Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
افسانہ کی تفہیم

دلت ڈسکورس اور احمد صغیر کی کہانیاں- ڈاکٹر محمد غالب نشتر

by adbimiras اکتوبر 5, 2020
by adbimiras اکتوبر 5, 2020 0 comment

جدیدیت کے زیر اثر لکھے گئے افسانوں کے بعد ایک دور ایسا بھی آیا کہانی کے جوہر کی واپسی ہوئی اورصنفِ افسانہ کو قارئین کا ایک حلقہ بھی میسر ہوا ۔یہاں مراد اَسّی کے بعد کے اُن افسانہ نگاروں سے ہے جنہوں نے ایک طرف توجدیدیت کی داخلیت اور ترقی پسندی کی خارجیت،دونوں کو یکساں طور پر برتا تو دوسری طرف پلاٹ وغیرہ کا خاص اہتمام کیا اور علامت نگاری سے انحراف کرتے ہوئے کہانی کے جوہر کی معنویت کو برقرار رکھا،انہی افسانہ نگاروں کی فہرست میں احمد صغیر کا نام بھی اہمیت کاحامل ہے۔تاہنوز اُن کے چار افسانوی مجموعے زیور طبع سے آراستہ ہوکر مقبول خاص وعام ہوچکے ہیں۔چاروں مجموعوں کو مد نظر رکھا جائے تو ایک بات شدت سے محسوس ہوتی ہے کہ اُنھوں نے دلت ڈسکورس کو بنیاد بنا کر کئی اہم افسانے لکھے ہیں جواُن کی فنی صلاحیتوں کی یاد دلاتی ہیں۔غور طلب بات یہ ہے کہ انہی افسانوں کو احمد صغیر نے نئے مجموعے کا جامہ پہنا کر ’’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘‘کا نام دیا ہے۔چودہ کہانیوں کا یہ خوبصورت انتخاب اس لیے بھی اہم ہے کہ دلت ڈسکورس کے حوالے سے نئے باب کا آغاز ہوسکتا ہے۔اردو میں یوں بھی دلت ڈسکورس کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی ہے البتہ نئی صدی میں اس حوالے سے کئی اہم افسانے تخلیق کیے گئے ہیں۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دلت ادب پر چند باتیں ہوجائیں تو احمد صغیر کی کہانیوں کو سمجھنے میں کسی طرح کی دقت محسوس نہیں ہوگی۔

ہندوستان کی قدیم رویات پر نظر ڈالتے ہیں تو ہندو سماج میں کئی خانے نظر آتے ہیں جو لوگوں کی زندگی کے رہن سہن اور طور طریقوں کو مد نظر رکھ کر ترتیب دیے گئے ہیں۔ازمنۂ قدیم سے ہی یہ ملک دو متضاد تاثرات کا حامل رہا ہے۔پہلی صف میں ایسے لوگوں کو شامل کرسکتے ہیں جن کے خون میں حکومت کرنے،دوسروں کو زیر کرنے اور اپنی صلاحیت منوانے کی صلاحیت ہوتی ہے اور دوسری صف میں ان کے مد مقابل ایسے لوگوں کو رکھا جاسکتا ہے جن کی سماج میں کوئی حیثیت نہیں۔ان کی ذاتی زندگی کا مشاہدہ کرکے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ غلامی کرنے،حقارت سے دیکھے جانے اور روندے جانے کے لیے ہی پیدا ہوئے ہوں۔ایسے ہی لوگوں کے لیے ہری جن،دلت،ناف کے نیچے والے،شودر،چنڈال،اچھوت،ملیچھ اور اسُر جیسے القاب سے مروجہ زندگی میں مستعمل ہیں۔ ان دنوں ’دلت‘کا لقب زیادہ مستعمل ہے۔لفظ’دلت‘کے اصطلاحی معنی پر بحث کی جائے تو بہ قول ’کنور بھارتی‘یہ کہاجاسکتا ہے کہ ’’دلت وہ ہے جس پر چھوا چھوت کا قانون لاگو کیا گیا ہے،جسے مشکل اور گندے کام کرنے کے لیے مجبور کیا گیا ہے،جسے تعلیم حاصل کرنے اور آزادانہ طور پر تجارت اور روزگار کرنے سے منع کیا گیا ۔‘‘

اس لحاظ سے دیکھا جائے تو قاری محسوس کرتا ہے کہ احمد صغیر نے اس حوالے سے کئی اہم افسانے رقم کیے ہیں۔ وہ بنیادی طور پر احتجاجی افسانہ نگار ہے۔ان کے افسانوں میں احتجاج کے رویے بکھرے پڑے ہیں اور ان میں اصلاحی عنصر بھی شامل ہوتا ہے تاکہ معاشرے کی زبوں حالی کا ذکر بہ خوبی ہو سکے۔ایک انسانی معاشرہ جو بہ ظاہر تو انسانی ہے لیکن اس میں حیوانیت کا کون سا ایسا عنصر ہے جو شامل نہ ہو۔انہی احساسات کو احمد صغیر نے اپنے افسانوں میں برتنے کی حتیٰ الوسع سعی کی ہے۔ان کے افسانوں کی دنیا کسی ایک نہج پر مرکوز نہیں ہوتی بلکہ وہ دنیا جہان کے مسائل کو اپنے افسانوی کینوس کا موضوع بناتے ہیں۔دلت موضوع کو انھوں نے جس چابک دستی کے ساتھ اپنے افسانوں میں برتا ہے وہ قابل ستائش ہے۔’’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘‘احمد صغیر کے نمائندہ دلت افسانوں کا انتخاب ہے۔ اس ضمن میں ان کی کہانی ’’آگ ابھی باقی ہے‘‘عمدہ کہانیوں میں سے ایک ہے ۔جس میں ایک دلت لڑکی جو مسہر کے پیشے سے منسلک ہے، کی دلی کیفیات وجذبات کو بیان کرتی ہے۔ اسی کے گائوں کے ڈاکٹر نے اُسے دس ہزار کی قلیل قیمت میں اسے خرید لیاہے۔ وہ دہلی میں ڈاکٹری کے پیشے سے منسلک ہے۔ جب کہ کنتی کا باپ مزدوری کرتاہے ،ماں جھاڑو پوچھا کرتی ہے اور بہن بانس سے ٹوکریاں بناتی ہے۔ کنتی دلی میں ڈاکٹر کے گھر میں خود کو تنہا محسوس کرتی ہے ،ساتھ ہی دونوں میاں بیوی اُس کی پٹائی بھی کرتے ہیں ۔دن بھر کے کام کرنے کے باوجود کنتی کی مار پیٹ سے تواضع بھی ہوتی ہے ۔اسی لیے وہ سوچتی ہے کہ آخر اُس کا گناہ کیا ہے ؟ یہی کہ وہ مسہر گھر میں پیدا ہوئی،بچپن سے مفلسی اس کی تقدیر بنی اور اب بے بسی مقدر بنی ہوئی ہے؟ایک دن ایسا ہی ہوتا ہے کہ مسز شرما اُسے ڈانٹتے ہوئے اپنے پاس بلاتی ہے لیکن کنتی کے اندر کہاں سے جرأت پیدا ہوجاتی ہے اور مسز شرما کے پاس پہنچ کر ایک زور دار طمانچہ اس کے گال پر رسید کرتی ہے اور دروازہ کھول کر گھر سے باہر نکل جاتی ہے۔

یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ احمد صغیر کی کہانیوں میں دلت عورتوں کے مظالم کو زیادہ بیان کیا گیا ہے۔یہ کہانی اور اس طرح کی دوسری کہانیوں میں یہ رجحان واضح ہے۔اس کہانی کی ’کنتی‘احتجاج کے طور پر مالکن کو طمانچہ مارتی ہے اور گھر سے باہر چلی جاتی ہے۔اس کے پاس طمانچے مارنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں۔اسی طرح ایک کہانی ’’میں دامنی نہیں ہوں‘‘ایک عورت کی المیاتی کہانی ہے۔یہ کہانی بڑے شہر کے کسی خاص حادثے کے بعد کی ذہنی صورتحال کو بیان کرتی ہے۔’ریپ‘ بڑے شہروں کا مقدر بن چکا ہے۔ یہ ایسی سنگین صورت حال ہے جس کاتدارک نہایت ضروری ہے۔ افسانہ نگارچوں کہ زمانے کانباض ہوتاہے لہٰذا وہ صورتحال کی عکاسی ہی کرسکتا ہے اور اشاروں کنایوں میں تدارک کے اقدامات کی وضاحت بھی کرتا جاتا ہے۔ احمد صغیر نے جس واقعے کی جانب اشارہ کیاہے ، وہ ہر قاری کے ذہن میں گردش کرنے لگتا ہے لیکن انھوں نے اُسی واقعے کے بعد ایک دلت لڑکی کاواقعہ بھی بیان کیا ہے جس کا کوئی پرسان حال نہیں۔چار رئیس زادوں نے ایک غریب دلت لڑکی ’’سگنی‘‘ کو چلتی کار میں جرم کرکے سڑک کنارے پھینک دیا ہے۔ انسانیت کو پرے رکھ کر انھوں نے یہ بھی نہیں دیکھا کہ لڑکی مر چکی ہے۔ اس کی بوڑھی ماں ڈھونڈ تے ہوئے اپنی بیٹی کے پہنچ گئی لیکن اس کی آہ وپکار کو سننے والا کوئی بھی نہیں ۔ پولیس اسٹیشن، میڈیا، لیڈر جہاں بھی وہ جاتی ہے، لوگ اپنے مفاد کو مد نظر رکھتے ہوئے اس کی آہ وبکا کو سننے کے بجائے منھ موڑ لیتے ہیں اورایک لیڈر تو یہاں تک کہتا ہے کہ ’’اگر تمہاری جیسی عورتوں کو پولٹیکل اِشو بنایا گیا تو کتنی جنتا میرے ساتھ اترے گی ۔دامنی میڈیکل کی طالبہ تھی اس لیے لوگوں کی ہمدردی اُس کے ساتھ تھی ……تمہارے اِشو پر ہم تحریک نہیں چلا سکتے ‘‘۔

احمد صغیر نے اس واقعے کو علامتی انداز میں بیان کرکے واضح کیا ہے کہ ملک نے جتنی بھی ترقی کرلی ہو دلتوں کا مسئلہ اب تک معمّہ بناہوا ہے ۔انھیں ابھی تک وہ انصاف نہیں ملا ہے جو ملنا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی کاآخری جملہ پڑھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ ’’سگنی‘‘ کہہ رہی ہو کہ میرے ساتھ ایسا حشر ہونا چاہیے تھا کیوں کہ میں دامنی نہیں ہوں……۔اس کہانی میں کہانی نویس نے کسی خاص واقعے کی جانب اشارہ کیا ہے لیکن ان کا فنی پہلو یہ ہے کہ انھوں نے واقعے کو ہو بہو پیش نہیں کیا ہے بلکہ اسے دلت کا روپ دے دیا ہے اور اس کے استحصال ہونے صورت کو پیش کیا ہے۔

ایک بچہ جب اور جن حالات میں پیداہوتا ہے، وہ اپنی عادات کا عادی ہوجاتا ہے۔ اُسے دوسرے ماحول میں رکھا جائے تو اس کی ذہنی حالت بگڑ جائے گی اوریا تو وہ خود کو دوسروں سے برتر تصور کرنے لگے گا گویا نفسیاتی پیچید گیاں اُس کی زندگی میں داخل ہوکر سکون سے جینے نہیں دے گی۔ یہی کچھ افسانہ ’’تعفّن‘‘کے مُنوا کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ جھونپڑی میں رہنے والا اور شہرکی غلاظتوں کو چن چن کر ماں باپ کا پیٹ پالنے والا بچہ ہے جسے گندگی، غلاظت اور اس سے اٹھتی بو عزیز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ جب غلاظتوں سے  گزرتا ہے تو اپنی چال میںلچک محسوس کرتا ہے تاکہ وہ اُس بدبو سے اور بھی محظوظ ہو سکے اور لذت سے ہمکنار ہوسکے۔اس کی زندگی میں نیا موڑ اُس وقت آتا ہے جب وہ تلاشِ معاش کے چکر میں نو آباد یاتی علاقے کا رُخ کرتا ہے جہاں تک رسائی کم ہی لوگوں کو ہو سکی ہے۔ اسی علاقے میں ممتا سے لبریز عورت رہتی ہے جو مُنوا کو دیکھ نہ جانے کیا کیا تصور کرتی ہے کہ ایک دن اُسے بلاکر کھانے پینے سے اس کا استقبال کرتی ہے اور بہ قول افسانہ نگار ’’ اندھیروں کی یورش سے نبرد آزما رہنے والا منوا اَب خود کو اجالے کا ایک حصہ تصور کرنے لگتا ہے مگر……‘‘ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ منوا کی زندگی میں خوابوں کی دنیا تعمیر کرتی چلی جاتی ہے اور وہ عورت جو’لاولد‘ ہے ، منوا کے اندر بچے کو تلاش کرتی رہتی ہے۔ ایک دن جب ممتا سے مملو عورت حد سے گزرتے ہوئے مُنوا کو نہلا دھلا کر پرفیوم اور عطر سے اس کے بدن اور کپڑے کو بھر دیتی ہے تو مُنوا جو سرانڈ (بو )کا عادی ہے وہ اس خوشبو کو برداشت نہیں کر پاتا، اس کا ردّ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ پسینہ پسینہ ہو کر بے ہوش ہو جاتا ہے۔ کہانی کادوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ منوا کو خواب بہت پسند ہوتے ہیں، وہ رات میں سوتے خواب ضرور دیکھتا ہے اور جب مسز ملکانی اُس کی تواضع کرتی ہے تب بھی وہ خواب ہی دیکھ رہا ہوتاہے۔ چہ جائے کہ یہ خواب جاگتے ہوئے دیکھتا ہے ۔ خواب کی حالت میں منوا کو لگتا ہے کہ وہ طوفان کی زد میں ہے اور اس کا وجود طوفان کے دھار میںپھنس گیا ہے۔ وہ ہاتھ پیر مار کر طوفان سے بچنا چاہتا ہے لیکن لاحاصل ہے۔اس طرح سے دیکھا جائے تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کہانی کا ’منوا‘دلت ہوتے ہوئے اپنے ہی معاشرے میں رہنے کا عادی ہے جو کہ انسان کی خصلت ہے۔

کہانی’’انا کو آنے دو‘‘احمد صغیر کی ایسی کہانی ہے جس سے ان کی بنیادی شناخت قائم ہوئی اور اس کہانی کی ادبی حلقوں میں کافی پذیرائی ہوئی۔یاد آتا ہے ’استعارہ‘میں جب یہ کہانی شائع ہوئی تو ادبی حلقوں میں دھوم مچ گئی۔قارئین نے کہانی اتنی پسند فرمائی کہ احمد صغیر کا نام آتے ہی کہانی’انا کو آنے دو‘ کی یاد آنے گی۔اس کہانی میں انھوں نے نکسل موؤ منٹ کی جانب واضح اشارے کیے ہیں۔اس کہانی میں احتجاج کی بازگشت صاف سنائی دیتی ہے۔اس کہانی میں نکسل موؤمنٹ کے خلاف سرکاری افسران کے رد عمل کو واضح طور پر دکھایا گیا ہے۔افسانہ نگار کے بقول ،سرکاری عملے اور ان کے ذریعے کیے جانے والے مظالم کا اظہار ان لفظوں میں کیا ہے:

’’یہ ساری ویوستھا سڑی گلی ہے،جس محکمے میں جائیے وہاں رشوت اور بھرشٹا چار پنپ رہا ہے،ہر کوئی ہاتھ میں بھیک کا پیالہ لیے بیٹھا ہے اور ہم لوگ بھی اس پیالے میں کچھ نہ کچھ ڈالنے کے عادی ہوگئے ہیں۔ہمیں یہ عادت بدلنی پڑے گی۔‘‘

انّا کی سرپرستی میں پورا گاؤں حکومت کے خلاف بنرد آزما ہے جس کے نتیجے میں پولیس افسران نے نتیجہ بر آمد کیا ہے کہ پورے گاؤں میں جو حراست میں آئے ہیں،ان کی تفتیش کی جائے اور ناسور کو ہمیشہ کے لیے ختم کیا جائے۔اس عمل میں انھوں نے کچھ کامیابی بھی حاصل کرلی ہے اور جلے مکانات کی تمسخر سے دیکھتے ہوئے کہتے ہیں’’بڑے نکسلائٹ بنتے ہیں سالے،ایک ہی رات میں ٹھنڈے پڑگئے۔‘‘افسانہ نویس کا یہ افسانہ حکومت کے خلاف احتجاج ہے جہاں ہر شعبے میں رشوت خوری کی بازار گرم ہے،حق تلفی ہے اور جو بھی مزاحمت کے خلاف آواز اٹھاتا ہے ،اس کا سر قلم کر دیا جاتا ہے۔

احمد صغیر کی کہانی’’ڈوبتا ابھرتا ساحل‘‘ بھی سابقہ کہانی کی طرح پولیس کے استحصال کی داستان ہے لیکن یہ استحصال ’’انا کو آنے دو ‘‘ سے قدرے مختلف ہے۔’’ڈوبتا ابھرتا ساحل‘‘ میں پولیس کے ذریعے ہوئے ایک دلت لڑکی پر جنسی استحصال کی کہانی ہے ۔ سُگنی ایک دلت لڑکی ہے جو مسواک بیچ کر اپنا پیٹ پالتی ہے ۔ایک پولیس معصومیت کاناجائز فائدہ اٹھاکر جنسی استحصال کرتاہے اور کرتا ہی رہتا ہے۔ سپاہی کے اندر کا ناگ جب بھی پھن اٹھاتا ہے ، وہ سگنی کو لے کر اسٹیشن سے ہٹ کر کھڑے بوسیدہ ڈبے میںلے جاتا ہے ۔سپاہی کے اندر ایک دن اچانک یہ تبدیلی پیدا ہوتی ہے کہ وہ سگنی کو اپنے گھر لے آتا ہے۔ اس کا مقصد ہوتا ہے کہ وہ گھر پہ آرام سے استعمال کر سکے لیکن اس کی بیوی سگنی کو بالکل اپنے بچے کی طرح پالتی ہے اور پولیس کو کسی بھی طرح موقع نہیں مل پاتا آخر کار ہمت کرکے ایک رات وہ سگنی کے پاس پہنچ جاتا ہے اور پاس بیٹھ کر اس کے جوبن کو نہارنے لگتا ہے۔ سپاہی کو اپنے قریب بیٹھا دیکھ کر سگنی کی آنکھوں میں نفرت کے شعلے بھبھک اٹھتے ہیں ۔ وہ ایسے نفرت سے دیکھتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوتی ہے۔ دوپٹہ دور پھینک دیتی ہے اور شمیض اتار نے کے لیے ہاتھ بڑھاتی ہے……یہ حرکت دیکھ کر سپاہی کے اندر بجلی کوند جاتی ہے اور وہ ہاتھ پکڑ کر دوپٹہ اس کے سر پر رکھ دیتا ہے اور دھیرے سے کمرے کے باہر نکل جاتا ہے……سگنی کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کا کھویا ہوا باپ اُسے دوبارا مل گیا ہے۔

دلت کو استحصال کرنے کی روایت ہمارے سماج میںکافی پرانی ہے اور ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دلتوں کاکوئی پرسانِ حال نہیںہوتا اور لوگوں کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دلت اِسی کام کے لیے بنے ہیں کہ کوئی جب چاہے اس کا استعمال کر پھینک دے۔ احمد صغیر نے واقعہ کو نیا موڑ دے کر افسانے کو بامعنی بنادیا ہے۔

احمد صغیر تشدد کی نفسیات کو نہایت چابک دستی سے برتتے ہیں اور معاشرے میں ہونے والے مظالم کی دکھتی رگ پر پوری گرفت رکھتے ہیں۔کبھی ان کی کہانیوں میںپولیس اہلکار کی جانب سے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں تو کبھی زمیندار کی جانب سے ۔ کبھی کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن سے امید نہیں کی جاتی، وہ بھی ظلم وتشدد کانشانہ بنا تاہے۔ ایک جھونپڑی میں رہنے والے کنبے کاجب کمانے والا مردمر جاتا ہے تو اس کی بیوہ کو اپنی بیٹی کی زیادہ فکر لاحق ہوتی ہے کہ کم از کم اس کی عزت تو سلامت رہے۔ اسی لیے وہ ایک ماسٹر سے مشورہ کر کے اپنی بیٹی کا ایک اسکول میں داخلہ کرادیتی ہے، ساتھ ہی ماسٹر کو بھی ٹیوشن کے لیے اصرار کرتی ہے تاکہ اس کی بیٹی اچھی طرح سے پڑھائی کر سکے۔ لکھمنیا کی بیٹی خوب دل لگا کر پڑھائی کرتی ہے ۔ایک شام جب دو پولیس والے آپس میں لکھمنیا کی بیٹی کے متعلق بات کرتے ہیں تو وہ سہم سی جاتی ہے اور ماسٹر صاحب کے گھر کا رُخ کرتی ہے کہ وہ وہیں رہے تاکہ بچی کی عزت وناموس بچی رہے لیکن وہاں جاکر جو دیکھتی ہے اُس سے لکھمنیا کے ہاتھ پائوں شل ہوگئے، ذہن مائوف ہوگئی اور سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مصلوب ہوگئی ……اس نے دیکھا کہ ’’سمتااور ماسٹر صاحب ادھ ننگے ایک ہی بستر پر سوئے ایک الگ ہی پاٹھ پڑھ رہے تھے‘‘۔گویا احمد صغیرنے اس کہانی میں معاشرے میں نمو پانے والے ایسے سانحات کاذکر کردیا ہے جس کی ایک انسان کوتوقع بھی نہیں ہوتی ہے۔

احمد صغیرکا افسانہ ’’فیصل شب میں جاگتا ہے کوئی ‘‘ میں یوں تو کاروٗ مانجھی کا واقعہ بیان ہوا ہے لیکن اس کے پس پشت بورژوا اور ظالم طبقے کے وہ مظالم اور زیادتیاں ہیں جو معاشرے میں گھن کی طرح شامل ہوکر ایک خاص طبقے کو تباہ کررہی ہے ۔ کارو مانجھی کی زندگی بہت سہل طریقے سے چل رہی تھی ۔ وہ اپنی مرحوم بیوی کے ساتھ اچھی خاصی خوشگوار زندگی گزار رہا تھا لیکن کسی زمین دار سے پندرہ دن کی مزدوری سے انکار کے عوض اس نے جو ایک ’’ظلم ‘‘ پر ایک طمانچہ رسید کیا تھا، وہ اس کے لیے مہلک ثابت ہواہے۔ بڑے آدمی کومارنے کے عوض اُسے جیل کی ہوا کھانی پڑتی ہے ساتھ ہی ایک بے ضرر اور غریب کسان کو جیل سے رہا کرانے میں نکسلی لوگ کام یاب ہوجاتے ہیں۔کارو مانجھی وفادری کا پُتلا ثابت ہوتاہے اور وہ بادلِ ناخواستہ پارٹی کا وفادار ممبر بن جاتا ہے۔ کہانی یہاں ختم ہوجاتی ہے لیکن احمد صغیر نے کہانی میں نئی بات پیدا کرکے واقعے کا معنی خیز بنا دیا ہے ۔احمد صغیر نے کامریڈکے ذکر اور شہر میں ہوئے حملے کے بدلے کارو مانجھی کی گرفتاری کے ساتھ کہانی کو اپنے انجام تک پہنچایا ہے اور مانجھی کے اس قول پر کہ ’’ کون سا جیل انسپکٹر !پھر کوئی جیل بریک آپریشن ہوگا اور مجھ جیسے بے قصور رہا کرالیے جائیں گے تو آپ کیا کیجیے گا۔‘‘ قاری کو ایک طرح سے دعوتِ فکر دیتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب سیاست اور حکومت کی ملی جلی سازش ہے جس کے تحت اس طرح کے کام عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے انجام دیے جاتے ہیں۔ اس کہانی میں احمد صغیر نے نکسل موؤمنٹ کاذکر کیا ہے لیکن یہ افسانے میں کم ہوتے ہوئے بھی پورے افسانے میں غالب ہے اور قاری کو سمجھنے میں دیر نہیں لگتی کہ کارو مانجھی یا اس جیسے لوگ کیوں نکسل رجحان کی طرف راغب ہو رہے ہیںاور اُس کے پس پشت کون سے عوامل کار فرما ہیں۔

احمد صغیر کے مجموعے’’کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی ہے‘‘میں تین کہانیاں ایسی ہیں جن میں دلت مسائل کے ساتھ نکسل موؤمنٹ کی تحریک کا مسئلہ بھی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کہانی نویس نے اُن کہانیوں کو بیان کرکے اس نکتے کو مدغم کیا ہے کہ دلت اور نکسل مسائل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور معاشرے میں کسی بھی شخص کو زمینداروں کے ذریعے ظلم و ستم کا نشانہ بننا پڑتا ہے تو وہ نکسل موؤمنٹ سے منسلک ہوکر انتقام لینا زیادہ پسند کرتا ہے۔اس مجموعے میں تین کہانیاں ’’انا کو آنے دو‘‘،’’فصیل شب میں جاگتا ہے کوئی‘‘اور’’ بے پناہ جنگل اور وجود‘‘اس ضمن میں قابل ذکر ہیں۔ابتدائی دو کہانیوں کا ذکر اوپر آچکا ہے جن میں نظام عدلیہ پر شدید طنز موجود ہے۔سابقہ دونوں کہانیوں میں پولیس انتظامیہ اور بورژوا طبقے کے استحصال کو دکھایا ہے توکہانی’’بے پناہ جنگل اور وجود‘‘یہ نکسل وادی کی کہانی ہے ۔یہ حادثات ایسی جگہوں پر واقع ہوتے ہیں جہاں پولیس انتظامیہ نہیںہوتی اور نکسلیوں کو کام کرنے کا زیادہ مزہ آتا ہے۔ نکسل موؤمنٹ ہندوستان کے دیہی علاقوں کی پیداوار ہے۔ جہاں غریب غربا رہتے ہیں۔ ان ہی میں جو چند باثروت ہوتے ہیں ،نکسلی ان ہی کا استحصال کرتے ہیں۔ ایسے ہی ایک گھرانے کا ذکر احمد صغیر نے کیا ہے جہاں ایک خاندان ہے جو کئی افراد پر مشتمل ہے۔ علی عباس کسی طرح اپنی جان بچاکر بھاگنے میں کام یاب ہوجاتا ہے جب کہ پورے گھروالوں کو نکسلی مار ڈالتے ہیں۔ مولوی لیاقت علی، ان کی بیوی، صبوحی ، نشاط بھابی ،افروز بھیا اور افروز……جنھیں کسی بات پر وہ ہلاک کر دیتے ہیں۔ علی عباس جو جنگل کی جانب بے تحاشا بھاگ کر اپنی جان بچا لیتا ہے، اس کے دل میں خون کے بدلے خون کا انتقام کا جذبہ پیدا ہوجاتا ہے لیکن اس کے اندر سے آواز آتی ہے:

’’تم کیا کرنے جارہے ہو؟‘‘

وہی جو اُن لوگوں نے کیا؟تم بھی درندہ بننا چاہتے ہو،تو پھر تم میں اور ان میں کیا فرق رہ جائے گا ۔کل تم بھی انہی لوگوں کی طرح جنگلوں اور پہاڑوں میں چھپتے پھروگے اور پولیس تمھیں تلاش کرتی پھرے گی……تم جس راستے پر جارہے ہو، وہاں تمہیں بد نامی اور موت کے علاوہ کچھ نہیںملے گا۔ علی عباس اب فیصلہ نہیں کر پارہا ہے کہ قانون کے وعدوں پر بوڑھا ہو جائے یا خود کوئی قانون بنائے۔

احمد صغیرکی دلت کہانیوں میں ’’شدھی کرن‘‘ایک الگ ذائقے کی کہانی ہے۔ یہ کہانی دلت یعنی نچلی ذات اور پنڈت/برہمن یعنی اونچی ذات کی ذہنی تبدیلی اور مزاج ورہن سہن کو پیش کرتی ہے ۔یہ ایک ایسے پاسی خاندان کی کہانی ہے جس کے آبا واجداد کسی زمانے میں تاڑی بیچنے کا کام کرتے تھے لیکن بدلتے حالات میں انھوں نے معلّمی کاپیشہ اختیار کیا ہے۔ اسی خاندان کا ایک شخص اب چاہتا ہے کہ اس کا لڑکا پڑھ لکھ کر سرکاری افسر بنے لیکن گائوں کامکھیا انھیں حقارت بھری نظروں سے دیکھتا ہے اور نفرت کاجذبہ رکھتا ہے ۔ دلت ماسٹر کا بیٹا جب دسویں میں اچھے نمبرات سے پاس ہوتا ہے تو باپ بیٹا مکھیا جی سے آشِرواد لینے جاتے ہیں لیکن وہ دھتکار دیتا ہے اور نفرت کے جذبے کے ساتھ اسے بھگادیتا ہے ۔ انھیں گائوںمیں رہنے کی اجازت تو ہے لیکن اُسی حد تک جس حد تک وہ رہ سکیں۔ انھیں نہ وہ مراعات نصیب ہیں اور نہ مندر میں داخل ہوکر پوجا پاٹ کرنے کی ہی اجازت ہے۔ دیکھتے دیکھتے وکاس چودھری اعلا افسر بن جاتا ہے اور جب گائوں میں آتا ہے تو اُس کی خوب عزت ہوتی ہے۔ پنڈت بھی مندر کا افتتاح کرواتا ہے اور مکھیا بھی چائے کی دعوت دیتا ہے لیکن افسانہ نگار نے کہانی یہیں پر ختم نہیں کی بلکہ انھیں یعنی بورژوا طبقے کو نفرت ہی کرتے دکھایا ہے ۔جب پنڈت مندر کی دھلائی کرتا ہے اور مکھیا چائے کے طشت کو کوڑے دان میں پھنکوا دیتا ہے یہ کہتے ہوئے کہ’’ شدھی کرن‘‘ ہورہا ہے ۔ مطلب ظاہر ہے کہ ہندوستان میں دلت مسائل کاتاہنوز کوئی حل نہیں نکلا ہے بلکہ زمانے کی ترقی کے ساتھ، ان کے سوچوں میں تنزلی ہی آرہی ہے جو معاشرتی تشدد کی عمدہ مثال ہے۔

مجموعے کی آخری کہانی ’’ کہانی ابھی ختم نہیںہوئی ہے‘‘ایک ایسے شخص /رپورٹر کی کہانی ہے جو کسی سانحے کے بعد گائوں کادورہ کرتاہے ۔وہ ایسے وقت میں گائوں میں داخل ہوتا ہے جب رات کاسایہ گہرانے لگتا ہے اور سامنے کی بیشتر چیزیں دھند میں ڈوب جاتی ہیں۔ رپورٹر کو ایسے گھر کی تلاش ہوتی ہے جہاں رات گزارنے کا پروگرام بن سکے۔ وہ ایک دروازے پر دستک دیتا ہے تو ایک لڑکی نمودار ہوتی ہے ۔ پھوس کی جھونپڑی میں ایک لالٹین اپنی مدھم روشنی بکھیر کر جھونپڑی والوں کی فراخ دلی کا مظاہرہ کرتی ہے۔ سوال وجواب کے بعد وہ اپنا مدعا بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وہ گائوں میں جانکاری حاصل کرنے آیا ہے اور اس موضوع پر کہانی لکھنا چاہتا ہے۔ پوری کہانی کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم افسانہ نہیں پڑھ رہے بلکہ اخبار کی رپورٹ کی قرأت کررہے ہیں لیکن جب کہانی اس مقام پر پہنچتی ہے کہ ’’نیم جاں لیٹا ہوا باپ اور سہمی ہوئی لڑکی جانتی ہے کہ اس کے گھر کے ایک اہم فرد کے سینے میں بھالا پیوست کرنے کا پلان بنانے والے شہر کی چکنی چکنی سڑکوں پر چلتے ہیں۔ پھر بھی یہ اُن کا ظرف ہے کہ اندھیری رات میں شہر کے ایک اجنبی کو آواز دے کر وہ گھر بلا لیتے ہیں اور اپنے حصّے کاکھانا اُس کے آگے رکھ دیتے ہیں ‘‘۔یہ ایسے دلت گھرانے کی کہانی ہے جس کے گھر کاایک اہم فرد شہری بابو کے ہاتھوں اپنی جان گنوا بیٹھا ہے اور اس کے گھر کے دوسرے افراد بے یارو مدد گار ہیں اور ایک ایسے شخص کو پناہ دیتے ہیں جو بہ ذات خود شہری ہے۔ مجموعی طور پر یہ افسانہ دلتوں کی سادگی کی طرف اشارہ کرتا ہے جنھیں انسانیت کی زیادہ فکر ہوتی ہے۔بہ حیثیت مجموعی دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ احمد صغیر کی دلت کہانیوں میں نئے ذائقے کا احساس موجود ہے اور انھوں نے کہانیوں کو دلت ڈسکورس کے طور پر پوری طرح برتا ہے اور سماجی حقائق کی جانب بھی واضح اشارے کیے ہیں۔

٭٭٭

 

نوٹ: مضمون نگار آر کے ہائ اسکول، چندوا، لاتیہار(جھارکھنڈ) میں اردو کے استاد ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ادبی میراثافسانہدلت افسانےدلت ڈسکورس
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کیا احادیث نے عورت کی حیثیت کم کی ہے؟- ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
اگلی پوسٹ
عرفان صدیقی کی شاعری کا استعاراتی نظام – خان محمد رضوان

یہ بھی پڑھیں

منو بھنڈاری: ہندی افسانوی ادب کامقبول ترین کردار...

مئی 26, 2026

بیدی کا فن – پروفیسر محمد حسن

مئی 15, 2026

آج کی اردو کہانی: زبان اور ساخت –...

فروری 2, 2026

شموئل احمد کا افسانہ ’’سنگھار دان‘‘ – طارق...

فروری 1, 2026

منٹو اور نیا افسانہ – پروفیسر شمیم حنفی

اکتوبر 11, 2025

عزیز احمد کی افسانہ نگاری! وارث علوی

اپریل 12, 2025

اکیسویں صدی کی افسانہ نگارخواتین اور عصری مسائل...

مارچ 21, 2025

ہمہ جہت افسانہ نگار: نسیم اشک – یوسف...

جنوری 15, 2025

ڈاکٹر رُوحی قاضی : ایک فراموش کردہ افسانہ...

نومبر 25, 2024

اکیسویں صدی کے افسانے – ڈاکٹر عظیم اللہ...

ستمبر 15, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں