Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

مولانا ابو الکلام آزاد کی تعلیمی خدمات – پروفیسر صالحہ رشید

by adbimiras نومبر 11, 2021
by adbimiras نومبر 11, 2021 0 comment

بھارت کی آزادی کی ۷۵ویں سالگرہ کے موقع پر حکومت ہند کے ذریعہ آزادی کا امرت مہوتسو منایا جا رہا ہے۔۱۵؍ اگست ۲۰۲۲سے ۷۵ہفتہ قبل اس پروگرام کی سرگرمیاں شروع ہو گئی ہیں۔ایسے موقع پر ان ہستیوں کو یاد کرنا ضروری ہو جاتا ہے جن کے خون کے قطروں سے لفظ آزادی لکھا جانا ممکن ہو سکاساتھ ان حضرات کی سعی جمیلہ پر بھی نگاہ ڈالنی ہوگی جنھوں نے آزاد ہندوستان کی ترقی کا خاکہ تیار کیا۔ ان سر بر آوردہ شخصیات میں مولانا ابو الکلام آزاد کا نام سنہری حروف میں لکھا جا نا چاہئے جنھوں نے اس وقت ایسا تعلیمی خاکہ تیار کیا جس پر آج بھی ہندوستانی تعلیم کا انحصار ہے۔

آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد کی تعلیمی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت ہند نے ان کے یوم پیدائش یعنی ۱۱ /نومبر کو یوم تعلیم کے طور پر منانے کا اعلان کیا جو ۲۰۰۸سے ملک کے تعلیمی و رفاہی سرکاری و غیر سرکاری اداروں میں یوم تعلیم کے نام سے منایا جا رہا ہے۔ مولانا آزاد نے ۱۵ /جنوری ۱۹۴۷ کو وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالا اور ۲/فروری ۱۹۵۸ تک اسی عہدے پر فائز رہے۔ ۱۹۴۷میں بابو راجندر پرساد کو دستور ساز اسمبلی کا صدر منتخب کیا گیا ۔اس وقت گاندھی اور نہرو نے اس خالی عہدے پرمولانا آزاد کی شکل میں ایک وزیر تعلیم مقرر کر دیا۔مولانا ملک کے حالات سے بخوبی واقف تھے جس کے پیش نظر وہ نوجوانوں کی اصلاح اور اقدار سلیم کے خواہاں تھے۔ ان کی ہمہ گیر و ہمہ جہت صلاحیت کا جس شعبے میں سب سے عمدہ مظاہرہ ہوا وہ تعلیم کا میدان ہے۔ انھوں نے تقریباً گیارہ برس تک ملک کے لئے تعلیمی خدمات انجام دیں۔وزیر تعلیم کا عہدہ سنبھالتے ہی انھوں نے یہ عزم کیا کہ وہ ہندوستان میں ایک اتنے مضبوط تعلیمی نظام کی بنیاد ڈالیں کہ آنے والی نسلیں اس پر عالی شان محل تعمیر کر سکیں۔

مولانا آزاد مختلف کمالات کا منبع تھے ۔ ان کی شخصیت علوم وفنون کا مصدر اور مرکز تھی۔ علم و فضل، دین و افکار، فلسفہ و حکمت، شعر و نغمہ ، تصنیف و تالیف، خطابت، صحافت اور سیاست ، غرض کون سا ایسا علم و ہنر کا میدان تھا جو ان سے اچھوتا رہا ہو۔سیاسی تدبر ایسا کہ مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو جیسے قوم کے عظیم رہنما آپ سے مشورہ کرتے اور آپ کی علمی و سیاسی بصیرت کا لوہا مانتے تھے۔وہ ایک مفکر تعلیم اور ماہر تعلیم بھی تھے۔ ملک میں تعلیم کے فروغ کے لئے بے حد فعال اور حساس تھے۔ انھوں نے وہ تعلیمی نظام اور فلسفہ ترتیب دیا جو اپنی مثال آپ ہے۔

مولانا کے تعلیمی فلسفہ کی اساس مشرقی افکار اور مغربی نظریات میں ہم آہنگی و توازن پر ٹکی تھی۔وہ نصاب و درس کے تعلق سے جدیدیت کے اور طریقۂ تعلیم کے لحاظ سے قدیم کے قائل تھے۔ ایک عالم دین اور مشرقی اقدار کے علمبردار ہونے کے باوجود وہ سائنس اور مغربی ٹکنا لوجی کی تعلیم کو ملک کی ترقی کے لئے ضروری سمجھتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ آزادانہ اور انسانی قدروں سے بھرپور تعلیم ہی لوگوں میں زبردست تبدیلی کا باعث ہو سکتی ہے۔ اپنے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کے لئے سب سے پہلے انھوں نے فروری ۱۹۴۸ لکھنٔو میں دارالعلوم کے سربراہوں اور مدارس و مکاتب کے ذمہ داروں کے ساتھ ایک کانفرنس کی اور ان سے جدید ٹکنالوجی کو اپنے نصاب میں شامل کرنے کی بات کہی۔انھوں نے کہا کہ تعلیم کا مقصد روزی روٹی کی فراہمی کے ساتھ کردارسازی کا ذریعہ ہونا چاہئے۔ ان کے تعلیمی نظریات کی بنیاد چار امور پر استوار ہے۔۔

۱۔ذہنی بیداری   ۲۔اتحاد و ترقی    ۳۔مذہبی رواداری   ۴۔ عالمی اخوت

پٹنہ یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیم اسناد میں مولانا نے فرمایا۔۔۔تعلیم پر ابھی ہمارا کوئی کنٹرول نہیں کیونکہ اس پر غیر ملکی حکومت کا قبضہ رہا ۔ انگریزوں نے اپنے طریقۂ تعلیم سے نوجوان نسل کے لئے دو خطرناک نظرئے پیدا کردئے۔ غلامی اور علاحدگی پسندی۔انگریزوں کا مقصد حکومت کے لئے ایسے کارندے تیار کرنا تھا جو ان کے کام آ سکیں۔لہٰذامولانا آزاد نے آزاد بھارت کے تعلیمی منشور میں غلامی کی جگہ آزادی اور تعصب کی جگہ مذہبی رواداری کو فروغ دیا۔جس کی بدولت ہم اپنے شاندار ماضی پر ناز کر سکیں۔ انھوں نے انگریز فرقہ وارانہ نظام تعلیم رد کر دیا اور ایک نیا نظام تعلیم قائم کیا ۔ اس کے لئے انھوں نے مختلف کمیشن قائم کئے کانفرنس اور سمینار کئے۔ اس طرح سکیولرزم اور قومی اتحاد کے مقصد کو آگے بڑھایا۔ انھوں نے انفرادی تعلیم کی بجائے قومی تعلیم کا تصور پیش کیا۔ ۱۹/اپریل ۱۹۴۹ئ؁ کو یونیسکو کے نیشنل کمیشن کی افتتاحی تقریب میں آپ نے فرمایا کہ اس ادارہ کی کئی شاخیں ہندوستان میں سائنس کے میدان میں اپنے پراجکٹ چلاتی ہیں۔ ہمیں ان سے استفادہ کرنا چاہئے۔

۱۹۵۰ میں آزاد نے سینٹرل ایڈوائزری بورڈ آف ایجوکیشن کے اجلاس میں تقریر کے دوران فرمایا کہ ٹیکنیکل تعلیم کے معیار کو بلند کرنے کے لئے ان کا پروگرام یہ ہے کہ موجودہ درسگاہوں کی ترقی و توسیع ہو۔تعلیمی اداروں کی عمارتوں کی مرمت اور توسیع ہو۔ نئی مشینیں منگوائی جائیں۔ جدید تعلیم سے آراستہ استادوں کا تقرر ہو۔ مولانا صرف کہتے نہیں تھے بلکہ اپنے قول کو عملی جامہ بھی پہنا دیتے تھے۔ انھوں نے کلکتہ کے قریب ہگلی میں حکومت بنگال سے ایک ہزار ایکڑ زمین لے کر ایسٹرن ہائر ٹیکنولاجی انسٹیٹیوٹ کا افتتاح کیا۔ اگست ۱۹۵۱ میں وہاں فرسٹ ائیر کی پہلی کلاس چل گئی۔ ۱۸/اگست کو کھڑگ پور انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کا افتتاح کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ہمیں

ٹیکنیکل تعلیم کے ذرائع اپنے ملک میں اتنے مضبوط کرنے ہیں کہ اس کے حصول کے لئے ہمیں غیر ملک نہ جا نا پڑے۔۱۹۵۱ئ؁ میں ہی شانتی نکیتن کو سینٹرل یونیورسٹی کا درجہ دلوایا۔ان کے مطابق تعلیمی نظام کوئی بھی ہو لیکن اساتذہ کی بہبود کے بغیر کسی قسم کی تعلیمی بہبود ممکن نہیں۔ ان کا خیال تھا کہ جو اچھا ہے وہ جہاں کہیں سے ملے لے لو اور جو برا ہے اسے وہیں چھوڑ دو۔ ان کے نزدیک سکنڈری سطح تک تعلیم کو مفت ہونا چاہئے تھا۔ تعلیم بالغان کا تصور پیش کرنے والے مولانا آزاد ہی تھے۔ وہ تعلیم نسواں کے بھی زبردست حامی تھے۔ان کا ماننا تھا کہ تعلیم صرف کتابی علم کا نام نہیں۔ ہندوستانیوں کو اپنی تہذیب و ثقافت سے بھی آگہی ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی پروفیشنل تعلیم ، فنون لطیفہ اور صنعت اور حرفت سے واقفیت کو بھی اہل وطن کے لئے ضروری سمجھا۔ اپنے اس نظرئے کو عملی شکل دینے کے لئے سب سے پہلے انھوں نے ملکی اور ریاستی سطح پر تعلیمی سرگرمیوں کو مربوط کرنے کی کوشش کی ۔ لہٰذا ان کی زیر نگرانی انگنت اسکول و کالجز اور یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں آیا۔ اسی دوران تحقیق کے مختلف مراکز بھی وجود میں آئے ۔

۱۹۵۰میں انڈین کائونسل فار کلچرل رلیشنس یعنی ICCRکا قیام

۱۹۵۱میں سیرو اکیڈمی

۲۸ دسمبر ۱۹۵۳کو یو جی سی کا پہلا اجلاس ہوا گو کہ اس کا قیام ۱۹۴۵میں عمل میں آ چکاتھا۔

۱۳ مارچ ۱۹۵۴کو نیشنل اکیڈمی آف لٹرز بنی جو بعد میں ساہتیہ اکیڈمی ہوئی۔

CSIR یعنی کائونسل فار سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل رسرچ

ٰICSSRیعنی انڈین کانسل فار سوشل سائنس رسرچ

Institute of International Studiesجو آج جواہر لعل نہرویونیورسٹیجانی جاتی ہے۔

سنگیت اور للت کلا اکیڈمی وغیرہ

ملک میں اعلیٰ تعلیم کی سرگرمیوں کو تیز کرنے کے لئے ۱۹۵۳ئ؁میں یونیورسٹی گرانٹس کمیشن وجود میں آیا ۔ اس کاکا م اعلیٰ تعلیمی اداروں کو سہولیات فراہم کرنا تھا۔ وزیر تعلیم رہتے ہوئے مولانا آزاد نے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کو ۱۹۵۶میں زیادہ وسائل عطا کئے ۔ان کے تعلیم سے متعلق پانچ پروگرام اس طرح تھے۔۔

۱۔ اسکول جانے والے بچوں کے لئے بس کی سواری کا انتظام ہو   ۲۔ ناخواندہ بالغوں کو سماجی تعلیم دی جائے   ۳۔ سکنڈری اور اعلیٰ تعلیم کا معیار بلند ہو   ۴۔ قومی ضرورت کے لئے فنونی اور سائنسی تعلیم ہو   ۵۔ فنون لطیفہ کو فروغ دیا جائے۔

مولانا آزاد کی تعلیمی خدمات کے اعتراف میں ذیل کے ادارے ان سے منسوب کئے گئے   ؎

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ، حیدرآباد

مولانا آزاد نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ٹکنالاجی، بھوپال

مولانا آزاد میڈیکل کالج، نئی دہلی

مولانا آزاد انسٹیٹیوٹ آف ڈنٹل سائنسز، نئی دہلی

مولانا آزاد ایجوکیشن فائونڈیشن ،نئی دہلی

مولانا ابو الکلام آزاد اسلامک اویکننگ سنٹر، نئی دہلی

وہ مشرق اور مغرب کے نظریوں میں میل پیدا کرنا چاہتے تھے۔ اس کے لئے انھوں نے ہندی زبان میں سائنس کی اصطلاحیں بڑھانے پر زور دیا۔ ان کا ماننا تھاکہ اپنی زبان میں علوم و فنون سیکھنا زیادہ سود مند ہے ۔ اس سے ہمارے ملک کی ترقی و توسیع ہوگی جب کہ غیروں کی زبان میں سیکھا گیا علم اکثر و بیشتر غیر ملکوں کو فائدہ پہنچا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ غیر ملکی زبان میں علم و فن حاصل کر لینے کے بعد ہمارے لوگ با آسانی دوسرے ملکوں میں زندگی گذار لیتے ہیںاور خود ان کا ملک ان کی خدمات سے محروم رہ جاتا ہے۔

تعلیم بالغان کا تصور انھوں نے پیش کیا تو کہا کہ ہم زیادہ انتظارنہیں کر سکتے ۔ بچے ابتدا ئی تعلیم حاصل کر کے اعلیٰ سطح تک پہنچیں گے تب تک ایک دہائی گذر چکے گی۔ اگر ہم اپنے ہنر مند لوگوں کو خواندہ بنا دیں تو اس کے مثبت نتائج فوراً بر آمد ہوں گے۔ اس کے لئے بڑی عمر کے لوگوں کو ہمیں اپنا مقصد سمجھانا ہوگا اور اس کے بعد کاغذ قلم ان کے ہاتھ میں تھما کر مشق کروانی ہوگی۔ چوںکہ وہ سمجھدار لوگ ہیں اس لئے ملکی مفاد فوراً فروغ پائے گا۔

اسی طرح عورتوں کی تعلیم پر انھوں نے اس لئے زور دیا کہ انھیں محسوس ہوا کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی صاحب عقل و ہوش ہیں ۔ گھریلو ذمہ داریوں کو انجام دینے کے بعد جو وقت بچتا ہے اس کا مصرف علم کے حصول کے لئے ہو تاکہ بچوں کی پرورش بہتر طریقے سے ہو ساتھ ہی ملکی مفاد میں عورتیں بھی اپنا تعاون دیں۔ اس سے ایک طرف اگلی نسل کی آبیاری ہوگی تو دوسری طرف ملکی ضرورتیں پوری ہوں گی۔

مدارس کے نصاب میں سائنس کو شامل کئے جانے کی بات کئی زاوئے سے فائدہ مند ثابت ہوتی۔ اول تو یہ کہ تعلیم گاہ کی تعمیر از سر نو نہیں کی جانی تھی۔ موجود وسائل میں صرف سائنس سے متعلق ذرائع کا اضافہ کر کے ملک کی ضرورت کے اعتبار سے مدارس سے ہی انجینئیر اور ڈاکٹر اور دیگر ماہرین پیدا ہو جاتے۔ آئی آئی ٹی اور دیگر ادارے بعد میں قائم ہوتے رہتے۔ اس سے آزاد ہندوستان میں ماہرین علوم فنون بہت

کم مدت میں اس خلا کو پر کر دیتے جو خارجیوں کے ہندوستان چھوڑنے پر پیدا ہو گیا تھا۔

بنیادی طور پر مولانا تعلیم میں روحانیت اور مادیت کا امتزاج دیکھنا چاہتے تھے۔وہ جدید سائنس کو اس طور پر عام کرنا چاہتے تھے کہ اخلاق دین و فلسفہ، ایک ساتھ رہیں۔ اس کے ذریعے قومیت کی جگہ بین الاقوامیت اور تعصب کی جگہ انسانیت کو فروغ ہو۔وہ تعلیم کو ایک ذریعہ سمجھتے تھے۔ اور اسے تمدن کے تابع دیکھنا چاہتے تھے۔

الغرض مولانا ابو الکلام آزاد اس سچائی پر یقین رکھتے تھے کہ تعلیم کے بغیر ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا۔ تعلیم کے ذریعے ہی اس ملک کو ترقی یافتہ اور مہذب ملکوں کی فہرست میں لایا جا سکتا ہے۔ان کی نگاہ میں قومی نظام تعلیم ملک کے نظام کا ناگذیر حصہ ہے۔ انھوں نے وزیر تعلیم کے عہدے پر فائز رہتے ہوئے تعلیم کے فروغ میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ، وہ ناقابل فراموش ہیں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مولانا آزاد اور ہندو مسلم اتحاد – اصغر شمیم
اگلی پوسٹ
مولانا آزاد قومی یکجہتی اور بین المذاہب ہم آہنگی کے سب سے بڑے داعی تھے:شیخ عقیل احمد

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں