بار اسے منع کرتی رہی نہیں ساب یہ غلط ہے ۔آپ کے بیوی بچے ہوں گے نا ،کیوں ایسا کررہے ہیں ‘‘۔جنسی خواہشات پوری کرنے کے بعد بولا ’’میرا کوئی نہیں ہے‘‘ ،لیکن میں ایسی نہیں ہوں میرے بچے ہیں ،میں کسی کی ماں ہوں۔مگر سیٹھ کہاں تک برداشت کر سکتا تھا اس نے اپنی ہوس کی ساری حدیں توڑ دیں۔ لگاتار دو مہینہ تک اپنی ہوس کی آگ بجھا تا رہا ۔
اس طرح وقت گزرتا رہا ۔اب فقیرن بھی مجبور ہوکر اس میں دلچسپی لینے لگی تھی ۔اس کے جسم میں تبدیلی بھی شروع ہو چکی تھی۔پہلے سے بہت زیادہ خوش تھی ۔اب سیٹھ آتا تو وہ اس کو دور بھگانے کی کوشش کرتی ۔مگر کبھی سیٹھ کو بات سمجھ میں نہیں آئی کہ کیا بات ہے وہ مسکرا کر ٹال جا تی تھی ۔ایک دن دوپہر میں سیٹھ آیا بہت خوش تھا ۔فقیرن نے موقع کو غنیمت سمجھ کر اسے اپنے قریب بلایا اور دھیرے سے کان میں ایک دن چپکے سے کہا، ا ب آپ باپ بننے والے ہیں ۔اتنا سننا تھا کہ سیٹھ کے پیروں تلے سے زمین کھسک گئی ۔اس کی پریشانیاں بڑھنے لگی ۔اب وہ اسے گھر سے نکا لنے کی فکر میں تھا ۔ایک دن اچانک اس کے گھر پر حملہ ہوا بڑی مشکل سے فقیرن جان بچانے میں کامیاب ہو گئی ۔اس دن شام کے وقت پھر سیٹھ اس کے پا س آیا ۔اور جبرن اپنی خواہشات پوری کرنے لگا ۔اب فقیرن بھی اس سے انتقام لینے کی سوچ میں پڑ گئی ۔جیسے ہی سیٹھ اس کے قریب آیا اس نے چپکے سے کان میں کہا ۔
’’اے سیٹھ تمہارا نام کیا ہے رے؟؟؟
’’کیوں کیا بات ہے آج تم میرا نام کیوں پوچھ رہی ہو ‘‘
کیوں ساب اب تمہارے ہونے والے بچے کے بارے میں لوگ پو چھیں گے تو کیا بتاؤں گی ۔‘‘
اتنا سننا تھا کی سیٹھ کی آنکھیں کھولی کی کھولی رہ گئیں ::
سیٹھ نے اسے گھر سے باہر نکال دیا ،وہ بار بار چلاتی رہی تمہارا نام کیا ہے ؟؟؟ لو گوں سے کیا بتاوں گی ،جب اس بچے کے بارے میں لو گ پو چھیں گے ۔تم نے بھی تو مجھ سے یہ پو چھا تھا نہ کہ اس بچے کا باپ کون ہے؟؟ تو اس دن میرے پاس جواب نہیں تھا آج کیا بتا وں گی ۔ارے ساب سرم آتی ہے تم لوگوں پر صرف دولت کا سہارا لیکر ہم جیسی عورتوں کی زندگی بر باد کر کے سڑکوں پر بھیک مانگنے کے لئے چھوڑ دیتے ہے ۔اس طرح سے فقیرن پھر اپنی دنیا میں اللہ کے نام پر دیدے بابا کہتے ہوئے واپس لوٹ گئی۔
ابراہیم اعظمی
ابراہیم اعظمی۔۔۔جمال پورہ مئو نا تھ بھنجن یوپی۔
۔۔9611954067

