اسرارالحق اسراؔر کی شاعری ہم عصر زندگی کی سچی تصویر سامنے لاتی ہے :ڈاکٹر مہر عالم خاں
اسرار الحق اسرارؔ قدیم اور جدید شاعری کا بہترین امتزاج ہیں: آفاق احمد خاں
شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی میں’’اسرار الحق اسرار سے ایک ملاقات‘‘موضوع پرآن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ یکم دسمبر2022ء
’’زخم انسانی تجربات اور انسان کے وجود کو سامنے لاتے ہیں یہی نہیں جب ہم اسرار الحق اسرارؔ کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو جذبات کی شدت کو لا نے والی شاعری اسرار الحق اسرارؔ کو زندہ و جاوید بنا دیتی ہے۔ ان کی شاعری ہم عصر زندگی کی سچی تصویر سامنے لاتی ہے،ساتھ ہی ان کی شاعری میں معنی و مفاہیم کا ایک جہاں آباد ہے۔یہ الفاظ تھے معروف دانشور ڈا کٹر مہر عالم خاں کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’اسرار الحق اسرارؔ سے ایک ملاقات‘‘ موضوع پر خصوصی مقرر کی حیثیت سے اپنی تقریرکے دوران آن لائن ادا کررہے تھے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہماری زندگی کی غربت ہے کہ ہمارے سماج کا جو اچھا فن کار ہے اس کو پہچاننے اور منظر عام پر لانے کی کوشش نہیں کرتا۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازسعید احمد سہارنپوری نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔ہدیۂ نعت عظمیٰ پروین نے پیش کیا۔بعد ازاں معروف شاعر اور اور خوبصورت ترنم کے مالک وارث وارثیؔ نے اسرار الحق اسرارؔ کی ایک بہت ہی خوبصورت غزل پیش کی۔ پروگرام کی صدارت کے فرائض لکھنؤ سے آیو سا کی صدر ڈاکٹر ریشما پروین نے انجام دیے۔ استقبا لیہ کلمات ڈاکٹر شاداب علیم، نظامت ڈاکٹر ارشاد سیانوی اور شکریے کی رسم ڈا کٹرالکا وششٹھ نے اداکی۔
اس مو قع پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر شعبۂ اردو اور معروف ادیب و ناقد پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ جدیدیت اور ما بعد جدیدیت کے زمانے میں کس طرح شاعری کو پیش کیا جاتا رہا ہے اس کو کر دکھایا ہے اسما عیل میرٹھی، بیاں میرٹھی، روش صدیقی، بشیر بدر، حفیظ میرٹھی وغیرہ نے میرٹھ کی نما ئندگی کی۔اب ان کے بعد اسرار الحق اسرار نے میرٹھ کے شعراکی روا یت کو آ گے بڑھایا ہے۔ اسرار الحق اسرارؔ کی شاعری کا یہ کمال ہے کہ ان کی شاعری کی خو بیوں کو عام اور خاص سب جانتے ہیں۔ ان کی شاعری اسرار سے پُر ہے۔
معروف دانشور اور مائنارٹی ایجو کیشنل سوسا ئٹی کے صدر آفاق احمد خاں نے کہا کہ اسرار الحق اسرارؔ کی کتاب’’ جسارت‘‘ واقعی ایک جسارت ہے اور یہ کتاب ہر پہلو سے اسرار الحق اسرارؔ کی شخصیت اور ان کے اسلوب شاعری کی بھر پور عکاسی کرتی ہے۔ اسرارؔ استاد الشعراء ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے نشیب و فراز اور جستجو کو اپنے اشعار میں ڈھالا ہے۔ اسرار الحق اسرارؔ قدیم اور جدید شاعری کا بہترین امتزاج ہیں۔
اپنے صدارتی خطبے میں ڈاکٹر ریشما پروین نے کہا کہ میں اپنے پرو گرام میں اسرار الحق اسرارؔ کا استقبال کرتی ہوں۔ اسرار الحق اسرارؔ کا یہ جذبہ کہ جو کلام ہم پڑھیں یا سنیں اسے آنے والی پیڑھی تک محفوظ رکھا جائے زبردست جذبہ ہے۔میں ایسے جذبے کو سلام کرتی ہوں۔ اسرار الحق اسراؔر کی شاعری کلاسیکل شاعری کی روایت کومستحکم کرتی ہے۔ آئندہ پرو گرام میں ہم شاعری کے حوالے سے علم عروض پر بھی پرو گرام منعقد کریں گے تا کہ طالب علم اس سے فیض یاب ہوسکیں۔
اس مو قع پرمحمد شمشاد، نزہت، فرحت، گلستاں، گلناز، فیضان ظفر وغیرہ موجود رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

