شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام’ اردوفکشن میں جادوئی حقیقت نگاری‘ کے موضوع پرتوسیعی خطبے کاانعقاد
نئی دہلی:شعبۂ اردو،دہلی یونیورسٹی کے زیراہتمام ’اردوفکشن میں جادوئی حقیقت نگاری‘کے موضوع پرتوسیعی خطبہ معروف فکشن نگار،جے سی بی ایوارڈیافتہ ناول نعمت خانہ کے مصنف پروفیسرخالد جاوید نے پیش کیا۔اس موقع پرانگریزی کے معروف اسکالر پروفیسر ہریش تریویدی نے پروگرام کی صدارت کی اورمہمان خصوصی کی حیثیت سے آرٹس فیکلٹی،دہلی یونیورسٹی کے ڈین پروفیسر امیتابھ چکرورتی موجودتھے۔
صدرشعبۂ اردوپروفیسرنجمہ رحمانی نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہاکہ توسیعی خطبات کی یہ دوسری کڑی ہے۔ہماری کوشش رہتی ہے کہ ادب اورفکشن میں رائج ہونے والے نئے رجحانات سے طلباوطالبات کوواقف کرایاجائے ۔آئندہ ہماری کوشش یہ بھی ہوگی کہ اردوکے علاوہ دیگرزبانوں اور علوم و فنون کے ماہرین کوبھی توسیعی خطبے کی دعوت دی جائے تاکہ ہمارے طلباوطالبات دیگرزبانوں کے ادب سے بھی واقف رہیں۔ وسائل کے محدود ہونے کے باوجود ہماری کوشش رہتی ہے کہ ہم آپ کوادب کے مختلف رجحانات ونظریات اورفکشن کی تکنیک و موضوعات سے واقف کراتے رہیں ۔ادب سے وابستگی کامطلب صرف پرانے اورروایتی ادب کامطالعہ ہی نہیں ہے بلکہ دنیا کی مختلف زبانوں میں کیالکھا جارہاہے اورکیسالکھاجارہاہے ،اس پربھی ہماری توجہ مرکوزرہنی چاہیے ۔
توسیعی خطبے کی نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے پروفیسرابوبکرعباد نے ممتازفکشن نگار اوراستاذپروفیسرخالد جاویداورپروگرام کے صدرپروفیسرہریش تریویدی کاتعارف کرایا۔انھوں نے کہاکہ شعبہ اردو کی جانب سے اہم موضوعات پر توسیعی خطبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔شعبے کی کوشش ہوتی ہے کہ کسی بھی موضوع پرایسے ماہرین کومدعوکیاجائے ،جواس موضوع پریدطولی رکھتے ہیں ۔اردوفکشن میں جادوئی حقیقت نگاری کے موضوع پر پروفیسرخالدجاوید کی گہری نظر ہے اور وہ اس موضوع پر گفتگو کا بہتر طریقے سے حق اداکرسکتے ہیں ، کیونکہ پروفیسرخالد جاویدکے اختصاصات میں ایک جادوئی حقیقت نگاری کا بھرپور مطالعہ بھی ہے ،جو تقریباً ان کی شناخت کاحصہ بن چکی ہے ۔
پروفیسرخالدجاوید نے اپنے توسیعی خطبے میں فرمایاکہ میجک یاجادوبنیادی طورپرنصف سائنس ہے ،جہاںعلت ومعلول کارشتہ ٹوٹتاہے ،وہیں جادوبن جاتاہے اورجادونصف سائنس ہے ۔اس اصطلاح کواستعمال کرتے ہوئے ہم جادوکویادرکھتے ہیں لیکن حقیقت کوبھول جاتے ہیں ۔کوئی بھی امیجی نیشن ایسی نہیں ہے ،جس میں حقیقت نہ ہو ۔یورپ میں ۰۶۹۱کے آس پاس ناول کی موت کااعلان کیاگیا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ روایتی قسم کے ناول لکھے جارہے تھے ۔اس میں کچھ نیانہیں تھا،نئے سرے سے لاطینی امریکہ نے ناول کودریافت کیا۔لاطینی امریکہ کے قلم کاروں نے ناول کی مردہ رگوں میں روح پھونک دی ۔ ان میں گابرئیل گارسیامارکیزکااہم نام ہے ۔لاطینی امریکیوں نے اپنی تہذیب،لوک گیت اورتوہم کوبھی ناول کابیانیہ بنادیا۔علت ومعلول کے رشتے کوتوڑ کررکھ دیا ۔حقیقت خوداپنے آپ میں ایک طلسم ہے ۔انھوں نے مزیدکہاکہ جادوئی حقیقت نگاری کی اصطلاح پہلی بارپینٹنگ کے لیے استعمال ہوئی تھی ۔سماجی حقیقت نگاری کامتبادل ومتوازن کوئی اسلوب ہم نے تلاش نہیںکیا ۔جادوئی حقیقت نگاری کوئی نظریہ ،کوئی رجحان نہیں بلکہ کہانی کہنے کاایک طریقہ ہے ، ایک تکنیک ہے ۔جادوئی حقیقت نگاری،بروک اورفنتاسی کو الگ الگ سمجھنے کی ضرورت ہے ۔فنتاسی میں حقیقت نہیں ہوتی ۔زبانی بیانیہ اورتحریری بیانیے کاملاپ ہے جادوئی حقیقت نگاری۔فنتاسی کوتمثیل کے طورپرپڑھناچاہیے ۔بروک پینٹنگ اورآرکی ٹیکچر کی ایک اصطلاح ہے ،جس کا باباآدم ایلوکارپینٹرہے ۔یہ سادگی کے خلاف ہے ۔پیچیدہ بیانیہ کوبروک کہتے ہیں ۔مشکل ہوناکوئی جرم نہیں ہے ۔غالب اورمیربھی مشکل تھے ۔مشکل ہونابھی ایک فن ہے ۔
پروفیسرخالد جاویدنے مزیدکہاکہ لاطینی امریکی اپنے فکشن میں لوک کتھاوں کولوک کتھاکہہ کر بیان نہیں کرتے ۔اگروہ ایساکریں گے توپھر علت ومعلول کارشتہ قائم ہوجائے گا اور جادوئی حققیت نگاری باقی نہیں رہ سکے گی۔ جادوئی حقیقت نگاری کے تحت تو لوک کتھائیں اور محیر العقل باتیں ایک متبادل حقیقت کی طرح سے بیانیے کا حصہ بنتی ہیں اور اس کی جڑیں ریلزم کی زمین میں ہی پیوست ہوتی ہیں۔ دراصل علت ومعلول کے رشتے کوپاش پاش کردینے کانام ہی جادوئی حقیقت نگاری ہے ۔ناول کوایک جمہوری فن ہوناچاہیے ۔مارکیز کاپورافن لاطینی ممالک میں رائج آمرانہ نظام حکومت کے خلاف ایک احتجاج بھی ہے ۔خالد جاوید نے فنتاسی اور میجک ریلزم کا فرق واضح کرنے کے لیے بتایا کہ کسی نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ہماری داستانوں میں جادوئی حقیقت نگاری پائی جاتی ہے ۔حالاں کہ داستانوں میں میجک اور فنتاسی پائی جاتی ہے ۔ وہاں اپنے دور کی سماجی حقیقت کہاں ہے، جب کہ مارکیز جیسے ادیبوں کا بیانیہ اپنے معاشرے کے عقائد اور توہمات سے منسلک ہے۔ اردو کامعروف افسانہ ’ روشنی کی رفتار‘کولوگ بآسانی جادوئی حقیقت نگاری کہہ دیتے ہیں،جب کہ وہ افسانہ فنتاسی کی مثال ہے ۔اس میں جادوتوہے لیکن حقیقت نہیں ہے ۔انتظارحسین ہوں یاقرة العین حیدر کہیں بھی جادوئی حقیقت نگاری نہیں ہے ۔انتظارکے یہاں جاتک کتھائیں پائی جاتی ہیں اورعینی کے یہاں فنتاسی پائی جاتی ہے ۔یہ دونوں مصنف عظیم ہیں لیکن ان کے یہاں جادوئی حقیقت نگاری نہیں پائی جاتی ۔البتہ نیرمسعود کے یہاں جادوئی حقیقت نگاری کے عناصر پائے جاتے ہیں ۔دکھانے سے زیادہ چھپانے کے فن کوجادوئی حقیقت نگاری کافن کہاجاتاہے ۔
مہمان خصوصی پروفیسر امیتابھ چکرورتی نے کہاکہ شعبہ اردوکافی اہم پروگراموں کاانعقادکرتاہے ۔مجھے امیدہے کہ آئندہ بھی اس طرح کے اہم پروگراموں کاانعقادہوتارہے گااوردیگرشعبہ جات بھی اس طرح کے اہم پروگرام منعقد کریں گے ۔نئے رجحانات کی آمد کے بعد پتہ چلتاہے کہ ہمارے ہندوستانی ادب میں اس کی مثالیں موجود ہیں ۔تھیوری سازی کے وقت ہندوستانی ادب کوبھی پیش نظررکھناچاہیے ۔
پروگرام کے صدرپروفیسرہریش تریویدی نے کہاکہ مجھے شعبہ اردومیں آکربہت خوشی ہوئی ہے ۔چوں کہ مجھے انگریزی کے علاوہ کسی بھی شعبہ میں بلایاجاتاہے توبہت خوشی ہوتی ہے ۔آج کاموضوع بہت اہم ہے ۔پروفیسرخالد جاوید نے اردوکا پرچم دنیامیں اونچاکیاہے ۔مجھے امید ہے کہ انگلش ترجمے کوایوارڈملنے کے بعد ان کے ادب کواردووالے پڑھنے لگیں گے ۔ریت سمادھی کے ساتھ بھی ایساہی ہواکہ بکرپرائز ملنے کے بعد اسے ہندی والے پڑھنے لگے ۔نعمت خانہ ایساناول ہے ،جس میں بہت اہم چیزیں موجودہیں ۔جولکھتاہے وہ صرف دیکھتانہیں دیکھنے سے زیادہ پڑھتاہے ۔ایسے لوگوں میں بھی خالد جاویدکوبہت زیادہ اہمیت حاصل ہے ۔آج کے خطبے کوآپ نے سنا کہ خالد جاوید عالمی ادب پربات کررہے تھے ۔ہم انگریزی والوں سے زیادہ پڑھتے ہیں ۔خالد جاوید نے عمدہ طریقے سے جادوئی حقیقت نگاری ،فینٹیسی اوربروک پرخطبہ دیااوربہت اچھی طرح اسے سمجھایا۔وقت کاتقاضا ہے کہ ہم یورپ سے مرعوب ہوناچھوڑکراپناکام کریں اورایساکام کریں کہ دنیاہمیں مان لے کہ سارے جہاں سے اچھاہندوستاں ہمارا۔
پروگرام کے کنوینرڈاکٹرارشادنیازی نے شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ ہم سب جانتے ہیں کہ جادوئی حقیقت نگاری پراردومیں کافی کم بات ہوئی ہے ۔ایسے حالات میں خالدجاویدجادوئی حقیقت نگاری پربات کرتے ہیں توجی خوش ہوجاتاہے ۔میں تمام مہمانوں کاشعبہ کی جانب سے شکرگزارہوں ۔اس موضوع پرچنداہم لوگوں میں ایک نام پروفیسرخالدجاویدکابھی ہے ۔ہمیں بہت خوشی ہے کہ یہ پروگرام کافی کامیاب ہواہے ۔میں شعبہ کی جانب سے فردافرداتمام حضرات وخواتین کاشکرگزارہوں ۔
اس پروگرام میں پروفیسرارجمندآرا،پروفیسرمحمدکاظم ،پروفیسرمشتاق عالم قادری،پروفیسرچندرشیکھر،پروفیسرعلیم اشرف خان، پروفیسرمظہراحمد،ڈاکٹرمتھن کمار،ڈاکٹرارشادنیازی،ڈاکٹرشمیم احمد،ڈاکٹرماہتاب جہاں،ڈاکٹرنکہت پروین،ڈاکٹرعلی احمد ادریسی، ڈاکٹر ہردے بھانوپرتاپ ،شمیم احمد،ڈاکٹرمرتضی،ڈاکٹرفرحت کمال،ڈاکٹرزاہدندیم احسن،ڈاکٹرشاہ فہدنسیم،ڈاکٹرسنیل کمار، ڈاکٹر عرفان، آصفہ زینب، ڈاکٹر اقبال حسین وغیرہ اورمختلف شعبہ جات کے طلباوطالبات نے خصوصی طورپرشرکت کی ۔
کیپشن:مائکپرپروفیسرخالدجاویداوراسٹیج پرپروفیسرابوبکرعباد،پروفیسرنجمہ رحمانی،پروفیسرامیتابھ چکرورتی اورپروفیسرہریش تریویدی

