Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

بانیان جامعہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ  اور اُن کی صحافتی خدمات – ڈاکٹرمحمدآدم

by adbimiras اکتوبر 29, 2020
by adbimiras اکتوبر 29, 2020 0 comment

بچپن میں ہی والد محترم ڈاکٹر مولانا طاہرندوی سلفی مدنی ؒ نے مولانا ابوالکلام آزا د اورمولانا ثنااللہ امرتسری کی کتابوں کامطالعہ کروایاتھا۔ وہ اکثران کا تذکرہ کرتے اوربہت سے واقعات کے ساتھ ان اشخاص سے متعلق واقعات بڑے دلچسپ انداز میں بیان کرتے۔یہ تومعلوم تھا کہ جامعہ کا نام جامعہ ملیہ اسلامیہ مولانا ابوالکلام آزاد کا سجھایا ہواہے لیکن مولانا ثنااللہ امرتسری کے بانیان جامعہ ملیہ اسلامیہ ہونے سے متعلق کوئی چیز نہ پڑھی نہ سنی یہاں تک کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تعلیم کے بعدتدریس کے فرئض انجام دینے لگا ایک دن ایک صاحب نے ایک عربی کتاب میں مولانا ثنااللہ امرتسری کے بانیان جامعہ ہونے کا تذکرہ دکھایا۔بڑا تعجب ہوا!کئی اشخاص سے اس سے متعلق دریافت کیا لیکن کچھ ہاتھ نہ آیا اکثرنے لاعلمی کا اظہارکیا ۔خیرایک دن عزیزم ڈاکٹرمحمدمقیم نے بتایا کہ جامعہ کے بانیان میں مولانا کانام درج ہے اورواٹس ایپ پراس کی کاپی بھیجی تو دل چاہاکہ مولانا کا ایک تعارف پیش کرنے کی سعادت حاصل کروں۔

جامعہ کی ویب سائٹ پرجامعہ کے بنیادگزاروں کی وہ لسٹ اس طرح ہے:

Foundation

The Foundation Committee met on 29 October 1920. It comprised of the following members:

Dr. Mukhtar Ahmad Ansari (Delhi)

Mufti Kafayattullah (Delhi)

Maulana Abdul Bari Farang Mahali (UP)

Maulana Sulaiman Nadvi (Bihar)

Maulana Shabbir Ahmed Usmani (UP)

Maulana Husain Ahmad Madni (UP)

Chaudhury Khaleeq-uz-zaman (UP)

Nawab Mohammad Ismail Khan

Tasadduq Husain Khan (UP)

Dr. Mohammad Iqbal (Punjab)

Maulana Sanaullah Khan Amritsari (Punjab)

Dr. Saifuddin Kitchlew (Punjab)

Maulana Abul Kalam Azad (Bengal and Bihar)

Dr. Syed Mehmood (Bengal and Bihar)

Saith Abdullah Haroon Karachiwale (Sindh, Bombay and Hyderabad)

Abbas Tyabiji (Sindh, Bombay and Hyderabad)

Sait Miyan Mohammad Haji Jaam Chhotani (Sindh, Bombay and Hyderabad)

Maulavi Abdul Haq (Sindh, Bombay and Hyderabad)

          تاسیسی کمیٹی کی یہ فہرست 18شخصیات پرمشتمل ہے اس میں مولانا ثنا ء اللہ امرتسری ؒ کا نام ۱۱ہویں نمبر پر اس طرح درج ہے:

MaulanaSanaullah Khan Amritsari (Punjab

          شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (پیدائش:12 جون1868 وفات:15 مارچ 1948) مفسرقرآن،محدث، مقررو خطیب ، دانشور،عظیم صحافی اور فن مناظرہ کے امام تھے۔ وطن عزیز کی آزادی کے وقت جس قسم کی سیاست داخلی اورخارجی سطحوں پر ہورہی تھی ،اسلام اورمسلمانوں پرجوچوطرفہ فتنے برپا کئے جارہے تھے اس کے قلع قمع میں اور سیاست ہند میں ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔برصغیرکے مذہبی اورسیاسی حلقوںمیں آپ کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔

1892 میں جب کانپورمیں ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیااس میں مولانا ثناء اللہ ندوہ کمیٹی میں سب سے کم عمررکن کی حیثیت سے شامل تھے۔ (یہ بھی پڑھیں  مکتبہ جامعہ : ایک تحریک ، ایک کارواں – ڈاکٹر خالد مبشر)

جمعیۃ العلما ہندکاقیام 1919میں عمل میں آیا اس کے محرک اول بھی شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ تھے۔آپ جمعیت علما ہند کی طرف سے صوبہ پنجاب کے امیر بھی رہے۔

بڑے پرلطف انسان تھے آپ کا انداز دعوت بھی بڑا نرالا تھا ایک دفع مولانا ظفر علی خان سے ملاقات ہوئی تو ان کا پاجامہ ٹخنے سے نیچے تھا مولانا نے دوارن مصافحہ ظفر علی خان کے ٹخنے کوہاتھ لگا کرفرمایا: ’’ آپ کے پاجامے کا یہ حصہ جو آپ کے جوتے کو مس کرچکا ہے بڑا متبرک ہے یہ مجھے عنایت کردیاجائے تو میں اس سے اپنی ٹوپی بنالوں۔مولانا ظفر علی خاں سمجھ گئے اورمعذرت کرتے ہوئے پاجامہ ٹخنوں سے اونچا کرلیا۔

مولانا  بڑے فیاض ،مہمان نو از ،ہنس مکھ ،خوش مزاج ،خوش اطوار ،شیریں گفتار ،بے حدرحم دل اورتقوی شعار تھے۔یوں تو ان کی زندگی کے بہت سے واقعات ہیں جو ان کے انسان دوستی کی اعلی مثالیں ہیں۔ اس وقت ایک واقعہ یا د آرہا ہے 1937میں ایک شخص نے مسلکی عصبیت اورلوگوں کے اکساوے اور بہکاوے میں آکر100شہیدوں کے ثواب اورحوروں کی لالچ میں مولانا پرقاتلانہ حملہ کیا جس سے مولانا بری طرح زخمی ہوگے اورکئی ہفتوں تک بستر علالت پررہے اورمجرم کے لیے دعائے ہدایت کرتے رہے،کچھ دنوں بعد وہ گرفتار ہوا اورچاربرسوں کے لیے جیل رسید کردیاگیا۔مولانا کوپتا چلاکہ قمربیگ کے گھرکوئی کمانے والانہیں تو مولانا ہرمہینے خاموشی سے اس کے گھر 50روپے ماہانہ بھیجوانے لگے اور اپنے اخبار اہل حدیث امرتسر کی 3جون 1938کی اشاعت کے صفحہ 14پرلکھا کہ میں سچ کہتاہوں کہ میں ٹھنڈے مکان میں بجلی کے پنکھے کی ہوا لیتاہوں ،ٹھنڈا پانی پیتاہوں تو مجھے مجرم کی حالت پررحم آتاہے کہ وہ جیل میں کس طرح گزارتا ہوگا،اللہ اسے توبہ کی توفیق بخشے۔

اللہ تعالی نے مولانا کوہمہ جہت خوبیوں سے نوازاتھا ۔توکل ،زہد، حلم ،صبر،تقوی، دیانت وامانت ،عدالت وثقاہت، قناعت وسنجیدگی، حق گوئی اور بے باکی، حاضر جوابی میں اپنی مثال نہیں رکھتے تھے۔ آپ نے دینی و مذہبی، قومی وملی اور سیاسی خدمات انجام دیں۔ مولاناثناء اللہ پوری زندگی اسلام کی سربلند ی اور پیغمبراسلام کے دفاع میں سرگرم رہے اور ساری زندگی دین کی خالص اشاعت کتاب وسنت کی ترویج اورشرک وبدعت کی تردید وتوبیخ ،ادیان باطلہ کاردکرنے میں گزاری۔کشمیری پنڈت کے منٹو شاخ کے چشم وچراغ تھے۔ والد کا نام خضر جو اورچاچا کا نام اکرم جو تھا ۔یہ لوگ علاقہ ڈور کے رہنے والے تھے جو تحصیل اسلام آباد ضلع سری نگر میں واقع ہے۔پشمینے کے کاروباری تھے ۔یہ وہی علاقہ ہے جو اردوکے مشہور ڈرامہ نگار آغاحشرکاشمیری کے والد کا وطن تھا اگرچہ آغاحشر کی ولادت وارانسی میں ہوئی تھی۔ کاروباری مقاصدسے بھائی سنت سنگھ میں ایک مکان خرید کرامرتسر کوہی اپنا وطن بنالیا تھا ۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری نے ابتدائی تعلیم امرتسر میں پائی۔ سات سال کی عمر میں ان کے والد کااور چودہ برس کی عمرمیں والدہ کا انتقال ہوگیا۔والد کے انتقال کے بعدمعاشی تنگی نے ڈیرا ڈالا توبڑے بھائی ابراہیم سے رفوگری کا ہنر بھی سیکھا۔ لیکن اللہ نے انہیں اسلام اورقوم و ملت کی خدمت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔بہرحال انہوں نے بنیادی تعلیم مولانا احمد اللہ امرتسرسے حاصل کرنے کے بعد مشہورمحدث مولانا حافظ عبدالمنان وزیرآبادی ؒسے علم حدیث کی کتابیں پڑھیں۔1889 میں سندفراغت حاصل کر کے صحیحین پڑھنے عظیم محدث سید میاں نذیرحسین دہلوی کے پاس پہنچے اور ان سے علم حدیث میں خوب خوب استفادہ کیا۔یہاں سے سہارنپور کا رخ کیااورمظاہرالعلوم میں علوم دینیہ سے مستفید ہوکر دیوبند آئے۔ یہاں مولانا محمود حسن صاحب مسندتدریس پرفائز تھے۔ عظیم دینی درسگاہ دیوبند سے تحصیل علم کے دوران شیخ الہند مولانا محمود حسن سے بھی کسب فیض کیا۔مولانا دوران سبق بہت سوالات کرتے اور اساتذہ بڑی محبت وشفقت ،نرمی اورتسلی سے ان کے سوالات کا جواب دیا کرتے۔ اس بارے میں ایک واقعہ محمد رضوان یوسف نے اپنی کتاب کے  صفحہ 17 پراس طرح پیش کیاہے:

’’ مدرسہ سے فارغ ہونے کے بعد رخصت کی اجازت لینے اورالوداعی ملاقات کے سلسلے میں شیخ الہندکی خدمت میں حاضر ہوئے تو استاد محترم نے انتہائی مسرت اور اطمینان کے ساتھ فرمایا’’ثناء اللہ ! طلبہ تمہاری بہت شکایتیں کیاکرتے تھے کہ یہ اعتراضوں میں بہت سا وقت ضائع کرتاہے،لیکن تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ جسے اللہ تعالی کچھ عطافرماتاہے اسی سے حسدبھی کیاجاتاہے۔‘‘ مولانا ثناء اللہ نے جب اپنے استاد محترم کی زبان سے یہ کلمات سُنے توان کی آنکھیں فرط مسرت سے آب دیدہ ہوگئیں اوران کی زبان سے یہ شعر جاری ہوگیا:

دیدہ ام درغنچگی چندیں جفائے باغباں

بعد گل کشتن نمیدانم چہ گل خواہد شگفت

ترجمہ:   غنچگی کے زمانے میں میں نے باغباں کے اتنے مظالم سہے ہیں کہ نہیں کہاجاسکتا پھول بن جانے کی صورت میں اورکیا کیا گل کھلیں گے۔

مولانا ثنااللہ فرماتے تھے کہ یہ واقعہ ایسا مسرت آمیز تھا کہ ساری عمرمیں کسی بھی حالت میں نہ بھولا۔ جب بھی معاصرین کے نرغے میں دل تنگ ہوتا تواس واقعہ کی یاد کوفوراً تازہ کرکے دل کو شاد کرلیتا۔(۱)

مولانا ثناء اللہ امرتسری وسیع المطالعہ، وسیع النظر، وسیع المشرب ،وسیع المعلومات اور باہمت عالم دین تھے ۔دین اسلام کے داعی، محقق، متکلم، متعلم، مناظر، مصنف، مفسر اور نامور صحافی تھے۔ مولانا کے پیش نگاہ دفاعِ اسلام اوررحمۃ للعالمین محمد رسول اللہﷺ کی عزت و ناموس کی حفاظت کا کام تھا۔اسلامی علوم پر بڑی گہری نظرتھی ۔علوم تفسیر،حدیث ،فقہ ، منطق،فلسفہ اورعلم کلام میں انہیں کامل دستگاہ اوردرک حاصل تھا۔ یہود و نصاریٰ کی طرح آریہ سماجی بھی اسلام کے درپے تھے۔ناموس رسالت کے تعلق سے مولانا ثناء اللہ کے ایک جوابی رسالے میں تحمل ،صبروحلم اورشائستگی کی داد دینے ہوئے مفتی کفایت اللہ دہلوی لکھتے ہیں :

’’مولانا ثناء اللہ امرتسری نے یہ رسالہ لکھ کرمسلمانوں پر احسان عظیم کیاہے اوراخبار وکیل امرتسر نے 6 ستمبر1924کو اپنی اشاعت میں لکھاتھا کہ جس قدر’’ رنگیلا رسول‘‘ اشتعال انگیز فحش اوردائرۂ تہذیب سے خارج ہے ،اسی قدر’’مقدس رسول‘‘ ﷺ انتہائی تحمل ،متانت اورشائستگی کولئے ہوئے ہے ۔ (۲)

سیدسلیمان ندوی نے مولاناکی تعریف کرتے ہوئے لکھاہے۔’’اسلام پیغبراسلام کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اورقلم اٹھایااس کے حملے کوروکنے کے لیے ان کاشمشیربے نیام ہوتا تھا اوراسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں نے عمربسرکی‘‘۔

شیخ الاسلام مولانا ثناء ناللہ امرتسریؒ برصغیر ہندوپاک کی جامع الصفات علمی شخصیت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بے پناہ خوبیوں اور محاسن سے نواز رکھا تھا۔ آپ اسلام کی اشاعت کے لیے تمام زندگی کوشاں رہے۔آپ کی تصانیف میں تفسیر القرآن بکلام الرحمن (عربی) برہان التفاسیر ،بیان الفرقان علیٰ علم البیان ، تفسیربالرائے اور ’’تفسیرِ ثنائی ‘‘ (اردو) قابل ذکر ہیں۔پنجاب کی زرخیز زمین سے طلوع ہونے والے اس آفتاب ِ دین اور عظیم مرد مجاہد نے ایک کذاب کی مدلل تردید کی اور ناموس ِ رسالت کی کما حقہ حفاظت کی۔

اوم پرکاش سونی لکھتے ہیں:

’’مولانا کی زندگی بے حد مصروف تھی۔ ان کا بیشتر وقت تصنیف و تالیف، خطابت اور مناظرات میں صرف ہوتا تھا۔ ان کے حریف بھی ان کی بے پناہ علمیت اور انداز تحریر و تقریر کے معترف تھے۔ اکثر مناظرات میں بر محل اشعار کے حوالے دے کر تقریر کو پرلطف بنا دیتے تھے‘‘۔(۳)

صحافت ہر دور میں حکومتوں،جمعیت اورجماعت ،مشنریوں کے مشن کا شعوری آرگن رہی ہے ۔اس کے ذریعہ بہت سے مقاصد حاصل کئے جاتے ہیں۔افکار ونظریات ،عقائد ومعاملات اوررہن سہن حتی کہ کھان پان تک میں تبدیلی مقصود ہوتی ہے،صحافت تہذیبی کشمکش کو ابھارنے اورسرگرمیوں کے ذریعہ کسی رنگ یارنگوں میں رنگنے کے عمل کاذریعہ بھی رہا ہے۔ رزم ہو یا بزم یہ ایجنسیوں کے ذریعے مختلف سطحوں پربرپا کی جاتی اور سجائی جاتی ہے ،اپنے چہروں کو روشن کرنے، دوسروں کو زیر کرنے اور چہروں پر کالک پوتنے کی خاطراب حکومتیں اور ادارے یا اخبارات صرف خبریں جمع ہی نہیں کرتے بلکہ پیدابھی کرتے ہیں۔سامان حرب میں صحافت سب سے بڑاہتھیار ہے۔میڈیامینجمنٹ کے لیے حکومتوں اور سیاسی پارٹیوں کا ایک بہت بڑا بجٹ ہوتاہے ۔ اگرچہ بہت سے افراد اور اداروں نے اس کامثبت استعمال بھی کیاہے جن کی تعداد بہت کم ہے۔اُن میں سے ایک نام بانیان جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی کے ایک رکن شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (پیدائش:12 جون1868 وفات:15 مارچ 1948) کا بھی ہے۔ صحافت پروپیگنڈہ بھی ہے اوراس کا تدارک بھی۔اس طرح صحافت سے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے قلم ، کیمرے اور آواز وتصاویر کے ہتھیارسے اپنے لئے مناسب راہ بنائی جاسکتی ہے۔ منفی رویوں کا مثبت جواب دیاجاسکتاہے۔صحافت کے منفی اورمثبت اثرات کا دائرہ بہت وسیع اوردور رس نتائج کا حامل ہے ۔ انیسویں صدی کے نصف آخر اوربیسویں صدی کے اوائل میں ایک طرف جنگ آزادی اپنے شباب پرتھی اوربرطانوی حکومت کا سورج غروب ہوا چاہتاتھا۔ ایسے ناگفتہ بہ حالات میں زمینی طاقتیں اسلام اورمسلمانوں کو نہ صرف مٹانے کے درپے تھیں بلکہ اسلام اورمسلمانوں کی علمی بیخ کنی اورعملی تباہی کے لئے کوشاں تھیں،وہ ہرفتنے اور گردسے اسلام اورمسلمانوں کے چہرے مڈھ دینا چاہتی تھیں۔ایسے میں مولانا ثنااللہ امرتسری نے بیڑ اٹھایاسچی خبروں کو پہنچانے کا،حالات حاضرہ سے متعلق درست معلومات فراہم کرنے کا، ماحول میں پھیلی غلط فہمیوں،اسلام اورمسلمانوں پر ہونے والے تحریری وتقریری حملوں سے دفاع کا۔

مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مختلف اوقات میں تین اخبار جاری کیے۔ سب سے پہلے 13 نومبر 1903 کو  ہفت روزہ ’’اہل حدیث‘‘ جاری کیا جو ہر جمعے کو باقاعدگی سے شائع ہوتا تھا۔ اس اخبار کو پورے ہندوستان کے مذہبی و علمی اور سیاسی و سماجی حلقوں میں اہمیت حاصل تھی۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں اسے دلچسپی سے پڑھا جاتا اور بے تابی سے اس کا انتظار کیا جاتا تھا۔ ہفتے کی اہم خبریں ’’ملکی مطلع‘‘ کے عنوان سے شائع کی جاتی تھیں۔ ہلکا پھلکا تبصرہ یا تجزیہ بھی کیا جاتا تھا۔ اس کا اداریہ کسی علمی یا خاص اہمیت کے سیاسی مسئلے سے متعلق ہوتا تھا۔ اداریہ مولانا خود لکھتے تھے اور زیر بحث موضوع کے بارے میں اختصار مگر جامعیت کے ساتھ اظہار رائے کرتے تھے۔ یہ اخبار متنوع مضامین کا دلچسپ مجموعہ تھا اور اس میں ان تمام مذاہب کے بارے میں جو ہندوستان میں رائج تھے، ایک خاص انداز میں لکھا جاتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ جس شوق سے مسلمان اس کا مطالعہ کرتے تھے اسی بے تابی سے غیر مسلم بھی اس کے منتظر رہتے تھے۔

معروف  صحافی سہیل انجم نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے:

’’ہندوستان میں اسلامی صحافت کی ترویج و ترقی میں مولانا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری کی خدمات جلیلہ کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے 13  نومبر1903 کو ’’مجلہ اہل حدیث‘‘ کے نام سے ایک ہفت روزہ اخبار جاری کیا جو پہلے آٹھ صفحات پر مشتمل تھا اور ہر جمعہ کو نکلتا تھا، بعد کو اسے بیس صفحات کا کر دیا گیا۔ یہ اخبار مسلسل 44 برسوں تک نکلتا رہا۔ تقسیم ہند کے وقت مولانا کے پاکستان چلے جانے کی وجہ سے بند ہو گیا۔ فرورری 1919ء میں اخبار پر عتاب شاہی نازل ہوا تو دو شمارے شائع نہیں ہوسکے۔ لیکن مولانا نے اپنی ذہانت کو بروئے کار لاتے ہوئے اخبار کا متبادل ’’گلدستہ ثنائی‘‘ شائع کرکے تسلسل و تواتر کو برقرار رکھا۔اگست 1923ء میں بھی دو شمارے شائع نہیں ہوسکے۔ اس اخبار کا مقصد اسلام پر کیے گئے اعتراضات اور ان کے سوالوں کے جواب دینا اور دین اسلام کی نشر و اشاعت رہا۔ مولانا امرتسری کے مطابق یہ ایک جریدہ ہی نہیں دین و دنیا کے مسائل پر مجمع البحرین ہے۔ اس میں دینی و علمی مضامین شائع ہوتے۔ سیاسی موضوعات پر بھی اظہار خیال کیا جاتا۔ اس کا انداز بہت دلچسپ تھا۔ دینی مسائل سے متعلق سوالوں کے جواب بھی دیے جاتے۔ ۔۔۔ ا س میں بیرون ہند کے اخبارات میں شائع ہونے والی علمی خبروں کے اقتباسات بھی شائع کیے جاتے۔‘‘  (۴)

مولانا نے اپنی چھ سوسے زیادہ کتابوں اور اپنے اخبارات کے ذریعہ نہ صرف معترضین اسلام کا مناسب اورمثبت رد کیا بلکہ ایک مثبت ماحول اورقومی یکجہتی کے فروغ کے ساتھ مذاہب کے درمیان علمی مکالمے کی راہ ہموارکی اورجنگ آزادی میں انگریزی حکومت کی شرارتوں کا بہت ہی مدبرانہ مقابلہ کیا۔ ’’ یہ اخبار تقریباً ۴۴ سال تک نکلتا رہا۔ مولانا عبد المبین کے مطابق اس مجلے کے مجموعی صفحات کی تعداد ۳۵ ہزار سے زائد ہے۔

اس مجلہ میں افتتاحیہ، شذرات، تفسیر، مناظروں کی روداد،  در س ِ حدیث، رد قادیانیت، فتاویٰ وغیرہ کے لئے جگہ مختص تھی ان کے علاوہ کچھ اہم خبریں بھی ہوتی تھیں۔ سہیل انجم صاحب نے اپنے مضمون میں ۴ فروری ۱۹۱۶ کے شمارے سے مضامین کی فہرست دی ہے۔ جویہ ہے:  مباحثہ جبلپور کا دوسرا صفحہ، ایک نہیں تین ملا میں مرغی حرام، حضرت ابراہیم کے چار پرندوں کے متعلق، وہابی پر مقدمہ، اخلاق ِ نبویہ، اسلام اور عقل ِ انسانی، صوبہ مدارس اور وفد اہلِ حدیث، متفرقات، فتاوے، انتخاب ا خبار اور اشتہارات۔

اخبار کے شماروں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا امرتسری ہمیشہ مسلمانوں کے مسائل کو لے کر فکر مند رہتے۔ وہ ہر اس واقعے سے با خبر رہتے جس سے مسلم معاشرے کے متاثر ہونے کا امکان ہو۔لاہور میں مسجد شہید گنج پر۔۔۔ قبضہ کر لیا گیا۔ مسلمانوں نے اس مسجد کو واگذاشت کرانے کی بھرپور کوشش کی۔مولانا اس معاملے میں خاموش رہے اور پیر جماعت علی جو اس مسجد کی تحریک کے سرخیل تھے ان کی حمایت کی۔اس سلسلے میں خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں

مولانا ثناء اللہ صاحب پیشوائے فرقہ اہل حدیث سے کسی شخص نے پیر جماعت علی شاہ صاحب کی نسبت کچھ سوالات کئے تھے۔ انھوں نے جواب دیا کہ مسجد شہید گنج کا معاملہ ختم ہو جائے تب جواب دوں  گا۔ اس واقعے سے مولانا امرتسری کی دور اندیشی اور قومی اتحاد کی محبت ظاہر ہوتی ہے۔(۵)

مولاناانگریزوں کی جانب سے اخبارات ورسائل پرلگنے والی پابندیوں،قدغنوں،جرمانوں اورطلب کی جانے والی ضمانتوں کے خلاف ہمیشہ اپنے اخبار میں صدائے احتجاج بلندکرتے رہتے ۔اوم پرکاش سونی نے مولانا کی صحافتی اورسرگرمیوں کی تفصیلات کچھ اس طرح پیش کی ہیں:

’’ہندوستان میں عموماً پنجاب میں خصوصاً آئے دن خبریں شائع ہوتی تھیں کہ آج فلاں اخبار سے ضمانت طلب ہوئی کہ آج فلاں اخبار سے ۔ چنانچہ 8؍ستمبر کو لاہور میں جن کے اخبارات کی ضمانت لینے کا مطالبہ کیا گیا ہے ان کی فہرست یہ ہے:ایک ہزار روپے کی ضمانت لابھ سنگھ سے لی جائے۔ خیر خواہ نام سے مطبع جاری کرنا چاہتا ہے، جس میں لاری گزٹ سکھ قوم کا پرچہ چھاپا جائے گا۔ پانچ ہزا روپے کی ضمانت رام چندر سے لی جائے جو نرائن پریس لگانا چاہتا ہے۔دو ہزا ر روپے کی ضمانت منڈی داس سابق ایڈیٹر انڈیا سے لی جائے جو ایک پریس جاری کرنا چاہتا ہے۔ پانچ سو روپے عبدالحق سے ، ایک ہزارروپے مرسی لال شرما پراشر ہفتہ وار اخبار’ہندو‘ سے ، پانچ سو روپے حکم چند سے جو آریہ ٹیم پریس سے’راجپوت‘ نامی اخبار نکالنا چاہتا ہے۔’اہل حدیث‘ تجویز پیش کرتا ہے کہ دربار دہلی کی یادگاروں میں ایک بڑی یادگار یہ  جدید قانون منسوخ کردیا جائے گا۔

مولانا مفسر قرآن بھی تھے۔انھوں نے عربی زبان میں کئی کتابیں تالیف کرکے شہرت دوام حاصل کی ۔’اہل حدیث‘ کے علاوہ انھوںنے’’ مرقع قادیانی‘‘ یکم جون 1907 میں اور 1908 میں ماہنامہ’’ مسلمان‘‘ جاری کیا تھا مگر موخر الذکر’مسلمان‘ انگریزی سرکار نے ضبط کرلیا تھا۔’ اہل حدیث‘ باقاعدہ شائع ہوکر نور افشانی کرتا رہا لیکن مرقع قادیانی اور مسلمان قطعاً بند ہوگئے۔ ’اہل حدیث ‘علمی ودینی اخبار تھا۔ جسے غیر مسلم بھی اشتیاق سے پڑھتے اور مولانا کے قلم کی جولانیوں کی تعریف کرتے۔‘‘۔

’’اہل حدیث‘‘ کے اگست 1923ء میں بھی دو شمارے اشاعت پذیر نہیں ہوسکے۔ امرتسر کے مولانا دائود غزنوی کو بغاوت ہندکے جرم میں ایک سال قید سخت اور چار سو روپے جرمانے کی سزا سنائی تو انہیں ملتان سینٹرل جیل میں منتقل کردیا گیا۔مزید برآں ان کی ملاقات پر بھی پابندی عائد کی گئی۔ مولانا ثناء اللہ اس گرفتاری سے سخت برہم ہوئے ۔ انہوں نے 25؍فروری 1932ء کی اشاعت میں مولانا غزنوی کے حق میں صدائے احتجاج بلند کی۔ مولانا نے علم وادب اور صحافت کی بے پایاں خدمت کرکے جو شہرت حاصل کی وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتی ہے۔ ابوالکلام آزاد موصوف کے سب سے بڑے مداح تھے۔ ان کے اخبار کی بھی دو ہزار روپے کی ضمانت طلب کی گئی تھی۔

دسمبر1938ء میں ان کے ذاتی ثنائی برقی پریس سے ایک کتاب موسوم بہ ’’پیغام زندگی‘‘ شائع ہوئی۔ جس سے مورد الزام ٹھہراتے ہوئے حکومت انگلینڈ نے دو ہزار روپے کی ضمانت طلب کرلی۔مولانا کی زندگی بے حد مصروف تھی۔ان کا بیشتر وقت تصنیف وتالیف، خطابت اور مناظرات میں صرف ہوتا تھا۔ان کے حریف بھی ان کی بے پناہ علمیت اور انداز تحریر وتقریر کے معترف تھے۔اکثر مناظرات میں برمحل اشعار کے حوالے دے کر تقریر کو پرلطف بنادیتے۔ ان کا آخری مناظرہ24؍مئی 1944ء کو امرتسر میں دہلی کے مشہور آریہ سماجی پنڈت رام چندر سے ہوا تھا۔ مولانا ثناء اللہ اپنے نام کے ساتھ امرتسری ضرور لکھا کرتے تھے کیونکہ ان کے ایک ہمنام  مولوی ثناء اللہ پانی پتی بھی عالم حدیث تھے۔

ریاست نابھہ میں سکھوں پر عتاب نازل ہواتوہفتہ وار اہل حدیث کے 21؍ستمبر1923ء کے شمارے میں خبر چھپی:شرومنی گوردوارہ پربندھک کمیٹی کی طرف سے وائسرائے ہند کے نام تاردیا گیا ہے کہ جیتو(ریاست نابھہ) میں اکالیوں کو بھجن گانے اور گرنتھ صاحب کا پاٹھ کرنے سے روکنے کے لیے پولیس اور فوج نے محاصرہ کرلیا ہے اور13ستمبر کی صبح سے اب تک بھوکے ہیں ۔ خوراک اور پانی لانے کی سخت ممانعت ہے۔ یہاں تک کہ قضائے حاجت کی بھی اجازت نہیں۔ گوردوارہ کمیٹی اس سلوک کو سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔اگر کوئی جانی نقصان ہوا تو حکومت کو مجرم قرار دیا جائے گا۔‘‘

19؍اکتوبر1923ء کے صفحہ 4پر’’ انتخاب الاخبار‘‘ کے زیر عنوان چیدہ چیدہ خبریں دی گئی ہیں اور ان خبروں کاانتخاب الانتخاب ملاحظہ ہو:’’مولانا محمد داؤد غزنوی 11؍اکتوبر کی شام اپنی معیادِ قید ختم کرکے روہتک جیل سے امرتسر پہنچے ۔ خلافت کمیٹی کے ارکان نے ریلوے اسٹیشن پر ان کا خیر مقدم کیا اور جلوس نکالا۔‘‘(۶)

مولانا کی زبان خشک نہیں تھی بلکہ اس میں ادبی چاشنی کی شیرینی تھی۔مولانا کے جملے لطف سے خالی نہیں ہوتے۔ اخبار سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو جو مسجد شہید گنج سے متعلق ہے:

’’جب سے لاہور میں۔۔۔ مسجد مقبوضہ کو شہید کیا۔۔۔ مسلمان طبقہ سخت رنجیدہ خاطر ہو گیا ہے۔ سچ توہے کہ آج

تک اس بارے میں جو کچھ بھی مسلمانوں نے کیا جنون کی حالت میں کیا۔ کبھی نافرمانی اختیار کی، کبھی گولیاں کھائیں، کبھی گفتگوئے مصالحت کی طرح ڈالی۔ یہاں تک کہ کبھی نادر شاہ کی فوج کی طرح آپس میں ہی لڑ پڑے اور خوب لڑے۔ ہمارے خیال میں یہ سب کچھ دیوانہ وار معشوق کی تلاش میں حرکتیں تھیں جو کامیابی کی طرف راہنما نہ ہوئیں۔ یہاں تک کہ پیر جماعت علی شاہ صاحب علی پوری نے اس تحریک کی قیادت کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لی۔ اس وقت سے تو ہم بالکل ناکامی کا یقین کر بیٹھے۔ ۔۔۔چنانچہ آج تک بھی خاموشی سے پیر صاحب کی رفتار دیکھ رہے ہیں۔

بدایوں کے جلسہ میں جو زیر صدارت پیر صاحب موصوف ہوا یہ طے ہوا کہ مسجد لاہور کے باریمیں حکومت کی نافرمانی نہ کی جائے۔ کیا کیا جائے؟ پہلا کام یہ کیا جائے کہ ہر جمعہ کو مسجد ڈے (یوم مسجد) منایا جائے۔

اس روز انہدام مسجد کا واقعہ ذکر کیا جائے وغیرہ وغیرہ۔ مزید پروگرام کے لیے ۸ نومبر کو لاہور میں مسجد شوریٰ ہوگی۔

یہ تو ہوئی آج تک کی کارگزاری کی مختصر روداد۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ گزشتہ واقعات اور طریق کار مسلم پبلک کے

سامنے رکھ دیں تاکہ مذکورہ مجلس شوریٰ کے ممبران اور مسلم کارکن جو قدم اٹھائیں وہ بحکم قرآن مجید ’’ذکرہم بایام

اللہ‘‘ واقعات گذشتہ کو ملحوظ رکھ کر اٹھائیں۔(۷)

مولانا امرتسری نے جہاں اپنی صحافتی خدمات کے ذریعے اسلام کی خدمات انجام دیں وہیں اردو صحافت کے دامن کو بھی مالامال کیا۔شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (پیدائش:12 جون1868 وفات:15 مارچ 1948) مفسرقرآن،محدث، مقررو خطیب ، دانشور،عظیم صحافی اور فن مناظرہ کے امام تھے۔ وطن عزیز کی آزادی کے وقت جس قسم کی سیاست داخلی اور خارجی سطحوں پر ہورہی تھی ،اسلام اورمسلمانوں کے خلاف جو چو طرفہ فتنے برپاکئے جارہے تھے ان کا قلع قمع کرنے میں اور سیاست ہند میں ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔برصغیرکے مذہبی اورسیاسی حلقوں میں آپ کوقدرکی نگاہ سے دیکھاجاتاتھا۔

1892 میں جب کانپورمیں ندوۃ العلماء کا قیام عمل میں آیا تو مولانا ثناء اللہ ندوہ کمیٹی میں سب سے کم عمررکن کی حیثیت سے شامل تھے۔جمعیۃ العلما ہندکاقیام 1919میں عمل میں آیا اس کے محرک اول بھی شیخ الاسلام مولاناثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ ہی تھے۔آپ جمعیۃ علما ہند کی طرف سے صوبہ پنجاب کے امیر بھی رہے۔ تحریک خلافت میں علامہ امرتسری رحمہ اللہ کا اسم گرامی خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔

مولانا بڑے فیاض ،مہمان نو از ،ہنس مکھ ،خوش مزاج ،خوش اطوار ،شیریں گفتار ،بے حدرحم دل اورتقوی شعار تھے۔یوں تو ان کی زندگی کے بہت سے واقعات ہیں جو ان کی انسان دوستی کی اعلی مثالیں ہیں۔ اس وقت ایک واقعہ یا د آرہا ہے۔ 1937 میں ایک شخص نے عصبیت سے مغلوب ہوکرلوگوں کے بہکاوے میں آکر مولانا پرقاتلانہ حملہ کیا جس سے مولانا بری طرح زخمی ہوگئے اورکئی ہفتے تک بستر علالت پررہے اورمجرم کے لیے دعائے ہدایت کرتے رہے۔کچھ دنوں بعد وہ گرفتار ہوا اور چاربرسوں کے لیے جیل رسید کردیاگیا۔ مولانا کوپتا چلاکہ مجرم قمربیگ کے گھرکوئی کمانے والانہیں تو مولانا ہرمہینے خاموشی سے اس کے گھر 50روپے ماہانہ بھیجوانے لگے اور اپنے اخبار اہل حدیث امرتسر کی 3جون 1938کی اشاعت کے صفحہ 14پرلکھا کہ میں سچ کہتاہوں کہ میں ٹھنڈے مکان میں بجلی کے پنکھے کی ہوالیتاہوں ،ٹھنڈاپانی پیتاہوں تو مجھے مجرم کی حالت پررحم آتاہے کہ وہ جیل میں کس طرح گزارتاہوگا،اللہ اسے توبہ کی توفیق بخشے۔

سیدسلیمان ندوی نے مولاناکی تعریف کرتے ہوئے لکھاہے۔’’اسلام پیغبراسلام کے خلاف جس نے بھی زبان کھولی اورقلم اٹھایااس کے حملے کوروکنے کے لیے ان کاشمشیربے نیام ہوتاتھااوراسی مجاہدانہ خدمت میں انہوں نے عمربسرکی۔

مولانا کی زندگی کے آخری ایام بہت دردناک ہیں تقسیم ملک کے فسادات نے امن کی جگہ لے لی تھی مولانا بھی اس کی زد میں آگئے۔ مولانا کے صاحب زادے مولوی عطاء اللہ جو محلے کی حفاظت پر مامور تھے شہید کردیئے گئے۔ اُن کی لائبری جس میں بے شمار نادر و نایاب کتابیں تھیں نذر آتش کردی گئی۔مولانا آزاد نے اس کتب خانے کی حفاظت کے لیے معقول انتظام کروایاتھا لیکن اسے تباہی سے نہ بچایا جاسکا۔ آپ کو بے سروسامانی کے عالم میں اپنے اہل خانہ کو لے کرپاکستان روانہ ہونا پڑا،ہزاروںروپیہ اورسونے کے زیورات امرتسر میں ہی رہ گئے جس شخصیت کا شمار امرتسر کے رؤسا میں ہوتاتھا وہ بے سروسامان تھا اس کے باوجود وہ اللہ کی رضا پر قانع رہے۔ مولانا امرتسرسے ہجرت کرکے لاہور آ گئے تھے اورپھر لاہور میں کچھ دن قیام کے بعدگوجرانوالہ میں مولانااسماعیل کے ہاں ٹھہرے اوروہاں سے سرگودھا تشریف لے گئے 13فروری 1948کومولاناپرفالج کاحملہ ہوااورآپ اس کے بعدسوا مہینہ زندہ رہے 15 مارچ 1948کو صبح اسلامیہ کادرخشاں آفتاب سرگودھا کی سرزمیں میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ ان کی وفات پر مولانا ظفرعلی خاں مدیرِزمندار نے لکھا کہ’’ مولانا ثناء اللہ کی وفاتِ حسرت آیات سے دنیاسے حاضر جوابی ختم ہوگئی‘‘۔

امام العصر حافظ ابراہیم سیالکوٹی نے تحریر فرمایا کہ اگررات کو کوئی فرقہ اسلام کے خلاف پیداہوجائے تو مولانا ثناء اللہ صبح اس کا جواب دے سکتے ہیں۔علامہ رشید رضا مصری(صاحب تفسیر المنار) نے لکھا ہے کہ مولانا ثنا ء اللہ برصغیر ہند میں اسلام اورمسلمانوں کے سب سے بڑے وکیل ہیں۔مولانا سید سلیمان ندویؒ نے ان کی وفات پران الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا :

’’ مرحوم اسلام کے بڑے مجاہد سپاہی تھے۔زبان اورقلم سے اسلام پر جس نے بھی حملہ کیا، اس کی مدافعت میں جو سپاہی سب سے آگے بڑھتاوہ وہی(مولانا ثناء اللہ) ہوتے۔ اللہ تعالیٰ ا س غازی اسلام کو شہادت کے درجات ومراتب عطافرمائے۔ آمین ۔‘‘(۸)

مولانا کی زندگی کے آخری ایام بہت دردناک ہیں۔ تقسیم ملک کے فسادات نے امن کی جگہ لے لی تھی۔ مولانا بھی اس کی زد میں آگئے۔ مولانا کے صاحب زادے مولوی عطاء اللہ جو محلے کی حفاظت پر مامور تھے شہید کردیئے گئے۔ اُن کی لائبریری جس میں بے شمار نادر و نایاب کتابیں تھیں نذر آتش کردی گئی۔مولانا آزاد نے اس کتب خانے کی حفاظت کے لیے معقول انتظام کروایاتھا لیکن اسے تباہی سے نہ بچایاجاسکا۔ آپ کو بے سروسامانی کے عالم میں اپنے اہل خانہ کو لے کرپاکستان روانہ ہونا پڑا،ہزاروں روپیہ اورسونے کے زیورات امرتسر میں ہی رہ گئے۔ جس شخصیت کا شمار امرتسر کے رؤسا میں ہوتاتھا وہ بے سروسامان تھا۔ اس کے باوجود وہ اللہ کی رضا پر قانع رہے۔ مولانا امرتسر سے ہجرت کرکے لاہور چلے گئے تھے اورپھر لاہور میں کچھ دن قیام کے بعدگوجرانوالہ میں مولانااسماعیل کے ہاں ٹھہرے اوروہاں سے سرگودھا تشریف لے گئے۔ 13فروری 1948کو مولانا پرفالج کاحملہ ہوااورآپ اس کے بعدسوا مہینہ زندہ رہے۔ 15 مارچ 1948کو صبح اسلامیہ کا درخشاں آفتاب سرگودھا کی سرزمیں میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ ان کی وفات پر مولانا ظفرعلی خاں مدیرِزمیندار نے لکھا کہ’’ مولانا ثناء اللہ کی وفاتِ حسرت آیات سے دنیاسے حاضر جوابی ختم ہوگئی‘‘۔

 

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

 

 

 

حواشی:

(۱)مولانا ثناء اللہ امرتسری حیات ۔خدمات۔آثار صفحہ 36: تالیف محمد رمضان یوسف سلفی اشاعت مئی 2016   دارُالابلاغ جامعہ رحمانیہ سیالکوٹ

(۲)ایضاً26

(۳)تحریر :اوم پرکاش سونی ،کتاب : باتیں اخبارنویسوںکی صفحہ ۹۱۔ترتیب سہیل انجم 2016

(۴) عالمی یوم اردو یادگار مجلہ، 9 نومبر 2015

(۵) سہیل انجم: مولانا ثناء اللہ امرتسری اور مجلہ اہل ِ حدیث،عالمی یوم اردو یادگار مجلہ /9نومبر2015 خصوصی پیش کش  مولان ا ابوالوفا ثناء اللہ امرتسری ؒ حیات و خدمات

(۶)اوم پرکاش سونی ،کتاب : باتیں اخبارنویسوںکی صفحہ ۹۱۔ترتیب سہیل انجم 2016

(۷) اخبار اہل حدیث بحوالہ سہیل انجم

(۸) یاد رفتگاں میں تحریر فرمایا ص 373

 

 

ادبی میراثجامعہ صدیجامعہ ملیہ اسلامیہمولانا ثناء اللہ امرتسریؒ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مولانا محمد علی جوہر: تعلیمی نقطۂ نظر اور جامعہ ملیہ اسلامیہ (آخری تحریر)- ایم نسیم اعظمی
اگلی پوسٹ
گہوارۂ دانش – پروفیسرکوثر مظہری

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں