سنبھل ایک تعلیمی وتاریخی شہر ہے، اس میں بے شمار علماء کرام پیدا ہوئے ہیں جنہوں نے جہاں قرآن وحدیث کی خدمات پیش کی وہیں سنبھل کا نام بھی روشن کیا۔ ان ہی علماء میں سے عصر حاضر میں ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی بھی ہیں جن کے قلم سے اب تک 56 کتابیں تحریر ہوئی ہیں۔ ڈاکٹر محمد نجیب قاسمی کی تین کتابوں کا اجراء سنبھل کے علماء کرام ودانشورانِ قوم کے بدست القلم پبلک اسکول، نخاسہ میں ہوا۔ ان تین کتابوں میں سے ایک کتاب ”دروسِ قرآن“ ہے، جس میں قرآن کریم کی آخری 19 سورتوں کی آسان زبان میں تفسیر بیان کی گئی ہے تاکہ ہر عام وخاص ان سورتوں کو اچھی طرح سمجھ کر پنچ وقتہ نمازوں میں پڑھے تاکہ جہاں نمازوں میں خشوع وخضوع پیدا ہوا وہیں دین کی ضروری معلومات بھی سب کو حاصل ہوجائے۔ دوسری کتاب ”دروس حدیث“ ہے، جس میں نبی اکرم ﷺ کے فرمان کی آسان شرح بیان فرمائی ہے۔ پوری امت مسلمہ کا اتفاق ہے کہ قرآن وحدیث شریعت اسلامیہ کے دو اہم مآخذ ہیں۔ تیسری کتاب ”سیرت النبی ﷺ کے چند پہلو“ ہے، جس میں آخری نبی حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ پر مختصر مگر جامع بحث کی گئی ہے۔ دروس قرآن ودروس حدیث ہندی اور انگریزی زبان میں بھی مہیا ہے۔
پروگرام کی نظامت مولانا مزمل حسین مرادآبادی نے کی۔ مفتی احسان قاسمی نے مصنف کی 56 کتابوں کا مختصر تعارف پیش کیا۔ مفتی محمد جنید قاسمی نے دروس قرآن، مفتی راشد قاسمی نے دروس حدیث اور مفتی محمد جنید سنبھلی نے ”سیرت النبی ﷺ کے چند پہلو“ پر اپنا قیمتی تبصرہ وتجزیہ پیش کیا۔ پروگرام کی صدارت مولانا عبدالمعید سنبھلی نے کی۔ مولانا عمران ذاکر قاسمی کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ پروگرام کے اختتام کے بعد تینوں کتابوں کا ایک ایک نسخہ حاضرین جلسہ کو پیش کیا گیا۔
شہر سنبھل کے علاوہ بجنور، مرادآباد اور امروہہ ودیگر علاقوں سے علماء کرام ودانشورانِ قوم کی کثیر تعداد نے شرکت کی جن میں مولانا میاں قاسمی، مفتی فرقان سنبھلی، مفتی مہر الٰہی قاسمی، مفتی عثمان قاسمی، ڈاکٹر جمال عبدالناصر، حکیم محمد ریان، پروفیسر عابد حسین حیدری، وقار رومانی، ماسٹر مقصود حسن، ڈاکٹر انظار حسین، محمد سہیم، محمد کمال، ڈاکٹر مجیب، مولانا محمد مکرم قاسمی، محمد حسیب، محمد مغیث، نظر الاسلام، محمد فینان، محمد کاظم، حاجی یامین برکاتی، محمد قمر، مولانا تنظیم قاسمی، مولانا حماد رسول، مولانا سبحان آصف، ڈاکٹر حفیظ الرحمن فلاحی، ڈاکٹر شہزاد علیگ، بدر جمال ساحل، مولانا شمشاد ندوی، عبدالرحمن ایڈووکیٹ، مولانا شاکر قاسمی، مولانا محب الرحمن قاسمی، حافظ شاہنواز، مولانا نور الاسلام،مولانا عادل قاسمی،مولانا نوید یوسف، شانِ رب علیگ، جنید ابراہیم، ریحان فلاحی، محمد عظیم فلاحی، مولانا زکریا قاسمی، مفتی مجیب الرحمن قاسمی، مولانا محمد طیب قاسمی، تنویر ایڈووکیٹ، قاری عبدالرحمن، قاری محمد اکرم، حافظ فخر عالم، شاہویز دانش ندوی اور محمد شہزیب کے نام قابل ذکر ہیں۔ خواتین نے بھی پروگرام میں شرکت کی جن میں ثمرین جمال، صوبیہ تنویر، انجم آرا، نازک نسرین، آفیہ سیف الاسلام، شاذیہ نواز اور ثنا انور کے نام قابل ذکر ہیں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

