شعبۂ اردو سی سی ایس یومیں’’قمر جمالی بحیثیت فکشن نگار ‘‘موضوع پر آن لائن پرو گرام کا انعقاد
میرٹھ03؍دسمبر2021ء
جب ایک عورت ادیب ہوتی ہے تو اس کے لکھنے کا انداز الگ ہو تا ہے اور مرد ادیب کا انداز الگ ہوتا ہے۔ محترمہ قمر جمالی نے فکشن میں مختلف اصناف پر زبردست طبع آزمائی کی ہے۔یہ الفاظ تھے معروف صحا فی محترم اسلم فرشو ری کے جو شعبۂ اردو، چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی اور بین الاقوامی نوجوان اردو اسکالرز انجمن(آیوسا) کے زیر اہتمام منعقد ’’قمر جمالی بحیثیت فکشن نگار‘‘ موضوع پر اپنی صدارتی تقریر میں آن لائن ادا کررہے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قمر جما لی کے افسا نوں میں عام خواتین کے مسائل کو فن کارانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کرداروں کے ذریعہ عام انسانوں کے مسائل کو پیش کرنے میںوہ بھرپور کامیاب ہے۔ ان کے پلاٹ اور موضوع اپنے اندر تہہ دار معنویت رکھتے ہیں۔ عمدہ بیانیہ اور اچھے اسلوب نے ان کے فکشن کو مقبولیت عطا کردی ہے۔ زبان میں سادگی دل کو لبھاتی ہے۔ زبان اور بیان میں کہیں کمی کا احساس نہیں ہوتا۔میں تمام نئے لکھنے والوں کو تمام افسا نہ نگاروں کو مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
اس سے قبل پرو گرام کا آغازمحمد عمران نے تلاوت کلام پاک سے کیا۔اس ادب نما پروگرام کی سر پرستی معروف ادیب عارف نقوی ، جرمنی اور صدر شعبۂ اردو،چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی،میرٹھ پروفیسر اسلم جمشید پوری نے فرمائی ۔مہمان خصوصی کے بطورمحترمہ قمر جمالی نے آن لائن شرکت کی۔استقبالیہ کلمات ڈاکٹر ارشاد سیانوی ،نظامت کے فرائض ڈاکٹر شاداب علیم اور شکریے کی رسم سیدہ مریم الٰہی نے ادا کی۔
محترمہ قمر جمالی کا تعارف کراتے ہو ئے شعبہ اردو کے استاد ڈا کٹر آصف علی نے کہا کہ جو حضرات پر سمیٹے بغیر اپنی پرواز جاری رکھتے ہیں وہ نہ صرف صیاد کے پنجۂ استبداد سے بچتے بلکہ کوئی نئی تاریخ رقم کرتے ہیں ۔محترمہ قمر جمالی صا حبہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں۔کیونکہ انہوں نے بھی تندیِ باد ِ مخالف کی پرواہ کیے بغیر یعنی تحصیل داری جیسے غیر ادبی عہدے جہاں دن رات اوبڑ کھابڑ زمینوں کی پیمائش اور کاشتکاروں کے نت نئے مسائل سے واسطہ رہتا ہے کی ذمہ داریوں کے با وجود اردو فکشن اور تنقید کے میدان میں قابل قدر کار نامے انجام دیے ہیں۔آپ بنیادی طور پر افسا نہ نگار ہیں اور آپ کی پہلی کہانی بیسویں صدی میں شائع ہو ئی۔ آپ نے فکشن میں تقریباً سبھی اصناف میں کامیاب طبع آزمائی کی ہے مثلاً ناول، افسا نہ، ڈرا مہ، ریڈیائی ڈرامے، سفر نامے، انشایئے، رپور تاژ، تبصرے، ریڈیو فیچرز، تجزیے، دیبا چے، تحقیقی و تنقیدی مضا مین ،تراجم،وغیرہ ۔آپ کی فکشن نگاری پر ہندوستان کی مختلف یو نیورسٹیز میں تحقیقی کام ہوا ہے اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ آپ کی خدمات کو سراہتے ہو ئے ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سمیت درجنوں ایوارڈ ہندوستان کی صوبائی اکادمیوں نے آپ کو فکشن پر دیے ہیں۔
اس موقع پر معروف مصنفہ،شاعرہ اور سماجی کار کن محترمہ رفیعہ نو شین(حیدر آ باد) اور ڈاکٹر نہال افروز نے اپنے پر مغز مقالات پیش کیے جن کا لب لباب یہ تھاکہ قمر جمالی نے جو فکشن لکھا ہے اس میں عصر حاضر کی ہماری تمہاری داستانیں ہیں۔ سماج کے ایک ایک گھر کی باتیں ہیں۔ گھر میں پیداہونے والے مسائل ان کے افسانوںمیں پھیلے ہوئے ہیں۔ لڑکے لڑکیوں کے پے چیدہ مسائل اور عجیب و غریب واقعات افسانوں اور ناول میں جابجا نظر آتے ہیں۔ ان کے فکشن میں زندگی ہے۔ حرکات و سکنات ہیں۔ گھریلو مسائل ہیں۔ خاندانی دشواریاں پریشانیاں ہیں۔ رشتوں کی پامالیاں ہیں۔ ان کی کہا نیوںمیں روایتی انداز میں مسائل تو ہیں مگر ان کو نئے طریقۂ کار کے ساتھ پیش کرنے کی کامیاب کوشش بھی ہے اور یہ ہی نہیںفکشن نگار نے سماج و معاشرہ میں ملنے والی بے قراری، بدحالی اور بے چینی اور انسانی انتشار کو بھی منفرد انداز میں اس طور پیش کیا ہے کہ قارئین کے دلوں میں تخلیق کار اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہیں۔
اس موقع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قمر جما لی نے کہا کہ فکشن سے بڑی کوئی چیز نہیں اور نثر لکھنا تو بہت دقت طلب ہے،حالانکہ میں نے ناول بھی لکھا ہے لیکن مجھے ناول کے مقا بل افسا نہ زیادہ مشکل صنف دکھائی دیتی ہے چو نکہ ناول کا کینوس بڑا ہوتا ہے، اس میں کا فی گنجائش ہوتی ہے جب کہ افسا نے میں ایجاز و اختصار، مطلب کو پہنچنا ،ایک طرح سے سمندر کو کوزہ میں سمونے کے مصداق ہے اور یہی مجھے پسند بھی ہے۔
پرو گرام میں سیدہ مریم الٰہی، عظمیٰ پروین، علینا وغیرہ نے محترمہ قمر جمالی سے سوالات کیے۔جس کے انہوں نے تسلی بخش جواب بچوں کو دیے۔
پرو فیسر اسلم جمشید پوری نے کہا کہ ڈا کٹر شاداب علیم اور محترمہ قمر جمالی کی ادبی گفتگو نے پرو گرام کو بہت مفید اور کامیاب بنا دیا ہے۔ میں صدق دل سے تمام مہمانان کا شکریہ ادا کرتا ہوں
اس مو قع پرڈاکٹر عابد حسین حیدری ،احمد حسنین،وارث وارثی،سعید احمد سہارنپوری،محمد شمشاد،عبد الواحد وغیرہ آن لائن جڑے رہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

