کوئی بھی معاشرہ تبھی ترقی کے منازل طئے کر سکتا ہے جب سماج میں امن و امان کا ماحول ہو اور عوام کو بنیادی سہولت میسّر ہو۔اگر لوگ ذہنی انتشار کے شکار ہوں گے تو معاشرے پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے اور پھر ذہنی کشمںکش کا انجام یہ ہوگا کہ لوگوں کی کارکردگی پر اس کا برا اثر پڑے گا۔پھر شکست خورد ہ سماج میں امید کی کوئی علامت باقی نہیں رہے گی۔آج کل دنیا کے جو حالات ہیں اس میں ہر طرف ایک غیر یقینی صورتحال ہے۔ ہر کوئی اپنے مستقبل کے لئے فکر مند نظر آتا ہے ۔کورونا کے اس دور میں لاکھوں لوگوں کی نوکریا ں ختم ہو چکی ہیں ۔معاشی بد حالی کی وجہ کر لوگوں کی زندگیاں جہنّم بن چکی ہیں خاص کر اوسط درجے کے لوگوں کو بڑھتی مہنگائی اور بیکار ی نے پریشان کر رکھا ہے ۔لوگوں کی آمدنی کے ذرائع کم ہوتے جارہے ہیں بیکار ی کی وجہ کر نوجوان نسل بے راہ روی کی شکار ہو رہے ہیں۔اگر ان کے اندر بگاڑ پیدا ہو جائے گا تو پھر سماج کو برائی کے دلدل سے نکلنا مشکل ہی نہیں بلکہ نا ممکن ہو جائے گا۔
آج کے دور میں نوجوانوں کے اندر بے راہ روی عام ہو گئی ہے آج کل کے نوجوان نفس پرستی کے شکار ہوتے جا رہے ہیں جس میں ایک بڑا رول انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کا بھی ہے ڈیجیٹلائزیشن کے اس دور میں ہر ہاتھ میں اینڈ رائد موبائل ایک عام سی بات ہے جس پر لاکھوں سائٹ موجود ہیں جس میں بہت سارے غیر معیاری سائٹ بھی موجود ہیں جس کی وجہ کر نوجوان نسل برباد ی کی طرف بڑھ رہی ہے جس کی خاص وجہ تعلیم و تربیت کی کمی ہے ۔واقع یہ ہے کہ آج کل کے نوجوانوں کے اندر روحانیت کی تعلیم کا فقدان ہوتا ہے ۔جس کی وجہ کر نفس پرستی میں اندھے ہو کر نوجوان نسل بربادی کے دہانے پر پہنچ رہی ہے۔جس سے معاشرے میں بہت ساری برائیاں جنم لے رہی ہیں کبھی کبھی ایسی کار کر دگی سامنے آتی ہے جس کی وجہ کر پورا کا پورا خاندان بے عزتی اور شرم محسوس کرتا ہے۔والدین ذہنی طور پر پریشان ہوتے ہیں اور ذہنی انتشار کی وجہ کر لوگ انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں ۔خودکشی کے بڑھتے واقعات انہیں میں سے ایک بڑی وجہ ہے ۔
آج کل نوجوانوں کے اندر پھیلتا منشیات کا مسلہ بھی عام ہوتا جا رہا ہے کم عمر کے بچے بھی اس کا شکار ہو رہے ہیں ایسی کئی بیماریاں ہیں جو سماج کے تانے بانے کو بکھیر رہا ہے اور سماج میں امن و سکون کا فقدان ہو گیا ہے ۔
ذہنی سکون اور خوشگوار ماحول کے لئے زندگی میں امن و سکون بے حد ضروری ہے اگر ہم مشا ہدہ کریں تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ عام طور سے وہی گھرانہ کامیابی سے ہمکنار ہوتا ہے اور اسی کے افراد زندگی کے مشکل راہ پر اپنا لوہا منوا نے میں کامیاب ہوتے ہیں جس میں با ہمی اختلافات نہیں ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کے لئے ہمدردی کا جذبہ بیدار ہوتا ہے ایک دوسرے کے احساس کو سمجھتے ہیں اور ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں رشتہ داری ہو یا سماجی روا بط سب میں یہی بات نمایا ں ہوتی ہے۔اگر خودغرضی اور بجا انا حائل ہوگی تو رشتے میں وہ پختگی کبھی نہیں آسکتی جو انسانیت کے لئے بےحد ضروری ہے۔
جب ہم انسانی تاریخ کے عروج و زوال پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ جب جب کسی بھی ملک یا سماج میں امن قائم ہوا ہے لوگوں کو ان کے جائز حقو ق ملے ہیں اور امن و سکون کی فضا قائم رہی ہے۔سماج ترقی کی راہ پر آگے بڑھا ہے اور جب جب سماج میں خلفشار بر پا ہوا ہے سماج کی ترقی پر اس کے برے اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
سماج انسانی جماعت کا نام ہے اس لئے انسان کی فطرت کے مطابق سماجی ڈھانچہ وجود میں آتا ہے اگر سماج میں رہنے والے ا شخاص کے اندر صبر و شکر،قناعت پسندی اور ایک دوسرےکے لئے عزت و احترام ہوگا تو سماج پر اس کے خوشگوار اثرات مرتب ہوں گے اور سماج میں رہنے والے لوگوں کے اندر یہ خصلت موجود نہیں ہوگی تو لازمی طور پر سماج کے اندر بھی بدامنی کا ماحول پیدا ہوگا ۔
انسان کے اندر نفس اور نفسیاتی خواہشوں کا مادّہ پایا جاتا ہے جس کی وجہ کر انسانوں کے اندر ہر وقت ایک ٹکراؤ کا ماحول رہتا ہے جو انسانیت اور نفس کے بیچ چلتا رہتا ہے فرض کر لیجئے کہ کسی کے پاس مال و دولت موجود ہے یا پھر آپ دولتمند ہیں تو آپ کے نفس کا تقاضا ہوتا ہے کہ ہر طرح کی آسائش کا سا ما ن موجود ہو ،دولت کا استعمال بے دریغ اپنی نفسیاتی خواہشات کو پورا کرنے میں کیا جائے لیکن دوسری طرف انسانیت کا تقاضا ہوتا ہے اس دولت کے ذریعہ نادار اور بےکس لوگوں کی مدد کی جائے۔ تو پھر انسان نفس پرست ہوگا ،وہ تو نفس کی باتوں پر چل پڑے گا۔ مگر جس کے اندر انسانیت کا جذبہ بیدار ہوگا وہ اپنی دولت کا جائز استعمال کرے گا اور وہ لوگوں کی مدد کے لئے آگے بڑھے گا ۔اس کی مثال یوں سمجھ لیجئے کہ ایک شخص نے کسی شخص کے پاس کچھ روپے امانت کے طورپر رکھوایا اور مر گیا۔اس کے وارثوں کو بھی اس بات کا علم نہیں ۔اب آپ کا نفس اس بات پر اکسا رہا ہے کہ اس دولت کو لے لینا چاہئے کیوں کہ دنیا میں اس کا کوئی مطالبہ کرنے والا نہیں ہے مگر ایمانداری کا تقاضا یہ ہے کہ اس مال کو اس کے وارثوں کے حوالے کر دیا جائے اگر وہ مال دولت اس شخص نے اس کے وارثوں کو دے دیا تو گویا اس نے انسانیت کا ثبو ت پیش کیا اور اگر خود استعمال کر لیا تو گویا سمجھئے کہ نفس کے جھا نسےمیں آگیا۔ نفس اور نفسیاتی خواہشات کا یہ کشمکش انسان کی زندگی کے ساتھ ہر لمحہ چلتا رہتا ہے جو اکثر و بیشتر برائی کا موجب ہوتا ہے۔ اسی طرح مہربانی اور شفقت کے معنی یہ نہیں کہ انسان صرف اپنے بچوں سے شفقت و مہربانی کا سلوک روا رکھے بلکہ اس کا مطلب ہے کہ جو شخص بھی عمر میں اس سے بڑا ہو اس کے ساتھ عزت و اکرام کے ساتھ پیش آئے خواہ اس سے کوئی رشتہ داری ہو یا نہ ہو اور جو برابر کا ہے اسے اپنے بھائی بہن جیسا سلوک کرے اور چھوٹوں سے پیار و شفقت سے پیش آئے۔لیکن ان سب باتوں پر عمل کرنے کے لئے نفس کو لگام لگانا پڑے گا ۔اگر ہم اس میں کامیاب ہو گئے تو سماج میں پیار و محبّت کی گنگا بہنے لگے گی اور امن و امان کا ماحول پیدا ہو گا ۔اور ہمارا معاشرہ ایک مثالی معاشرہ بن جائے گا ۔
لیکن مشا ہدے میں جو بات سامنے آتی ہے وہ بالکل اس کے بر عکس ہے آج کل ہر شخص نفس کا غلام بنا پھرتا ہے ہر کو اپنے عیش و عشرت کی پڑی ہے اور اس میں سبھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں شامل نظر آتے ہیں خواہ وہ کوئی بھی طبقہ ہو چند کو چھوڑ کر ۔جسکی وجہ کر ہر شخص پریشان و سر گر داں پھرتا ہے ذہنی سکون سے وہ کوسوں دور ہوتا چلا جا رہا ہےجھوٹے دعوں کے ساتھ جینا آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ ہے ۔اس لئے ضرور ت اس بات کی ہے کہ پڑھا لکھا باشعور طبقہ آگے بڑھے اور حالات کو بدلنے کی کوشش کرے ۔آج بھی ہمارے ملک اور سماج میں اچھی سوچ رکھنے والوں کی کمی نہیں ہے مگر سب کے سب الجھے ہوئے سرے کی تلاش میں ہیں ۔الجھے ہوئے ڈور کو سب کو مل جل کر سلجھانا پڑے گا ۔اگر ایک بار اس ملک اور سماج کے لوگ اس میں کامیاب ہو جائیں گے تو ہمارا ملک تو ترقی کرے گا ہی ساتھ ساتھ ہم دنیا کی رہنمائی بھی کرنے کے لائق بن سکتے ہیں ہمارے ملک کی اصل طاقت جو نوجوانوں کی شکل میں ہے اس کو بھی صحیح راہ پر لا سکتے ہیں ملک کے اندر سرکاری طور پر بھی اس کے لئے کوشش ہو رہی ہیں نوجوانوں کی رہنمائی کیلئے کئی طرح کی اسکیمیں چلا ئی جا رہی ہیں مگر ان اسکیموں کا فائدہ تبھی ممکن ہے جب ہمارے طلباءاورطالبات کی صحیح طور پر رہنمائ ہوگی اور خاص کر ان کے اندر سے بے راہ روی کا خاتمہ ہوگا جس کے لئے سخت جد و جہد کی ضرورت ہے ہمیں اچھی امید کے ساتھ آگے بڑھنا چاہئے ۔اگر امن و امان کی فضاء قائم ہوگی تو کامیابی کی راہ پر ہمارے سماج کو چلنے سے روکا نہیں جا سکتا ۔
(ختم شد )۔
sheebakausar35@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

