"بچے کتابوں کے دیوانے ہیں وہ پڑھنا چاہتے ہیں مگر ہم انہیں کتابوں سے دور کررہے ہیں..” مولانا عبداللہ غازی.
اورنگ آباد
*”اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں سے موبائل سے چھوٹ جائے تو ہمیں ان کے ہاتھوں میں کتابیں دینا ہوں گی”. ان خیالات کا اظہار مشہور عالم دین مولانا بن یامین وستانوی نے کہا کہ "اگر ہم چاہتے ہیں کہ بچوں کے ہاتھوں میں موبائل سے چھوٹ جائے تو ہمیں ان کے ہاتھوں میں کتابیں دینا ہوں گی انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھے بڑی خوشی ہوئی یہ جان کر کہ بچوں کے حوالے سے بھٹکل میں بہت کام ہورہا ہے ہم بھی یہاں اسی طرزِ پر اپنے اداروں میں کام شروع کریں گے.”
اردو دنیا کے مشہور و معروف بچوں کے مقبول رسالہ "ماہنامہ پھول” کے مدیر جناب عبداللہ غازی ندوی اور ان کے رفقاء کے اورنگ آباد آمد پر ان کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں کیا. واضح رہے کہ بچوں کا مقبول ترین رسالہ "پھول” کے مدیر اپنے چند رفقاء کے دو روزہ تعلیمی و علمی دورہ پر اورنگ آباد آئے ہوئے ہیں. وہ شہر کے مختلف تعلیمی اداروں اور سماجی و ملی شخصیات ملاقات کر معاشرہ میں تعلیم بیداری خصوصاً نئی نسل کی تربیت اور بنیادی تعلیم کے لیے کیا کیا جاسکتا ہے اس پر تبادلہ خیال اور قومی سطح پر ٹھوس لائحہ عمل کیا ہوں اس پر مذاکرہ کررہے ہیں.. شہر کی مشہور تعلیمی تنظیم ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے دفتر میں فاؤنڈیشن کے صدر مرزا عبدالقیوم ندوی نے وفد کا استقبال کیا اور شہر میں جاری تحریک محلہ محلہ لائبریری کی کوششوں اور کارکردگی کا تذکرہ کیا..
مولانا عبداللہ ندوی نے بھٹکل میں تعلیمی سرگرمیوں کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ "ماہنامہ پھول” کے ایک ہزار ممبر اکیلے بھٹکل کے طلباء ہیں اور یہ عالمی معیار کا بچوں کا خوبصورت دیدہ زیب جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ رسالہ ہے.. بھٹکل شہر میں کئی بچوں کی خوبصورت لائبریریاں ہیں جہاں دنیا بھر کی بچوں کی کتابیں موجود ہیں..
مولانا بن یامین وستانوی نے اپنے صدارتی خطاب
وفد میں میراں معظم ندوی،
ریاض الرحمن اکرمی،
حسن شہروز رکن الدین،
عکراش جوباپو ندوی،
زفیف شنگیری ندوی،
عبدالمنعم دامدا ابو شامل ہیں.. اس موقع پر مرزا ورلڈ بک ہاؤس اورنگ آباد سے کتابوں کا سیٹ بچوں کی لائبریریوں کے لیے دیا گیا..
پروگرام کو کامیاب بنانے میں مرزا طالب بیگ نے محنت کی اور مرزا عبدالقیوم ندوی کے شکریہ پر تقریب کا اختتام عمل میں آیا.
*Mirza Abdul Qayyum Nadwi*
*+91 9325203227*
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

