مولانا ابوالکلام آزاد اس صدی کی ان عظیم ترین شخصیتوں میں سے ایک تھے جن کے نام سے یہ صدی پہچانی جائے گی۔ آپ ایک بلند پایا ادیب، جلیل القدر صحافی، منفرد سیاست داں، ممتازمفسّر قرآں، اعلیٰ پائے کے محدّث، بلند مقام مفکّر، صاحب فکرو فن، عظیم قومی رہنما اور ماہر تعلیم تھے۔ مولانا آزاد ہندوستان کی آزادی اور ملک کی تعمیرو ترقی میں جو رول ادا کیا اُس کی نظیر مشکل ہی سے کہیں اور ملے گی۔ مولانا آزاد کی شخصیت ان میں ایک ہے جن کے تذکرے کے بغیر تحریک آزادی کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے ہندوستان کی آزادی اور اس کی تعمیر و ترقی میں اپنی ساری زندگی وقف کر دی۔ وہ ایک بے باک صحافی اور نڈر لیڈر تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد ایک سچے دیش بھگت تھے۔ وہ ہندو مسلم اتحاد کی کڑیوں کو جوڑنے کی ہر ممکن کوشش کرتے رہے۔ انھوں نے تقسیم وطن کی شدت سے مخالفت کی اس لیے کہ وطن کی آزادی ہی ان کا نصب العین تھا۔
۲۱۹۱ء میں انگریزوں کے خلاف مسلمانوں کی طرف سے سب سے پہلی صدا مولانا آزاد کی تھی اور ساتھ ہی ساتھ انہوں نے اپنے ہم مذہبوں کو بھی اس طرف بلایا جو علیحدگی کی پالیسی پر قائم رہ کر اپنی ہستی کو ملک کی آزادی کے خلاف استعمال کر رہے تھے وہ چاہتے تھے کہ ہندوؤں پر اعتماد قائم کرکے سب کانگریس میں شریک ہوں اور ملک کی آزادی کو اپنا نصب العین بنائیں۔ اس وقت ان کی یہ پکار ان کے تمام ہم مذہبوں پر شاق گذری اور پوری قوت کے ساتھ ان کی مخالفت کی گئی لیکن بالا ٓخر وہ وقت آگیا جب مسلمانوں نے اس حقیقت کی سچائی کا اعتراف دل سے کیا ۶۱۹۱ء میں مولانا رانچی میں نظر بند تھے تو مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد کانگریس میں شریک ہو رہی تھی۔
الہلال کی اشاعت کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ وہ اس کے ذریعہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہتے تھے۔ ۵۲ اگست ۱۲۹۱ء کو آگرے میں مجلس خلافت کا خطبہ پڑھتے ہوئے مولانا نے اس مسئلے پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا:
”الہلال کے پہلے نمبر میں جس بڑے نمایاں مقصد کا اعلان کیا گیا تھا، میں فخر کے ساتھ اعلان کرنا
چاہتا ہوں کہ وہ ہندو مسلمانوں کا اتفاق تھا۔ میں نے مسلمانوں کو دعوت دی تھی کہ احکام شرع کے رُو سے مسلمانوں کے لیے اگر کوئی فریق ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ایشیا کو، مشرق کو بلکہ اس تمام کرہِ ارض کی سچائی کو آج چیلنج دے رہاہے۔اس کو مٹا رہا ہے جس کے غرور سے اللہ کی عالمگیر صداقت کو سب سے بڑا خطرہ ہے وہ برٹش گورنمنٹ کے سوا کوئی دوسری طاقت نہیں ہے۔ اس لیے ہندوستان کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ احکام شرع کو سامنے رکھ کر حضور پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے اُس آسوۃحسنہ کو پیش نظر رکھ کر، جو انھوں نے اہل مدینہ اور بُت پرست لوگوں سے مصالحت کرتے ہوئے دکھایا وہ نمونہ خود جناب سرورِ کائنات نے عملّا پیش کیا ہے اور عملّا و حکماّ جو تعلیم قرآن نے دی ہے، ہندوستان کے مسلمانوں کا یہ فرض شرعی ہے کہ وہ ہندوستان کے ہندوؤں سے کامل سچائی کے ساتھ عہدو محبت کا پیمان باندھ لیں اور ان کے ساتھ مل کر ایک نیشن ہو جائیں۔“
مولانا ابوالکلام آزادنے اپنی تحریروں کے ذریعہ مسلمانوں کی فکر کو ایک نئی راہ دی۔ مولانا کو یقین ہو گیا تھا کہ مسلمانوں کو ملک کی آزادی کی مہم میں شرکت اور معاونت کرنا چاہیے۔ انہوں نے مسلمانوں کو بے خوف ہو کر ہندوؤں کے ساتھ مل جانے کی دعوت دی۔ کیونکہ انگریزوں کی ”پھوٹ ڈالو اور حکومت کرو“ کی پالیسی نے ہندو مسلم اور ملک کے دوسرے طبقوں کو ایک دوسرے سے الگ کر کے رکھ دیا تھا۔ انگریزوں سے نجات حاصل کرنے اور ملک کو آزادی دلانے کے لیے یہ بہت ضروری ہو گیا تھا کہ ہندوستانیوں کو ایک دوسرے کے قریب لایا جائے ان میں باہمی اتحاد کا جذبہ، مشترکہ تہذیب کا احساس اور متحدہ قومیت کی اہمیت و افادیت کا خیال بیدار کیا جائے۔ انھوں نے ہندوستانی مسلمانوں سے اپیل کی:
”ہندوستان کے مسلمان اپنا بہترین فرض اس وقت انجام دیں گے جب ہندوؤں کے ساتھ ایک ہو جائیں گے تو یہ وہ لفظ ہے جو اللہ کے رسول نے اس وقت لکھوایا تھا جب ہم سب مل کر قریش کے مقابل ایک نیشن بن جاناچاہتے تھے۔“
مولانا ابوالکلام آزاد نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ مسلمان کے لیے اپنے وطن کی خدمت اور تعمیر و ترقی کی فکر اسلام کے احکامات میں داخل ہے۔ اس طرح وطنیت اور اسلامیات کے درمیان بھی کوئی فرق و تضاد نہیں۔ ایک ہندوستانی مسلمان جس طرح اپنے ہندوستانی ہونے پر فخر کر سکتا ہے اتنا ہی اپنے مسلمان ہونے پر بھی اس کو فخر ہونا چاہیے مولانا کے یہاں مذہب و سیاست دو چیزیں نہ تھیں۔ اُن کے عقیدے کے مطابق اُن کی سیاست بھی مذہب کے راستے ہو کر آئی تھی۔ وہ ملک کی جدوجہد آزادی میں اسی لیے لگے ہوئے تھے کہ یہ اُن کے نزدیک فریضۂ اسلام سے کم نہ تھا اور یہی پیغام وہ اپنے دوسرے ہندوستانی مسلمان بھائیوں کو دینا چاہتے تھے۔ ۳۱۹۱ء میں انہوں نے لکھا تھا:
”مسلمان ہندوستان میں رہتے ہیں۔ ہندوستان کی خدمت اُن کا دینی فرض ہے۔ انھوں نے جس جوش و ایثار سے جنگ طرابلس و بلقان اور مسجد کانپور کے معاملے میں حصہ لیا تھا اس معاملے میں بھی اسی طرح حصہ لیں۔ مسلمانوں کا نصب العین خدمتِ عالم ہے۔ وہ انسانیت کے خادم ہیں اُن کے
لیے خدا کی زمین کا ہر ٹکڑا مقدس اور اُس کے بندوں کا ہر گروہ محترم ہے۔“
مولانا آزاد ہندوستانیوں سے مخاطب ہو کر یہ کہتے ہیں کہ متحدہ قومیت کا یہ سانچہ ہم نے خود تیار نہیں کیا ہے بلکہ قدرت نے اپنے ہاتھوں سے اس کو تیار کیا ہے اورہمارے چاہنے یانہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا بلکہ ہم خود ایک ہندوستانی قوم اور ایک نا قابل تقسیم ہندوستانی قوم بن چکے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ علیحدگی کا کوئی بناوٹی تخیل بھی ہمارے اس ایک ہونے کو دو نہیں کر سکتا اور ہمیں قدرت کے اس فیصلے پر رضا مند ہو کر اپنی قسمت کی تعمیر میں لگ جانا چاہیے۔انڈیا ونس فریڈم میں مولانا آزاد رقم طراز ہیں:
”اُن دنوں انقلابی جماعتیں اپنے کارکن صر ف متوسط طبقے کے ہندوؤں سے چنا کرتی تھیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام انقلابی جماعتیں مسلمانوں کی مخالفت میں سر گرم تھیں۔ وہ دیکھتی تھیں کہ برطانوی حکومت نے ہندوستانی تحریک آزادی کی مخالفت میں مسلمانوں کو آلۂ کار بنا رکھا ہے اور مسلمان اس کے اشاروں پر چلتے ہیں۔ یہ بات انقلابی محسوس کرتے تھے لیکن رفتہ رفتہ انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور مجھے اعتماد حاصل ہو گیا۔ میں نے ان سے بحث کر کے یہ یقین دلانا چاہا کہ یہ ان کا خیال خام ہے کہ مسلمان بہ حیثیت ایک جماعت کے اُن سے دشمنی رکھتے ہیں اور یہ مناسب نہیں ہے کہ بنگال کے چند سرکاری ملازموں کے رویے سے انھیں جو تجربہ ہوا ہے۔ اسے وہ ایک عام حقیقت سمجھ بیٹھیں۔۔۔“
مولانا آزاد نے اپنی کتاب میں بنگال کے حوالے سے یہ باتیں اس لیے لکھیں کہ ان کی ملاقات شیام شنکر چکرورتی سے ہوئی تھی۔ یہ ایک ایسے انقلابی تھے جو وطن کی آزادی کے لیے ایسے قدم اٹھانا چاہتے تھے اور اٹھا رہے تھے جس میں انقلابی رویہ انتہائی شدید تھا۔۔۔لیکن وہ مسلمانوں کو انگریزوں کا دوست سمجھتے تھے اس لیے اپنی اس انقلابی تحریک میں وہ مسلمانوں کا شامل کرنا گوارا نہیں کرتے تھے لیکن جب مولانا آزاد نے ان کو پوری سچائی بتائی اور یہ بھی بتایا کہ کچھ سرکاری ملازمین ہیں جن کا تعلق خواص میں ہے اور انھیں بہت سارے مراعات حاصل ہیں اور وہ ان مراعات سے دستبردار ہونا نہیں چاہتے اس لیے ان کے اندر وہ قومی جذبہ نہیں لیکن عام مسلمان اتنا ہی مضبوط، قوی اور سرفروش ہے جتنا انقلابی ہندو۔۔۔اس طرح مولانا نے شیام شنکر چکروتی کے ان خیالات کو جو مسلمانوں کے حوالے سے منفی تھے،صحیح راستہ دکھایا۔
متحدہ قومیت مولانا کا عقیدہ تھا۔اُن کی ساری زندگی ہندو، مسلم اتحاد کا اعلیٰ ترین نمونہ تھی۔ انھوں نے اس اتحاد کے لیے خود بھی جدوجہد کیا دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دی۔ انڈین نیشنل کانگریس کے ۵۱دسمبر ۳۲۹۱ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے مولانا نے کہا:
”ہندو مسلم اتحاد ہماری تعمیرات کی وہ پہلی بنیاد ہے جس کے بغیر نہ صرف ہندوستان کی آزادی کی وہ تمام باتیں جو کسی ملک کے زندہ رہنے اور ترقی کرنے کے لیے ہو سکتی ہیں محض خواب و خیال ہیں۔ صرف یہی نہیں ہے کہ اس کے بغیر ہمیں قومی آزادی نہیں مل سکتی بلکہ اس کے بغیر ہم انسانیت کے ابتدائی اصول بھی اپنے اندر نہیں پیدا کر سکتے۔ آج اگر ایک فرشتہ آسمان کی بدلیوں سے اتر آئے اور قطب مینار پر کھڑے
ہو کر یہ اعلان کر دے کہ سوراج ۴۲ گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دستبردار ہو جائے تو میں سوراج سے دستبردار ہو جاؤں گا مگر اس سے دستبردار نہ ہوں گا کیونکہ اگر سوراج کے ملنےمیں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا لیکن اگر ہمارا اتحاد جاتا رہا تو یہ عالمِ انسانیت کا نقصان ہے۔۔“
اس طرح ہم دیکھ سکتے ہیں کہ مولانا آزاد ہندومسلم اتحاد کے بہت بڑے حامی تھے اور اس پر وہ عمر بھر ایک چٹان کی طرح اٹل رہے اور مسلسل اپنے خطبوں، تقریروں اور تحریروں کے ذریعے مشترکہ تہذیب اور متحدہ قومیت کو فروغ دینے پر زور دیتے رہے۔مولانا آزاد نے کہا:
”ہماری ایک ہزار سال کی مشترکہ زندگی نے ایک متحدہ قومیت کا سانچہ ڈھال دیا ہے۔ ایسے سانچے بنائے نہیں جا سکتے وہ قدرت کے مخفی ہاتھوں سے صدیوں میں خود بخود بنا کرتے ہیں۔ اب یہ سانچا ڈھل چکا ہے اور قسمت کی مہر اس پر لگ چکی ہے۔ ہم پسند کریں یا نہ کریں مگر اب ہم ایک ہندوستانی قوم اور نا قابلِ تقسیم ہندوستانی قوم بن چکے ہیں۔ علاحدگی کا کوئی بناوٹی تخیل ہمارے اس ایک ہونے کو دو نہیں بنا دے سکتا۔ ہمیں قدرت کے فیصلے پر رضا مند ہونا چاہیے اور اپنی قسمت کی تعمیر میں لگ جانا چاہیے۔۔۔“
آخر مین مولانا آزاد کے ہی ایک قول پرمیں اپنی بات ختم کرتا ہوں:
”میں اس بات پر فخر کرتا ہوں کہ مین ہندوستانی ہوں اور ناقابل تقسیم اور متحدہ ہندوستانی قومیت میں شامل ہوں۔۔۔۔“
اصغر شمیم ،کولکاتا،انڈیا
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

