نفی ہے نا ہی اثباتی یہ دنیا
اصولوں سے ہے ٹکراتی یہ دنیا
اگر رکھتی ذرا سی اور وسعت
تو پھر ہم کو سمجھ پاتی یہ دنیا
ہمارا اور تمہارا آسرا ہے
وگرنہ کیسے رہ پاتی یہ دنیا
محبت ہی کا سارا مسئلہ ہے
وگرنہ کیسے اٹھلاتی یہ دنیا
تمہارے فیصلے کی منتظر تھی
تمہی تک ہی سمٹ جاتی یہ دنیا
یہ ہے انکار سجدہ کا کرشمہ
بنی ہے جو طلسماتی یہ دنیا
ہماری زندگی ویراں کئے ہے
لہو آنکھوں سے برساتی یہ دنیا
غزل ہے اور کنایہ چاہتی ہے
کہ ہے طارق اشاراتی یہ دنیا
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
اسلام علیکم: آپ کی ویب سائٹ پہلی بار نظر نواز ہوئی۔بہت خوشی ہوئی۔ آپ سے یہ دریافت کرنا ہے کہ یونی کوڈ میں فورس جسٹیفا ئیڈ کا کوئی طریقہ نہیں ہے کیا۔ اشعار کا طول برابر کا نہیں کر سکتے کیا۔ان پیج میں یہ سہولت ہے جس سے اشعار کی خوبصورتی قائم رہتی ہے۔
نیازمند
سردار علی