فیروز مرزا کی کتاب شبنم کی بوندیں – رشیدہ منصوری
شبنم کی بوندیں، فیروز مرزا کی غزلوں کا مجموعہ ہے۔ اس کی اشاعت مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی جانب سے کی گئی ہے۔ ۔شاعر کا تعارف نامہ، شخصیت اور ان کےادبی سفر کی روداد فیروز مرزا کی زبانی شامل اشاعت ہے۔کیا ہی بہتر ہوتا کہ فیروز مرزا کے فن پر ایک تنقیدی اور تاثراتی مضمون بھی شامل اشاعت ہوتا۔۔۔۔فیروز مرزا نے شعر وادب ، ذاتی زندگی اور غزل کے تعلق سے اپنےدو ٹوک خیالات اور اپنی جائے پیدائش ومشکلات اور ادبی سفر کے بارے میں مختصراً ،مجھے کچھ کہنا ہے،، کے عنوان سے قلمبند کیا ہے۔ شخصیت یا حالات زندگی شاعر اور اس کی شاعری کی تفہیم کا بھی ایک ذریعہ ہیں۔ یوں شاعر کے شعری ادراک کا سراغ ملتا ہے۔ فیروز مرزا کا مسلک شعر انھیں کے کہنے کے مطابق،، شاعری میں وارادت قلبی اور حادثات زمانہ کی خوبصورت ترجمانی کی جاتی ہے۔ جسے انھوں نے اپنی غزل کی صورت میں مجسم کردیا ہے۔۔ شبنم کی بوندیں قلبی وارداتوں اور زندگی کے حادثوں کا تخلیقی عکس ہے۔ شاعری کے لیے زمانہ ماضی کا ایک نسبت یک جہتی تجربہ ہے۔ جب صرف گل و بلبل ہی موضوع تھے ۔اج غزل مزاحمت اور روشن خیالی کے ساتھ انسانیت کے بلند مقاصد کا بیان اور ابلاغ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ ہاں واردات قلبی تو ہر کیفیت میں انسان کے ساتھ ساتھ اور شاعر کی شاعری کا محور رہتی ہے۔
فیروز مرزا کی غزل مرصع ہے۔ وہ محاورے اور استعارہ کو ہنرمندی اور سلیقہ سے استعمال کرتے ہیں۔ کیفیات کا بہاؤ اور اشعار میں موسیقیت کا آہنگ ان کے اشعار کی اثر آفرینی کا باعث ہے۔ اس مجموعہ میں بھرتی کے اشعار کہیں نہیں ہیں۔ اور ہو بھی کیسے انکے استاذ محترم مغربی بنگال کے قادرالکلام معتبر شاعر وادیب حضرت قیصر شمیم تھے جن سے انھوں نےفن شاعری کے تمام تر رموز و ارکان سیکھا ہے۔ کہیں کہیں تو ایک مصرعہ ہی بہت سے اشعار پر بھاری ہے۔
ان کی غزل سے ایک انتخاب آپ کے سامنے ہے۔ آپ بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں کہ وہ اشعار کیسے ہیں۔ ان کے شعرخود کہتے ہیں کہ ہمیں گنگناؤ اور ہمارے ساتھ زندگی کو نئے سرے سے جینے کے قابل بناؤ۔۔۔
روشنی کا سلسلہ تھا آپ کیوں آئے نہیں
گھر ہمارا اجل رہا تھا آپ کیوں آئے نہیں
آگئے میت پہ اب رکھنے کو ہمدردی کے پھول
قتل جب میرا ہوا تھا آپ کیوں آئے نہیں
گماں کی زد میں ہے سبز موسم مگر ابھی تک یقین بضد ہے
کہ شب گزیدہ حیات والو سحر کے جیسا دماغ رکھنا
تلوار کھینچ لی تھی مگر چھوڑنا پڑا
وہ کیسی بات کہہ گیا چپکے سے کان میں
ایک پتھر کو دیوتا سمجھے
پھر بھی کہتے ہیں مجھ سے کیا سمجھے
صحیفہ جان کر میں چومتا ہوں
مرے ہاتھوں میں ہے چہرہ تمہارا
واردات قلبی ہوں ،مشاہدہ یا عصر
کیا معلق ہوئی دعا دل کی
کیا فضاؤں نے کی نوازش پھر
مری غزل کے ہیں اشعار مثل آئینہ
کہ زندگی کا حسین عکس ہر خیال میں ہے
ابھی میری کہانی ہے ادھوری
مکمل بھی نہیں قصہ تمہارا
جلا یتیم کا گھر اور شور تک نہ اٹھا
کسی امیر کا ہوتا تو کیا سے کیا ہوتا
دشمنِ امن پھرا کرتے ہیں بے خوف یہاں
تہمتِ فتنہ ہے معصوم گنہ گاروں پر
دھنس گیا پتھروں میں اک قطرہ
محو حیرت ہے آزمائش پھر
موم کے گھر میں آگیا سورج
لگ گئی اک نئی نمائش پھر
زرد پتوں کا ہرے پیڑ سے رشتہ کیا ہے
پوچھتی رہ گئی برسات یہ قصہ کیا ہے
اجنبی شہر میں یہ کون بتاتا اس کو
شام ڈھلتے ہی یہاں چوک پہ ہوتا کیا ہے
پھول کی نرم و نازک ہتھیلی پہ ہے
اک لرزیدہ سی چشم نم زندگی
اس شہر پر خلوص میں رونق کے باوجود
رستے کی دھول چہرے پہ کیوں مل رہے ہیں لوگ
اپنی آنکھوں میں کسی خواب کا پیکر لے کر
کون یا ہے میرے پاس یہ منظر لے کر
وارادت قلبی کو سلیقے سے شعر میں سمو دینا
اور مشاہدہ کائنات کو غزل یا نظم کے پیکر میں ڈھالنا شاعر کا ہنر اور اس کی شخصیت کی تشکیل اور تکمیل بھی ہے۔ فیروزا مرزا بھی دل و نگاہ میں خواب بننے، نت نئےنقش بنانے اور اپنی الگ راہ ہموار کر نے والے فنکار ہیں۔
شبنم کی بوندیں، مشاہدے کے ساتھ شاعرانہ تعلی کی نمائندہ شاعری سے بھی خالی نہیں فیروز مرزا کا یہ شعر
اپنے ہونے کا اعلان کرتا ہو ا نظر آرہاہے ۔
نظم، قصیدہ، گیت، رباعی، افسانہ مضمون, غزل
صنف ہو جو بھی فضل خدا سے اس میں میری مات نہیں
اور جو باعث غزل ہے۔ اس کا ذکر اس پیرائے میں ہے۔
میری غزل کے افق پہ ہے تری زلف دراز
زمین شعر پہ کالی گھٹا ابھی تک ہے
غزل مضمون آفرینی کا ہنر بھی ہے۔
خیال کی نزاکت اور لہجے کی نفاست غزل میں جان ڈال دیتی ہے۔ اور فیروز مرزا کے ہاں یہ سارے رنگ موجود ہیں۔۔
بھرتی کے شعر اور سپاٹ مضامین غزل کے رنگ پھیکے کر دیتے ہیں۔ ایک فطری شاعر کے ہاں ایسا بہت کم ہوتا ہے۔ کیونکہ تخلیقی بہاؤ میں جو بھنور بنتے ہیں وہی شعر کی جمالیات اور مضمون اور وجد آفرینی ہیں ۔۔۔
روشن کتنے دیپ کئےان ہاتھوں نے
میں کیا بولوں پوچھ لو موسم بولیں گے
یہ آشوب شہر بھی کیا چیز ہے جو انسان کو ہمیشہ بے قرار رکھتا ہے۔ شاعری کی حساسیت کا دائرہ ہمیشہ سماج اور کائنات تک وسیع ہے۔ وہ غم ذات اور غم حیات کی ہر وادی میں سانس لیتا ہے۔ اور تخلیق کے چاک پر گومنا اس کا مقدر ہوتا ہے۔۔۔
سورجوں کے شہر اور موم کے پتلۓ،، اس استعارے میں کتنے درد ہیں۔ شہر کے ہر گھر کی دیواروں میں چنے دکھ۔ جنھیں صرف شاعر کی آنکھ دیکھتی ہے۔۔
موم کے پتلے بنانا فن ہے یا اک کھیل ہے
سورجوں کے شہر میں کیا خاک اندازہ لگے
فروخت کردیا خود اپنا جسم بھی اس نے
مٹا سکی نہ مگر بھوک تین بچوں کی
میری آنکھوں نے یہی دیکھا ہے اکثر دھوپ میں
ایک قطرے کو ترستا ہے سمندر دھوپ میں
دوپہر پیتی ہے کیسے خون اک مزدور کا
بیٹھ کر تم بھی کبھی دیکھو گھڑی بھر دھوپ میں
فیروز مرزا کیفیات کے بہاؤ اور غزل کی خوبصورت روایت سے منسلک شاعر ہے۔ وہ اپنی شاعری میں رد ماضی یا حال کی کسی مثالیت پسندی کا شکار نہیں۔ آشوب شہر آشوب ذات محبت اور احساس کے شاعر ہیں۔ شبنم کی بوندیں واقعی شبنم کی بوندیں ہیں رنگ مہک اور آہنگ کا خوب صورت نمونہ ہے۔
غزل جس نزاکت اور جس جمالیات کی طالب ہے۔ جس روایت سے وہ جڑے رہنا چاہتی ہے۔ اور جو جدت اس کے مزاج سے میل کھاتی ہے فیروز مرزا نے ناپ تول کر دوشیزہ غزل کا ایسا ہی بناؤ سنگھار کیا ہے۔ اردو غزل کے شائقین کے لیے شبنم کی بوندیں تحفہء عید کی طرح ہے۔۔ شاعر کو غزل کے ناز اٹھانے کا ڈھنگ آتا ہے۔ اسی لیے ہمیں بہت سے زندہ ، متحرک سلامت اورصدائے بانگ درا شبنم کے قطروں کی طرح دکھائی دیتی ہے۔
ان کی شاعری کی خوبصورت اٹھان، پیرائے اظہاراور دلچسپ شعریت کے باوجود ابھی بہت سے افق ایسے ہیں ۔جنھیں فیروز مرزا ابھی چھو نہیں پائے لیکن امید ہے ماضی قریب میں اس مقام تک انکی رسائی ہوگی۔ ۔ روایت سے انسلاک خوب ہے۔ جدید لب و لہجے کی چیخ اور مشینوں کے سہارے چلتی پھرتی ابن آدم کے غم اور ان کے مزاج کو سمجھنے میں شاید ابھی وقت درکار ہے۔۔ اور ایسا ہونا بھی چاہیے
ان کی روایات سے وابستگی اتنی مضبوط ہے کہ اس کے لیے ہم روایت پرستی تک قبول کر لیتے ہیں۔
لیکن فیروز مرزا کی شاعری میں جدید لب و لہجے کے آثار ناپید نہیں ہیں۔ چند شعر دیکھیں
ہوا میں آج تو بارود کا اثر بھی نہیں
مگر یہ کیا ہے کہ محفوظ کوئی سر بھی نہیں
”شبنم کی بوندیں“ کا مطالعہ کر نے پر مجھے امید نہیں بلکہ یقین ہے کہ میری طرح قارئین میں بھی خوب سے خوب تر اشعار کی تلا ش و جستجو کا جذبہ بیدار و توانا ہوگا۔فکر و فن کے
نو بہ نو تجرباتی زاوئیے، زندگی کے مختلف النوع تقاضے جبینِ غزل پر چمکدار قطرہ آب کی مانند دیکھائی دیں گے۔ مایوسی کی جگہ قوتِ احساس اور جرأتِ اظہارکی اطمینان بخش نمو دامنِ دل کے ساتھ ساتھ ذہن و دل کو بھی نئی تازگی اور بالیدگی عطا کرے گی۔ فیروز مرزا کو انسانی زندگی میں جا بجا نظر آنے والے بد اور با عظمت کردار، غازیء گفتار،آئینہ صفت سیرت و فعل کے حامل پیکر اور سماجی، سیاسی وگھریلو واردات و لطیف کیفیات کے تمام ترلوازمات کو بڑی ہنر مندی اور فن کاری سے نظم کرنے کا سلیقہ خوب آتا ہے جو ان کی شعری کائنات کا اہم جزو ہیں۔ انہوں نے اپنے کلام میں کہیں بھی دانستہ طورپرکسی بھی خیالِ نو اور تصور کو رائیگاں جانے نہیں دیا ہے۔ انہوں نے ایک فن کار کی طرح ہلکے پھلکے لفظوں اور سیدھی سادی تراکیبات کو چن چن کر خوب صورت پیرائے میں سجا کر شعر بنانے کی احسن کوشش کی ہیں۔ اپنی ذاتی تجربات و دریافت سے غزل کے حسن کی خوبصورتی کو مزید دلآویز کر نے کی سعی کی ہیں۔ فن کی کسوٹی پر براہ رست اثر انداز ہونے والے ان کے کئی اشعار توجہ طلب ہیں۔
اڑایا خود ہی مجھے اس نے اپنی ٹھوکر سے
اب آکے سر پہ گرا ہوں تو سر جھٹکتا ہے
تم کو دیکھ کے پڑجاتے ہیں دل میں بھنور
ایسا ہی کچھ تم بھی کہونا ہوتا ہے
ڈوب گئے کتنے ہی منظر پانی میں
اس نے پھینک دیا اک کنکر پانی میں
منزل بھی ڈھونڈ لوں گا اندھیروں کے دشت میں
جاگی رہیں گی جسم کی گر پانچ بتیاں
صدا بہ صحرا صدائے جرس ہے مدت سے
مگر تسلسلِ بانگِ درا ابھی تک ہے
جھکنا کہاں ضروری ہے یہ سیکھ جائے گا
داخل جو ہوگا سر کو اٹھا کر مکان میں
دھول شیشے پہ جگہ پاتے ہی جم کر بیٹھی
جیسے پھر لوٹ کے برسات نہیں آئی گی
خیال رکھتا ہے وہ سب کی عیب پوشی کا
یہی سبب ہے کہ خود بے لباس رہتا ہے
جن کی ذات میں مقناطیسی طاقت ہے
ان کی یہ پہچان ہے وہ کم بولیں گے
میرے اس مضمون سے قارئین کرام محظوظ ہوں گے یا نہیں مجھے اس کا بالکل اندازہ نہیں لیکن اتنا طے ہے کہ اس کے مطالعہ سے فیروز مرزا کی فن شاعری سے ضرور متعارف ہوں گے۔ مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ”شبنم کی بوندیں“ پڑھ کر میں نے اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کیا ہے بلکہ اپنے خیال و فکر کے آئینے سے تہہ بہ تہہ جمے بے جا اور گنجلک اشعار کے گردو غبار کو صاف کر نے میں کامیاب ہوئی ہوں۔ میں فیروز مرزا صاحب کے اس کارآمد، با مقصد، خوبصورت اور قابل مطالعہ شعری مجموعہ”شبنم کی بوندیں“ کا استقبال کرتے ہوئے انھیں مبارکباد کے ساتھ کامیابی کی دعا بھی کرتی ہوں اور نقش ِدوئم کی خواہش بھی رکھتی ہوں۔
رشیدہ منصوری
ایڈیٹر ۔۔۔’بدلتے وقت کی آواز ‘
چھاؤ تلہ ماکوردہ پوسٹ۔۔۔نیبڑا ضلع ہوڑہ
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

