ہندوستانی ادبیات میں اردو شاعری کی مقبولیت کسی سند کی محتاج نہیں۔ اردو شاعری کی یہ مقبولیت غزل کی رہین منت ہے۔ اسی بنا پر غزل کو اردو شاعری کی مقبول ترین صنف سخن کہا جاتا ہے۔ اردو شاعری پر ایک ایسا دور بھی آیا جب غزل اپنوں کی نظر میں معتوب ہونے لگی۔ کوئی اردو غزل کی گردن بلاتکلف ماردینا چاہتا ہے تو کوئی اسے ’’نیم وحشی صنف سخن‘‘ قرار دیتا ہے۔ اس قسم کے خیالات کا اظہار غزل کے ان فنی سروکاروں، روایات اور صناعی و خلاقی کی وجہ سے کیا گیا جن پر اردو غزل نازاں تھی۔ ایسے بیانات کا مقصد غزل کے جدلیاتی انداز بیان اور فنی سروکاروں پر ضرب لگانا تھا۔ یہ باد مخالف کے تند جھونکے اردو شاعری سے غزل کو نابود نہ کرسکے۔ اپنے مخصوص سماجی و سیاسی نظریات کے چلتے ترقی پسند تحریک نے بھی غزل کو قابل اعتنا نہ سمجھا اور اسے پس پشت ڈال دیا۔ غزل کے خلاف اس مکدر فضا نے اس کی مقبولیت کو مجروح ضرور کیا مگر عارضی طور پر اور بالآخر غزل نے یہ ثابت کردیا کہ وہ ’’اردو شاعری کی آبرو ہے‘‘۔
لودی محمد شفیع خاں بیکل اتساہی اپنے گیتوں اور دوہوں کی بدولت شہرت و عزت کی بلندیوں پر تھے یہاں تک کہ گیت اور دوہے ان کے شعری سفر میں نشان راہ بن گئے۔ اس کے باوجود نہ جانے وہ کون سا تخلیقی سونا پن تھا، نہ جانے کون سی تشنگی تھی جس نے بیکل اتساہی سے غزل کہلوائی۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ بیکل اتساہی نے اپنی شعر گوئی کی ابتدا ہی روایتی غزل گوئی سے کی تھی۔ لیکن یہ بات تو ابتدا کی ہے اس کے بعد جب ان کا فنی و فکری مزاج گیت کی فضا میں ڈھل چکا تھا اور اس حوالے سے دور دور تک کوئی ان کی مقبولیت کے مد مقابل نہ تھا، تب بھی بیکل نے غزل گوئی سے اجتناب نہیں کیا۔ شاید بیکل اتساہی غزل کو اردو شاعری ہی نہیں بلکہ اردو شاعر کی بھی آبرو سمجھتے رہے ہوں۔ ناقدین شعر و ادب نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ بیکل اتساہی کے گیتوں میں زندگی اور کائنات کے اسرار و رموز سے گفتگو بدرجۂ اتم کی گئی ہے۔ شاید بیکل اتساہی کے درون میں چھپا شاعر اپنی صناعی اور خلاقی کے اظہار کے لیے ’’تنگنائے غزل‘‘ کو ضروری سمجھتا تھا۔ بیکل اتساہی کے کلام میں غزل کی وافر مقدار موجود ہے اور یہی مقدار اس ضرورت کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک غزل گو کی حیثیت سے بھی بیکل اتساہی کی شاعرانہ تعیین قدر کی جائے۔ ( یہ بھی پڑھیں بچوں کے بیکل اتساہی – ڈاکٹر سلمان فیصل )
ایسا نہیں ہے کہ بیکل اتساہی کی شاعری بشمول غزلیہ شاعری کا اب تک جائزہ نہیں لیا گیا۔ لیکن بیشتر جائزے افراط و تفریط کا شکار ہوگئے ہیں اور اس ضمن میں بیکل اتساہی کا حال ابن صفی جیسا ہوا ہے۔ بیکل اتساہی کے گیتوں کی مقبولیت نے یہ اثر دکھایا کہ ان کی غزلوں کو بھی گیتوں کی عینک سے دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بیکل اتساہی کی غزلوں کو لوک ادب سے منسلک کردیا گیا۔ اگر ہمارے نزدیک لوک ادب کے معنی یہی ہیں کہ ادب کا زبان زد عوام ہوجانا تو یہ وصف بھی اردو غزل کے پاس ہمیشہ رہا ہے۔ میرا یہ مقصد نہیں کہ میں بیکل اتساہی کی غزل گوئی کے بارے میں دیے گئے بیانات یا رقم کیے گئے خیالات کا جائزہ لوں۔ میری کوشش یہ ہے کہ بیکل اتساہی کی غزلوں کا جائزہ لوں اور اس حوالے سے ان کے فن کی تعیین قدر کروں۔
ولی، میر، سودا، درد اور غالب کو اردو کے بیشتر شعرا نے خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ کسی نے ان کی شاعری کا لوہا مانا تو کسی نے اپنے فکر و فن کو ان استاد شعرا کا فیضان قرار دیا۔ غالب کے بعد آج تک اردو شعرا میر اور غالب کے کلام کو اپنا فکری و فنی سرچشمہ قرار دینے پر فخر محسوس کرتے ہیں، لیکن بیکل اتساہی کہتے ہیں ؎
بڑے استاد بنتے ہیں ہمارے عہد کے غالبؔ
چلو بیکلؔ ذرا ان تک کلام میرؔ پہنچا دو
جہاں تک مجھے علم ہے اردو میں نظیر، کبیر اور رس کھان سے اپنے تخلیقی رشتوں کا اظہار پہلی بار اور بار بار بیکل اتساہی نے کیا ہے۔ نظیر اور کبیر پر بیکل اتساہی غالباً اس لیے نازاں ہیں کہ ان دونوں شعرا کی طرح بیکل اتساہی کی شعری زبان بھی عوامی، مقامی اور ایسے تلازمات سے مزین ہے، جو دیہی زندگی، فضا اور ماحول کی نقش گری کرتے ہیں۔ رس کھان سے عقیدت اور خراج تحسین کا اظہار عموماً ایسی غزلوں میں کیا ہے، جن میں زیادہ تر اشعار میں برج شاعری کی کرشن بھگتی والی کیفیت پائی جاتی ہے۔ یہاں یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آخر کرشن بھگتی کے اشعار بیکل اتساہی کو اتنا اپیل کیوں کرتے ہیں؟ اس کا سبب یہی ہوسکتا ہے کہ محبوب کی رضا میں راضی رہنا، اس کے رنگ میں رنگ جانا، عشقیہ جذبات کی وارفتگی، شیفتگی، گلے شکوے، طعنے تشنے ان سبھی کے لیے اظہار کی سادگی کے ساتھ جو گنجائش کرشن بھکتی کی شاخ میں ہے، شاید وہ کہیں اور نہیں۔ کرشن بھکتی شوخی اور شرارت کی شکل میں کسی قدر گستاخی بھی گوارا کرلیتی ہے۔ اس حوالے سے بیکل اتساہی نے میرا بائی کو بھی یاد کیا ہے۔ چند ایسے اشعار ملاحظہ کیجیے، جن میں بیکل اتساہی نے نظیر، کبیر اور رس کھان سے اپنے تخلیقی رشتے پر ناز کیا ہے ؎
سنا ہے مومنؔ و غالبؔ نہ میرؔ جیسا تھا
ہمارے گائوں کا شاعر نظیرؔ جیسا تھا
چھڑے گی دیر و حرم میں یہ بحث میرے بعد
کہیں گے لوگ کہ بیکلؔ کبیرؔ جیسا تھا
صاحب بھاؤ سبھاؤ نہ پوچھو کس کے لیے مولواتے ہو
مجھ سے پہلے اس منڈی میں میرؔ بکے رسکھان بکے
جیسا کہ اوپر عرض کیا گیا ہے کہ کرشن بھکتی کے بھاؤ میں بیکل اتساہی کی دلچسپی عشقیہ شاعری کے حوالے سے ہے، میرے اس بیان پر آخر الذکر شعر میں میر کے ساتھ رسکھان کا ذکر دال ہے۔
ڈاکٹر ظ۔انصاری لکھتے ہیں کہ:
انھوں ]بیکل اتساہی[ نے استادوں کے رکھ رکھائو اور رچائو والی غزل سے شعر گوئی شروع کی تھی۔
آج شعر گوئی کی ابتدا عموماً نثری نظموں سے ہوتی ہے اور نثری نظموں پر ختم ہوجاتی ہے، لیکن بیکل اتساہی اس شعری روایت کے پروردہ اور امین تھے جس میں شعر گوئی کی ابتدا غزل سے ہوتی تھی اور لامتناہی سفر پر نکلتی تھی۔ ڈاکٹر ظ۔انصاری نے جو رکھ رکھائو اور رچائو کی بات کہی ہے تو اس کا یہ مطلب بالکل نہیں کہ بیکل اتساہی کی غزل گوئی محض مشق سخن اور روایت کے تتبع سے عبارت ہے؛ بلکہ بیکل اتساہی کی غزلوں میں واقعی وہ رکھ رکھائو، شیرینی اور وہ رچائو پائو جاتا ہے، جس سے استاد شعرا کی غزلیں عبارت ہیں۔ لطف کی بات یہ ہے کہ بیکل اتساہی ندرت اور تازگیِ فکر کے پہلو پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
یوں نہ ستاروں کے جھرمٹ میں پونم روپ سجائو ہو
گیت کا ہر اک انگ نہ جکڑو لفظوں کی زنجیروں میں
تھیں ہماری ٹھوکروں میں وقت کی رعنائیاں
اور ہم تیری گلی میں ٹھوکریں کھاتے رہے
بزرگوں نے کہا ایماں شکن ماحول میں بیکلؔ
مقدس لوگ نذر جام و ساغر ہوگئے ہوں گے
یہاں جو پیتے ہیں وہ لوگ اڑنے لگتے ہیں
بتا کہ صحن میں اب تیرے لڑکھڑائے کون
جو تیری بزم سے بیکلؔ چلا تو ہوش میں تھا
عجیب بات ہے اب وہ بھی مست مست لگے
مری سرمستیاں ہیں منحصر ساقی کی نظروں پر
سبب رقص مسلسل کا صراحی ہے نہ پیمانا
آج یہ جو اجنبی ہے دوستوں کی بزم میں
کل یہی تنہائی میں مجھ سے بہت بیباک تھا
اس کو میں نے بلایا تھا گھر پر
دے گیا مجھ کو آ کر وہ جھانسا
خود پیاسی اور غیر کو جام
ایسی نظر پر دل قربان
حسن کی بزم میں دیدہ و دل
اک مانوس اور اک انجان
لوٹنے کے بعد پھر شرما کے پوچھی خیریت
لوٹنے والے یہ تیرا اپنا پن اچھا لگا
آج اک بھیڑ سر راہ ہے دیوانوں کی
دیکھیے کس کی طرف اس کا اشارہ جائے
جلوتوں میں چپ سے تھے خلوتوں میں نغمے ہیں
وہ ادا جلالی تھی یہ ادا جمالی ہے
وقت رخصت ذرا دیر بیٹھے مگر جانے کیا سوچ کر اٹھ کے چلنے لگے
مرنے والے میں پھر جان آجائے گی ہچکیاں کہہ رہی ہیں ٹھہر جائیے
راہ کا ذرہ تھا لیکن ان کے پائے ناز کی
ٹھوکریں ملتی گئیں میں آسماں بنتا گیا
بیکل اتساہی کی غزل گوئی کی جڑیں جہاں روایت میں پیوست ہیں، وہیں وہ جدیدیت کے فکری اور موضوعی رجحانات سے بھی اپنا تعلق استوار کرتی ہے۔ جدیدیت کے موضوعی رجحانات سے میری مراد ہرگز یہ نہیں کہ ترقی پسندی کی طرح جدیدیت بھی اپنے کچھ خاص موضوع رکھتی ہے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ بیکل اتساہی کی غزل گوئی میں وہ افکار بھی پائے جاتے ہیں، جن کو ایک زمانے میں ہماری تنقید فرار اور غیر صحت مند قرار دیتی تھی۔ نیز داخلیت اور انفرادیت کے علاوہ ابہام کو بھی مسترد کرتی تھی۔ لیکن بیکل اتساہی کی شعری کائنات میں مقصدیت، افادیت اور وضاحتی پیرایۂ اظہار کے ساتھ ساتھ عصری حسیت، معاشرے کا کرب اور انسان کا ذہنی و قلبی انتشار بھی خاصا نمایاں ہے۔ مثلاً ؎
بلندیوں پہ تھا سورج تو سوچتا ہی رہا
کہ میرے بعد یہاں لازوال کتنے ہیں
چرچا نہیں تھا چاند ستاروں کے قتل کا
سورج اداس اداس مگر دوپہر میں تھا
سکھا کے سارا سمندر برس گیا کھل کر
وہ ایک قطرہ جو خاموش آنسوئوں میں تھا
کیا خطا تھی کہ اک میری تنہائی پر
رات بھر تیری یادوں کا پہرا رہا
اپنے غم میں غم دنیا کا کوئی کیف نہ دے
مری صدیاں نہ گزر جائیں کہیں پل کی طرح
کتاب صحرا میں ذکر آئے جب سمندر کا
مری حیات کسی کی نگاہ لکھ لیجے
تیری یادوں کے ستارے اور غم دنیا کی رات
بھیڑ اتنی تھی کہ ہم تنہائیوں میں رہ گئے
بھاگتی سڑکیں نگلنا چاہتی تھیں وقت کو
وقت اک بچہ تھا لیکن کس قدر چالاک تھا
ہر شکن میں اداسیاں ہیں مگر
عہد نو کے نقیب ہیں چہرے
کب دغا دے کے تو چلی جائے
زندگی ہے ترا ٹھکانا کیا
یہ بات درست ہے کہ بیکل اتساہی نے گیت کی طرف زیادہ التفات کیا اور اس میں زبان و بیان کی سلاست اور لفظ و معنی کی ترتیب سے نیا وقار پیدا کیا۔ قتیل شفائی اور بیکل اتساہی گیتیِ گیت کے شمس و قمر ہیں۔ بیکل اتساہی کے گیتوں کی مقبولیت نے ایک طرح سے ان کو بحیثیت شاعر مجروح بھی کیا ہے۔ گیتوں کی ایسی مقبولیت نے بیکل اتساہی کی غزلوں پر ایسا تاریک سایہ ڈالا کہ وہ ایک طرح سے نظروں سے اوجھل ہوگئیں۔ اس حوالے سے بھی نظیر اور بیکل اتساہی میں ایک تخلیقی رشتہ قائم ہوتا ہے۔ کون سوچ سکتا ہے کہ عوامی شاعر کی حیثیت سے مشہور نظیر اکبر آبادی نے کلاسیکی رکھ رکھاؤ اور صناعی سے معمور غزلیں بھی کہی ہیں۔ وہ صناعی جسے لفظی بازیگری کہہ کر مطعون کیا گیا۔ حالانکہ لفظی بازیگری کے بغیر شاعری میں کسی بھی قسم کی جمالیات کا وجود ممکن نہیں لگتا، خواہ اشتراکی جمالیات ہی کیوں نہ ہو۔ بہر حال نظیر کی غزل، کوئی عوامی غزل نہ تھی، یہ وہی غزل ہے جسے گل و بلبل اور شمع و پروانہ کی شاعری کہہ کر حقارت کے ساتھ رد کر دیا جاتا ہے۔ یہی گل و بلبل اور شمع و پروانہ والی شاعری بیکل اتساہی نے بھی کی ہے؛ لیکن اس طرح کہ فکر کی تازگی، استعاروں کی تلاش اور عمدہ تشبیہات کا استعمال ان کی جگر سوزی کا پتہ دیتی ہے۔ اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
اب تو بستی کا ہر اک شخص ہے عیسیٰ کی طرح
کیوں نہ رستہ کسی قاتل کا نہارا جائے
کانپ رہے ہیں دیپ گگن کے ہانپ رہی ہیں اوشائیں
جیسے ماہ و نجوم پہ بیکلؔ انسانوں کا چرچا ہے
نہ پوچھو میرے دل سے رفعت شوق جبیں سائی
زمین کوئے جاناں آسماں معلوم ہوتی ہے
موسیٰ کے ہوش ایک جھلک نے اڑا دیے
ٹکتی بھی تاب دید کہاں آگہی کے ساتھ
کیا جانے کتنے یگ بیتے بیٹھے ہوئے بیراگ ڈگر میں
منزل سے پہلے یہ کیسی پاؤں پڑی زنجیر رے جوگی
دل کی دلی میں ہیں رنگیلے شاہ جمے
اب ہر اک شوق مرا درّانی ہے
دھرتی ابھری آکاش جھکا
سرکار بنی انگڑائی کی
اب مجھے خط بھی تم نہیں لکھتے
بیچ میں آگیا زمانا کیا
ایک دن اوڑھ لوں گا دھرتی میں
اے گگن تیرا شامیانا کیا
بیکل اتساہی کی غزلیہ شاعری میں پیکر تراشی کے عمدہ نمونے بھی پائے جاتے ہیں۔ ان کی پیکر تراشی کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ اپنے جلو میں کیفیت کا لطف لیے ہوتی ہے۔ یعنی کیفیت اس صورت حال کا نام ہے، جس میں شعر کا قاری یا سامع کسی قسم کے جذبے سے مغلوب ہوجاتا ہے۔ اس قسم کے اشعار میں قاری یا سامع پر جذباتی رد عمل پیدا کرنا ہی مقصد ہوتا ہے، لہٰذا یہاں معنی کی مرکزی حیثیت نہیں ہوتی۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
چاندنی اپنی بانہیں پسارے ہوئے، لوریاں پربتوں کو سناتی رہی
جھیل کی آنکھ میں نیند الجھی رہی، اک کنول کا دیا جھلملاتا رہا
رات لگتی ہے کسی دختر مفلس کا سہاگ
تو گگن ہے تو اسے چاند کا جھومر دے دے
آج وہ مسکرا کے روٹھ گیا
آج کچھ زندگی حسین لگی
کچھ ایسی ترے روپ کی چاندنی ہے
ستارے گھٹائوں تلے چل رہے ہیں
یارب پڑی رہے مری میت اسی طرح
بیٹھے رہیں وہ بال پریشاں کیے ہوئے
بیکل اتساہی کے کلام کا مطالعہ کرنے سے محسوس ہوتا ہے کہ ان کی ادبی فکر میں سماجی فکر کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ادیب کی جانبداری کے قائل تھے۔ لیکن بیکل اتساہی نے جن اشعار میں اپنی سماجی اور سیاسی وابستگی کا اظہار کیا ان میں بھی فن کی نزاکتوں کا خیال رکھا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ایسے اشعار میں بھی روایت کا لطف ملتا ہے ؎ (یہ بھی پڑھیں بیکل اتساہی :قبولِ عام کا قتیل – ڈاکٹر صفدر امام قادری )
چٹانوں کی ہتھیلی پر ابھر آئی ہیں ریکھائیں
جبیں تک شیش محلوں کی یہی تحریر پہنچا دو
جہاں تم فائدے میں چل رہے ہو
علاقہ وہ مرے نقصان کا ہے
چٹانوں کی مناسبت سے شیش محلوں، ہتھیلی کی مناسبت سے جبیں اور ریکھاؤں کی مناسبت سے تحریر کا استعمال شعر کو پرلطف بنادیتا ہے۔ اسی طرح نقصان کے علاقے کا بھی جواب نہیں۔ چونکہ بیکل اتساہی ادب کی تخلیق میں سماجی سروکاروں سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں اور مقصدیت و افادیت کے بھی قائل نظر آتے ہیں؛ اس لیے ان کے کلام میں ایسے اشعار کی بھی وافر تعداد ہے نظر آتی ہے، جن میں سماجی رسوم کی اتباع کے مضر اثرات، فکر کا تضاد اور معاشرتی جرائم کے گھنائونے پن کو منعکس کیا گیا ہے۔ چند اشعار ملاحظہ کیجیے ؎
یہ سودے بازی ہی سمبندھ کا مقصد اگر ٹھہرا
شریک زندگی مریم نہ کوئی رادھیکا ہوگی
امن کی حیثیت نہ گر جائے
خون میں اس لیے نہانا پڑا
یا مانجھی خود ڈوب گیا ہے چھوڑ کے اک انجان کی لاش
یا طوفاں میں چوک ہوئی کچھ بیتی رات مچھیرے سے
پہلے اور دوسرے شعر کا لہجہ خبریہ ہے۔ پہلے شعر میں جہیز جیسی سماجی لعنت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، لیکن انداز نہ واعظانہ ہے اور نہ ناصحانہ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کسی صورت حال کا تجزیہ کرتے ہوئے کسی نے بس اپنی رائے دی ہو، لیکن شعر میں چھپا طنز دودھاری ہے۔ مریم علیہ السلام عفت و پاک دامنی اور رادھیکا محبت و ایثار کی علامت ہے۔ دوسرے شعر کا تضاد بھی لائق دید ہے۔ امن کے قیام اور اس کی بقا کے لیے خون میں نہانا ترقی یافتہ اور مہذب دنیا کے امن کے سفیروں پر گہرا طنز ہے۔ عصر حاضر کی سیاسی صورت حال کو مدنظر رکھا جائے تو امن کو استعمار اور قیام امن کی کوششوں کو استعمار کی بقا سے بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ’’ہندوستانی‘‘ کا شاعر: بیکل اتساہی- ڈاکٹرشاہ نواز فیاض )
بیکل اتساہی کے تمام شعری سرمایے کے پیش نظر فراق گورکھپوری نے انھیں ’’فن امیجری‘‘ کا پہلا شاعر قرار دیا ہے اور لکھا ہے کہ ’’یہ پہلے شاعر ہیں کہ جس نے فن امیجری کو صحیح اور پر معنی صرف کیا ہے۔‘‘ ظاہر ہے فراق گورکھپوری کے بیان سے کلی طور پر اتفاق نہیں کیا جاسکتا، البتہ اتنی صداقت ضرور ہے کہ بیکل اتساہی نے فن امیجری کو کامیابی کے ساتھ برتا ہے۔ بیکل اتساہی کی اس خصوصیت سے غزلیہ شاعری میں بھی قدم قدم پر دوچار ہونا پڑتا ہے۔ دیگر اصناف شعر میں امیج کی تخلیق نسبتاً غزل کے قدرے آسان ہوتی ہے۔ دیگر شعری اصناف بالخصوص بیانیہ شاعری میں امیجری کی کارکردگی غیر شعوری طور پر سطحی ہی سہی موجود رہتی ہے، لیکن غزل میں اس کے لیے شعوری کوشش کرنی پڑتی ہے اور یہ شعوری کوشش کسی چیلنج سے کم نہیں ہوتی۔ بیکل اتساہی نے اپنی غزلوں میں چند ایسے الفاظ برتے ہیں جو ان کی کل شاعری کے کلیدی الفاظ کہے جاسکتے ہیں۔ یعنی ان لفظوں سے بیکل کی شاعری میں بار بار سابقہ پڑتا ہے۔ مثلاً گوری، الھڑ، کرشن، رادھا، گوکل، مدھوبن، پھاگ، جوت، گائوں، پگڈنڈی، ساون، جیٹھ، مچھوارا، کشتی وغیرہ کے علاوہ ایسے مقامی الفاظ بکثرت پائے جاتے ہیں، جن کی بنیاد پر فراق گورکھپوری نے ان کے کلام کو ہندی اور اردو کا حسین سنگم اور یکجہتی کا رنگ قرار دیا ہے۔ میں فراق کی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اگر کسی کلام میں ایسا سنگم نہ ہو تو کیا ایسا کلام یکجہتی سے عاری ہوگا؟ میرے نزدیک بیکل کے کلام میں ہندی اور اردو کے سنگم نے ان کی غزلوں کو گیتوں کا مزاج دیا ہے اور اس امتزاج کا ادراک خود بیکل اتساہی کو بھی تھا ؎
گیت میں حسن غزل، غزلوں میں گیتوں کا مزاج
ہم کو بیکلؔ تیرا اسلوب سخن اچھا لگا
بیکل اتساہی کے کلام میں ہندی، عوامی اور مقامی لفظوں کی شمولیت کی وجہ سے یہ خیال کیا جاتا ہے کہ بیکل اتساہی نے اردو غزل کا رشتہ لوک ادب سے شعوری طور پر استوار کیا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ بات کچھ قابل تحسین نہیں، کیوں کہ اس قسم کی شعوری یا غیر شعوری کوششوں سے نہ صرف غزل، بلکہ لوک ادب کی شناخت بھی مجروح ہوتی ہے۔ سوچنے کی بات ہے کہ الفاظ اجتماعی ورثہ ہیں اور اس ورثے کو برتنے کے لیے لوک ادب اور ادب عالیہ میں کوئی حد بندی نہیں ہے۔ لہٰذا محض الفاظ کے برتنے سے ادبی اصناف کے مابین کوئی رشتہ استوار نہیں ہوسکتا۔ ادب عالیہ کبھی لوک روایات یا عوامی روایات سے بالکل بے گانہ نہیں رہا اور نہ ہی ادب عالیہ لفظوں کے استعمال میں اس قسم کی کسی حد بندی کا پابند رہا ہے۔ اس بات پر بھی غور کرنا چاہیے کہ لوک ادب کی خلاقی اور ادب عالیہ کی تخلیقیت کے تقاضے جدا ہیں۔ اپنے انھی تخلیقی تقاضوں کے سبب ادب عالیہ یا ’’متمدن‘‘ یا ’’مہذب‘‘ شاعری جب بھی لوک ادب کے ڈکشن سے اکتساب کرتی ہے تو اسے نیا جامہ، نئے معنی یا جہانِ معنی سے مزین کرتی ہے۔ غزل تو رمزیت، ایمائیت اور تجریدیت کا فن ہی ہے ، ایسی صورت میں لوک ادب کا ڈکشن اگر غزل میں غزل کے تخلیقی تقاضوں کو پورا نہیں کرتا تو یہ عمل محض لفظوں کی کھتونی کہلائے گا۔ بیکل اتساہی کا کمال یہ ہے کہ انھوں نے غزل میں نہ صرف لوک ادب کے ڈکشن اور تصورات کو زیادہ سے زیادہ جگہ دی، بلکہ غزل کی مدنی زندگی کو دیہی فضا سے اس طرح مزین کیا کہ اس کی صناعی اور رمزیت بھی قائم رہی ؎
گلیاروں میں مدھ ٹپکاتا ہوا، کٹیوں کو سدھا نہلاتا ہوا
آنگن سے نین مٹکاتا ہوا، چاند اورونی پر لٹکا
یا
کوئی من کے بھیتر بیٹھ گیا
قطرے میں سمندر بیٹھ گیا
……… ………
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

