ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی وفات کی خبر کل ذرا تاخیر سے موصول ہوئی۔ویسے ان کی پیرانہ سالی یعنی چڑھتی ہوئی عمر ،گرتی ہوئی صحت اور بڑھتی ہویی علالت کا علم ہم سب کو تھا پھر اس میقات میں ڈاکٹر رفعت، نصرت علی ،ٹی کے عبداللہ، مولانا یوسف اصلاحی، مولانا جلال الدین عمری اور کئی افرادیکے بعد دیگرے اس طرح رخصت ہوئے کہ جی لگا ہوا تھا۔ اس لیے یہ خبر سننے کے بعد نہ دل زور سے دھڑکا اور نہ آنکھیں اشک بار ہوئیں۔ہاں من میں ایک عجیب سناٹا اور باہر دور تک بیاباں سا منظر چھا گیا ۔
کیوں نہیں ان کی شخصیت ایسی زر خیز، گھنی ،شاداب اور لا لہ بار تھی کہ ان کے اُٹھ جانے کی خبر سننے کے بعد یہ احساسات فطری ہیں ۔ سچی بات یہ ہے کہ وہ اسلامی بصیرت اور عصری آگہی کے سچے اوربڑے کھرے ترجمان تھے۔ایک شانِ اجتہاد ان کی تحریروں اور تقریروں میں نمایاں تھا۔مانگے کا اجالا، ادھار لی ہوئی بصیرت اور مقروض فکر سے انھوں نے ہمیشہ خود کو کوسوں دور رکھا۔ان کی تحریروں میں باسی پن کا احساس کبھی نہیں ہوا۔
ڈاکٹر صاحب مرحوم معاشیات کے میدان کے شہہ سوار تھے۔ اس میں انھیں اختصاص کا درجہ حاصل تھا بلکہ اسلامی معاشیات میں ان کا علم تو اب حوالے کی حیثیت اختیار کرچکا تھا ۔اسی طرح تحریک اسلامی کے موضوعات پر ان کی گفتگو نشانِ راہ کاکام کرتی تھی۔ان سے جب بھی ملنے اور بات کرنے کا موقع ملا ایک ذہنی انبساط اور خوش گوار لمحات کا احساس حافظے میں محفوظ رہا ۔ ان سے آپ اختلاف کریں یا اتفاق اسی طرح وہ آپ سے اختلاف کریں یا اتفاق؛ گفتگو کے لہجے ، جذبات، احساسات اور تعلقات کے خدوخال پر کویی اثر نہیں پڑتا تھا۔بل کہ ان سے علمی اختلاف ذہنی مسرت کا ایک سامان بن جاتا تھا۔
یاد آتا ہے ثانوی درس گاہ کے حوالے سے ان کا نام جماعتِ اسلامی ہند میں شریک ہوتے ہی ہم لوگ سننے لگے تھے۔ڈاکٹر عبد الحق انصاری مرحوم اور وہ ،ہم نوجوانوں کے لیے اس وقت آئیڈیل تھے۔ حصولِ علم کے لیے ان کی قربانیاں جوشِ عمل اور دینی علوم کو اصل مآخذ سے حاصل کرنے کی تڑپ کا ذکر ،امراے حلقہ جات اکثر ان دنوں کیا کرتے تھے اور ہم لوگ رشک کرتے تھے کہ کاش ثانوی درس گاہ باقی رہتی اور ہم لوگ بھی استفادہ کرتے۔انھی دنوں ڈاکٹر صاحب مرحوم کی صاف گوئی اور شفاف رویّے سے تنظیمی معاملات میں شکایتیں بھی پیدا ہوگئی تھیں لیکن وہ اپنے رویّے کے لیے دلائل رکھتے تھے۔
ان سے میری پہلی تفصیلی ملاقات آج سے 45 ؍برس پہلے بھوپال کے خصوصی اجتماع مئی1977 میں ہوئی تھی جب انھوں نے اپنا قیمتی مقالہ ’ہندستان میں اقامت دین کی راہ‘ پیش کیا تھا۔جس میں انھوں نے پہلی مرتبہ اقامت دین کی تشریح و تعبیر میںجس طرح معاشرے کی تعمیر کی اہم کڑیوں سے سر سری گزر کر ریاست کی تشکیل کو اقامت دین کا مصداق سمجھ لیا جاتا ہے، اس پر نقد کیا تھا ۔ نیز سماجی قوت اور سیاسی قوت میں کیا رشتہ ہے ؟اخلاقی قوت اور سماجی قوت میں کیا تعلق ہے؟ نظریاتی انقلاب اور سیاسی انقلاب کا سفر کیسے طے پاتا ہے؟ قوت کے ذیلی مراکز پر اثر انداز ہونے کی کیا تدبیریں ہیں؟ان سب پر سیر حاصل بحث کی تھی۔اس وقت یہ باتیں جماعت اسلامی کے داخلی حلقوں میں تازہ افکار کا ایک خوش گوار جھو نکا معلوم نہیں ہوتی تھیں بل کہ بحث کا موضوع بنی ہوئی تھیں۔کہا جاسکتا ہے کہ ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی مرحوم نے تحریکِ اسلامی کی آئیڈیلو جیکل بحث کی نشو ونما میں کلیدی رول ادا کیا۔
مرکزی شوریٰ کے اجلاس میں بھر پور تیاری سے وہ شریک ہوتے تھے۔مولانا حامد علی صاحب نے مجھے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ارکانِ شوری میں سب سے زیادہ مطالعہ اور ایجنڈے کے مطابق علمی تیاری کر کے نجات اللہ صدیقی آتے ہیں۔شوری کی بحثوں میں اکثر گرمیِ گفتار کے سرخیل نجات اللہ صاحب مرحوم ہوتے تھے۔کاش وہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں اسلامک اسٹڈیز کے صدر شعبہ کی حیثیت سے کام کرتے ہوئے نئی نسل کی علمی وفکری تربیت کردیتے اور اس طرح ثانوی درس گاہ کا جو قرض اُن پر تھا، اس سے زیادہ کرکے ادا کر دیتے ۔ویسے انھوں نے اپنے علمی کام سے اس قرض کو بالآخر اُتار دیا۔
میں نے ایک دفعہ مرکز کی ایک مجلس میں اکیڈمی کی سرپرستی کی درخواست کرتے ہوئے ان سے شکایت بھی کی تھی کہ ان پر ثانوی درس گاہ کا شاید ایک دو پیسہ قرض باقی رہ گیا ہے۔اس کی ادائیگی کی صورت یہ ہے کہ وہ اس کے پیٹرن کی ذمّہ داری قبول کرکے ہم لوگوں کی حوصلہ افزائی کریں۔ چناں چہ انھوں نے بڑی خوش دلی سے اسلامی اکیڈمی کے تحت چلنے والا ادارہ IIIS R کے پیٹرن کی ذمّہ داری قبول کی۔ اس کے بعد جب وہ ہندستان آتے تو اکیڈمی ضرور تشریف لاتے۔اکیڈمی کے طلبہ بھی ان سے ملنے جاتے اور وہ سبھوں کا بڑی خندہ پیشانی سے استقبال کرتے اور ان کے سوالوں کے جوابات دیتے۔اکیڈمی میں جب ڈاکٹر عبد الحق انصاری لائبریری کا افتتاح ان کے ہاتھوں ہوا تو انھوں نے اپنے مرحوم دوست عبد الحق صاحب کو بہت فراخ دلانہ خراج عقیدت پیش کی۔
معاشیات اور تحریک اسلامی کے موضوعات پر ان کے مضامین کا ذکر سب کرتے ہیں لیکن کم لوگوں کو معلوم ہے کہ اسلامی ادب کے حوالے سے ان کا کام بہت بنیادی ہے۔ان کی دو کتاب ایک ’فنون لطیفہ اور اسلام‘ اور دوسری کتاب ’اسلامی ادب‘ ہے ۔ان دو کتابوں کے مطالعے کے بغیر شاید اسلامی ادب کا شعور نئی نسل میں ادھورا رہ جائے گا۔ چناںچہ نوجوانوں کی ادبی تربیت میں اسلامی جہت کی سمجھ پختہ ہو، اس کے لیے ادارہ ادب اسلامی کوان دونوں کتابوں کو پڑھنے پڑھانے کا رواج عام کرنا چاہتا ہے۔
آج وہ ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن جب تک رہے اور جب تک ان میں تب وتاب، طاقت اور توانائی رہی، انھوں نے علم وتحقیق کی جوت کو جگائے رکھا۔آج وہ نہیں ہیں لیکن ان کا علمی فیضِ عام جاری رہے گا۔اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے درجات بلند کرے آمین۔
ڈاکٹر حسن رضا
چیرمین
اسلامی اکیڈمی، دہلی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

