بیکل اتساہی (1928-2016)کا اصل نام محمد شفیع خاں تھا، پہلے وہ بیکل وارثی بنے اور پھر بیکل اتساہی کے نام سے اس طرح شاعری کی دنیا میں معروف ہوئے کہ اصل نام کم ہی لوگوں کومعلوم رہ سکا۔بیکل وارثی ایک مشاعرے میں اس قدر جوشیلے اندازمیں شعر پڑھ رہے تھے کہ اس وقت کے وزیر اعظم جواہرلانہرو کہہ اٹھے کہ ’یہ ہمارااتساہی شاعر ہے‘۔اس کے بعد بیکل وارثی سے بیکل اتساہی بن گئے۔ بیکل اتسا ہی کے تخلص کے تناظر میں ان کی شاعری کا مطالعہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انھوں نے غزل کی شاعری کی ،ساتھ ہی ساتھ دوسری اصناف سخن میں بھی طبع آزمائی کی، نعت گو کی حیثیت سے انھوں نے اپنا مقام بنایا۔ ان کا اودھی انداز لوگوں نے خوب پسند کیا۔انھیں گیت، اودھی اوراردو کے خوبصورت امتزاج کے لیے ہمیشہ یاد کیا جاتا رہے گا۔نثر میں جس طرح سے پریم چند نے دیہات کے مسائل اور دیہات کے حسن کو پیش کیا ہے، اسی طرح سے بیکل اتساہی نے دیہات کے مسائل اور اس کے حسن کو اسی زبان میں پیش کیا ہے۔ البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ بیکل اتساہی کو مشاعروں میں سنا زیادہ گیا ہے، انھیں پڑھا کم گیا ہے۔ اس مضمون میں ان کی شاعری کے چند پہلو ؤں پر گفتگو کی جائے گی۔
بیکل اتساہی کی شاعری کے مطالعے سے یہ بات واضح طور پر سامنے آتی ہے کہ انھوں نے اودھی اور بھوجپوری لفظیات کا جس خوبصورتی سے اپنی شاعری میں برتا ہے، اس کی مثال اردو شاعری میں کم ہی ملے گی۔ نثر میں جس طرح سے پریم چند نے کردار کو اسی کی زبان میں پیش کیا ہے، اسی طرح سے بیکل اتساہی نے اپنی شاعری میں کیا ہے۔ راجندر سنگھ بیدی نے بھی اپنے افسانے میں جگہ جگہ بنجابی زبان کا بڑی خوبصورتی سے استعمال کیا ہے۔ بیکل اتساہی کی شہرت و مقبولیت کی وجہ ان کا انداز شعر خوانی اور دیہاتی زبان کا استعمال ہے۔ مشاعرے کے اسٹیج کے وہ بہت کامیاب شاعر تھے، تقریبا نصف صدی تک مشاعرے میں بہت کامیابی کے ساتھ اپنے جلوے بکھیرتے رہے۔ مشاعرے کی وجہ سے انھوں نے ہندوستان سے باہر کا سفر بھی کیا۔ ہر جگہ عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ وہ اردو شاعری کے یقینا بہت بڑے فنکار تھے۔
(یہ بھی پڑھیں ساحر اور معیار عظمت کی منطق – حقانی القاسمی )
بیکل اتساہی نے وطن اور وطن کی مٹی کے تعلق سے اپنے جذبات کا جس طرح سے اظہار کیا ہے، اس سے ان کی اپنے ملک کے تئیں سچی عقیدت کا اظہار ملتا ہے۔ ان کی ایک نظم ’وندنا‘ کے عنوان سے ہے۔ اس نظم میں انھوں نے ہندوستان کو ’ماں ‘کہہ کر مخاطب کیا ہے۔ اس پوری نظم میں متحدہ ہندوستانی قومیت کی التجا ’ماں‘کو مخاطب کر کے کی گئی ہے۔ اس نظم میں جن لفظیات کا استعمال کیا گیاہے، اس سے یہ نظم اور بھی بامعنی ہو گئی ہے۔یوں تو اس موضوع پر بہت سے شعرا نے اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے، لیکن جس خوبصورتی سے بیکل اتساہی نے اپنی بات کہی ہے، اس کی مثال کم ہی ملے گی۔ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
ماں! میرے گونگے شبدوں کو گیتوں کا ارمان بنادے
گیت مرا بن جائے کنہائی پھر مجھ کو رسکھان بنا دے
میں خسرو کے گھر کا بالا، تلسی کے آنگن کا پالا
ماٹی کی بو باس مری رچناؤں کی پہچان بنادے
بھید بھاؤ اور جات واد کے اندھیاروں کا راج کاج
مون اب کوئی جوت اگا کر جیون امر بیہان بنا دے
دیکھ سکیں دکھ درد کی ٹولی سن بھی سکیں فریاد کی بولی
ماں سارے نقلی چہروں پر آنکھ بنادے کان بنادے
دھرموں کے ہونٹوں پر اب تو نفرت کی بانی اگتی ہے
ہندو مسلم بن کے دیکھا اب مجھ کو انسان بنادے
خود غرضوں نے میری دھرتی ٹکڑے ٹکڑے بانٹ لیے ہیں
ان ٹکڑوں کو جوڑ کے میا ستھرا ہندوستان بنادے
بیکل اتساہی کے مندرجہ بالا اشعار کو بغور پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے ہندوستان کی سیاست کا بھر پور مطالعہ کیا ہے۔ ہندوستان کی حالت زار کو دیکھتے ہوئے انھوں نے اپنے خوابوں کے ہندوستان کے لیے اپنی مٹی سے یہ التجا کی ہے کہ اس ملک میں جو نفرت پھیل رہی ہے، اسے آپسی میل محبت اور بھائی چارے میں بدل دے۔ ظاہر ہے کہ یہاں جس مٹی سے دعا کی گئی ہے یا التجا کی گئی ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاعر کو اپنی زمین سے کتنی محبت اورکتنا جذباتی لگاؤ ہے۔ ایک طرح سے سیاسی جماعتوں پر طنز بھی کیا گیا ہے، ’سارے نقلی چہروں ‘کہہ کربیکل اتساہی نے بہت کچھ کہہ دیا ہے۔ مندرجہ بالا اشعار میں جس طرح سے شاعر نے اپنے خوابوں کے ہندوستان کو بنانے کی التجا کی ہے، اور اپنی اس بات کو کہنے کے لیے جن لفظیات کا استعمال کیا ہے، اس سے ان کی شاعری اور بھی معنی خیز ہو گئی ہے۔ بیکل اتساہی کا یہی وہ انداز ہے، جس نے انھیں اردوشاعری میں ایک الگ مقام دیا۔
بیکل اتساہی نے وطن پر کئی نظمیں کہی ہیں۔ اپنے معنی اور موضوع کے اعتبار سے ہر نظم ایک دوسرے سے جدا معلوم ہوتی ہے۔ ان کی ایک نظم’اپنی دھرتی‘کے عنوان سے ہے۔ اس نظم میں انھوں نے اپنی دھرتی کومختلف چیزوں سے مثال دے کر کہا ہے کہ میری دھرتی، میرا ملک ان سب سے اچھا ہے۔نظم کا ایک حصہ ملاحظہ ہو:
رشک فردوس بریں چاند ستاروں سے حسیں
میری دھرتی مرا محبوب وطن میری زمیں
چاند کی بستی بسا لو کہ ستاروں کے نگر
ہر جگہ دھرتی کے چہرے کا اجالا ہوگا
تم جہاں بھول رہے ہو گے خلاؤں میں ڈگر
اس کی عظمت کے خیالوں نے سنبھالا ہوگا
اس کی تنویر وتجلی ہے سرِ چرخ بریں
میری دھرتی مرا محبوب وطن میری زمیں
بیکل اتساہی کی مذکورہ بالا پوری نظم اسی انداز میں لکھی گئی ہے۔ انسان کو جس سے سب سے زیادہ محبت ہوتی ہے، اسی میں دنیا کی تمام خوبیاں تلاش کر لیتا ہے۔ بیکل اتساہی نے زندگی کی ساری رمق دمک اسی مٹی سے اخذ کی ہے۔ اپنی ہی مٹی انھیں ہر چیزسے بلند نظر آتی ہے۔ یہ حب الوطنی کی سب سے بڑی دلیل ہے، ہر جگہ، ہر قیمتی شے سے اوپر وطن کی مٹی نظر آئے۔ شاعر نے اس نظم کے ذریعے نہ صرف اپنی حب الوطنی کا ثبوت دیا ہے، بلکہ ہندوستان کی بہت سی اہم چیزوں کا شاعری کے پیرائے میں ذکر کر کے اسے دنیا کے سامنے پیش کیا۔ اپنے ملک کی خوبصورتی کواجنتا، تاج، کشمیر، ہمالہ جیسی چیزوں سے تعبیر کر کے ، بیکل اتساہی نے یہاں کی تہذیب و ثقافت کوبھی پیش کیا ہے۔ اسی لیے انھوں نے’اس کے ہر انگ میں تاریخ وتمدن کی پھبن‘کہا ہے۔ وطن کے تعلق سے ان کی جو بھی نظمیں ہیں، اس کے مطالعے سے ان کی حب الوطنی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔
بیکل اتساہی نے جس موضوع کو بھی اپنی نظم کے لیے منتخب کیا ہے، اپنی لفظیات سے اسے گنگا جمنی تہذیب کی ایک مثال بنا دی ہے۔ اردو شاعری میں اس طرح کی مثال کم ہی ملے گی۔ انھوں نے اس سے نہ صرف اپنی شاعری کو دلچسپ بنایا ہے، بلکہ اردو زبان کی وسعت کو بھی لوگوں کے سامنے پیش کیا ۔ ان کی شاعری کی مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ اردو زبان میں دوسری زبان کے الفاظ کو اخذ کرنے کی کس درجہ صلاحیت ہے، اس کا اندازہ بیکل اتساہی کی شاعری، پریم چند کے نثری فن پارے اور راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کے مطالعے سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی اردو کے شاعر و نثر نگار نے اس کا بہت خوبصورت عملی نمونہ پیش کیا ہے۔ جس کے ذکر کی یہاں چنداں ضرورت نہیں۔
بیکل اتساہی نے اپنی نظم کے موضوع کو بھی ہندی اور اردو زبان کی آمیزش کا بہترین نمونہ بنا یا ہے۔ ان کی نظموں کے موضوعات التجا، وندنا، جیون بگیا، آشائیں، ایکتا کی آواز، ہولی ملن، ایکتا کی ڈگر، پھول کا بلیدان، سمجھوتے کے بعد، اپنی دھرتی، سدا سہاگن، جیسے ہیں اور وقار وطن، استقبال سال نو، تحفۂ حقیر، نقوش وطن، آبروئے مشرق، صبح تاشقند، جشن بہاراں، بھی ہیں۔ ان موضوعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ بیکل اتساہی نے عنوان میں بھی زبان کی رنگا رنگی کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔انھوں نے اپنی نظموں میں اپنے وطن اور اپنے وطن کی مٹی کو مختلف انداز میں اپنی شاعری میں برتا ہے۔ ان کی ایک نظم ’آبروئے مشرق‘ کے عنوان سے ہے۔ آبروئے مشرق سے مراد’ہندوستان‘ ہے۔ اس نظم میں ہندوستان کی جس ایکتا کا ذکر کیا گیا ہے، وہ شاید اب قصۂ پارینہ ہوگیا ہے، لیکن ایک زمانہ اس ایکتا کا گواہ ہے۔ اب بھی بہت سے لوگ اس کی زندہ مثال ہیں، لیکن شاذونادر ہی ایسی مثال پیش کی جا سکتی ہیں۔ اس نظم میں جس طرح سے ہندوستان کی خوبیوں کو بیان کیا گیاہے، ایک حصہ ملاحظہ ہو:
یہ میری آنکھ، مرا دل مری زباں بھی ہے
زمین میری زمیں، میرا آسماں بھی ہے
یہاں کی مٹی سے لہکے ہوئے گلوں کا روپ
دلِ بہار بھی ہے روحِ گلستاں بھی ہے
مٹانے والے جسے اب مٹا نہیں سکتے
ہر اک قدم پہ امر جس کی داستاں بھی ہے
وہ ایکتا کی مجاہد، اکھنڈتا کی شہید
وہ کارواں بھی وہی میرِ کارواں بھی ہے
جو توڑنے سے کبھی بھی بکھر نہیں سکتی
ہزار قتل کرو پھر بھی مر نہیں سکتی
بیکل اتساہی کے مندرجہ بالا اشعار میں جس طرح سے ہندوستان کی ایکتا اور اکھنڈتا کی بات کی گئی ہے، جس طرح سر زمینِ ہند کی خوبیوں کو بیان کیا گیا ہے، جہاں ایک طرح سے اپنی محبت کا اظہار ملتا ہے، وہیں ایک پوری تاریخ سے بھی قاری آشنا ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس طرح سے ہندوستان پر ایک بعد ایک حملے کیے گئے، اس کے باوجود بھی اس ملک نے دنیا میں اپنی طاقت کا سکہ منوایا؛ اپنی خوبیوں کی وجہ لوگوں کی توجہ کو اپنی جانب مبذول کرایا۔ ایک وقت وہ بھی تھا، جب اسے’سونے کی چڑیا‘ سے تعبیر کیا جا تا رہا ہے۔ وقت اور حالات بدلتے ہیں، اس سے سر زمین ہند بھی دوچار ہوئی، لیکن اس کی بنیاداتنی مضبوط ہے کہ، اس پر از سر نو عمارت تعمیر کی گئی۔ وہ ملک جسے غلامی کی بھی زنجیر میں جکڑا گیا ہو، آزادی کی نصف صدی میں اس نے پوری دنیا میں اپنی پہچان بنا لی ہے تو، یقینا اس مٹی کی ذرخیزی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ مذکورہ بالا نظم میں انھیں خوبیوں کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔ کچھ اشارے بسا اوقات بہت بڑی چیز کے وجودمیں آنے کے موضوع بھی ثابت ہو جاتے ہیں۔ہمارے شعرا نے جس طرح سے تاریخی واقعات یا تاریخی موضوعات کو اپنی شاعری میں برتا ہے، اگر صرف اس طرح بھی کام کیا جائے تو بھی بہت سے حقائق سے پردہ اٹھایا جا سکتا ہے۔
اردو کے بہت شعرا نے ہندوستان کی عظیم ہستیوں کے تعلق سے نظم لکھ اپنی محبت کا اظہار کیا ہے۔ بیکل اتساہی نے بھی ہندوستان کی ان عظیم ہستیوں میں سے چند کو اپنی طرف سے سچا خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ان میںبابا نانک، بھگت سنگھ، اندرا گاندھی، اور مرزا غالب بطور کاص شامل ہیں۔ ’بابا نانک‘نامی نظم میں بیکل اتساہی نے گرو نانک کی تعلیم اور ان کے نظریات کو شاعری کے پیکر میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔ اس طرح کی نظموں کے مطالعے سے ایک عجیب و غریب سی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ بہت ہی خوش آئین احساس ہوتا ہے۔ موجودہ ہندوستان کتنا بدل گیا ہے ۔ ایک وقت وہ بھی تھا، جب لوگ ایک دوسری کے مذاہب کی عزت کرتے تھے، الگ مذہب ہونے کے باوجود بھی ایک دوسرے کے مذاہب کا درس دیتے تھے۔ گویا کہ مذاہب نہیں انسانیت حاوی تھی۔ سارے مذاہب انسانیت کی خاطر ہی بنے ہیں۔ آج جب ایسے عظیم لوگوں پر گفتگو ہوتی ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے تئیں لوگوں کے دلوں میں کتنا احترام ہے۔ آج انسانیت بہت پیچھے چھوٹ گئی ہے، اور مذاہب حاوی ہو گئے ہیں، اسی لیے دنیا میں ایک دوسرے سے اتنی نفرت پیدا ہو گئی ہے۔ بیکل اتسا ہی نے گرو نانک کے تعلق سے اپنے جن جذبات کا اظہار کیا ہے، اس کا ایک حصہ ملا حظہ ہو:
شانِ وحدت کے پیامی لطف عرفاں کے امام
تیری بانی میں ہے پنہاں زندگانی کا پیام
تیرا ست سنگ ہے کہ لال وگہر کی بارش
تیرے ہر رنگ میں ہے حسنِ ترقیٔ وطن
تو نے پیغام دیا وقت کو یک جہتی کو
ساری دنیا کو دیا تو نے محبت کا چلن
آج ہر سانس کو ہے تیری صداقت کا یقین
محفلِ امن و اماں تجھ سے رہے گی روشن
تو نے وحدت کے سنائے ہیں جہاں کو نغمے
ایک کرتار کی دی تونے دلوں کو پوجن
مندر ومسجد وگرجا تھے تری راہ میں ایک
تیری منزل میں سبھی دیپ بنے ایک کرن
تیرے کردار سے نکھرا ہے ہر اک یوگ کا روپ
تیرے ہر قول سے لہکا ہے اخوت کا چمن
بیکل اتساہی نے مذکورہ بالا نظم میں جس طرح سے گرونانک کے تعلق سے اپنی بات کہی ہے، اور انھیں شانِ وحدت کے پیامی سے تعبیر کیا، یہ یقینا گرو نانک کی وہ تعلیم ہے جسے انھوں نے انسانیت کے لیے دیا تھا۔ ہم جو بھی بات کہتے ہیں، اس کو عملی طور پر بھی لانے کی ضرورت ہے۔ گرونانک یا اس طرح کے اکابرین نے جو کچھ کہا، اس سے زیادہ عملی طور پر کر کے دکھایا۔ اسی لیے آج انھیں اتنی عزت واحترام سے دیکھا جاتا ہے۔ ہر مذہب کے لوگ انھیں عزت و احترام کی نگاہوں سے اس لیے دیکھتے ہیں کہ ان کے درس میں، ان کی تعلیم میں انسانیت کی فلاح و بہبود مضمر ہے۔شاعر نے اسی تناظر میں اپنی عقیدت مندانہ گفتگو کی ہے۔
بیکل اتساہی کی غزلیہ شاعری میں بھی بھائی چارے کو موضوع بنایاگیا ہے۔ ان کی شاعری کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں وطن، وطن سے محبت اور بھائی چارے کوبطور خاص ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ انھوں نے اپنی غزلیہ شاعری میں لب ورخسار میں الجھنے کے بجائے، سماج، تاریخ اور قومی وحدت کے تصور کو اولیت دی۔ انھوں نے سیاست میں عملی حصہ بھی لیا۔لیکن ان کا اصل ہمسفر پیار تھا۔ جنگ میںنہیں صلح میں یقین رکھا۔سماج میں ایسے بہت سے لوگ ہیں یا ہوتے ہیں، جنھیں دیکھ کر زندگی کو بامقصد بنایا جا سکتا ہے۔ جنھوں نے نفرت کرنے والوں کو بھی محبت کا پیغام دیا۔ ہر پریشانی کا صبر و شکر کے ساتھ سامنا کیا۔ سماج میں ایسے کتنے لوگ ہیں جنھیں دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام پریشانیوں سے مبرا ہیں۔ لیکن اصل میں ایسا نہیں ہوتا ہے۔ کتنے ایسے چہرے نظر آجائیں گے، جو ہمی وقت ہنستے رہتے ہیں، لیکن جو اپنے ہوتے ہیں وہ ہنستے ہوئے چہرے میں نم آنکھوں کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ بعض لوگ اپنی تکلیف کو چھپانے کے لیے لوگوں کے سامنے ہنستے رہتے ہیں۔ ایسے لوگ دراصل اپنی پریشانی سے دوسروں کو پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ یہ انسان دوست لوگ زندگی کا وہ نمونہ پیش کرتے ہیں، جسے دیکھ کر اپنی تکلیف کم معلوم ہونے لگتی ہے۔ بیکل اتساہی نے اپنی غزلیہ شاعری میں اس کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔ عملی طور پر انسان اپنے گرد و نواح کے لوگوں کو متاثر کرتا ہے، لیکن فاصلے پر بیٹھے لوگ ان کے خیالات و افکار سے کتابی صورت میں جو سرمایہ ہوتاہے، اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ بیکل اتساہی کی غزلیہ شاعری کے نمونے ملاحظہ ہوں:
پھول کو تم کچلتے رہے، پھول خوشبو بساتا رہا
فصل کو رت جلاتی رہی کھیت خود لہلہاتا رہا
قتل باپو کا تم نے کیا اور ماں کا لہو بھی پیا
ہر قدم تم نے غم ہی دیا، میں دعا گنگناتا رہا
پیار ہی ہے مرا ہمسفر، نفرتوں کی ہے مجھ پہ نظر
تم تو دشمن کے دشمن رہے، دوستی میں نبھاتا رہا
جنگ عادت تمہاری سہی، صلح تو میری فطرت رہی
جتنے چہرے تمہارے ملے آئینہ میں دکھاتا رہا
اسی طرح سے ایک دوسری غزل کا انداز ملاحظہ ہو:
اے نئے موسم کے پنچھی اب سمٹنا چھوڑ دے
حوصلے بازو میں رکھ اور رخ ہوا کا موڑ دے
مندرومسجد گرو دوارے میں سازش کا پڑاؤ
ہو جہاں نفرت وہاں انساں کا رشتہ توڑ دے
ہو زباں پر ایکتا، دل میں ہو لو الگاؤ کی
زندگی کے ایسے افسانوں کا پنا موڑ دے
اے محبت دینے والے چھین لے خود غرضیاں
دھرم کی سچائیوں سے دل کو دل سے جوڑ دے
بیکل اتساہی نے جس طرح سے اپنی نظموں میں زبان کی چاشنی کا نمونہ پیش کیاہے، اسی طرح سے غزلوں میں بھی اردو، ہندی لفظوں کے استعمال سے معانی و مفاہیم میں تنوع پیدا کر دیا ہے۔ ’ہو زبان پر ایکتا‘ کہہ کر انھوں نے سیاسی لوگوں پر ہی نہیں بلکہ سارے منافقوں پر، جو کہتے کچھ ہیں اور دل میں ہوتا کچھ ہے، طنز کیا ہے۔ آگے اسی میں انھوں نے ’دل میں ہو لو الگاؤ کی‘کہا ہے ۔ اس سے یہ بات صاف طور پر کہی جا سکتی ہے کہ انھوں نے جو کچھ محسوس کیا یا جو کچھ دیکھا، اسے شعری پیکر میں ڈھال کر قارئین کے سامنے پیش کیا۔
بحیثیت مجموعی کہا جا سکتا ہے کہ بیکل اتسا ہی کی شاعری بھائی چارے، اخوت و محبت کا ایک ایسا گلدستہ ہے، جس کے مطالعے سے بہت ساری باتوں کی وضاحت ہوتی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں زندگی کے ساتھ ساتھ بھائی چارے کے روپ میں بھی پیش کیا ہے۔ ہر انسان کا اپنا نقطۂ نظر ہوتا ہے، سماج کو اپنے نقطۂ نظر سے دیکھتا ہے۔ بیکل اتساہی کی پوری شاعری زبان کی چاشنی اور موضوعات کے تنوع کی وجہ سے بہت دنوں تک یاد کی جاتی رہے گی۔ ہندی ،اردو زبان کے قریب ہونے کی بات جس طرح سے کی جاتی ہے، ان کی شاعری اس کا بہترین نمونہ ہے۔ اردو شاعری میں انھوں نے جس آسانی سے ہندی الفاظ کا استعمال کیا ہے،یہ ایک طرح سے ان کی شاعری کی پہچان کی علامت ہے۔ بیکل اتساہی کے کلام کو ناقدین فن نے اپنے طور پر مطالعے کا ذریعہ بنایا، اور اپنی رائے کا اظہار بھی کیا۔لیکن جس طرح سے ان کا کلام مطالعہ کا متقاضی ہے، اس طرح سے مطالعہ میں لایا گیا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے کلام کو مطالعہ کا ذریعہ بنایا جائے، تاکہ ان کے فن کے خدو خال کا تعین ہو سکے۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

