کلکتے کا ادبی ماحول:بیسویں صدی میں/ ڈاکٹر معصوم شرقی- ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
کلکتہ جو ایک زمانے سے علم وادب کا مرکز رہا ہے۔فورٹ ولیم کالج سے لے کر اب تک اردو زبان و ادب کی نشو نما میںاہم رول ادا کرتا رہا ہے۔وہاں کے شعرا و ادبا نے اپنی تخلیقی،تنقیدی اورتحقیقی کاوشوں کے ذریعہ میدان شعر وادب میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ڈاکٹر معصوم شرقی کا تعلق اسی سر زمین سے ہے جنھوں نے اپنی تازہ ترین کتاب’ ’کلکتے کا ادبی ماحول بیسویں صدی میں‘‘اکمل علی اکمل سے لے کر ظہیر انور تک تمام شعرا و ادبا کو سمیٹنے کی بھر پور سعی کی ہے۔یہ کتاب ’سلیم رضوی’الکتاب‘ کلکتہ کے زیر اہتمام 2106میں منظر عام پر آئی۔ 208صفحات پر مشتمل کتاب کی نوعیت ایک تذکرہ کی سی ہے۔کیونکہ اس میں زیادہ تر شعرا کی زندگی کا اجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے ان کی شخصیت کے نمایا پہلوؤں کی نشاندہی کی گئی ہے اور ساتھ میں ان کے کچھ منتخب کلام دیئے گئے ہیں جن سے ان کے شعری امتیازات کا پتہ چلتا ہے۔معصوم شرقی کی یہ کتاب بیسویں صدی میں کلکتے کے ادبی ماحول وہاں کی صورتحال اور اردو زبان وادب کی خدمت انجام دینے والے شعرا کی ایک طویل فہرست کی روشنی میں وہاں کے اکابرین ادب کی زندگی کے اوراق پارینہ کو قارئین کے سامنے مستند انداز میںپیش کیا ہے۔ جس سے مصنف کی علمی و ادبی ذوق اور تحقیقی و تنقیدی طرز فکر کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔یہ کتاب مصنف کے بقول علمی ،ادبی،تحقیقی ،تاریخی اور سماجی رجحانات کا آئینہ دار ہے۔یہ کتاب صرف کلکتے کے شعرا و ادبا تک ہی محدود ہے۔اس کتاب کے حوالے سے عبد المنان طرزی نے بالکل درست لکھا ہے کہ’ ان کے ذہن کا اختراعی جلوہ کلکتہ کے ادبی ماحول بالخصوص بیسویں صدی پر مرکوز ہے جس نے بنگال کی روایت کی پاسداری میںوہ نکتے ابھارنے میںسر مو تجائوز نہیں کیا ہے جو اس حقیقت کا غماز ہے کہ اس شہر نگاراں نے شعر و ادب کے ایسے گل بوٹے سجائے ہیںجن کی تاریخی حیثیت مسلم ہے۔غالب کی جہان دیدگی کے اعتراف سے لے کروحشت و پرویز کے متاع فکر تک،داغ کے کلکتہ آمد سے لے کر مظفر حنفی کی سکونت پذیری تک،کلاسیکی روایت کے فروغ سے لے کر جدیدیت کی وقتی گرم بازاری تک ،اس شہر نے سخن پروری کاوہ روشن ثبوت دیا ہے جو فورٹ ولیم کالج سے لے کرجدید عصری کیفیت کی پروازی فروغ رسانی کو ابھارتی ہے۔اسی درمیان معصوم شرقی اپنی متاع ہنر لیے کھڑے نظر آتے ہیں۔اس جہد وفا طلبی نے بنگال کی سطح پر ان کے مقام کی راہیں ہموار کی ہیں‘یہ وہی کلکتہ ہے جہاں سے اردو میں سادہ ، سلیس اور با محاورہ نثر نگاری کی بنیاد پڑی اور ایک تحریک کی شکل میںتا دیر قائم رہی،جس کا اثر بعد کی نسل پر ہوا۔اس کتاب میں’کون اور کہاں؟‘ کے تحت جن شاعروں کی سوانحی کوائف اور منتخب اشعار کی روشنی میں ان کی خدمات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ان میں اکمل علی اکمل،ناطق لکھنوی، علامہ رضا علی وحشت، ناوک لکھنوی، آرزو لکھنوی، مست کلکتوی، غواص قریشی، آرزو سہارنپوری،اشک امرتسری،جرم محمد آبادی،جمیل مظہری، عباس علی خان بیخود، پرویز شاہدی، عبد المنان صبر، نواب دہلوی، سالک لکھنوی، شاکر کلکتوی، ابراہیم ہوش، مضطر حیدری، احسان دربھنگوی، سید لطف الرحمن، احمد سعید ملیح آبادی، ڈاکٹر عبد الرئوف، حرمت الاکرام، ناظر الحسینی، نشاط الایمان، ناظم سلطان پوری، ڈاکٹر جاوید نہال، علقمہ شبلی، شانتی رنجن بھٹا چاریہ، مظہر امام، ابو محفوظ الکریم مصومی، حشم الرمضان، نورالہدیٰ، وکیل اختر، قیصر شمیم، اسد الزماں اسد، اعزاز افضل، ڈاکٹر ظفر اوگانوی، نصر غزالی، غلام حسین ایاز، شہود عالم آفاقی، عین رشید، اقبال کرشن، فیروز عابد، یوسف تقی، انجم عظیم آبادی، انیس رفیع، ایم اے قاسم علیگ، کمال احمد، فاروق شفیق،حلیم صابر، ڈاکٹر شمیم انور، ف۔س اعجاز،ڈاکٹر معصوم شرقی، ڈاکٹر عبد المنان،پروفیسر سلیمان خورشید،منور رانا، صدیق عالم اور ظہیر انور وغیرہ قابل ذکر ہیںجن کا تعارفی خاکہ پیش کیا گیا ہے۔یہ کتاب کلکتہ کے ادبی منظر نامے کو سمجھنے میں بہت زیادہ معاون ثابت ہوگی۔امید ہے کہ علمی و ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ہوگی۔

