Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

دیو مالا :ایک تعارف-زاہد ندیم احسن

by adbimiras اگست 20, 2020
by adbimiras اگست 20, 2020 0 comment

دیو مالا کے لفظی معنی  ا ساطیر ’’علم الاصنام‘‘ صنمیات  یا کسی مخصوص ثقافت کی اسا طیر کا مجموعہ یا ان کا مطالعہ و تعبیر ہے۔ دوسرے الفاظ میں دیو مالا یا اسطور یونانی زبان کے لفظ مائتھس (Mythos) سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں وہ بات جو زبان سے کہی جائے۔ شروع شروع میں دیو مالا کا یہی مفہوم تھا جس کا ذکر مذکورہ بالا سطور میںکیا گیا ہے پھر اس کے بعد اس سے وہ کہانیاں مراد لی جانے لگیں جس میں کسی دیوی دیوتا کا ذکر ہو۔ اس طرح دیکھا جائے تو دیو مالا سے مراد ایسی کہانیاں ہیں جس میں دیوی دیوتائوں کا ذکر بھی موجود ہو۔

یہ حقیقت ہے کہ دیو مالا میں مذہبی رنگ نمایاں ہے لیکن اس کے علاوہ  دوسرے عناصر بھی اس میں موجود ہیں۔ یہ ایک قسم کی سائنس بھی ہے اور  فلسفہ کا پیامبر بھی ۔ دراصل انسان نے شروع شروع میں جو سوچا یا دیکھا یا محسوس کیا، کم و بیش اپنے طریقے اور اپنے طور پر پیش کردیا۔ ایسے کسی بھی دیو مالا کی تشریح وتعبیروسیع معنوں میں ایک ایسی کہانی کے طور پر ہی کی جاتی ہے جو بار بار پیش کیے جانے یا سنائے جانے کے ذریعے معاشرے میں ایک قدر کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ اصطلاح میں ’’دیو مالا کو دیو مالا ئی جہاں کے مطالعے یا قصوں کے مجموعے سے منسوب کیا جاسکتا ہے۔‘‘ مثال کے طور پر تقابلی دیو مالا مختلف تہذیبوں کے درمیان کے رشتوں یا تعلق کے مطالعے کا نام ہے۔ جب کہ گریک دیو مالا قدیم یونان کے دیو مالائی جہاں کی ساخت ہے۔ لوک کہانیوں (Folkloristic) کے میدان میں دیو مالا ایک مقدس بیانیہ کی حیثیت رکھتی ہے جس سے اس بات کی وضاحت ہوتی ہے کہ یہ دنیا اور بنی نوع انسان کس طرح موجودہ شکل میں آئے۔

بہت سے ادیب دیو مالا کی اصطلاح دوسرے میدان میں مختلف طریقے سے استعمال کرتے ہیں۔ وسیع مفہوم میں دیومالا ہر اس کہانی کو کہتے ہیں ’’جوکسی خاص روایت کے بطن سے جنم لیتی ہو۔‘‘

دیو مالا میں اصل کردار عام طور سے  ایسے  مافوق الفطری ہیرو ہوتے ہیںجو انسان کی عملی زندگی سے کوسوں دور ہوتے ہیں جن کا صرف خیال یا تصور کیا جا سکتا ہے اسے حقیقی زندگی میں اپنایا نہیں جا سکتا۔

مقدس کہانیاں ہونے کی حیثیت سے دیو مالا کی توثیق پادریوں اور حکمرانوں کے ذریعہ کی جاتی ہے۔ اور مذہب یا روحانیت سے منسلک کی جاتی ہے۔   دیو مالا کی تخلیق عام طور سے  اسی دور اول میں ہوئی ہے جب دنیا نے اپنی موجودہ شکل حاصل نہیں کی تھی اور یہ واضح کرتی ہے کہ اس نے اپنی موجودہ شکل کیسے حاصل کی اور کیسے رسوم ا و ر  رواج  ممنوعات عام ہوئے۔اس طرح اصطلاحی معنوں میں لفظ دیو مالا ایسی کہانیوں کے لیے استعمال کیا جاتارہا ہے جن کا تعلق بنیادی طور پر حقیقت سے بعید ہو اور اس میں مافوق الفطری عناصر کی کارفرمائی ناگزیر سمجھی جاتی ہو۔ یعنی دیو مالا میں تمام کرداروں کو غیر معمولی صلاحیت کا حامل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

لوک کہانیاں اور داستانیں بھی دیو مالا سے بہت قریب ہیں کیوں کہ دیومالا داستانیں اور لوک کہانیاں روایتی کہانی کی مختلف قسمیں ہیں۔ دیومالا کی طرح داستانیں وہ کہانیاں ہیں جو روایتی طور پر صحیح تسلم کی جاتی ہیں۔ داستانیں عام طور پر انسانوں کو اپنے اصل کرداروں کی حیثیت سے شامل کرتی ہیں۔ جن کے کردار عام طور سے مافوق الفطرت عناصر پر قدرت رکھتے ہیں۔ دیومالا ، لوک کہانیاں اور داستانوں کے بیچ فرق دراصل صرف روایتی کہانیوں کی گروپ کے لیے مفید ہیں۔ بہت سی تہذیبوں میں دیومالا اور داستانوں کے درمیان واضح لکیر کھینچنا مشکل ہے۔کچھ تہذیبیں اپنی روایتی کہانیوں کو دیو مالا ، داستان اور لوک کہانیوں میں منقسم کرنے کے بجائے ان کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ایک جو تقریباً لوک کہانیوں سے میل کھاتی ہیں اور دوسرا وہ جو دیو مالا اور داستانوںکو ملاتی ہیں۔ دیو مالا اور لوک کہانیوں میں پوری طرح فرق نہ ہونے کی وجہ سے یہ کسی سماج میں صحیح خیال کی جاتی ہیں اور کسی دوسرے سماج میں افسانہ تصور کی جاتی ہیں۔ دراصل جب ایک دیو مالا ایک مذہبی نظام کے حصے کے طور پر اپنی حیثیت کھو دیتا ہے تو وہ لوک کہانیوں کی عام خصوصیت اپنا لیتا ہے۔اس کا پہلا والا خدائی کردار انسانی ہیرو ، دیویا پری میں بدل جاتا ہے۔

دیومالائی  عناصر کی ایک شکل خرافات بھی ہے اسے عربی کی اصطلاح میں دیومالا کے قبیل میں شامل کیا جاتا ہے۔ بقول ڈاکٹر یحییٰ نشیط:

’’اساطیر کے لیے ہمارے لیے یہاں دیو مالا کی اصطلاح بھی رائج ہے۔ عربی زبان و ادب میں خرافات کی اصطلاح بھی اسی قبیل کی ہے۔‘‘

(بحوالہ: اسطوری فکر و فسلفہ (اردو شاعری میں) مصنف : یحییٰ نشیط، ص۔۱۴)

Note: [عرب میں خرافہ ایک تاریخی شخصیت تسلیم کی جاتی رہی ہے جس کی بے سروپا اور بعید از عقل باتوں کو خرافات کہا جاتا ہے۔ اردو میں آج بھی خرافات کا لفظ لایعنی باتوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ معنی و مفہوم کے لحاظ سے متھ یا دیو مالا اساطیر یا خرافات ایک دوسرے سے مشترک ہیں اور ان کا ربط عام طور پر مذہب سے ہی رہتا ہے۔ اس طرح جہاں دیومالا کا ذکر ہوگا مذہب کا دخل بھی وہاں لازمی ہے ۔ بقول یحییٰ نشیط:

’’مذہب سے علیحدہ رکھ کر ہم اساطیر (دیو مالا) کی تفہیم کرہی نہیں سکتے ہیں ہاں یہ حقیقت اپنی جگہ نہایت ٹھوس اور مستحکم ہے کہ مذہبی مبادیات کو عقل تسلیم کرلیتی ہے۔ لیکن اساطیر کا معاملہ پرے از سرحد اداراک والا ہوتا ہے۔‘‘

(بحوالہ: اسطوری فکر و فسلفہ (اردو شاعری میں) مصنف : یحییٰ نشیط، ص۔۱۶)

[اساطیر اور دیو مالا ایک ہی قبیل کی چیز تسلم کی جاتی ہے اس لیے یہاں پر یہ قول نقل کیا گیا ہ ]

دیو مالا یا اساطیر کے مذہبی نظریہ کے مطابق اسطورہ کا وجود مذہبی رسوم سے منسلک ہے۔اس کی سب سے انتہائی شکل میں یہ نظریہ رسومات کو بیان کرنے کے لیے اساطیر یا دیو مالا ظہور میں آئی۔ یہ بات سب سے پہلے مشہور عالم William Robertson smith نے اٹھائی اسمتھ (Smith) کے مطابق لوگوں نے مذہبی رسومات کو کئی وجہ سے ادا کرنا شروع کیا جن کا تعلق اسطورہ سے نہیں تھا۔ آگے چل کروہ مذہبی رسوم کے لیے اس کی اصل وجہ کو بھول گئے۔ ایک اسطورہ کی ایجاد اور اس بات کو پیش کرتے کہ مذہبی رسوم اس اسطورہ میں بیان ہوئے واقعات یادگار کے طور پر مناتے ہیں ان کے ذریعہ وہ مذہبی رسوم کو سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ماہر  علم  بشریات جیمس فریزر (James Frazer) کا بھی Smith سے ملتا جلتا نظریہ ہے وہ ویہ مانتا ہے کہ اولین دور کا  انسان جادوئی طاقت پر عقیدہ رکھتا تھا لیکن جب اس کا  یقین اس سے اٹھ گیا تو اس نے دیوتائوں کے اساطیر شروع کیے اور یہ بات کہی کہ اس کا پہلا جادوئی رسومات مذہبی رسومات تھے جو دیوتائوں کو خوش کرنے کے لیے ہوا کرتے تھے۔

درج بالا تعریفوں کی روشنی میں اسطور یا دیو مالا کی اصطلاح میں تمام روایتی کہانیاں اور قصے شامل کیے جاسکتے ہیں۔ جن کا تعلق قدیم مذہب سے بھی ہو۔ یہ دیومالائی کہانیاں قدیم مصر کی داستان ہائے تخلیق سے لے کر آئس لینڈ کی لوک کہانیوں اور امریکی داستانوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ دیو مالا ہمہ گیر ہے تقریباً دنیا کی تمام ہی  تہذیبوں میں پایا جاتا ہے۔

اس طرح یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ دیومالا کا میدان محدود نہیں ہے بلکہ اس کی جڑیں ہماری تاریخ میں بہت دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ان کا تعلق صرف مذہب سے ہی نہیں لگایا جاسکتا ہے بلکہ ان کے ساتھ ساتھ سا تھ ان کا تعلق اور الگ الگ قبائل اور سماج کے رسومات سے بھی ہے۔ کچھ دیومالائیں سائنسی وضاحتوں کا درجہ بھی رکھتی ہیں۔ اور کچھ کا تعلق کچھ ایسی حقیقتوں سے ہے جو کسی قبیلے کی روزمرہ زندگی کے ہر پہلو پر غالب ہوتی ہیں۔ اس طرح دیومالا کے مطالعہ سے ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ اس دور سے تعلق رکھتی ہیںجسے ہم زبانی بیانیہ کا دور کہتے ہیں۔ یہ صرف کہانیاں ہی نہیں ہوتی بلکہ لوگوں کا یہ یقین ہے کہ یہ پہلے بھی واقع ہو چکی ہیں۔ یہ انسان کے ہر اس تجسس کو بھی پیش کرتی ہیں جس کا انسان ازل سے ہی شکار تھا۔ دیومالا دنیا کی جو ساری چیزیں ہیں کیسے وجود میں آئی اس کے متعلق ابھرنے والے سوالوں کا جواب بھی دینے کی کوشش کرتی ہیں اوران سے ان سارے رسومات کا بھی پتہ چلتا ہے جو انسانوں نے ابتدا میںجاری کیے اور آج بھی کچھ سماجوں میں جاری ہیں۔ بہر کیف مذکورہ  بالا باتوں کی روشنی میں یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ دیو مالا کی اپیل بین الاقوامی ہے اور انھیں کی مانند ان کا ذخیرہ بھی ہے

دیومالا سے متعلق جو باتیں اپرذکر کی گئی ہیں ان کی وضاحت کے لیے  یہ ضروری  معلوم ہوتا ہے کہ چند کہانیاں نمونے کے طور پر پیش کی جائیں۔ کائنات کی تخلیق سے متعلق سنتھال پرگنہ جھارکھنڈ کی ایک لوک کہانی اس طرح ہے

’’ابتدا میں ہر جانب پانی ہی پانی نظرآتا تھا۔ ٹھاکر جیو (خالق) نے سب سے پہلے مگر مچھ، کیکڑے، مچھلیاں اور چھوٹے بڑے آبی جانور بنائے اور انھیں پانی میں ڈال دیا۔ اس کے بعد پرندوں کا ایک جوڑابنایا جو اس کے کلیجے کے اندر سے نکلے، پھر اس جوڑے کو زندہ کردیا ۔اس کے بعد حکم دیا تمام آبی جانوروں کو کہ زمین کو پانی سے باہر نکالیں ان سب نے مل کر زمین کو پانی سے باہر نکالا۔ اس کے بعد ٹھاکر جیو نے پہاڑ پیدا کیے۔ پھر زمین میں بیج ڈالے، گھاس اگائی ،درخت لگائے ،پرندوں کو غذا ملی وہ چہچہانے لگے۔ ان پرندوں نے اپنا گھونسلہ بنایا مادہ پرندے نے دوانڈے دیے ان سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی نے جنم لیا ۔ انھوں نے کھیتوں سے دانے کھائے۔ دونوں اس وقت تک ننگے رہے جب تک کہ ٹھاکر جیو نے انھیں لباس کا احساس نہ بخشا دونوں نے پتوں سے اپنا ننگا پن دور کیا ۔ دونوں بڑے ہوئے اور سات اولادیں ہوئیں، پھر تعداد اور بڑھی بڑھتی گئی اس کے بعد ٹھاکر جیو کو ایسا لگا کہ انسان گمراہ ہورہا ہے ۔ انھوں نے پہاڑوں اور غاروں کے اندر جگہ دیں پھر آگ کی بارش کی سب اس کی بارش میں نہانے لگے۔ اور اس کے افزائش نسل کا سلسلہ اور تیز ہوگیا ۔ ٹھاکر جیو نے آبادی کو تقسیم کر کے مختلف علاقوں میں آباد کردیا اور وہ آج وہیں ان علاقوں میں آباد ہیں۔‘‘

(بحوالہ: ادب اور جمالیات، مرتب: شیخ عقیل احمد، ص۔۳۷)

ایک گھڑ والی متھ تخلیق کائنات کی کہانی اس طرح بیان کرتی ہے:

’’شروع میں نہ زمین تھی نہ آسمان نہ پانی تھا۔ صرف نرنکار جوگرو تھا جو وجود رکھتا تھا۔ گرو نے اپنے دائیں پہلو کو ملا اس کے رسنے سے ایک نسوانی گدھ پیدا ہوئی۔ گرو نے اپنے بائیں پہلو ملا اور اس کے رسنے سے ایک مرد گدھ پیدا ہوا۔ چنانچہ عورت گدھ کو مرد گدھ پر رکھا گیا۔ عورت گدھ کا نام سونی کروری اور مرد گدھ کا نام برہما کرور ۔ مرد کی شادی عورت سے کرائی گئی لیکن سونی کرور نے اعتراض کر تے ہوئے کہاکہ چونکہ ان دونوں کو ایک ہی گروں نے پیدا کیا ہے اس لیے وہ بہن بھائی ہیں جن کی شادی نہیں ہوسکتی ۔ اس کے ساتھ ہی اس نے اس کی بدصورتی کے بارے میں الٹی سیدھی باتیں کیں ۔ اس پر برہما کرور رونے لگا۔ سونی کروری کو سخت افسوس ہوا اور وہ اس کی آنکھوں سے ٹپکتے ہوئے آنسوئوں کو چگنے لگی۔ آنسوئوں نے اس کی بچہ دانی میں داخل ہوکر اس کو حاملہ کردیا۔ اب اس نے  برہماکرور کے ہاں جاکر اس سے گزارش کی کہ وہ اس کے لیے ایک گھونسلہ تیار کردے تاکہ وہ اس میں انڈے دے سکے۔برہما کرور تو اس سے پہلے نالاں تھا چنانچہ اس نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے عصمت کے بارے میں طنزیہ جملوں سے یوں وار کرنا شروع کیا ۔ تم بہت بدصورت ہو میں تمہیں اپنی بیوی کے طور پر قبول نہیں کرسکتا ۔ سونی رونے لگی۔ برہمار کرور کو رحم آگیا۔ پر اس نے اس کے کہا نہ تو کہیں زمین ہے اور نہ پانی جہاں تمہارے لیے ایک گھونسلہ بنایا جاسکے۔ اس لیے آئو اور اپنے انڈے میرے پروں پر دو۔ سونی نے جواب میں اس سے کہا ۔ تم وشنو کی سواری ہو۔ میرے انڈے دینے سے تمہارے پرگندے ہوجائیں گے۔ چنانچہ اس کے انڈے نیچے گر کر دوٹکڑے ہوگئے۔ ایک ٹکڑے نے زمین کی شکل اختیار کرلی اور دوسرنے آسمان کی ۔ انڈے کے اندر کا مواد سمندر اور گودا زمین بن گیا۔ اس طرح نرنکار نے دنیا تخلیق کی ۔‘‘

(کہانی کا ارتقا، ظہور الدین، ص۔۱۱۷)

تخلیق کائنات کے سلسلے میں ایک کہانی اور ہے :

’’دنیا وجود میں آنے سے پہلے یہاں ایک بڑا لامحدود سمندر کے سوائے اور کچھ نہیں تھا۔ سمندر کے بیچ میں ایک کنول تھا اس پر مہا پورب رہتا تھا۔ جس کے پیٹ سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے۔ یہ دونوں کنول میں کھیلتے تھے۔ بڑے ہوکر وہ اکثر لڑتے رہتے تھے۔ مہاپورب نے انھیں بلا کر کہا تم مجھے اپنے جھگڑوں کی وجہ سے بہت پریشان کرتے ہو۔ اور پھر انھیں اٹھا کر قتل کردیا۔ وہ جیسے ہی مرے ان کا گوشت زمین ، ہڈیاں پتھر ، خون پانی اور بال گھاس میں تبدیل ہوگئے۔ اس طرح دنیا تخلیق ہوئی۔

جب دنیا تخلیق ہوگئی تو مہا پورب نے ایک بار پھر سوچا۔ اور اس کے پیٹ سے پھر ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنی آنکھیں بند کردیں کیوں کہ ان کا خیال تھا کہ ان کا ایک دوسرے کی طرف دیکھنا گناہ ہے۔ مہا پورب نے انھیں ایسا مکّا مارا کہ ان کی آنکھیں کھل گئیں۔تاہم انھیں مخالف اطراف میں جلا وطن کردیا۔ اس طرح وہ بارہ برس تک بھٹکتے رہے۔ جب وہ دوبارہ ملے تو ان کی حالت اس قدر بدل چکی تھی کہ وہ ایک دوسرے کو پہچان نہ سکے۔ چنانچہ انھوں نے شادی کرلی۔ مہاپورب نے انھیں ساری دنیا کی بادشاہت عطا کردی۔‘‘

(ایضاً، ص۔۱۱۷)

اگر غور کیا جائے تو ہم پاتے ہیں کہ حقیقت میں دیوی دیوتا نے انسانوں کو جنم نہیں دیا بلکہ انسانوں نے ہی ان دیوی دیوتا کو پیدا کیا ہے۔ جب انسانوں نے اپنے آس پاس کی چیزوں مثلاً چاند، سورج، سمندر، دریا، پہاڑ، ندی ، طوفان، موت امراض، ہوا اور بارش پر غور کیا تو اس کے ذہن میں ایک تصویر بن گئی اور اس نے  یہ  جان لیا کہ جس طرح سردار اور آقا انسانوں پر حکمرانی کرتے ہیں اسی طرح یہ دنیا بھی کسی ان دیکھی قوت کے اشارے پر چل رہی ہے۔ اور یہی نہیں انسانوں نے اس جہاں کی ہر چیز کو کسی ان دیکھی قوت کے ساتھ وابستہ کردیا اور پھر ان کی طاقت کے اعتبار سے ان کی درجہ بندی کی۔

 

اساطیرداستاندیو مالالوک کہانیمافوق الفطری
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
نیا حمام-ڈاکٹر ذاکر فیضی
اگلی پوسٹ
غزل-داغ دہلوی

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں