اپنی بات شاعر مشرق محمد اقبال کے اس شعر سے شروع کرنا چاہتا ہوں ؎
زمانہ ایک، حیات ایک، کائنات بھی ایک
دلیلِ کم نظری قصّۂ قدیم و جدید
کسی بھی ادارے کی خشت اول جس روز رکھی جاتی ہے، وہی اس کے آغاز کا دن نہیں ہوتا بلکہ اس سے پہلے کی پوری تاریخ اور پورا ماضی اپنے تہذیبی، علمی اور سیاسی تناظر کے ساتھ موجود ہوتا ہے۔ ایک پورا ذہنی رویہ اور پوری تمدنی کشمکش موجود ہوتی ہے۔ علامہ اقبال کے مذکورہ بالا شعر پر غور کیجیے تو ”قدیم و جدید“ کی کشمکش اور تمام تر عوامل اپنے مالہٗ وما علیہ کے ساتھ ہمارے سامنے روشن ہوجائیں گے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بانی مولانا محمد علی جوہر اور ان کے رفقا کے ذہنوں میں بھی ایک طرح کی کشمکش تھی۔ اُن کے سامنے ماضی بھی تھا اور حال و مستقبل بھی۔ ملّتِ اسلامیہ کا تعلیمی تنزّل بھی تھا اور مولیٰنا حالی اور شبلی کی نظموں میں پیش کردہ عظمتِ رفتہ کے زرّیں نقوش بھی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (جنوری 1921 میں علی گڑھ کالج، مسلم یونیورسٹی سے موسوم ہوا) اور اس کے بانی سرسید کے نظریات بھی ان کے سامنے تھے۔ اس وقت خلافت اور عدم تعاون تحریک زوروں پر تھی۔ سرکاری گرانٹ اور ملازمت سے قطع تعلق کرنے کرانے کی اس تحریک کو لے کر محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی گاندھی جی کے ساتھ علی گڑھ پہنچے۔ جلسے کا انتظام ہوا۔ تقریریں ہوئیں، لیکن ملا جلا اثر ہوا۔ یہ سوال پیدا ہوا کہ آخر ہم اس درس گاہ کو چھوڑیں تو حصول تعلیم کے لیے کہاں جائیں۔ ڈاکٹر ذاکر حسین اس وقت ایم۔ اے کررہے تھے۔ انھوں نے علی برادران کے چلے جانے کے بعد ان کی حمایت میں تقریر کی۔ اس کے بعد پھر دوسرے ادارے کی بنیاد ڈالنے پر مشورے ہوئے اور آخرکار 29/ اکتوبر 1920 جمعہ کے دن علی گڑھ کالج کی مسجد میں ایک سچے عالم دین اور محب وطن مولانا محمود حسن کے ہاتھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بنیاد ڈالی گئی۔ چوں کہ وہ بیمار تھے اس لیے ان کا خطبۂ تاسیس مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھ کر سنایا۔ جامعہ کے بارے میں اس تحریر اول سے ایک اقتباس دیکھیے:
”مسلمانوں کی تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو اور اغیار کے اثر سے مطلقاً آزاد۔ کیا باعتبار عقائد و خیالات اور کیا باعتبار اخلاق و اعمال، ہم غیروں کے اثرات سے پاک ہوں اور ہماری عظیم الشان قومیت کا اب یہ فیصلہ نہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے کالجوں سے بہت سستے غلام پیدا کرتے رہیں بلکہ ہمارے کالج نمونہ ہونے چاہئیں، بغداد اور قرطبہ کی یونیورسٹیوں کے اور ان عظیم الشان مدارس کے جنھوں نے یورپ کو اپنا شاگرد بنایا اس سے پیشتر کہ ہم اس کو اپنا استاد بناتے۔“ (ماخوذ از جامعہ کی کہانی، ص: 27)
عام طور پر یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ علی گڑھ کالج کے ردِّ عمل میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا قیام عمل میں آیا، یہ سراسر غلط ہے۔ سرسید بھی مغربی علوم کے ساتھ ساتھ مذہبی تربیت اور جزو ایمان کو ضروری سمجھتے تھے۔ انگریزی تعلیم کے حصول میں مذہب بیزاری کو وہ کبھی پسند نہیں کرتے تھے۔ محمد علی جوہر کے نزدیک بھی یہی نظریہ قابل قبول تھا، البتہ وہ انگریزوں کی حکومت سے قطع تعلق کرنے کی تحریک چلا رہے تھے۔ علی گڑھ کالج کے ذمہ داران اس تحریک میں ان کا ساتھ نہ دے سکے جس کے نتیجے میں انھوں نے ایک الگ ادارے (جامعہ ملیہ) کی بنیاد ڈالی۔ یہ امر بھی لائق توجہ ہے کہ محمد علی خود بھی علی گڑھ کالج کے اولڈ بوائے تھے۔
جامعہ ملیہ علی گڑھ سے 1925 میں دہلی منتقل ہوگیا۔ دہلی میں اس علمی و تہذیبی گہوارے کے استقبال میں حکیم اجمل خاں اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسے خادم قوم و ملت فرشِ راہ تھے۔ دونوں زعمائے قوم کے تعاون اور حکمت عملیوں کے نتیجے میں جامعہ ترقی کی منزلیں طے کرتی گئیں۔ اس زمانے میں ذاکر صاحب پیرس میں تھے۔ وہیں انھوں نے سید عابد حسین اور محمد مجیب صاحب کے ساتھ حکیم اجمل خاں سے ملاقات کی جو ان دنوں یورپ کے دورے پر تھے۔ دوران ملاقات جامعہ اور قومی و ملی خدمات کی باتیں ہوئیں۔ آخرکار فراغت کے بعد تینوں حضرات جامعہ تشریف لائے۔ سپاس نامے دئیے گئے۔ اس وقت ڈاکٹر ذاکر حسین شیخ الجامعہ بنائے گئے۔ سید عابد حسین مسجّل کے عہدے پر فائز ہوئے۔ ساتھ ہی رسالہ ’جامعہ‘ کی ادارت بھی ان کے سپرد ہوئی۔ اس میں اُن کے شریک کار مولانا اسلم جیراجپوری بھی تھے۔ پروفیسر مجیب کو تاریخ کا استاد مقرر کیا گیا۔ (یہ بھی پڑھیں نوآبادیاتی تعلیمی وفکری حصار، آزاد دانش کی مزاحمت اور جامعہ ملیہ اسلامیہ- تفسیر حسین )
مادیت اور شئیت کی دھند سے پرے اخلاص عمل کے ساتھ یہ علمی و تہذیبی کارواں اپنی منزل کی تلاش میں رواں دواں رہا۔ بے سروسامانی میں بھی عزم و استقلال سے علوم و فنون کی قندیلیں روشن رہیں۔ کبھی کبھی عُسرت اور تنگ دامانی سے ڈاکٹر ذاکر حسین اور ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسی شخصیات بھی حددرجہ پریشان ہوجاتی تھیں۔ جامعہ کی زندگی میں ایسے کئی موڑ آئے کہ اس کے بند کیے جانے کی باتیں کی جانے لگیں۔ کئی خطوط اس نوع کے موجود ہیں جن سے جامعہ کی کسمپرسی کا اندازہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود قوم و ملت کے روشن ضمیروں نے اس شکستہ کشتی کو گردابِ حوادث سے نکال کر کنار ساحل لاکھڑا کیا۔ ایسے ہی افراد کے لیے علامہ اقبال نے کہا ہے ؎
نگہ بلند، سخن دلنواز، جاں پُرسوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
اس ادارے کے ساتھ گاندھی جی، مولانا آزاد، علامہ اقبال، موتی لال نہرو اور جواہر لال نہرو جیسی عظیم ہستیوں کی ہمدردیاں شامل تھیں۔ ”گاندھی جی کے پوتے رسک لال یہیں تعلیم حاصل کررہے تھے۔ ان کی موت ہوجانے پر جب گاندھی جی تشریف لائے تو فرمایا کہ میرا غم دور کرنے کے لیے یہ بچے بہت ہیں۔ جامعہ کے بارے میں ان کا موقف بہت صاف تھا۔ وہ اکثر کہا کرتے تھے:
”جامعہ کو مسلمانوں کی زندگی کا صحیح نمونہ ہونا چاہیے۔ اگر غیرمسلم کو اسلام کے بارے میں صحیح معلومات حاصل کرنی ہوں تو وہ سب جامعہ میں ملنی چاہئیں۔“
(ماخوذ از جامعہ کی کہانی، ص: 118)
اب میں 17/ نومبر1942 کے ایک اہم جوبلی جلسے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جس کی صدارت نواب صاحب بھوپال نے فرمائی تھی۔ اس کی حیثیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس جلسے میں معزز مہمانوں کی صف میں جہاں ایک طرف مسٹر جناج، مس فاطمہ جناح اور لیاقت علی خاں تھے وہیں دوسری طرف عبدالمجید خواجہ (چانسلر)، مولانا آزاد، پنڈت جواہر لال نہرو، آصف علی اور راج گوپال آچاریہ جلوہ افروز تھے۔ اس وقت تلاوت قرآن پاک کے بعد سفید ٹوپی اور سفید شیروانی میں ملبوس بچوں نے ”جاگو اور جگاؤ“ کا ترانہ پیش کیا۔ شیخ الجامعہ ڈاکٹر ذاکر حسین نے روئیداد پیش کی۔ مختلف یونیورسٹیوں اور مختلف صوبوں اور بیرون ملک سے آئے ہوئے پیغامات پڑھے گئے۔ مسٹر جناح نے بھی تقریر کی اور مبارکباد پیش کی۔ یہ عجیب موقع تھا کہ کانگریس اور مسلم لیگ کے بڑے رہنما جامعہ کے اس اسٹیج پر جمع تھے۔ راج گوپال آچاریہ کی تقریر کا یہ جملہ ان کی دور اندیشی اور فکری بلوغت پر دال ہے:
”وہ دن دور نہیں جب جامعہ ایک بہت بڑی یونیورسٹی ہوگی جو دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے مشعل راہ کا کام دے گی۔“ (بحوالہ: جامعہ کی کہانی، عبدالغفار مدہولوی، ص:465)
راج گوپال آچاریہ کی پیش گوئی اب صحیح ثابت ہوتی نظر آرہی ہے۔ آج کی جامعہ (Jamia Today) دیکھ کر دل کو یک گونہ طمانیت ہوتی ہے کہ ہمارے اکابر اور قوم کے معماروں نے جو ایک چھوٹا سا پودا لگا کر اسے اپنی جانفشانی سے بلکہ خون پسینے سے سینچا تھا، اب وہ ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ اگر یہ بہت بڑی یونیورسٹی نہیں تو ایک یونیورسٹی تو بن ہی چکی ہے۔ اس کی روزافزوں ترقی دیکھ کر اس کے ایک بڑی یونیورسٹی اور دوسرے تعلیمی اداروں کے لیے مشعل راہ بن جانے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ البتہ کشادہ ذہنی کے ساتھ ساتھ احساس ذمہ داری ضروری ہے۔ جامعہ ترانے سے یہ دو مصرعے دیکیے ؎
یہاں پہ شمع ہدایت ہے صرف اپنا ضمیر
یہاں پہ قبلہ ایمان کعبہئ دل ہے
کشادہ ذہنی کے سیلاب میں کہیں ہم اپنی اصل جڑ سے نہ کٹ جائیں۔ اس لیے ماضی اور اس کی کچھ بظاہر فرسودہ روایات سے بھی انسلاک ضروری ہے۔ زمانے کے شرور و فتن سے نئے ذہنوں کے تحفظ کی ذمہ داری بھی جامعہ کے اراکین پر عائد ہوتی ہے۔ تاریخ اسلام، تاریخ جامعہ اور اقبال کا یہ شعر پیش نظر ہو تو انحراف کے خطرات ٹل جائیں گے ؎
جوہر میں ہو لا اِلٰہ تو کیا خوف
تعلیم ہو گو فرنگیانہ
ساتھ ہی نئے علوم و فنون سے مزین اساتذہ اور نئی تہذیب اور تعلیم کے دلدادہ طلبا بھی ان شعروں کے مفاہیم پر نظر رکھیں تو جامعہ کی آہنی شفّافیت کبھی زنگ آلود نہیں ہوگی ؎
قوت مغرب نہ از چنگ و رباب
نے ز رقص دُخترانِ بے حجاب
نے ز سحرِ ساحرانِ لالہ راست
نے ز عریاں ساق و نے از قطع موست
قوت افرنگ از علم و فن است
از ہمیں آتش چراغش روشن است
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی گونج اب دور تک سنائی دینے لگی ہے۔ سنٹرل یونیورسٹی کا درجہ مل جانے کے بعد اس میں کئی طرح کی خوش آئند تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ ادھر کچھ برسوں میں جامعہ میں مستقل تعمیری کام ہوئے ہیں۔ کئی نئے ہاسٹل اور رہائشی مکانات بنے ہیں۔ ذاکر حسین لائبریری کی جدید کاری ہوئی ہے۔ ادھر کئی خوبصورت گیٹ اور فوّاوں کا اضافہ ہوا جن سے جامعہ کا حسن نکھر آیا ہے۔ مشہور مفکر اور دانشور ایڈورڈ سعید کے نام پر تو ہال تھا ہی، کچھ دنوں پہلے یاسر عرفات ہال اور نلسن منڈیلا ہاؤس کا اضافہ ہوا ہے۔ ڈنٹل سائنس کے مرکز، پروفیشنل ڈولوپمنٹ آف اردو ٹیچرز کے مرکز اور انڈیا عرب کلچرل سنٹر کے آغاز سے جامعہ کے علمی و تہذیبی تناظر کا کینوس وسیع تر ہوا ہے۔ اسی طرح کئی نئی زبانوں کے کورسز شروع کیے گئے ہیں جیسے Kyrgyz, Turkmenian, Kazhiki, Portuguese, Italian اور Spanish وغیرہ۔ اسی طرح میڈیا اور آئی ٹی کے حوالے سے Broadcast Technology, Still Photography, Graphics & Animation جیسے کورسز کا آغاز ہوا ہے۔ جامعہ ریڈیو بھی اپنی کارکردگی بخوبی نبھا رہا ہے۔ نئی جامعہ میں ماس کمیونی کیشن سنٹر نئی نسل کے لیے حددرجہ دل کشی کا باعث ہے۔
یہی جامعہ ہے جس کی آغوش میں ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر مجیب، سید عابد حسین، ڈاکٹر مختار احمد انصاری جیسی شخصیات آسودہئ خاک ہیں۔ یہی وہ ادارہ ہے جہاں بیٹھ کر اردو فکشن کے سب سے بڑے فنکار پریم چند نے اپنی بڑی کہانی ”کفن“ لکھی اور وہ رسالہ ’جامعہ‘ میں شائع ہوئی۔ جامعہ والوں نے پریم چند کے نام پر ”پریم چند آرکائیوز اور لٹریری سنٹر“ بھی قائم کردیا ہے تاکہ اس رشتے کو آئندہ کی نسلیں بھی یاد رکھ سکیں۔ یہی وہ ادارہ ہے جس سے اردو فکشن کی لیجنڈ عینی آپا کو خاص اُنس تھا اور مرنے کے بعد ان کی تدفین یہیں عمل میں آئی۔ آج کے شیخ الجامعہ اور مشہور مورّخ پروفیسر مشیرالحسن نے ان کی یاد میں ایک میوزیم اور لائبریری قائم کیا ہے۔ ساتھ ہی ان کے نام سے ایک قرۃ العین حیدر گیٹ کا افتتاح بھی ہوچکا ہے۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ سے اردو زبان و ادب کے بڑے بڑے ادیب، شاعر اور دانشور کا رشتہ استوار رہا ہے۔ خود ڈاکٹر ذاکر حسین، پروفیسر مجیب، سید عابد حسین، مولانا اسلم جے راجپوری، سید وقار عظیم، شمس الرحمن محسنی، سعید انصاری، سید نذیر نیازی (جنھوں نے اقبال کی انگریزی کتاب کا ترجمہ تشکیل جدیدالٰہیات اسلامیہ کے نام سے کیا) نے جو تصنیف و تالیف اور ترجمے کی روایت قائم کی تھی اُسے آئندہ نسلوں نے بھی فروغ بخشا۔ پروفیسر مسعود حسین، پروفیسر گوپی چند نارنگ، پروفیسر محمد ذاکر (جنھوں نے جامعہ ترانہ کا انگریزی میں خوبصورت ترجمہ کیا تھا، جو اب رائج نہیں) عبداللطیف اعظمی، ڈاکٹر تنویر احمد علوی، پروفیسر مشیرالحق، پروفیسر عنوان چشتی، منظر اعظمی، حنیف کیفی، پروفیسر شمیم حنفی، صغریٰ مہدی وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔ علاوہ ازیں شعبۂ دینیات، شعبۂ عربی، شعبۂ فارسی، شعبۂ تاریخ سے بہت سے جید دانشور وابستہ رہے ہیں۔ جامعہ میں بچوں کی ذہنی تربیت کرنے والے شاعر و ادیب بھی رہے ہیں۔ شفیع الدین نیّر، عبدالواحد سندھی اور عبدالغفار مدھولوی کے نام سے ہم سب واقف ہیں۔ تصنیف و تالیف اور ترجمہ نگاری کی روایت آج بھی جامعہ میں قائم ہے۔
رسالہ جامعہ، اسلام اور عصر جدید اور انگریزی رسالہ Islam & Modern Age جیسے معیاری اور خوبصورت جرنل جامعہ کی علمی و تہذیبی میراث میں اضافہ کررہے ہیں۔ آج کل یہ رسالے مشہور دانشور اور عالم پروفیسر اخترالواسع کی نگرانی میں نکل رہے ہیں۔ معاون مدیر کے طور پر مشہور شاعر جناب فرحت احساس اور ڈاکٹر تجمل حسین اس ادارے میں کام کررہے ہیں۔
———
یوم تاتیس کے موقعے پر ہمیشہ جامعہ جشن مناتی آئی ہے۔ سالِ گزشتہ سے پرانی روایت کے مطابق تعلیمی میلے کا بھی اہتمام کیا جارہا ہے۔ اس بار 29/ اکتوبر یعنی یومِ تاسیس کے موقعے پر تعلیمی میلے کا اہتمام کیا گیا جس میں جامعہ بک فیئر سے بھی اساتذہ اور طالب علموں نے اکتسابِ فیض کیا۔ اس موقعے پر 29/ اکتوبر سے لے کر 2/نومبر تک طرح طرح کے رنگارنگ کلچرل پروگرام، ڈرامے، فلم فیسٹول، بیت بازی، ڈیبیٹ اور بڑے بڑے دانشوروں کی تقریریں ہوتی رہیں۔ اس تعلیمی میلے میں صحت و صفائی کی مناسبت سے بھی اسٹال لگائے گئے تھے۔ بچوں نے کھانے پینے سے لے کر مختلف النوع پروگرام سے خوب خوب لطف اٹھائے۔ میلہ چوں کہ جامعہ کے علاوہ باہری لوگوں کے لیے بھی عام تھا اس لیے صبح دس بجے سے لے کر رات کے 9 بجے تک لوگوں کا تانتا بندھا رہا۔ ایسے پروگرام سے جامعہ کی زندگی میں مزید فعالیت اور رونق کااضافہ ہوا۔ ساتھ ہی اہلیانِ جامعہ اور بیرون جامعہ والوں کے درمیان ربط باہمی کی صورت بھی پیدا ہوئی۔
30/ اکتوبر کو Annual Convocation کا اہتمام کیا گیا تھا جس میں فارغین جامعہ کے علاوہ چار بڑے فنکاروں کو اپنے اپنے میدان میں قابلِ رشک کارکردگی اور سنگ میل قائم کرنے کے لیے ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں عطا کی گئیں۔ ان کے نام ہیں محترمہ قرۃ العین حیدر، (بعد از مرگ)، شیام بینگل (فلم ساز)، استاد امجد علی خاں (معروف موسیقار)، ایم ایف حسین (مشہور پینٹر)۔ اس سے پہلے یاسر عرفات اور ایڈورڈ سعید جیسی عظیم ہستیوں کو جامعہ اعزازی ڈگریوں سے سرفراز کرچکی ہیں۔
شیخ الجامعہ نے اپنی سالانہ رپورٹ میں ‘Jamia Today’ کے Logo کے ساتھ جامعہ کی طرف سے اس کے مقصد اور اس کی نئی بصیرت کو یوں پیش کیا:
"Our real wealth, we believe, lies in our diversity, as we contribute to the making of a secular India.” (Vice Chancellor’s Report, P-7)
بیشک ہم سب جامعہ والے ایک بہتر سیکولر انڈیا کی تمنا رکھتے ہیں، لیکن ہمیں ڈاکٹر ذاکر حسین کے اس تجزیے کو بھی سامنے رکھنا ہوگا جس میں انھوں نے ”ملیہ“ اور ”اسلامیہ“ دونوں کی خوبصورت تعبیریں پیش کی تھیں۔ شاید اس سے بہتر اور متوازن تجزیہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا ممکن بھی نہیں۔ انھوں نے ایک موقعے پر فرمایا تھا:
”…..جامعہ جہاں ”اسلامیہ“ ہے دوسری طرف ”ملیہ“ بھی ہے۔ وہ اپنے اندر ایک طرف اسلامی روایات اور تعلیم کو زندہ کرے گی اور اُسی کے ساتھ دوسری طرف متحدہ قومیت کی تعمیر اور اپنے وطن کی آزادی میں مساعی رہے گی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کا مقصد اس سے زیادہ واضح اور روشن اور کچھ نہیں ہوسکتا۔“
(ماخوذ از جامعہ کی کہانی، ص: 126)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

