by adbimiras
0 comment

 دیوندر ستیارتھی (مونو گراف)/ڈاکٹر  عبد السمیع – ڈاکٹر نوشاد منظر

دیوندر ستیارتھی کا شمار ان چند تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اردو اور ہندی دونوں زبان میں یکجا مقبولیت حاصل کیں۔ یوں تو انھوں نے درجنوں افسانے لکھے جسے عبد السمیع نے ‘‘ شہر شہر آوارگی’’ کے نام سے دو جلدوں میں یکجا کرکے شائع کیا ہے جس میں ستیارتھی کی 57 کہانیاں شامل ہیں۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے‘ نئے دیوتا’ اور ‘ بانسری بجتی رہی’ اور لوک گیتوں پر مضامین کے دو مجموعے ‘میں ہوں خانہ بدوش’، ‘ گائے جا ہندوستان’ کے نام سے شائع ہوئے۔ اردو میں دیوندر ستیارتھی کی یہ چار کتابیں شائع ہوئیں ، حالانکہ ان کی کتابوں کی تعداد 57 ہے، جس میں افسانے، ناول،مضامین، خاکے، خود نوشت، یادیں ، سفرنامے اور شعری مجموعے شامل ہیں ۔دیوندر ستیارتھی نے لوک گیتوں کو جمع کرنے کے لیے مختلف شہروں کے نہ صرف سفر کیے بلکہ ان لوک گیتوں کی تعبیر و تفہیم میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ عبد السمیع نے دیوندر ستیارتھی کا نہ صرف گہرائی سے مطالعہ کیا ہے بلکہ اردو دنیا میں ستیارتھی کو از سر نو زندگی عطا کرنے کا بھی کام کیا ہے۔ زیر نظر مونوگراف اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

زیر مطالعہ کتاب ‘‘ دیوندر ستیارتھی’’ کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ کتاب کا پہلا حصہ ‘‘ سوانح اور شخصیت’’ ہے۔عبد السمیع نے کتاب کے اس حصے میں دیوندر ستیارتھی کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کیا ہے جس میں ان کی پیدائش سے لے کر ابتدائی تعلیم اور ادبی خدمات کے ساتھ ان کی کہانیوں کی اشاعت وغیرہ کو پیش کیا گیا ہے۔ دیوندر ستیارتھی کی پیدائش پنجاب کےآٓریہ سماجی تہذیب کے ایک کھتری خاندان میں 28 مئی 1908 کو ہوئی۔ ابتدا میں ان کا نام‘ یدھیشٹر’ تھا مگر بقول عبد السمیع ‘ تلفظ کی پریشانی کی وجہ سے گھر والوں نے ان کا نام ‘دیو’ رکھ دیا۔ ستیارتھی کی ابتدائی تعلیم گاؤں کے اسکول میں ہوئی ۔دسویں جماعت کے بعد ان کا ارادہ لاہور میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا تھا مگر مالی تنگی اور دیگر وجوہات کی وجہ سے وہ لاہور نہیں جاسکے ، رشتے کے ایک بھائی کی مدد سے ان کا داخلہ پٹیالہ کے ایک ایسے کالج میں کروادیا گیا جہاں کالج فیس نہیں لگتی تھی۔عبد السمیع نے دیویندر ستیارتھی کی زندگی اور ان کے کام کرنے کے طریقے پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘دیوندر ستیارتھی نے اپنی عمر کا بیشتر حصہ ایک فعال اور متحرک انسان کے طور پر گزارا۔ وہ کمروں میں قید ہوکر تبصرہ کرنے والوں میں سے نہیں تھے۔’عبد السمیع نے ان کے معاصرین کے تعلق سے ایک بے حد دلچسپ بات کہی ہے۔ عبد السمیع نے لکھا ہے کہ ‘دیوندڑ ستیارتھی اپنے معاصرین میں بہت مقبول تھے ۔بہت سے لوگ انھیں مختلف ناموں سے یاد کرتے تھے۔ منٹو فراڈ کہتے تھے۔ پرکاش پنڈت نے ادبی رشی کا نام دیا۔ کرشن چندر نے مہا بور کہا۔ بلراج مین را نے Creative آوارہ کہا،بیدی نے عوامی فنکار اور صلاح الدین احمد نے ولی کے لقب سے یاد کیا ہے۔’ایک ادیب کا ان کے معاصرین اتنے ناموں سے یاد کرتے ہوں ایسا شاید کسی اور ادیب کے ساتھ نہیں ہوا ہوگا۔ عبد السمیع نے کتاب کے اس حصے میں دیونر ستیارتھی کی شخصیت کے ساتھ اپنے کام کے تئیں ان کی دیوانگی کو بالتفصیل بیان کیا ہے۔

کتاب کا دوسرا حصہ ‘دیوندر ستیاترھی کی افسانہ نگاری’ ہے۔ اس باب میں ان کے تین افسانوی مجموعہ‘ نئے دیوتا’، ‘ اور بنسری بجتی رہی’ اور ‘ شہر شہر آوارگی’ کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔ ‘نئے دیوتا’ دیوندر ستیارتھی کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے۔اس میں بارہ افسانے شامل ہیں۔یہ مجموعہ 1943 میں شائع ہوا۔ اس میں ستیارتھی کا دیباچہ‘ اپنی بات’ اور صلاح الدین احمد کی تحریر مقدمے کے طور پر شامل ہے۔نے دیوتا’ کی کہانی منٹو کو مرکز میں رکھ کر لکھی گئی ، اس کا اسلوب طنزیہ ہے اور یہی افسانہ ہے جو بقول عبدالسمیع منٹو اور ستیارتھی کے رشتے کو کمزور کرنے کا سبب بھی بنا۔حالانکہ عبد السمیع کا خیال ہے کہ اگر قاری اس افسانے کو ایک فن پارے کے طور پر پڑھے تو اس کی بہتر تفہیم کی جاسکتی ہے۔عبد السمیع کا خیال ہے کہ افسانہ نئے دیوتا کو منٹو کی ذات کا عکس سمجھ کر پڑھا جاتا رہا، حالانکہ اس کو الگ سیاق میں پڑھنے کی ضرورت ہے۔ خود ستیارتھی نے بھی لکھا ہے کہ ‘نئے دیوتا جن کا مذہب ایک شراب کی بوتل ہے اور جن کا ایمان چند چاندی کی ٹکلیوں کے عوض بک جاتے ہیں۔’ستیارتھی کے دیگر افسانے جو اس مجموعہ میں شامل ہیں ان میں برہمچاری، کنگ پوش، انّ دیوتا اور لال دھرتی وغیرہ کو ناقدین نے ان کے اہم افسانے کے طور پر پیش کیا ہے۔افسانوی مجموعہ‘ نئے دیوتا’ کے تعلق سے مصنف کا خیال ہے کہ ان افسانوں میں ہندوستان کی تہذیب و تمدن کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان میں علامتی اور تجریدی افسانوں کی جھلک بھی ملتی ہے۔ضرورت یہ ہے کہ ان کے افسانوں کی قرأت تہذیبی اور تاریخی تناظر میں کی جائے۔عبد السمیع نے لکھا ہے کہ ‘نئے دیوتا’ میں شامل بارہ افسانوں میں سے چھ افسانے ایسے ہیں جنھوں نے ستیارتھی کی شناخت قائم کرنے میں اہم رول ادا کیا ہے۔‘ دیوندر ستیارتھی کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ‘‘اور بنسری بجتی رہی’’ ہے۔ اس مجموعے میں بھی بارہ افسانے شامل ہیں۔اور یہ مجموعہ 1946 میں منظر عام پر آیا۔عبد السمیع نے لکھا ہے کہ افسانہ ‘اور بنسری بجتی رہی’ ستیارتھی کا پہلا مطبوعہ افسانہ ہے مگر کسی سبب اسے پہلے مجموعے میں شامل نہیں کیا گیا تھا۔ عبد السمیع نے کتاب میں شامل تمام افسانوں پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ‘اور بنسری بجتی رہی’میں شامل افسانوں میں ہندوستانی تہذیب و تمدن ، رسم و رواج ، توہم پرستی اور اسطور کو بہتر طور پر پیش کیا گیا ہے۔ظاہر ہے کہ ستیارتھی کا جو مزاج تھا وہ ان کے افسانوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے یہی سبب ہے کہ ‘اور بنسری بجتی رہی’میں شامل افسانوں میں دیہاتی مناظر، کھیت کھلیان اور عام زندگی کی پریشانیوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔عبد السمیع نے دیوندر ستیارتھی کے افسانوں کو ‘شہر شہر آوارگی’کےنام سے دو جلدوں میں شائع کیا ہے۔ یہ کتاب 2012 میں شائع ہوئی، یہ کتاب ان معنوں میں اہم ہے کہ اس میں ستیارتھی کے ستّاون افسانے شامل ہے۔ عبد السمیع نے ستیارتھی کے بکھرے ہوئے افسانوں کو سن اشاعت کے اعتبار سے ترتیب دیا ہے۔ کتاب کی پہلی جلد میں ان کہانیوں کو شامل کیا گیا ہے جس کی اشاعت 1960 سے قبل ہوئی، جلد دوم میں 1960 کے بعد شائع ہونے والے افسانے شامل ہیں۔ جہاں تک ستیارتھی کے افسانوی اسلوب اور روایت کا تعلق ہے تو اس ضمن میں مصنف کا خیال ہے کہ ابتدائی دور کے افسانوں میں پریم چند کے اثرات نمایاں ہیں جب کہ بعد کے افسانوں پر مصنف نے منٹو اور بیدی کے اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ان کا خیال ہے کہ دیوندر ستیارتھی کے افسانوں میں وہ افسانے زیادہ اہم ہیں جن میں ستیارتھی کا وژن اور لوک گیتوں کے رس موجود ہیں۔

زیر نظر کتاب کا تیسرا حصہ ‘‘ دیوندر ستیارتھی کے لوگ گیت’’ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے۔ دیوندر ستیارتھی کے لوگ گیتوں پر مشتمل دو مجموعے شائع ہوئے۔ پہلی کتاب م‘میں ہوں خانہ بدوش’ ہے جو بقول مصنف بسیار تلاش کے باوجود انھیں نہیں مل سکی۔ اس موضوع پر ان کی دوسری کتاب‘گائے جا ہندوستان’ ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ مصنف نے ستیارتھی کے لوک گیت کا جائزہ اسی کتاب کو پیش نظر رکھتے ہوئے لیا ہے۔‘ گائے جا ہندوستان’ 1946 میں شائع ہوئی، کتاب کا مقدمہ راجندر سنگھ بیدی نے لکھا ہے، انھوں نے اپنے مقدمے میں ستیارتھی کے فن کے ساتھ ساتھ لوک گیت کی جمالیات پر بھی روشنی ڈالی ہے۔عبد السمیع نے لوک گیت پر مشتمل اس کتاب کو ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی تاریخ اور اس کی تفہیم کے لیے ایک اہم دستاویز بتایا ہے۔ان کا خیال ہے کہ اگر کوئی شخص قدیم و جدید ہندوستان کی تہذیب کا مطالعہ کرنا چاہتا ہے تو یہ کتاب ایک گنج گراں مایہ ثابت ہوسکتی ہے۔ کتاب کا چوتھا باب’’ دیوندر ستیارتھی کے خاکے’ کے عنوان سے شامل ہے۔اس باب میں انھوں نے ان مضامین کو شامل کیا ہے جس کی نوعیت شخصی نوعیت کی ہیں۔ ستیارتھی نے منٹو، بیدی، کرشن بالی، احمد ندیم قاسمی وغیرہ پر شخصی مضامین لکھے ہیں۔کتاب کا پانچواں باب ستیارتھی کی تخلیقات کے انتخاب پر مشتمل ہے۔

مجموعی طور پر عبد السمیع نے جس خوش اسلوبی کے ساتھ دیوندر ستیارتھی پر یہ مونوگراف تحریر کیا ہے وہ لائق تحسین ہے۔ اس مختصر سی کتاب کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم دیوندر ستیارتھی اور ان کی خدمات کوبآسانی سمجھ سکتے ہیں۔آج اگر میں یہ کہوں کہ ستیارتھی کے تعلق سے عبد السمیع اتھارٹی کا درجہ رکھتے ہیں تو شاید کسی کو اختلاف نہ ہو، کیونکہ انھوں نے ستیارتھی کا مطالعہ اور تجزیہ بڑی عرق ریزی کے ساتھ کیا ہے۔گرچہ یہ کتاب آج سے تین برس پہلے شائع ہوئی ہے اوراس کے لیے میں انھیں پہلے بھی مبارک باد دے چکا ہوں مگر یہاں ایک بار پھر سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔کتاب کی قیمت مناسب اور سرورق دیدہ زیب ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment