Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

بلونت سنگھ کی افسانہ نگاری-عائشہ پروین

by adbimiras اگست 18, 2020
by adbimiras اگست 18, 2020 0 comment

۱۸۵۷کی جنگ آزادی کے بعد پورے ہندوستان میں ایک عجیب و غریب قسم کی بے چینی تھی۔جس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے لوگوں میں ادبا و شعرا تھے۔اگر ہم ابتدائی دور کے یعنی ۱۹۶۰سے قبل کے افسانوں کا جائزہ لیں تو ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ موضوع اور تکنیک کے اعتبار سے اس کی بنیاد تین ادوار پر مشتمل ہے۔ اردو افسانہ کے پہلے دور میں ہمیں رومانی اور اصلاحی میلانات نظر آتے ہیں ۔ یہ وہ دور تھا جب ادبا و شعرااپنے ہم وطنوں کو تعلیم کی طرف مائل کرنے کی کوشش میں تھے۔اور انہیں میں سے چند ادبا راہِ فراراختیار کرکے رومانیت میں گم تھے۔دوسرے دور کے افسانوں میں زندگی میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو موضوع بنایا گیا۔ادب اور آرٹ کی حمایت اور رجعت پسندوں کی مخالفت کی گئی ہے،اور تعلیم کو سماج کے تمام حصوں تک پہنچانے کی کوشش کی گئی ہے۔یعنی یہ کہ ترقی پسند تحریک کی پر زور حمایت کی گئی ہے۔اور ساتھ ہی سائنسی ترقی کے فروغ پر توجہ دی گئی ہے۔ افسانہ کا تیسرا دور۱۹۵۹ تک پھیلا ہوا ہے۔۱۹۶۰ تک آتے آتے انسان اپنی ذات کے اسرار و رموز کی تلاش میں سرگرداں نظر آتا ہے۔اپنے ارد گرد اور ملکی و غیر ملکی اتار چڑھاؤ کی کیفیت کے باوجود اردو افسانہ نگاروں نے افسانہ نگاری کے اس فن کو آگے بڑھایا۔ اور آخر کا ر۱۹۶۰ کے بعد افسانوں کے موضوعات میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ پرانی قدریں بھی روپوش ہونے لگیں۔اس کے باوجود اردو کے مختلف افسانہ نگاروں نے اپنے افسانوں میں اقدار کو باقی رکھا۔جس کی ایک مثال بلونت سنگھ کے افسانوں سے دی جا سکتی ہے۔ چونکہ بلونت سنگھ بھی اسی زمانے میں افسانہ نگاری کاآغاز کر چکے تھے، جس زمانے میں دوسری جنگ عظیم کا اختتام عمل میں آیا۔یہ زمانہ ایک طرح سے ترقی پسند تحریک کے عروج کا زمانہ تھا۔اور اسی تحریک کے زیر اثر نئے ادب کا وجود عمل میں آرہا تھا۔ انھوں نے ۱۹۳۸ میں طالب علمی ہی کے زمانے میں اپنا پہلا افسانہ ’’سزا‘‘ تحریر کیا۔ جسے رسالہ ساقی لاہور میں شائع کرایا۔اس کا ہندی ترجمہ بھی ’دنڈ‘ کے نام سے شائع ہوا۔نریش کمار کو ایک انٹرویو کے دوران بلونت سنگھ نے اس افسانے سے متعلق کہا:

’’نذیر احمد چودھری کے بقول ’’کرشن چند تو لاہور بھر میں ساقی کے اس شمارے کو گھماتا پھرا اور اپنے ہر ملنے والے سے کہتا رہا کہ دیکھو افسانے یوں لکھے جاتے ہیں۔بلونت سنگھ کے اس حرف اول پر حرف آخر کا گمان ہوتا ہے۔‘‘

(بحوالہ:بلونت سنگھ فن اور شخصیت،ممتاز آرا،تخلیق کار پبلشرز ۲۰۰۳۔ص۔۷۹)

اس اقتباس کے مطالعہ سے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کرشن چند رجیسا مستند، نامور اور منجھا ہوا ادیب بلونت سنگھ کی پہلی کوشش پر حرفِ آخر کا گمان کرتا ہے۔ اس لحاظ سے ہم ان کا پہلا افسانہ ’سزا‘ نامور ادیبوں کے افسانوں کے مد مقابل پیش کر سکتے ہیں۔

بلونت سنگھ کی افسانہ نگاری سے قبل اردو میں افسانہ نگاروں کی ایک مضبوط روایت رہی ہے۔ جن میں پریم چند، کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت،سہیل عظیم آبادی،سدرشن، اختر اورینوی اور احمد ندیم قاسمی وغیر ہ ہیں ۔جو اپنے اپنے علاقوں کے مسائل سے متعلق قلم اٹھائے ہوئے تھے۔جیسے پریم چند نے اپنے عہد کی دیہاتی زندگی اور وہاں پیدا ہونے والے مسائل کو فنی انداز میں اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔حقیقت نگار پریم چند حقیقی مسائل پیش کرنے کے لیے بھی اوّلیت کے حامل ہیں۔اسی دور میں پریم چند کے بعد سب سے زیادہ شہرت پانے والے اہم افسانہ نگار کرشن چندر نے اپنے افسانوں میں کشمیر کی دیہاتی زندگی کے مسائل کی حقیقی تصویر کشی کی ہے۔ متذکرہ بالا دوسرے ادبا بھی اپنے افسانوں کے ذریعہ اہم موضوعات پیش کر رہے تھے۔ بلونت سنگھ بھی اسی ر وایت کی ایک مضبوط کڑی ہیں۔بہر کیف بلونت سنگھ جس زمانے میں لکھ رہے تھے وہ پروپیگنڈے کا زمانہ تھا۔ ذاتی اور گروہی تعلقات ہی ادب کا معیار مانے جا رہے تھے۔ اس وقت فکشن نگاروں کے اپنے اپنے گروہ تھے۔ جس سے بلونت سنگھ کبھی وابستہ نہیں رہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی اس طرح پذیرائی نہیں ہوئی جس کے وہ حقدار تھے،اور نہ ہی انہیں اس کی خواہش تھی۔بلکہ انھوں نے اپنی راہ آپ نکالی اور اس پر ایمان داری سے قائم رہے۔کسی تحریک سے منسلک نہ ہونے کے سبب وقتی موضوعات،ٹھہرائو اور جمود کی کیفیت سے ان کے افسانے محفوظ رہے۔انھوں نے اپنے تجربوں کا استعمال کرکے اپنے فن کو پختگی بخشی۔ اس وجہ سے وہ زندگی کے واقعات کو حقیقی رنگ عطا کر نے میں کامیاب نظرآتے ہیں۔

کوئی بھی فنکاراتنی بڑی دنیا کو اپنے ناول یا افسانے کا موضوع نہیںبناسکتا۔افسانہ ایک بیانیہ صنف ہے۔جس میں عام طور سے کو ئی واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔یہ واقعات کسی نہ کسی جگہ سے منسلک رہتے ہیں۔بلونت سنگھ نے اپنی زندگی کا کچھ عرصہ پنجاب میں گزارا۔جو بظاہر مدت میں تھوڑاتھالیکن اتنا اثر انگیز تھا کہ ان میں رچ بس گیا۔اور اسی سرزمین کو انھوں نے اپنی کہانیوں میں انوکھے رنگ روپ میں پیش کیا ۔انھوں نے جس طرح وہاں کے ماحول کی منظر کشی اور جزئیات نگاری کی ہے وہ ایک غیر معمولی امرہے۔اسی لیے توبلونت سنگھ کو’پنجابنگار‘کےنام سےیادکیاجاتاہے۔انھوں نے وہاں کی پگڈنڈیوں،کھیتوں اورکھلیانوں کی جیتی جاگتی تصویریں اپنےافسانوں میں پیش کی ہیں۔جس کی بہترین مثالیں ان کی کہانیاں’’کالیتتری‘‘،’’گمراہ‘‘اور’’سزا‘‘وغیرہ ہیں۔جن میں قدرتی مناظر کا ذکر کس خوبی سے موجود ہے اس کا اندازہ ہوتا ہے ۔افسانہ ’’گمراہ‘‘ سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو، :

’’چھوٹی سی نہر تھی، بہ مشکل ساڑھے چار فٹ چوڑی اور ڈیڑھ فٹ گہری۔دونوں کناروں پر تنگ پٹریاں۔پانی کی چادر کے ساتھ ساتھ ایک انگل سے بالشت بھر اونچی گھاس کاگویا ایک جنگل سا کھڑا تھا، جس میں پیپر منٹ اور برہمی بوٹی کے پودے بھی موجود تھے۔یہ ندی برساتی ندی کے اس پار سے  پل بناتی ہوئی ادھر پہنچتی ہے،پہلے سات فٹ اونچی جھال کی شکل میں نیچے گرتی اور پھر مدھر گیت کی لَے کی طرح سنبھل سنبھل کر بہہ نکلی۔‘‘

(بلونت سنگھ کے بہترین افسانے۔گوپی چند نارنگ۔۱۹۹۵ ساہتیہ اکادمی۔ص۔۳۰۲)

درج بالا اقتباس فطر ت کی منظر نگاری پیش کرتا ہے۔ جسے بلونت سنگھ نے اپنے افسانوں میں جگہ جگہ پیش کیا ہے۔حقیقی ماحول کی پیش کش سے وہ اپنی کہانیوں کو پر کشش بناتے ہیں۔قدم قدم پر ندی،رہٹ اور کھیتوں، کھلیانوں میں کام کرنے والے مرد،عورتیں،گلی،کوچے،کھیلوں میں مگن بچے اور دیگر چیزوں کاذکر اس طرح کرتے ہیں کہ وہ تمام منظر ٍ ہماری آنکھوں میں پھر جاتاہے۔در اصل بلونت سنگھ منظر نگاری کے ساتھ ساتھ جزئیات نگاری میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔بلونت سنگھ کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ وہ جس واقعہ کی بھی منظر کشی کرتے ہیں،اسے جیتا جاگتا بنا دیتے ہیں۔افسانہ ’دیمک ‘میں بچوں کی معصوم شرارتوں کو کس خوبصورتی سے لفظوں میں ڈھالا ہے۔ایک اقتباس ملاحظہ کیجئے:

’’ناجی، آٹھ سالہ بچی،منی پور ناچ ناچتی ہوئی باورچی خانہ میں آگئی۔پیچھے پیچھے اس کا بڑا بھائی مجو چھوٹے کنستر کا مردنگ بجاتا ہوا اندر دا خل ہوا۔ ناجی نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں پھنسا کر بازو اٹھائے اور آنکھوں پر ہاتھوں کا سایہ کرکے آنکھیں مٹکانے لگی۔گاہے ناک کے ایک نتھنے میں سے بہتی ہوئی ریزش باہر کی طرف جھانکتی۔لیکن سرڑ کی ایک ہی ا ٓواز کے ساتھ غائب ہو جاتی۔ناجی گردن کو خاص انداز میں گھما گھما کر کو لھوں کو بھدے طریقہ سے جھٹکے دے دے کر لٹو کی طرح چکر جو کھانے لگی تو اس کا پائوں رپٹ گیااور وہ اوندھے منہ بالٹی میں جا گری۔‘‘

(بلونت سنگھ کے بہترین افسانے۔گوپی چند نارنگ۔ساہتیہ اکادمی ۱۹۹۵۔ص ۳۵۷)

اردو افسانہ کے بنیاد گزار پریم چند نے جس طرح اپنی کہانیوں میں دیہات کی زندگی اور ان کے مسائل کو موضوع بنا کر پیش کیا ہے،اس کو بہت سے افسانہ نگاروں نے اپنایا۔اور اپنے اپنے علاقوں کی مناسبت سے موضوعات پیش کئے۔بلونت سنگھ نے بھی کم و بیش اسی روایت کو آگے بڑھایا ۔اور پنجاب کے گلی کوچوں میں پیدا ہونے والے مسائل بڑی خوبصورتی سے اپنی کہانیوں میں ڈھال دیئے۔وہ حالات و مسائل کے مطابق انداز بیان اور منظر نگاری کا خیال رکھتے ہیں۔ اورکرداروں کے موافق زبان وبیان کو استعمال میں لاتے ہیں۔

بلونت سنگھ کی کہانیوں کے موضوع خاص کر درمیانہ اور نچلے درمیانہ طبقے کے مسائل ہی رہے ہیں۔پنجاب کے دیہات اور شہر ، کسان ،کلرک،ہندو ، مسلم، سکھ،طوائف ، چور،آزادی،فسادات،بھوک، بے کاری،روما نیت او ر نفسیات جیسے موضوعات حقیقی زندگی سے اخذ کیے ہیں۔اس لیے بھی حقیقت نگاری ان کا امتیازی وصف ہے۔وہ مصنوعی رنگوں سے اپنا دامن بچاتے ہیں یعنی بناوٹ کے بجائے وہ ماحول ، کردار،جذباتی حقیقت،دلیری، شجاعت،بے باکی،آن بان،جرأت اور انسان دوستی کی بے لاگ تر جمانی کرتے ہیں۔ بلونت سنگھ سماجی حقیقت نگاری کے ہر نقطے پر اپنی نگاہ رکھتے ہیں۔ان کے یہاں موضوعات کی کوئی قید نہیں۔دیہاتی زندگی کے علاوہ انھوں نے شہری زندگی پر بھی بہت سی کہانیاں لکھی ہیں۔جن میں ’’گمراہ‘‘،’’نہال چند‘‘،’’خوددار‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔افسانہ ’’نہال چند ‘‘سے شہری زندگی کی مصروفیات سے متعلق جن چند چیزوں کاذکر کیا گیا ہے ،اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بلونت سنگھ کو نفسیات پر کس قدرگرفت تھی ،اور اسی نفسیات کا اندازہ اس کہانی کے دونوں کرداروں ’یوگ راج‘اور’نہال چند‘ کے آپسی اختلافات سے بھی لگایا جا سکتا ہے۔ ان تمام باتوں کے باوجود ان دونوں کے دلوں میںایک دوسرے کے لیے محبت ہے۔ یوگ راج کو نہال چند نوکری دینے سے انکار کرتا ہے۔جس پر یوگ راج خود اسی کی دکان کے سامنے ایک دکان کھولتا ہے۔اور جان بوجھ کر دن بھر اپنی دوکان لوگوں سے بھرے رہتا ہے۔جسے دیکھ کر نہال چند کو اپنا کام بند نظر آنے لگتا ہے۔انسانی حقیقت سے جڑے یہ واقعی جذبات بلونت سنگھ نے اپنی کہانیوں میں بے لاگ پیش کیے ہیں۔بہر کیف ان دونوں کی نوک جھونک کاایک منظر ملاحظہ ہو:

’’میری دکان سڑک کے دوسری جانب تھی لیکن نہال چند کی دکان سے اس دکان کا فاصلہ پچاس ساٹھ قدم تھا۔میں اپنی دکان سے نہال چند کو دکان میں گھستے یا باہر نکلتے بخوبی دیکھ سکتا تھا۔ اس کے چہرے کا اتار چڑھائو دکھائی نہ دینے کے باوجود اس کی حرکات سے میں اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس کے دل پر کیا گزر رہی ہے۔

میں نے کپڑے کے ایک بہت بڑے جلی حروف میں یہ عبارت لکھوائی۔ ’’یہاں ڈیویلپنگ مفت کی جاتی ہے‘‘۔اور اسے اپنی دکان کے آگے لگا دیا۔گھر سے چندگری پڑی پرانی فلمیں بھی اٹھا لایا اور انہیں یونہی ادھر ادھر لٹکا دیا۔ اپنے یار دوست بھی کئی تھے۔ انھیں بھی سازش میں شامل کر لیا اور نتیجہ یہ کہ میری دکان میں گاہکوں کا تانتا سا بندھا رہتا ۔ تین چار روز ہی یہ تماشا ہوا ہوگا کہ ایک دن دوپہر کے وقت لالہ نہال چند پشت کی طرف ہاتھ باندھے خراماں خراماں میری دکان پر آ پہنچے۔‘‘

(ایضاً۔ص،۳۱۳)

بلونت سنگھ نے جس طرح سے اپنے افسانوں میں حقیقت نگاری اور سادہ بیانی سے کام لیا ہے اس کی مثالیں  قدم قدم پر ان کی کہانیوں میں موجود ہیں۔وہ جس طرح کردار کو اپنی کہانی میںمرکزیت عطا کرتے ہیں ،اسی طرح زندگی میں رونما ہونے والی عام باتوں کو جنھیں ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیںوہ انہیں بڑے موثر طریقے سے پیش کرتے ہیں۔ان کے یہاں نہ صرف مختلف کردار ہیں،بلکہ ہر کردارکی ذہنیت بھی مختلف ہے۔جیسے افسانہ’’نہال چند‘‘ میں نہال  چند اپنی غلطی چھپانے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتا ہے۔اور اسی جھوٹ سے وہ ایک نیا جہاں تعمیر کرتا ہے،اس کا اندازہ درج ذیل اقتباس سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے :

’’بیٹا یوگ راج‘‘۔۔۔وہ بزرگ تھا کبھی بیٹا بھی کہہ لیتا تھا۔۔۔’’سنو بھائی اب تمہیں اصل بات سناتا ہوں۔آج میں یوں ہی گھومتا ہوا لارنس گارڈن چلا گیا۔وہاں ایک خاموش گوشے میں چپ چاپ بیٹھ گیا‘‘یہ کہہ کر اس نے ہلکی سی ایک سرد آہ بھری۔۔۔’’جانتے ہو کیا ہوا؟بس مجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہوگئی۔۔۔میں سوچنے لگا یہ دینا کیا ہے۔یہ انسان کیا ہے۔یہ پرماتما کیا ہے۔یہ خاک کاپتلا کیوں بنایا گیا ہے۔اس دنیا میں آخر کسی کو رہنا تو ہے نہیں۔۔۔اف کس قدر تنہائی تھی وہاں پر۔‘‘

(ایضاً۔ص،۳۲۴)

بلونت سنگھ کے افسانوں میں کردار ہزاروں مکر و فریب کے باوجود انسان ہوتا ہے۔ تمام برائیوں کے باوجود  اس میں انسا نیت زندہ ضرور ہوتی ہے۔خواہ وہ کردار دیہاتی ہویا شہری۔بلونت سنگھ کی بیشتر کہانیاںدیہی ماحول میں جنم لیتی ہیں۔اور وہیں پیدا ہونے والے چھوٹے بڑے مسائل کااحاطہ کرتی ہیں۔سماجی حقیقت نگاری ،غریبی،پنجاب کے دیہات اور شہروں کا ذکر،میلے ٹھیلے کا ذکر،حسن و عشق،نفسیات، مسلم طبقہ ، سکھ طبقہ، انسانی بھائی چارہ،ہمدردی،تہذیب وتمدن،زمین جائدادکے جھگڑے،آپسی رشتے ناطے،اجڈ پن،ڈاکو،لٹیرے،کسان،پنجاب کے رسم ورواج ، رہن سہن وغیرہ بلونت سنگھ نے اپنی کہانیوں میں بڑی خوش اسلوبی سے پیش کیے ہیں۔بلونت سنگھ کی کہانیوں کے کردار اکثر و بیشتر پنجاب کے بہادر اور دلیر ہوتے ہیں۔ان کی صفات خواہ کچھ بھی ہوںلیکن وہ اپنے قول کے پاسدار ہوتے ہیں۔ جس کی خاطر وہ مرنے مارنے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے ۔انتہائی طاقت کے مالک ہوتے ہیں۔اور اپنی شخصیت سے لوگوں کو مرعوب کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔’’راستہ چلتی عورت‘‘افسانہ کا ہیرو اس کی بہترین مثال ہے۔ٍاس کے علاوہ اور بھی افسا نوں کے کردار دلیری اور جانبازی کا اعلیٰ نمونہ کہے جا سکتے ہیں۔جیسے کہ کہانی’’کرنیل سنگھ‘‘کا ایک کردارجو کرنیل سنگھ کی گھوڑی چوری کر لیتا ہے اور پھر لا کر واپس بھی کرتا ہے۔اور بڑی شان سے اپنے چور ہونے کی خبر دیتے ہوئے مونچھوں پر تائو دیتا ہے۔ جس کی بہادری سے متاثر ہو کر کرنیل سنگھ اپنی بیٹی کی شادی اس چور نوجوان سے طے کر دیتا ہے۔ جگا ایک ایسا ہی امر کرد ا ر ہے جو اپنی بہادری کے سبب دور دور تک مشہور ہوتا ہے۔جس کی ایک مثال افسانہ ’جگا‘ سے دی جا سکتی ہے۔ جس کا ایک بہادر کردار جو پیشے سے ڈاکو ہوتا ہے،اور قریب کے گائوںمیں رہنے والی ایک لڑکی گرنام کور پر فریفتہ ہو جاتا  ہے۔لیکن وہ دلیپ نام کے ایک شخص کوچاہتی ہے ۔جس سے شادی کرنے پر گرنا م کے خاندان والے راضی نہیں ہوتے۔لیکن جگا اس معاملہ کو نہ چاہتے ہوئے بھی سلجھا دیتا ہے۔وہ دلیپ کو لڑنے کے لیے للکارتا ہے اور یہ شرط رکھتا ہے کہ جو جیتے گا وہی گر نام سے شادی کرے گا۔دلیپ بہادری سے لڑتے لڑتے گھائل ہو جاتا ہے۔اور جگا اس کی بہادری سے متا ثرہوکراس کو گرنام کے خاندان کے حوالے کر دیتا ہے۔اس کہانی میں بلونت سنگھ نے ایک طرح کے فنی امتزاج سے کام لیا ہے۔۔ اس کہانی میں جہاں جگا اور دلیپ کی لڑائی سے بلونت سنگھ نے پنجاب کی زندہ دلی اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، تو دوسری طرف جگا کی شخصیت کے دوسرے پہلوئوں کو بھی اجاگر کیاہے۔وہ ایک پیشہ ور ڈاکو ہوتے ہوئے بھی محبت کو بدنا م نہیں ہونے دیتا اور اپنی محبت قربان کردیتا ہے۔اس کے نزدیک گرنام کور کو حاصل کرنا ذرا بھی مشکل نہیں تھا۔ وہ سماج میں ایک برا انسان تسلیم کیا جا سکتا ہے۔وہ نہایت لحیم شحیم بہادر اور سخت گیر انسان ہے۔وہ امیروں کے یہاں ڈاکے ڈالتا ہے اور غریبوں میں فراخدلی سے اس دولت کو تقسیم کرتا ہے۔لوگوں میں اس کا جتنا نام ہے اتنا خوف بھی۔لیکن اس کے دل کی پاک بازی اس کی تمام برائیوں پر غالب ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔کہانی کا ا ختتام کچھ اس طرح ہوتا ہے کہ وہ اپنی ناکام محبت کا بوجھ لیے اپنی دنیا میں لوٹ جاتا ہے۔

بلونت سنگھ نے اپنی کہانیوں میں ہیرو کو معاشرتی روابط رکھنے والے سوشل ہیرو کے طور پر پیش کیا ہے۔جو بلا کے بہادر اور دلیر ہوتے ہیں۔ان میںہمت اور حوصلہ کی کمی نہیں ہوتی۔تبھی تو وہ بعض جگہوں پر سماج سے بغاوت کر بیٹھتے ہیں۔اور جنگلوں کو اپنی پناہ گاہ بنا لیتے ہیں۔یہ ہیرو عام طور سے لٹیرے یا چور ڈاکو کا پیشہ اختیار کر لیتے ہیں۔امیروں کو لوٹ کر غریبوں پر لٹا تے ہیں ۔بلونت سنگھ نے اپنی کہانیوں میں ایسے کردار وضع کیے ہیں جوہزار عیبوں کے باوجود بھی قاری کی ہمدردی حاصل کر لیتے ہیں۔یہی چند فنی اوصاف ان کرداروں کو جاندار بناتے ہیں۔’’جگا‘‘،’’کالی تتری‘‘،’’کالے کوس‘‘،’’تین باتیں ‘‘اور’’ سزا‘‘جیسی کہانیوںکے کردار اس کی جیتی جاگتی مثال معلوم ہوتے ہیں۔

بلونت سنگھ کے یہاں موضوعات کی بھر مار ہے۔وہ ہر طرح کے موضوعات اپنے افسانوں میں پیش کرتے ہیں۔جہاں وہ پنجاب کے مسائل ،ماحول اور خوبصورت مناظر کی تصویر کشی کرتے ہیں وہیں وہ ایک حقیقت نگار بن کر بھی ابھر تے ہیں۔انھوں نے آزادی سے قبل اور بعد کے ہندوستان کے مسائل بھی اپنی کہانیوںمیںبڑی خوبی پیش کیے ہیں۔ چنانچہ ان کے کردار وطن کے ہمدرداور وطن دوست نظرآتے ہیں۔یہ کردار آزادی پسندہیں۔اس کی ایک مثال افسانہ ’’ہندوستان ہمارا ‘‘ہے سے دی جا سکتی ہے ۔ جس میں انگریزی سامراج سے یہاں کے عوام کی نفرت اورآزادی کے احساسات کی حقیقی ترجمانی کی گئی ہے۔اسی طرح انھوں نے آزادی کے بعد کی صورت حال اور فسادات کا شکار ہونے والی عوام کے دکھ اورجلا وطنی کو بھی اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔اس طرح کی کہانیوں میں ان کی ایک بہترین کہانی ’’کالے کوس‘‘ ہے۔اس کہانی میں تقسیم ہند کے بعد پیش آنے والے واقعات وحادثات کی روداد ہے۔جس میں ہندوستان و پاکستان میں بسنے کے مسئلے پر دنگے اور فساد برپا ہونے اور عام لوگوں کی اس سے متاثر ہونے کی داستان بیان کی گئی ہے۔اس کہانی میں آپسی تفرقہ اور ہند و پاک کی سرحدوں میں بسنے والے افراد کی نفسیات کو موضوع بنایا گیا ہے۔یہ کہانی اس چھوٹے سے مسلمان قافلہ کی ہے ،جسے فسادات کی زد سے خود کو بچاتے ہوئے ہندوستان سے پاکستان جانا تھا۔ان کے مقصد کی تکمیل میں ایک ہندو دوست پھلور سنگھ ان کی مدد کرتا ہے۔اس قافلہ کا ایک رکن گاما اور پھلو ر سنگھ دونوںدوست بھی تھے اور ہم پیشہ بھی یعنی دونوں ڈاکو تھے۔گاما اپنی منزل پر پہنچ کر واپس اپنے قدم سرزمین ہند کی طرف بڑھاتا ہے۔گاما اور پھلورکی انسانیت ان کے فعل سے ظاہر ہوتی ہے۔دونوں کے دلوں میں انسانیت اور دوستی کی قدرہے۔مذہب کی تفریق اور سرحدان کے لیے بے معنی ہے۔تمام برے کام کرنے کے باوجود ان کے دلوں میں اگر کچھ زندہ ہے تو وہ انسانیت۔یہ کہانی فساد جیسے تلخ ماحول میں بھی انسانی اقدار کا مرقع پیش کرتی ہے۔

بلونت سنگھ معاشرہ کے خارجی و داخلی معاملات کو ایک پارکھ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔اسی لیے تو وہ اپنی کہانیوں میں معاشرتی حقیقت نگاری میں کامیاب نظر آتے ہیں۔وہ حقیقت بیانی اور صاف گوئی سے کام لیتے ہیں۔اور جوں کی توں حقیقت ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں۔معاشرہ کی حقیقت بیانی کے ساتھ ساتھ ان کی نگاہ معاشرہ میں جنم لینے والے کھوکھلے اقدا رپر بھی رہتی ہے۔جس کی قلعی وہ اپنے کرداروں کے ذریعہ بڑی آسانی سے کھول دیتے ہیں۔اس کی مثال ان کی کئی کہانیوں سے دی جا سکتی ہے۔’’جیسے ویبلے ۳۸‘‘اور ’’پہلا پتھر‘‘ اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ویبلے ۳۸ فسادات سے متاثر لوگوں کی کہانی ہے۔جو تباہی و بربادی کا شکار ہوئے تھے،یہ اس علاقہ کی کہانی ہے جہاں مسلمان آبادی تھی،اور انہیں مجبوراًاپنا وطن چھوڑنا پڑا۔مصیبت کا شکار ہوئے لوگوں کواپنی جانوں کی امان کے لیے دوسرے ٹھکانوں کی تلاش کرنی پڑی۔ اسی ویران بستی میں پناہ لینے والے ایک سکھ خاندان کی تباہی و بربادی اور چند موقع پرست افراد کی کہانی ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’اس عالمگیر بربادی میں ایک طرف ایک قوم کے مکانات کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا تھا تو دوسری جانب دوسری اقوام کے اکا دکا مکانات صحیح وسالم کھڑے تھے۔انہیں مکانوں میں سے ایک سردار بدھ سنگھ کا مکان تھا۔‘‘

(بلونت سنگھ کے بہترین افسانے۔گوپی چند نارنگ۔ساہتیہ اکادمی۱۹۹۵۔ص،۱۸۹)

درج بالااقتباس سے ایک قوم اور دوسر ی قوم کے کہنے سے یہ اندازہ لگایاجاسکتاہے کہ تشدد کی انتہا تھی، دونوں قوموں نے ایک جیسانقصان اٹھایا ۔بہر کیف بدھ سنگھ کے محلہ میںحالات کا مارا ہوا بساکھ سنگھ ایک ٹو ٹے پھوٹے مکان میںآسرا لیتا ہے ۔بدھ سنگھ کی شخصیت اور پوجا پاٹھ سے بساکھا سنگھ بہت متاثر ہوتا ہے۔ وہ بسا کھا سنگھ کی پریشانیوں کو ختم کرنے لیے کبھی واہگورو کا نام جپنے کی صلاح دیتا ہے تو کبھی گورودوارے جانے کے لیے کہتا ہے ۔اور کہتا ہے کہ بغیر شردھا کے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔

’’اجی بابا ابھیکھ سنگھ جی کہہ گئے ہیں کہ شردھا ضرور پھل لاتی ہے۔خواہ یہ پھل دو،چار،دس، بیس ،پچاس برس کے بعد ہی کیوں نہ ملے۔۔۔لیکن شردھا کاپھل ضرور ملتا ہے۔

(ایضاً۔ص۱۹۴)

اپنے خاندان کو ایک ٹھکانہ فراہم کرانے کے بعد بساکھا سنگھ بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی تلاش میں لگ جاتا ہے۔وہ ایک کسان تھا،لیکن اب وہ یہ کام بھی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ اب رہنے کے لیے ہی جگہ میسر ہونا بھی محال تھا۔ وہ دن رات معاش کی تلاش میں یہاں وہاں پھرتا ہے۔ بدھ سنگھ ایک امیر شخص ہے لیکن غریبوں سے لا تعلق ہے۔وہ غریبوں کا مذاق اڑاتا ہے۔اور ٹوٹی پھوٹی جلی ویران بستی اور ان میں رہنے والے غریبو ں کو وہ لطف لے کر دیکھتا ہے۔ایک دن ایک واقعہ پیش آتا ہے۔بدھ سنگھ ایک پستول خریدتا ہے ،جسے بساکھ سنگھ کو دکھاکر یہ کہتا ہے کہ بہت اچھی کمپنی ’’ویبلے ۳۸‘‘ کی ہے ،سستی مل گئی، صرف چودہ سو روپئے کی۔بساکھا سنگھ جو پائی پائی کے لیے محتاج تھا، بدھ سنگھ سے کچھ پیسے ادھار مانگنے پربھی وہ اسے نہیں دیتا،اور یہ پستول اسے سستی معلوم ہوتی ہے۔ وہ تمام ماجرا سمجھ جاتا ہے اور بدھ سنگھ پر پستول تان دیتا ہے۔اور اس کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہتا ہے:

’’صبح سے شام تک اپنی پیشانی سے ایڑی تک پسینہ بہانے والا کوئی شخص بھی میرا دشمن نہیں ہو سکتا ۔اب مذہب صرف دو رہ گئے ہیں۔ایک دوسروں کاخون چوسنے اور انہیں لوٹنے والوں کا مذہب۔اور دوسرا اپنا خون دینے والوں اور لٹنے والوں کا مذہب۔‘‘

(ایضاً۔ص۲۰۲)

افسانہ’’ ویبلے ۳۸ ‘‘اور’’ پہلا پتھر‘‘ انسانی حقیقت آشکار کرنے والے افسانے معلوم ہوتے ہیں۔جہاں ’’ویبلے ۳۸‘‘ میں بدھ سنگھ مال و زر کی ہوس میں اندھا ہو جاتا ہے تو وہیں ’’پہلا پتھر ‘‘ ہمارے سماج کے مرد کی جنسی نفسیات سے پردہ کشائی کرتا ہے۔یہ کہانی فطرت کے گھنا ؤنے اور پست پہلوؤں کو سامنے لاتی ہے۔بلونت سنگھ کے یہاں اس نوع کی متاثر کن شاید ہی کوئی اور کہانی ہو۔بہر طور یہ افسانہ معاشرہ میں عورت کی نا قدری،ظلم اور جبر کو پیش کرتی ہے۔زمانہ اور حالات بھلے ہی بدل جائیں سماج میں عورت کی اس سے زیادہ کوئی حقیقت نظر نہیں آتی۔اس افسانہ میں لکڑی کے کارخانہ میں کام کرنے والے چند شہری کردار دکھائے گئے ہیں۔ کہانی کی ابتدا فسادات اور اس کے بعد کی صورت حال کو پیش کرتی ہے۔ لوگ بے بس اور مجبور ہو جاتے ہیں۔اسی بے بسی کو اس افسانہ کا موضوع کہا جا سکتا ہے،جہاں فسادات کے سبب اپنی جان اور عزت کی حفاظت کرتے ہوئے ایک غریب بوڑھا باپ بھٹکتا ہو ا اس حویلی کے ایک ٹوٹے حصے میں پناہ حاصل کرتا ہے۔فسا دات میں تو وہ کسی طرح اپنے خاندان کی آبرو بچا لیتا ہے لیکن مرد کی ذہنی نفسیات سے وہ اپنی آبرو محفوظ نہیں رکھ سکا۔ آخر اس سماج میں موجود موقع پرستوں اور کھوکھلی رسم ورواج کے چنگل سے وہ اپنی کسی بھی بیٹی کو محفوظ نہیں رکھ پایا۔یہ کہانی مشرقی پنجاب کے ایک شہر کی ہے۔اس کہانی کا اختتام بھی بڑا متاثر کن ہے۔آخر میں وہ کاریگر یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ ہم اس حد تک کیوں کر پہنچ گئے؟ اورکیا صحیح ہے ؟ ان کی آپسی گفتگوکا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’پنجاب میں کتّا جلم ہو رہا ہے ۔ایسا کھون کھرابا نہ دیکھا نہ سناٹھیک؟

’’ٹھیک‘‘

’’۔۔۔اور پھر ہندو اور سکھ عورتوں کی بِجّتی(بے عزتی)پچھمی پنجاب میں مسلمان کر رہے ہیں۔وہ سب تم کو ما لوم ہے۔ٹھیک؟‘‘

’’ٹھیک‘‘سب نے ذرا جوش میں آکر جوب دیا۔

اب کچھ دیر تامل کرنے کے بعد دھیرے دھیرے سپاہیانہ انداز میں سیدھا کھڑا ہوگیا۔اور ایک لفظ پر زور دے کر بولا:

’’پر۔۔۔میں سوچتا ہوں کہ مسلمان گسّے میں آکر جو بیاکوپھی(بیوقوفی)کر رہے ہیں،وہی بیا کوپھی ہم چنگے بھلے اپنی بہنوں اور بہو بیٹیوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔بتاؤ مسلمانوں کو دوش دینے سے پہلے ہمیں کھد کو شرم مسوس نہیں ہونی چاہیے۔

(ایضاً۔ص۲۴۰)

دیہاتی اور شہری مسائل کو بلونت سنگھ نے بڑے کمال سے اپنی کہانیوں کا موضوع بنایا ہے۔ایک طرف دیہات اور وہاں رہنے والے لوگوں کے مسائل کاذکر کیا ہے۔ کسان ،کھیت اور ان سے وابستہ دوسرے متعلقات کو اپنی کہانیوں میں بخوبی پیش کیا ہے۔افلاس، غربت ،نااہلی، تساہل پسندی،محنت ومشقت، حوصلہ مندی،جذباتیت،رومانیت، نفسیات،اخلاق، رہن سہن،لڑائی جھگڑے،زمین جائداد،طبقاتی کشمکش،،ہمدردی، انسانی بھائی چارہ،بہادری،میلے ٹھیلے،ڈاکو لٹیرے غرض اور بھی دوسرے انسانی حقائق کا ذکر ان کے افسانوں میں بدرجۂ اتم موجود ہے۔انسانی زندگی سے وابستہ یہ تمام عناصر بلونت سنگھ کے افسانوں کو بلندی و وسعت عطا کرنے میں معاون ہیں۔ان کا فنی انداز ان کے افسانوںکو انفرادی رنگ و آہنگ عطا کرتا ہے ۔دوسری چند کہانیاں ایسی بھی ہیں جو دیہات سے شہرکی طرف رخ کرتی ہیں۔جس طرح بلونت سنگھ نے دیہاتی زندگی کا نقشہ ہمارے سامنے پیش کیا ہے گویا انھوں نے دیہات کی حقیقت نگاری کا حق ادا کر دیا ہے۔اسی طرح شہری زندگی کے معاملات،حقائق اور مسائل بھی اپنے افسانوں میں بخوبی پیش کیے ہیں۔’’گمراہ‘‘،’’نہال چند‘‘،’’خوددار‘‘،’’سمجھوتہ‘‘،’’دیمک‘‘،’’کٹھن ڈگریا‘‘،’’سورما سنگھ‘‘اور’’ پیپر ویٹ‘‘ وغیرہ ان کے ایسے افسانے ہیں جن میں فنی ہنر مندی سے شہری مسائل اجاگر کیے گئے ہیں۔لیکن ایسے افسانوں کی تعداد زیادہ نہیں۔بہر کیف انھوں نے شہری دنیا کو دیہاتی دنیا سے زیادہ ترقی یافتہ اور خو ش حال پایا۔لیکن وہاں کے ا فراد بھی جذباتی اور اقتصادی مسائل سے دو چار ہیں۔یہاں بھی لوگ بے روزگاری اور بے کاری کے بوجھ تلے دبے ہوئے اور پریشان حال ہیں۔ یہاں کلرک، بیوپاری،مزدور، لیڈر،افسر، وکیل،چور، طوائف اور دلال سبھی طرح کے لوگ ہیں۔اور ان سے جڑی طبقاتی کشمکش ہے۔یہاں جو چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے وہ لا تعلقی اور اجنبیت ہے۔جس کی زد میں آکر انسان رفتہ رفتہ کھوکھلا ہوتا جارہاہے۔مگر اس کے باوجود انسان جینے کی لاکھ کوششیں کرتا ہے۔ حالات سے جنگ کرتا ہے۔وہ اپنی اس دنیا میں بے فکری،لا پروائی اور خوش حالی کی زندگی جیتا ہے۔ ان کے افسانوں میں شہر کی زندگی مختلف رنگوں میں نظر آتی ہے۔

بلونت سنگھ نے اپنے افسانوں میں احساسِ تنہائی کو ایک المیاتی نقطۂ نظر سے پیش کیا ہے۔جس کی مثال ان کے افسانے ’’پتھر کے دیوتا‘‘ اور ’’مہمان ‘‘ہیں۔ اسی طرح شہروں میں آگے بڑھنے اورکچھ پا لینے کی چاہت میں رشتے ناطے اور تعلقات کہیں پیچھے چھوٹتے نظر آتے ہیں ۔یہاں تک کہ مصروفیات کے سبب ایک شخص اپنی ازدواجی زندگی کو بھی خوش حال نہیں رکھ پاتا۔اس کی مثال ان کے کئی افسانے ہیں ۔جن میں’’اس کی بیوی‘‘،’’خوبصورت موڑ‘‘ ،’’اعتراف‘‘اور ’’دیمک‘‘ وغیرہ ہیں۔ جن میں کھوکھلی ازدواجی زندگی کی ترجمانی کی گئی ہے ۔یہیں اس ر واں دواں زندگی میں ایک اور مسئلہ در پیش ہے کہ انسان اپنی غیرت ، خودداری اور اس کی بقا کا تحفظ کس طرح کرے۔اس کی مثالیں ہم افسانہ ’’خوددار‘‘، ’’تلچھٹ‘‘اور ’’بابو مانک لعل ‘‘وغیرہ سے دے سکتے ہیں۔بہر کیف بلونت سنگھ نے اپنے افسا نوں کے کینوس پر شہری زندگی کے مختلف پہلوؤں کو سمیٹنے کی کوشش کی ہے۔

بلونت سنگھ جس طرح اپنے افسانوںمیں ماحول کی پیش کش کا خیال رکھتے ہیںاسی طرح وہ زبان وبیا ن پر بھی توجہ دیتے ہیں۔ماحول اور کردار کے مطابق زبان وبیان استعمال میں لاتے ہیں ۔وہ اپنے افسانوں میں علاقائی بولیوں، محاوروں اور کہاوتوں کا بہترین استعمال کرتے ہیں۔مثال کے طور پر چند عام پنجابی الفاظ جیسے بے بے(ماں)، ویر(بھائی)، چاچا(باپ)، باپو(دادا)، من چھٹی(کپاس کی چھڑیاں)، کھولی(ماند) وغیرہ۔ وہ اس طرح پنجابی لفظیات کا استعمال کرتے ہیں کہ وہ پوری طرح کہانی میں پیوست ہوجاتی ہیں۔اور کسی نقصان کے بجائے کہانی  کے بیان کو تقویت پہنچاتے ہیں ۔ وہ نئی نئی تراکیب وضع کرکے خوبصورتی سے اپنے افسانوں میں برتتے ہیں۔جیسے ’ڈبل ڈوز سردارنی‘ وغیرہ۔ بلونت سنگھ کہانی میں جذبات پیش کرتے ہوئے طوالت اور غیرضروری باتوں سے پر ہیز کرتے ہیں۔اور اہم باتوں کو نظر انداز نہیں کرتے ۔عام زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات معنی خیز انداز میں بیان کرنے پر قدرت رکھتے ہیں۔انھوں نے اپنے افسانوں میں سکھوں کی مذہبی زندگی کی خوبصورت ترجمانی کی ہے۔وہ جس طرح زندگی کو مختلف رنگوں اور شکلوں میں دیکھتے ہیں انھیں اپنے افسانوں میں بہترین طریقہ سے پیش بھی کرتے ہیں۔بلونت سنگھ کا اسلوب بیان قاری کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے۔اور دلچسپی کے باعث قاری آخر تک کہانی پڑھنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ان کے افسانہ کا اختتام بعض دفعہ منٹو کے افسانوں کی جھلک پیش کرتا ہے۔اکثر قاری جس اختتام کا تصور کرتا ہے نتیجہ اس کے با لکل بر عکس ہوتا ہے۔ یعنی یہ کہ ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ اختتام کیا ہوگا ۔یہی وجہ ہے کہ کہانی کے آخر تک تجسس برقرار رہتاہے۔بلونت سنگھ کے افسانے یکسر خامیوں سے پاک ہیں۔ان میں اضافہ یا حذف کرنے کی گنجائش نہیں ہوتی۔وہ اپنے آپ میں مکمل ہوتے ہیں۔اسی لیے بلونت سنگھ تکنیک کے استاد مانے جاتے ہیں۔

بلونت سنگھ جس زمانے میں لکھ رہے تھے اسی زمانہ میں اردوکے چند بڑے افسانہ نگار مثلاً سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی، کرشن چند عصمت چغتائی، قرۃ العین حیدر اور احمد ندیم قاسمی اپنے فن کی چکا چوند روشنی سے افسانے کی ادبی دنیاکو منور کیے ہوئے تھے۔اور اس روشنی میں دوسرے لوگوں پر نگاہیںعام طور پر اس طرح سے نہیں گئیں، جس کے وہ حقدار تھے۔بلونت سنگھ بھی انہی فن کاروں میں سے ہیں جن پر کم توجہ کی گئی ۔ایک طرف تو وہ خود اس شہرت کے قائل نہیں تھے ،یہی وجہ تھی کہ وہ کسی وقتی تحریک سے منسلک نہیں ہوئے۔دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنی زیادہ تر تخلیق ہندی میں شائع کراتے تھے۔ جن میں سے بیشترکے اردو تراجم بھی ہوئے۔متذکرہ بالا ادبا کی طرح ان کا تعلق اردو ادب سے براہِ راست اتنا زیادہ نہیں تھا ۔اور جو کچھ تھا اس پر اردو قاری نے اس طرح توجہ نہیں دی۔ اس لیے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان پر کم توجہ دیا جانے کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ایک اچھے فن کار نہیں تھے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ گوشہ نشین اور تنہائی پسند تھے ۔جس کا اثر براہ راست ان کی تخلیقات پر بھی ہوا۔ انھوں نے فنی اور موضوعاتی اعتبار سے بہت معیاری ، گتھے ہوئے اور چست درست افسانے تخلیق کیے۔جو ادب میں انھیں ان کا مقام و مرتبہ متعین کرنے کے لیے کافی ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس تنہائی پسند ادیب کی تخلیق پر توجہ دی جائے ۔ جس سے ان کے فن پارے کی خوبیاں اجاگر ہوسکیں۔اس لیے ان کے افسانوں کا مطالعہ ضر وری ہے، تاکہ ان کے فن کے پوشیدہ پہلوؤں کو اجاگر کیا جا سکے ۔اورادبی دنیا میں ان کا وہ مقام متعین ہو سکے،جس کے وہ حقدار ہیں۔

بلونت سنگھدیہاتعائشہ پروینکھیتگمراہ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اعمال نامہ(سر رضا علی کی آپ بیتی)- ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
اگلی پوسٹ
نورالحسنین کی افسانہ نگاری: تہذیبی زوال کی داستان- محمد علیم اسماعیل

یہ بھی پڑھیں

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

افسانہ ‘ عید گاہ’ اور ‘عید گاہ سے...

اگست 7, 2024

اندھیری آنکھوں کے سامنے سورج اُگانے والا افسانہ...

اگست 4, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں