Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

دو ہم تخلص اردو نثر نگار:مولانا ابوالکلام آزاد اور محمد حسین آزاد اشتراک واختلاف کے چند زاویے – ڈاکٹر عزیر احمد

by adbimiras نومبر 11, 2021
by adbimiras نومبر 11, 2021 0 comment

اردو  میں تخلص رکھنے کی روایت فارسی سے آئی۔  اردو شعرا میں سے اکثر نے اپنا تخلص اختیار کیا۔ بعض شاعر ایسے بھی ہیں جو اپنے تخلص سے اس قدر مشہور ہوئے کہ لوگ ان کا اصلی نام بھول گئے۔  شاعروں کے علاوہ نثر نگاروں میں بھی اپنے قلمی نام سے لکھنے کی روایت رہی ہے۔ یہاں پر بھی قلمی نام اور اصلی نام میں بعض دفعہ اشتباہ پیدا ہوجاتا ہے۔  کہا جاتا ہے کہ نام کا اثر شخصیت پر ہوتا ہے۔ یہ بات کسی پر صادق آتی ہو یا نہ آئی ہو مولانا ابوالکلام آزاد اور محمد حسین آزاد پر پورے طور پر صادق آتی ہے۔

مولانا آزاد اور محمد حسین آزاد دونوں نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی۔ آزاد تخلص اختیار کیا۔ لیکن ان کی شہرت کی وجہ شاعری کے بجائے ان کی نثر قرار پائی۔  گوکہ مولانا آزاد نے شاعری کو مکمل طور پر ترک کردیا لیکن محمد حسین آزاد  کا تعلق شاعری سے آخری وقت تک رہا۔ وہ شاعری میں نئی نظم کے بانی قرار پائے۔ ان کی قائم کردہ انجمن پنجاب کی سرپرستی میں موضوعاتی نظموں کا آغاز ہوا جس میں انگریزی ادب سے استفادہ کرکے نیچرل شاعری کی طرف توجہ دی گئی۔

مولانا آزاد نے شاعری  کا آغاز اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں کیا۔ مولانا آزاد نے شوق نیموی نام سے اصلاح لی۔  غزل رباعی، مثنوی اور قطعہ تقریباً ہر صنف میں آپ نے خامہ فرسائی کی تھی۔ مولانا کی شاعری کی عمر بھی چند سال ہی تھی۔ 1898 سے 1904 تک کل پانچ یا چھ سال کی مدت میں جو کلام بھی مرتب ہوا اس میں خیال کی پختگی نہیں ہے۔ اس میں ابوالکلام کی عبقری شخصیت تلاش کرنے والوں کو مایوسی ہی ہاتھ لگے گی۔  اس کے باوجود ان کے کلام میں موجود لطافت سے محذوذ ہوئے بغیر نہیں رہا جاسکتا۔  ان کے کلام  ارمغان فرح بمبئی، خدنگ نظر، لکھنؤ، مخزن، لاہور وغیرہ جیسے رسائل میں شائع ہوئے۔

مولانا آزاد کی شاعری کے نمونے:

ایسی بھری  ہیں یار کے دل میں کدورتیں

نامہ لکھا ہے مجھ کو تو خط غبار میں

 

پہلے تھا رخ کا تصور ،اب ہے گیسو کا خیال

وہ تھی صبح عشق گویا ، اور یہ ہے شام عشق

مولانا جو پیغام اپنی قوم کو دینا چاہتے تھے اس کے لیے شاعری کے بجائے نثر اور خطابت ہی زیادہ موزوں تھی۔ اس لئے جلد ہی اس سے دست بردار ہوگئے۔ لیکن شعرو شاعری کے مشق کی وجہ سے ان کی نثر  میں ایک قسم کا شاعرانہ حسن جھلکتا ہے جو شاعرانہ ذوق کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اس سے مولانا  کی تحریر وں میں شگفتگی آئی، مشہور شعرا کے دواوین  آپ نے پڑھے۔ حافظہ قوی تھا  ہزاروں کی تعداد میں عربی فارسی اور اردو اساتذہ کا کلام ازبر ہوگیا جس کی وجہ سے ان کی تحریروں میں جابجا اشعار موتیوں کی شکل میں بکھرے نظر آتے ہیں۔

مولانا آزاد کے والد  حنفی  مسلک میں اتنے سخت تھے کہ احمد رضا خاں بریلوی کے علاوہ کسی کو پورا مسلمان ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اس کے برعکس مولانا آزاد نے اس خانقاہی نظام سے بغاوت اختیار کرکے اپنے عقیدے کی بنیاد کتاب وسنت پر رکھی اور کسی خاص مسلک کی پیروی کو سرے سے خارج کردیا۔ مروجہ مسالک سے الگ مذہبی مسائل میں وہ ابن تیمیہ اور ابن قیم کی تحریروں سے رجوع کرتے تھے۔ مذہبی لحاظ سے وہ  مذاہب اربعہ سے الگ  تھے۔

محمد حسین آزاد ایک شیعہ گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد محمد باقر نے راسخ العقیدہ شیعی  عقائد کے خلاف علم بلند کیا اور شیخین پر تبرا کرنے کو شیطانی عمل قرار دیا جس کے نتیجہ میں شیعوں کی طرف سے  ان پر کفر کا فتوی بھی لگا۔ محمد حسین آزاد نے خاندان کے دیگر لوگوں کے مسلک کے بجائے  روشن  خیال شیعیت کو گلے لگایا۔  یہ بھی حقیقت ہے کہ والد پر فتوے کے خلاف وہ  دہلی کالج کے استاد سے بھی کئی بار جھگڑ چکے تھے جس کی وجہ سے ان کے دینیات کے استاد نے پرنسپل سے شکایت کی تھی کہ یہ پڑھنے نہیں مجھے پڑھانے آتا ہے۔ چناچہ رفع شر کے لیے پرنسپل نے ان کو سنی دینیات کی کلاس میں بھیج دیا جس کی وجہ سے ان کے یہاں وسیع المشربی پہلے سے زیادہ راسخ ہوگئی۔ الغرض مذہبی لحاظ سے دونوں آزاد  پرانے بندھنوں کا توڑنے والے تھے۔

دونوں آزاد کا مطالعہ کرنے سے پہلے ہمیں یہ بھی ذہن میں رکھنا ہوگا کہ دونوں کے درمیان کافی زمانی دوری ہے۔ محمد حسین آزاد مغلیہ دور حکومت کے عہد زوال  میں 5 مئی  1830 کو  دہلی میں پیدا ہوئے۔    جبکہ مولانا آزاد 1888 کو مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔  مولانا آزاد کی پیدائش  کے ایک سال بعد ہی یعنی 1989 میں محمد حسین آزاد  جواں سال بیٹی کی وفات کے غم میں دماغی توازن کھوچکے تھے۔ اگرچہ وہ  22 جنوری 1910 تک باحیات رہے لیکن عملی طور پر وہ مولانا آزاد کی پیدائش کے بعد مفلوج ہوچکے تھے۔    دونوں کی عمر میں لگ بھگ 58 سال کا فرق ہے۔ ایک آزادی کی پہلی لڑائی کا گواہ رہا تو دوسرے کے حصہ میں دوسری جنگ آزادی  آئی۔  محمد حسین آزاد نے اپنے والد مولوی محمد باقر کو  آزادی کی لڑائی میں کھویا جن کو انگریزوں نے دہلی "اردو اخبار” کی وجہ سے توپ سے اڑا دیا تھا۔ خود محمد حسین آزاد نیبھیس بدل کر اپنے باپ کی سزائے موت  دیکھا تھا۔ بعد میں وہ کئی سالوں تک روپوش رہے اور بالآخر سیاست سے توبہ کرلی۔  بعد میں انگریزی ملازمت بھی اختیار کی۔  جبکہ مولانا آزاد دوسری جنگ آزادی کے صف اول کے رہنماؤں میں سے تھے۔ کئی بار قید ومشقت بھی برداشت کرنی پڑی لیکن ان کے پائے استقلال میں جنبش نہیں ہوئی۔ آزادی کے بعد  آپ کو وزارت تعلیم کا قلمدان ملا جس کو انہوں نے بحسن وخوبی نبھایا۔ پہلے کو برطانوی عہد کا ابتدائی حصہ ملا  جبکہ دوسرے کو برطانوی عہد کا آخری حصہ۔

دونوں  کے درمیان زمانی دوری کے نتیجے میں ان کے اسلوب اور موضوعات میں بھی تفاوت ہے۔  اس بات میں دونوں متحد ہیں کہ دونوں کا میدان غیر افسانوی نثر رہا ہے۔  شاعری دونوں کے لیے ثانوی چیز تھی۔

صحافت:

دونوں آزاد کا تعلق صحافت سے تھا۔ محمد حسین آزاد  اپنے والد محمد باقر کے اخبار میں معاون کی حیثیت سے کام کررہے تھے۔  لیکن صحافت انہیں زیادہ راس نہیں آئی۔ انہوں نے جلد ہی اس سے خود کو اگ کرلیا۔  دراصل انہوں نے اپنے والد کا انجام دیکھ ہی لیا تھا۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ ان کا بھی وہی انجام ہو۔

اس کے برخلاف مولانا ابوالکلام آزاد نے صحافت کا پر خطرراستہ اختیار کیا۔ حکمرانوں کی دشمنی مول لی۔ قید وبند کی مشقتیں بھی برداشت کیں۔ لیکن اپنے قلم کو ہمیشہ تیز سے تیز تر کی طرف گامزن رکھا۔ الہلال کی حکومت مخالف تحریروں پر پائینر اخبار نے لکھا کہ تعجب ہوتا کہ حکومت مولانا کی تحریروں کو برداشت کیسے کررہی ہے؟ مولانا کی تحریروں میں حکومت کے خلاف جو طنز وتضحیک کا پہلو ہوتا ہے اس کا اثر انگریزی ترجمہ سے زائل ہوجاتا ہے۔   مولانا کی صحافتی زندگی کا باقاعدہ آغاز 1901 میں  "نیرنگ عالم” نامی شعری رسالہ سے ہوتا ہے لیکن  سب سے پہلا رسالہ جس نے سب نے شبلی اور عبدالماجد دریابادی جیسے ادیبوں کی توجہ اپنی طرف کھینچی "احسن الاخبار” تھا۔  "ندوہ” سے شہرت کے ایک اور پائیدان پر چڑھ کر "وکیل "سے شہرت کے ایک  اور اعلی مقام پر پہنچ گئے۔ یہاں پر پہنچ کر مولانا کو "وکیل” کی حکومت کی ہمنوائی والی پالیسی سیاختلاف ہوا اور 1912 میں "الہلال” کی صورت میں اپنا نیا رسالہ جاری کیا۔  پھر "الہلال”، "البلاغ "اور "پیغام” کی صورت میں یہ سفر وقفہ وقفہ سے جاری رہا یہاں تک کہ "الہلال” کی دوسری اشاعت  کے بند ہونے کے ساتھ 9 دسمبر 1927 کو آپ نے صحافت کی دنیا چھوڑ کر سیاست  اور خطابت کے لیے اپنے آپ کو خاص کرلیا۔

مولانا  کی صحافتی تحریریں عموما اصلاحی، سیاسی اور مذہبی نوعیت کی ہیں۔ یہ سبھی تحریریں عجلت میں لکھی گئی ہیں اس وجہ سے سبھی مضامین میں تحقیقی نوعیت کے مواد کی فراہمی ممکن نہیں ہیں۔  لیکن جو چیز ان تحریروں کو ممتاز بناتی ہے وہ ہے ان کا خطیبانہ اسلوب۔ بطور نمونہ الہلال کی ایک تحریر ملاحظہ فرمائیں:

"جو ہونے والا ہے اس کو کوئی قوم اپنی نحوست سے روک نہیں سکتی یقیناایک دن آئے گا کہ ہندوستان کا سیاسی انقلاب ہوچکا ہوگا۔ غلامی کی وہ بیڑیاں جو اس نے خود اپنے پاؤں میں ڈال رکھی ہیں بیسویں صدی کی ہوائے حریت سے کٹ کر گرچکی ہوں گی اور وہ سب کچھ ہوچکے گا جس کا ہونا ضروری  ہے۔ فرض کیجیئے گا کہ اس وقت ہندوستان کی ملکی ترقی کی ایک تاریخ لکھی گئی تو آپ کو معلوم ہے کہ اس میں سات کروڑ انسانوں کی نسبت کیا لکھا جائے گا؟۔ اس میں لکھا جائے گا کہ ایک قابل رحم انسانوں کا گلہ جس کے ہر فرد کو کسی کاہن نے اپنے منتر سے جانور بنادیا تھا۔۔۔۔ بالآخر سب کچھ ہوا جو ہونا تھا۔ بیسویں صدی میں کوئی ملک غلام نہیں رہ سکتا اور نہ رہا۔ لیکن دنیا یاد رکھے گی کہ جو کچھ ہوا اس قوم کی سرفرازی سے ہوا جو مسلم نہ تھی۔”

(خطبات آزاد مرتبہ مالک رام، ص: 339)

جہاں تک تحقیقی مضامین  کی بات ہے تو ہمارے دونوں آزاد میں نمایاں فرق ہے۔ مولانا آزاد جس کو حق سمجھتے ہیں اس کو بے دریغ بول دیتے ہیں۔  انہوں نے اپنے خاندانی وجاہت کو ثابت کرنے کے لیے کبھی بھی دروغ کا سہارا نہیں لیا۔  اس کے برعکس محمد حسین آزاد نے خود اپنے بارے میں کئی مواقع پر دروغ گوئی سے کام لیا۔ ذوق کی بیس سالہ شاگردی کا دعوی ہو یا سخن دان فارس کے بارے میں یہ دعوی کہ انہوں نے جو کچھ بھی لکھا وہ اپنے مشاہدے کی بیناد پر لکھا ہے  غلط بیانی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ذوق کی شاگردی انہیں کچھ سال ہی نصیب ہوئی تھی۔  اور انہوں نے وسط ایشیا کے ممالک کا سفر حکومت کے ایک خفیہ مشن کے طور پر کیا تھا۔  چونکہ  وہ اس کا اظہار نہیں کرسکتے تھے اس  وجہ سے انہوں  یہ ظاہر کیا کہ انہوں نے ایران کا سفر کیا تھا۔ اور وسط ایشیا کے ممالک پر قیاس کرکے ایران کے احوال اور کلچر کو لکھ دیا۔ ذوق کی شاگردی کے بارے میں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے بیس سال ذوق  کی شاگردی اختیار کی جو کہ قرین قیاس  نہیں ہے۔ آزاد کی پیدائش 1830 میں پیدائش ہوئی  اور 1854 میں ذوق انتقال کرگئے۔ کیا آزاد نے چار سال کی عمر سے ہی شاگردی اختیار کر لی تھی؟

محمد حسین آزاد کا چالیس سال کی عمر تک کوئی اہم قابل قدر کارنامہ سامنے نہیں آیا۔  ان کی سب سے پہلی باقاعدہ تصنیف "قصص الہند” 1868 کی ہے۔ جبکہ مولانا آزاد پندرہ سال ہی کی عمر میں ہی "لسان الصدق” کی وجہ سے علمی دنیا میں مشہور ہوچکے تھے۔

مولانا آزاد جن شخصیات سے متاثر تھے ان میں خود مولانا محمد حسین آزاد بھی تھے۔ مولانا آزادنے آب حیات کا فارسی ترجمہ بھی کرنا شروع کیا تھا۔ دوسرے باب تک ہی انہوں نے ترجمہ کیا تھا وہ اس کام کو مکمل نہیں کرسکے۔  مولانا آزاد نے ابتدائی زمانہ میں جب ایک شعری رسالہ نکالاتو اس کا نام بھی  آزاد  کی کتاب نیرنگ خیال کی مناسبت سے نیرنگ عالم رکھا۔  مولانا آزاد نے جس نثر کو اپنے اظہار کا ذریعہ بنایا اگر اس سے قریب تر نمونہ کوئی ہے تو وہ آزاد کے یہاں ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ کچھ کہا نہیں جاسکتا کہ آزاد تخلص اختیار کرنے میں بھی محمد حسین آزاد سے عقیدت کا جذبہ ہی کارفرما رہا ہو۔

محمد حسین آزاد کی کتاب نیرنگ خیال بعض انگریزی مضامین کا ترجمہ ہے۔ آزاد نے کبھی بھی کھل کر اس امر کا اعتراف نہیں کیا کہ وہ ان کے اصل خالق نہیں ہیں۔ اب تحقیق سے یہ بات معلوم ہوچکی ہے کہ یہ سبھی مضامین انگریزی سیترجمہ ہیں۔  ان کے اصل خالق جونسن، ایڈیسن  اور ٹیٹلر ہیں۔ لیکن  آزاد نے موقع  کی مناسبت سے اس میں پھیر بدل بھی کیا ہے ضرورت پڑنے پر انہیں ہندوستانی رنگ بھی دیا ہے۔  مثال کے طور پر ٹیٹلر کے مضمون: Vision of the Table of Fameکا ترجمہ "شہرت عام اور بقائے دوام” کے عنوان سے کیا اور اس میں انگریزی مشاہیر کی جگہ اسی انداز میں غالب، سعدی اور اونگزیب جیسی شخصیات کو رکھا ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد بھی محمد حنیی آزاد کی طرح دوسروں کے کار آمد مضامین کا ترجمہ کیا کرتے تھے۔  جس زمانے میں مولانا آزاد شاعری کی طرف توجہ دے رہے تھے اسی زمانہ کی کچھ نثری تحریریں بھی ملتی ہیں جو خدنگ نظر اور مخزن وغیرہ میں شامل ہوچکی تھیں۔  1901 اور 1902 کے درمیانی وقفے میں  شائع ہونے والے زیادہ تر مضامین ترجمہ یا دوسری کتابوں سے مستفاد ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ ہمارے بہت سے ناقدین اسے ترجمہ نہ مانیں لیکن ترجمہ کی ایک شکل یہ بھی ہے کہ مضمون کو پڑھنے کے بعد اس کا نفس مضمون  دوسری زبان میں منتقل کردیا جائے۔ ان کی زبان میں وہ  سلاست نہیں ہے جو مولانا کا اختصاص رہا ہے۔  لیکن ان مضامین کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کا قلم مہینوں کا سفر دنوں میں طے کرکے پختگی کی طرف مائل ہورہا ہے۔

اگرہم آزاد اور مولانا آزاد کی تصنیف کردہ کتابوں کا موازنہ کریں گے تو دونوں کے درمیان موضوع کے لحاظ سے بھی فرق پائیں گے۔ آزاد کی زیادہ تر کتابیں ماضی کے احوال پر مشتمل ہیں ۔ نیرنگ خیال تمثیلی مضامین کا مجموعہ ہے۔  اس کے برعکس مولانا آزاد کی تحریروں میں اس معنی میں تنوع ہے کہ ان کے یہاں  خود نوشت، انشائیہ مذہبی واصلاحی کتابیں سبھی طرح کی کتابیں  ہیں۔  ادبی لحاظ سے مولانا کی دو تحریروں کو زیادہ اہم مانا جاتا ہے۔ تذکرہ  اور غبار خاطر۔ دونوں کتابیں قید وبند کی یادگارہیں۔ پہلی رانچی کی نظر بندی میں سامنے آئی دوسری قلعہ احمد نگر کی قید کا نتیجہ ہے۔  اس کے علاوہ مولانا کی تفسیر  کو اگر اسلوبی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جائے تو وہ کسی بھی طرح ایک ادبی کتاب سے کم نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سید عبداللہ ترجمان القران کو غبار خاطر پر ترجیح دیتے ہیں۔

اگر ہم دونوں آزاد کی نثر کا تقابلی مطالعہ کرنا چاہیں تو محمد حسین آزاد کی نیرنگ خیال اور آب حیات کا مقابلہ تذکرہ اور غبار خاطر سے کیا جاسکتا ہے۔ گو کہ موضوع میں یکسانیت نہیں ہے۔ لیکن آزادین نے ان کتابوں میں انشا پردازی کے جونمونے چھوڑے ہیں ان کی بنیاد پر ان دونوں کے اسلوب کا مطالعہ فائدہ سے خالی نہیں ہوگا۔

آب حیات بیک وقت تذکرہ، خاکہ، تاریخ اور تنقید کی کتاب ہے۔  اس میں کس پہلو کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے ایک بحث کا موضوع ہے۔ میرے نزدیک یہ کتاب جدید قسم کا تذکرہ ہے۔  اس کے اندر آزاد نے  ماضی کے شاعروں کے احوال، شاعری کے نمونے اور ان کی شاعری کے بارے اپنی رائے پیش کی ہے۔

"آب حیات” ان شاعروں کے لیے آب حیات تو ثابت ہی ہوئی جن کا تذکرہ آزاد نے اس کتاب میں کیا ہے لیکن یہ کتاب خود مصنف کے حق میں  بیں آب حیات ثابت ہوئی۔ آج حالت یہ ہے کہ تذکرہ ، تاریخ، انشائیہ، خاکہ اور مضمون نویسی میں سے کسی بھی کا ذکر آب حیات کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ان میں سے اکثر کے بانی بھی  آزاد قرار پاتے ہیں۔  محمد حسین آزاد نے جن شاعروں کو اس کتاب میں جگہ دے دی ان پر تنقیدی وتحقیقی مضمون بھی اس کتاب کے ذکر کے بغیر ممکن نہیں۔ بعد کے محققین نے آزاد کی بتائی گئی بہت ساری باتوں کو غلط ثابت کردیا ہے لیکن اس کتاب کی اہمیت پھر بھی برقرار رہے۔ مولوی عبدالحق اس بات کی وکالت کرتے نظر آتے ہیں کہ اگر اس کو تاریخ کی کتاب ماننے میں تردد ہو تو اردو نثر کا اعلا نمونہ ہی سمجھ کر پڑھا جائے۔

جب ہم محمد حنیی آزاد کی مذکورہ بالا کتابوں کے اسلوب پر غور کرتے ہیں توپاتے ہیں کہ  آزاد کی حد سے بڑھی ہوئی رومانیت  انہیں باربار ٹھوکر کھانے پر مجبور کرتی ہے۔ پرانی تہذیب سے لگاؤ اور اس کی محبت  میں ہر جگہ رطب اللسان ہوتے ہیں۔  یہی محبت انہیں گزشتہ شاعروں کے بارے میں مبالغہ آرائی پر آمادہ کرتی ہے جس کی وجہ سے ان کی خامیاں بھی اچھائیاں معلوم ہوتی ہیں۔  آزاد کی سب سے بڑی خصوصیت ان کی مرقع نگاری ہے، وہ  پرانے شاعروں کے حالات بیان کرتے وقت ان کی نششت وبرخاست کا نقشہ اس طرح کھینچتے ہیں کہ ان کی تصویر قاری کے سامنے آجاتی ہے۔  آزاد درایت پر روایت کو ترجیح دینے کی وجہ سے بھی کئی مقامات پر ٹھوکر کھاگے  ہیں۔ انکے سامنے جو بھی پیش کیا گیا اس میں نمک مرچ لگاکر انہوں نے بیان کردیا۔   مواد کے لحاظ سے آزاد کچھ بھی ہوں اسلوب میں کوئی ان کا ثانی نہیں  ہے مہدی افادی لکھتے ہیں:

"سرسید سے معقولات کو الگ کر لیجیے تو کچھ نہیں رہتے۔ نذیر احمد بغیرمذہب کے لقمہ نہیں توڑ سکتے۔ شبلی سے تاریخ لے لیجیے تو قریب قریب کورے رہ جائیں گے۔ حالی بھی جہاں تک نثر کا تعلق ہے سوانح نگاری کے بغیر چل نہیں سکتے۔ لیکن آقائے اۡردو پروفیسر آزاد صرف انشائ پرداز ہیں جن کو کسی دوسرے سہارے کی ضرورت نہیں۔”

آزاد کا اسلوب شعریت میں ڈوبا ہوا ہے حقیقت یہ ہے کہ وہ  نظم میں  نثر لکھتے نظر آتے ہیں۔ وہ عموماً ایسے الفاظ اور تراکیب استعمال کرتے ہیں جو نثر کی بجائے نظم میں زیادہ موزوں معلوم ہوتے ہیں۔ آزاد پے درپے تصویریں بناتے چلے جاتے ہیں۔ تشبیہوں اور استعاروں کا جال بچھا دیتے ہیں اور الفاظ بھی چھانٹ کر ایسے لاتے ہیں جو ا س مقصد کے لیے زیادہ کارگر ہوں۔

جہاں تک مولانا آزاد کے اسلوب کی بات ہے تو ان کی نثر کو شعر منثور کہا گیا ہے۔  عمومی طور پر ان کی تحریروں میں خطیبانہ اسلوب پایا جاتا ہے لیکن تذکرہ اور غبار خاطر میں اس کی لو مدھم ہے۔ یہاں پر نہ بہت زیادہ علمی مضامین کی گراں باری ہے اور نہ دقیق فلسفیانہ موشگافیاں ہیں۔ مولانا چونکہ عربی زبان وادب کے ماہر ایک عالم  اور مفسر قران ہیں اس  وجہ سے جابجا قرانی آیات کے حوالے، اردو اور فارسی اشعار کے ساتھ عربی شعرا کے کلام کی پیوندکاری  ہے جو مولانا کے علاوہ کسی دوسرے کے یہاں دیکھنے کو نہیں ملتی ہے۔  مولانا کو الفاظ گڑھنے میں مہارت حاصل تھی اس معاملے میں وہ فارسی سے زیادہ عربی سے استفادہ کرتیتھے۔  اس معاملے میں کئی ناقدین نے مولانا کو تنقیدکا نشانہ بھی بنایا مگر یہ بھی  حقیقت ہے کہ اردو لفظیات کو مولانا آزاد نے عربی الفاظ سے استفادہ کی شکل میں  جو ذخیرہ دیا ہے اس کے لیے اردو زبان ہمیشہ کے لیے  ان کی مرہون منت ہے۔  تذکرہ میں وہ ایک جگہ اپنی جوانی کے ابتدائی دنوں کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:

"غفلت ومدہوشی نے افسوں  پھوکا۔ سرمستی وسرگرانی نے جام بھرے۔ جنون شباب نے ہاتھ  پکڑا اور ولولوں اور ہوس کے تقاضوں نے جو راہ دکھائی دل کی خود فروشیوں نے اس کو منزل مقصود سمجھا۔ ہوش وخرد کو گو پہلے حیرانی ہوئی لیکن پھر اس نے بھی بڑھ کر اشارہ کیا۔ راہ ہے تو یہی ہے اور وقت ہے تو اسی کا۔ ”  (تذکرہ)

مولانا عبدالماجد دریابادی لکھتے ہیں:

"قادر الکلا م کا لفظ ہمارے ہاں شاعروں ہی کے لیے استعمال ہوتا ہے، نثر نگاروں میں کسی پر اس کا اطلاق اگر پوری طرح ہو سکتا ہے تو وہ ابو الکلام کی ذات ہے۔ مضمون خوشی کا ہو یا غم کا۔ داستان رزم کی ہو یا بزم کی ، موضوع علمی ہو یا شعری، عنوان سیاسی ہو یا فلسفیانہ، یہ سدا بہار قلم ہر انداز ِ بیان، ہر اۡسلوب ِ نگارش اور ہر پروازپر یکساں قادر ہے۔”

خلاصۂ کلام یہ ہے دونوں آزاد اپنے علم اور اسلوب کے لحاظ سے اپنے اپنے دور کے نابغۂ  روزگار ہیں۔ مولانا آزاد اگرچہ علمی لحاظ سے کئی معاملوں میں "آب حیات” کے آزاد پر فائق ہیں لیکن آزاد خوش قسمت ہیں کہ ان کے پاس "آب حیات” ہے جو مولانا آزاد کے پاس نہیں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

عزیر احمدمولانا آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو کی تباہی کی ذمہ دار صرف سرکار ہی نہیں بلکہ ہم خود بھی ہیں۔ذکی طارق بارہ بنکوی
اگلی پوسٹ
مولانا آزاد اور ہندو مسلم اتحاد – اصغر شمیم

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں