معین شاداب: اظہار وافکار کے آئینے میں – محمد شاہ رخ عبیر
یہ 2013کی بات ہے ذاکر حسین دہلی کالج میں بزم ادب کے زیر اہتمام ایک مشاعرے کا انعقاد کیا گیا تھا جس کی صدارت فرحت احساس اور نظامت ڈاکٹر شفیع ایوب کر رہے تھے یہی وہ مشاعرہ تھا جس نے مجھے معین شاداب سے متعارف کروایا تھا۔ مگر اگلی ملاقات کو کافی وقت درکار تھا۔دوسری ملاقات معین شاداب سے اردو اکادمی کے زیر اہتمام سالانہ ہونے والے مشاعرے نئے پرانے چراغ میں ہوئی تھی جہاں میں نے بحیثیت شاعر پہلی بار کسی مشاعرے میں شرکت کی تھی اور آپ نے حوصلہ افزائی کرکے مجھے آگے بڑھنے کی ہمت دی۔ اس دن کے بعد سے تقریباََ آج پانچ سال ہوچکے ہیں مگر آپ سے ملنے پر کبھی یہ احساس نہیں ہوتا کسی عالمی شہرت یافتہ شاعر کے روبرو بیٹھا ہوں اور تبادلہ خیال کررہا ہوں۔ میں نے اس کا بغور مشاہدہ کیا ہے وہ کبھی اپنے روبرو اپنے سے چھوٹے کوچھوٹا محسوس نہیں ہونے دیتے اور اپنے بڑوں کا احترام کرتے ہیں۔آج کل لوگ اس قدر انا نیت میں ڈوبے ہوتے ہیں کہ چھوٹے بڑے کی تمیز نہیں کرتے۔اس کے بر عکس معین شاداب کی شخصیت اس قدر انکسارسے لبریز ہے کہ جو ملتا ہے وہ انہی کو ہو جاتا ہے۔معین شاداب ہمہ جہت شخصیت کے مالک ہیں۔ ایک عمدہ شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین ناظم اور صحافی بھی ہیں۔
معین شاداب کا شمار اکیسویں صدی کے تازہ کار شعرا ء میں ہوتا ہے۔ جن کے شعری سفر کا آغاز غالباََ 1980ء کے بعد ہوا ہے۔ان کی شاعری میں ہمیں ایک ایسا انسان نظر آتاہے جو خاموشی سے پورے ماحول کا جائزہ لیتا ہے، بہت کچھ کہنا چاہتا ہے پھر بھی بولنے سے گریز کرتا رہتا ہے اور جب بولتا ہے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس سے زیادہ موزوں کوئی اور بات نہیں ہو سکتی۔
معین شاداب دنیا بھر میں بحیثیت شاعر مشہور ہیں اسی لیے لوگ ان کے شعری مجموعے کے زیادہ منتظر ہیں۔ اس لیے ان کے مضامین کے مجموعے ”اظہار و افکار“ کی اشاعت نے ادبی دنیا کوچوکا دیا ہے۔ معین شاداب کی نثر نگاری سے زیادہ لوگ شاید واقف نہیں ہیں مگر زیر نظر کتاب افکار و اظہار کا مطالعہ کرنے کے بعد ادبی قاری ان کی نثر نگاری کا بھی قائل ہوجائے گا۔اس کتاب میں مصنف نے کچھ وہ مضامین شامل کیے ہیں جو مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوئے ہیں اور کچھ وہ ہیں جو شعری مجموں میں رائے کے طور پر شامل ہیں اور ساتھ ہی کچھ تبصرے اور تجزیے بھی ہیں۔ معین شاداب کا ماننا ہے کے ایسے لوگوں پر لکھا جانا چاہیے جو ادب کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور ادبی دنیا ان سے ناواقف ہے جن کی کوئی خبر تک ملنا مشکل ہوگئی ہے۔ وہ اس بات کے قائل نہیں کہ کس پر لکھا گیا بلکہ اس کے قائل ہیں کیا لکھا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:
ُ”میرا خیال ہے کہ اس کلیشے سے باہر آکر کہ کس پر لکھا گیا ہے،یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ کیا لکھا گیا ہے اور کیوں لکھا گیا ہے۔ اسی کو ملحوظ ررکھتے ہوئے میری یہ تحریرں پڑھی جائیں اور کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے۔“
اس کتاب میں سب سے پہلے کچھ شاعری کے بارے میں کے عنوان سے دیباچہ تحریر کیا ہے جس میں معین شاداب نے شاعری کے فن پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے تاثرات کا اظہار کیا ہے۔ اس کے بعد کتاب میں آنند نارائن ملاپر لکھے مضمون میں انہوں نے آنند نارائن ملا کی اردو کے لیے محبت اور ادبی خدمات پر مفصل گفتگو کی ہے۔ مانی جائسی پر لکھے گئے مضمون میں مصنف نے مختصر تعارف ہی پیش کیا ہے۔ساتھ ہی تابش مہدی کی کتاب شفیق جونپوری ایک مطالعہ پرلکھا مفصل تبصرہ شامل کیا گیا ہے۔
اس طرح معین شاداب نے اپنی کتاب میں ۱۴ شعراء کے حالات زندگی اور ان کی شاعری پر اظہار خیال کیا ہے۔ جن میں کچھ ایسے شعراء بھی شامل ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں دھندلے ہوگئے تھے۔ مصنف نے ان کا تذکرہ کرکے ادبی دنیا کو ان کا چہرہ دکھانے کی کوشش کی ہے۔معین شاداب کی شاعری جس قدر سادہ اورمعنی خیز ہے ان کی نثر بھی شاعرانہ ہے۔ ”گوہر عثمانی: نشان دیار وفا“مضمو ن میں گوہر عثمانی سے آخری ملاقات کا ذکرجن الفاظ میں کرتے ہیں قاری کو اپنے سحر میں گرفتار کر لیتے ہیں۔
”مجھے اپنی آنکھوں کے درون میں نمی کا احساس ہونے لگا۔ میں وہاں اور تھوڑی دیر کے لیے رک جاتا تو میری پلکوں سے بندھا ہوا اشکوں کا سمندر پھٹ پڑتا۔۔۔!لیکن، ماہ وانجم کے مکینوں کی آنکھوں میں دکھوں کے پربت سے لڑنے کی ہمت اب بھی پوری آب و تاب کے ساتھ روشن تھی ججو یقین کی اس لوکو مہمیز کر رہی تھی، ”جو دکھ دیتا ہے وہ دکھ سہنے کی ہمت بھی دیتا ہے“لیکن یہ ساہس اور یہ شکنی انہیں لوگوں کو ودیعت ہوتی ہے جو غم کو قدرت کی عطا سمجھتے ہیں اور یہ نکتہ گوہرعثمانی نے بہت پہلے ہی پالیا تھا۔“
اس کے علاوہ مذکورہ کتاب میں ایک مضمون اعجاز انصاری: ہنڈل ود کیرکے عنوان سے پیش کیا گیا ہے اس مضمون کو شخصی خاکہ کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس مضمون میں مصنف نے مخاطب شخصیت کے بیشتر پہلووں اورعادات و اطوار کا اس لطافت کے ساتھ کیا ہے گویا ان کی تصویر ابھر آتی ہے۔ساتھ ہی عرفان صدیقی کی شاعری پر لکھا گیا مضمون بھی اہمیت کا حامل ہے۔ کچھ مضامین میں تھوڑی بہت تشنگی بھی باقی رہ گئی ہے۔کتاب کے آخر میں شیخ نگینوی کا مضمون شامل ہے جس میں انہوں معین شاداب کا تعارف تحریرکیا ہے۔ یہ کتاب ایم آر پبلیکشن سے شائع ہوئی ہے۔کتاب کا انتساب مصنف نے اپنے دادا منشی عبدلاحکیم (خالد آشیانی) کے نام کیاہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

