Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

غالبؔ کی حب الوطنی ،اٹھارہ سو ستاون کا ماحول اورگوپی چند نارنگ – ڈاکٹر صالحہ صدیقی

by adbimiras فروری 12, 2021
by adbimiras فروری 12, 2021 0 comment

یک قلم کاغذ آتش زدہ ہے صفحہ ٔ دشت

نقش پا میں ہے تب گرمی رفتار ہنوز       (غالبؔ)

گوپی چند نارنگ صرف ایک نام ہی نہیں بلکہ اردو میں انقلاب کا دوسرا نام ہے ۔انھوں نے تا عمر اردو کی خدمات کیں اور آج بھی اردو سرگرمیوں میں اردو کی سمت و رفتار پر گہری نظر رکھتے ہے۔ان کی خدمات ان کے علم و فن ان کے افکار و نظریات سے اردو کا شاید ہی کوئی طالب علم بے خبر ہو ۔یوں تو گوپی چند نارنگ کی علمی و ادبی خدمات کا دائرہ بہت وسیع ہے ۔ان کے افکار و نظریات میں بہت پیچیدگی اور الجھاؤ بھی ہے جسے سمجھنا غور و فکر کرنا اس پربحث و مباحثہ کرنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔ان کی تحریروں کے نکات ،اشارات اور افکار و نظریات کو سمجھنے کے لیے وسیع مطالعہ اور ادب پرگہری نظر کی ضرورت ہے۔اسی طرح مرزا غالب ؔ کی شاعری بھی ہے جسے سمجھنے اور سمجھانے کا سلسلہ آج تک رواں ہے ۔ان کی شاعری کا یہ عالم ہے کہ ہر مطالعہ سے معنویت کی ایک نئی تہہ روشن ہو جاتی ہے ۔ان کی شاعری میں زندگی اور فکر و فن کا وہ دریا سمویا ہے کہ جتنی گہرائی میں جائے اتنا گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔

بہر حال غالبؔ کے فکر وفن ان کی شاعری پر اردو کے ممتاز قلمکاروں اور مفکروں و دانشوروں نے اپنے نظریات پیش کیے اور نئے انکشافات کیے ان میں اہم نام گوپی چند نارنگ کا بھی شامل ہیں ۔نارنگ صاحب کے کئی مضامین غالبؔ کے فکر وفن پر لکھے گئے ہیں جن میں غالب ؔ کی حب الوطنی بھی اہم ہے ۔

مرزا غالب نے 1857 کا غدر کا ہنگامہ اپنی آنکھوں سے دیکھا ۔غالب اس ہنگامے کے وقت دہلی میں ہی موجود تھے ۔جس کا بیان انھوں نے اپنی فارسی کتاب ’’دستنبو‘‘ میں کیا اور آنکھوں دیکھا حال بیان کیا۔ اس ہنگامے سے غالب کے حساس دل پر جو کچھ گزری انھوںنے تمام احساسات کو قلمبند کر لیا جس کا ذکر انھوں نے اپنے مختلف خطوط میں بھی بات چیت کے انداز میں کیا ۔غالب کی شاعری ان کے خطوط اور دستنبو کے مطالعہ سے غالب کی حب الوطنی اور اس وقت کے خونخوار ماحول کا بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے ۔ایسا ہی ایک واقعہ بیان کرتے ہوئے اپنے ایک خط میں مرزا غالب لکھتے ہیں ’’میں مع زن و فرزند ہر وقت اس شہر میں قلزم خوں کا شناور ہوں ۔دروازے سے باہر قدم نہیں رکھا،نہ پکڑا گیا ،نہ نکالا گیا ،نہ قید ہوا ،نہ مارا گیا ۔‘‘ (۱)غالبؔ کی مصیبتیں یہی نہیں رکی بلکہ وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئیں۔ایک اور خط میں لکھتے ہیں’’دہلی پر انگریزوں کا دوبارہ تصرف ہو جانے کے بعد غالب ؔ پر پے در پے مصیبتیں نازل ہونا شروع ہوئیں ۔اس وقت وہ محلہ بلی ماران میں حکیم محمد حسن خاں کے مکان میں رہتے تھے ۔ فتح شہر کے بعد پانی وغیرہ کا سلسلہ بھی بند ہو گیا اور دو دن بے آب و نان بسر کرنا پڑے(۲) غالب کی بڑھتی مصیبتوں اور تکلیفوں کا ذکر کرتے ہوئے گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں :

’’لڑائی کے دوران غالب کے دوستوں ،عزیزوں اور شاگردوں میں سے کئی قتل ہوئے ،کئی انگریزوں کے معتوب ٹھہرے اور کئی خانماں برباد دہلی سے نکل گئے ………مولوی فضل حق خیر آبادی کو کالے پانی کی سزا ہوئی ۔شیفتہ کو حبث ہفت سالہ کا حکم سنایا گیا ،صدر الدین آزردہ کی ملازمت موقوف ،جایداد ضبط۔نواب ضیاء الدین اور نواب امین الدین ،دہلی پر انگریزوں کے غلبے کے بعد لاہور جانے کے لیے روانہ ہوئے ۔ابھی مہر ولی تک پہنچے تھے کہ لٹیروں نے لوٹ لیا ۔ادھر دلی میں ان کا گھر تاراج ہوا اور تقریبا ’’۲۰ ہزار روپے کی مالیت کا کتب خانہ ‘‘ لٹ گیا ۔(اردوئے معلی،ص، )مرزا کا فارسی اور اردو کلام ان کے ہاں جمع ہوتا تھا وہ بھی ضائع ہو گیا ۔مظفر الدین حیدر خاں او ر ذوالفقار الدین حیدر خاں (حسین مرزا ) پر اس سے بھی بڑھ کر گزری ۔نہ صرف ان کے گھروں پر جھاڑو پھر گئی بلکہ پردوں اور سائبانوں میں ایسی آگ لگی کہ گھر پھک گیا ۔‘‘(۳)

ان تمام حالات کو مرزا غالب نے بھی یوسف مرزا کو لکھے اپنے ایک خط میں بیان کیا اور تمام مصیبتوں پر روشنی ڈالی ۔اس خط میں مرزا غالب ؔ کی ذہنی اور جذباتی کیفیات ان کی تکلیف کو بھی بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے ،لکھتے ہیں :

’’میرا حال سوائے میرے خدا اور خداوند کے کوئی نہیں جانتا ۔آدمی کثرت غم کے سودائی ہو جاتے ہیں عقل جاتی ہے ۔اگر اس ہجوم غم میں میری قوت متفکر ہ میں فرق آگیا ہو تو کیا عجب ہے بلکہ اس کا باور نہ کرنا غضب ہے ۔پوچھو کہ غم کیا ہے ،غم مرگ ،غم فراق ،غم رزق ،غم عزت ،غم مرگ میں قلعہ ٔ نا مبارک سے قطع نظر کر کے اہل شہر کو گنتا ہوں ۔مظفر الدولہ ،میر ناصر الدین مرزا عاشور بیگ میرا بھانجہ ،اس کا بیٹا احمد مرزا انیس برس کا بچہ ۔مصطفی خاں ابن اعظم الدولہ اس کے دو بیٹے ارتضیٰ خاں اور مرتضیٰ خاں ،قاضی فیض اللہ ،کیا میں ان کو اپنے عزیزوں کے برابر نہیں جانتا تھا ۔اے لو بھول گیا ۔حکیم رضی الدین خاں ،میر احمد حسین میکش ،اللہ اللہ ! ان لوگوں کو کہاں سے لاؤں ۔‘‘ (۴)اسی طرح ایک اور خط میں غالب نے اپنے درد دل کو بیان کرتے ہوئے لکھا :

’’یہ کوئی نہ سمجھے کہ میں اپنی بے رونقی اور تباہی کے غم میں مرتا ہوں ،انگریز کی قوم میں سے جو ان روسیاہ کالو ں کے ہاتھ سے قتل ہوئے اس میں کوئی میرا امید گاہ تھااور کوئی میرا شفیق ،اور کوئی میرا دوست ،کوئی میرا یار اور کوئی میرا شاگرد۔ہندستانیوں میں کچھ عزیز ،کچھ دوست ،کچھ شاگرد،کچھ معشوق،سو وہ سب کے سب خاک میں مل گئے ۔ایک عزیز کا ماتم کتنا سخت ہوتا ہے جو اتنے عزیزوں کا ماتم دار ہو اس کی زیست کیونکر نہ دشوار ہو ۔ہائے اتنے یار مرے کہ جو اب میں مروں گا تو میرا کوئی رونے والا بھی نہ ہوگا ۔‘‘(۵)

غدر کے حالات نے ہر طرف تباہی و بربادی اور انسانی زندگی کو تہس نہس کر دیا تھا ،جس کا اندازہ غالب کے خطوط میں بیان کردہ حالات سے بخوبی ہو جاتا ہے۔گوپی چند نارنگ نے بھی اس عہد کے حالات کو غالب ؔ کے نظریے سے سمجھا اور اس وقت کے حالات پر غو ر فکر کیا ۔اکثر لوگ غالب کی وطن پرستی پر سوال اٹھاتے ہیں اور انگریزوں کی تعریف میں لکھے قصیدوں پر انھیں گنہگار ٹھہراتے ہیں لیکن غالب جیسا ذہین ،مفکر شاعر ایسا کیوں کر رہا تھا ؟ یہ سوچنے کا موضوع ہے ۔غالب ؔ کی تکلیف،اس وقت کے حالات و واقعات،خون ریزی ،آتش زدگی اور حیوانیت کو جس طرح پیش کیا جس طرح اپنے احساس کو رقم کیا اس سے یہ اندازہ لگانا بہت آسان ہو جاتا ہے کہ غالب کس درد و کرب سے گزر رہے تھے ایسے میںاس وقت کے حالات پر اپنے غصے کو باہر نکالنا سب سے آسان کام تھا لیکن اپنے اوپر ضبط کر غالب نے جس طرح انگریزوں کی تعریفیں کیں ان کی شان میں قصیدے کہے وہ یقینا ان کے دواندیشی کی طرف اشارہ ہے۔جس کو گوپی چند نارنگ نے بخوبی بیان کیا ،لکھتے ہیں :

’’غدر کے بعد دہلی کے جو حالات تھے ،جس طرح جگہ جگہ پھانسیاں لگی ہوئی تھیں اور جس طرح باشندگان دہلی کے قتل و خون کا بازار گرم تھا ان حالات میں غالب سے بغاوت کی موافقت یا انگریزوں کی مخلافت کی توقع تو نہیں کی جا سکتی لیکن غالب نے جس طرح بڑھ چڑھ کر انگریزوں کی مدح و ستائش کی ہے ،وہ خاصی معنی خیز ہے ۔آخر ایسی کیا بات تھی کہ غالب اس درجہ تعریف پر مجبور تھے ؟ اس سوال کے جواب میں مندرجہ ذیل حالات کا علم دلچسپی سے خالی نہ ہوگا:

1855 میں غالب نے ملکہ وکٹوریہ کی تعریف میں ایک فارسی قصیدہ لکھ کر لارڈ کیننگ کی معرفت ولایت بھجوا یا تھا ۔اس کے ساتھ ایک عرضداشت تھی کہ روم اور ایران کے بادشاہ شاعروں پر بڑی مہربانیاں کرتے ہیں اور اگر برطانیہ کی ملکہ مجھے خطاب ،خلعت اور پنشن سے سرفراز کرے تو بڑی عنایت ہوگی ۔غالب کو جنوری 1857میں لندن سے جواب ملا کہ درخواست پر تحقیق کے بعد حکم صادر ہوگا ۔اس جواب کو پاکر مرزا ’’کوئین پوئٹ ‘‘ ہونے کا خواب دیکھ رہے تھے کہ تین ماہ بعد غدر ہو گیا …………..غدر کے ایام میں ایک جاسوس گوری شنکر نے انگریزوں کو خفیہ اطلاع دی کہ 18جولائی 1857کو جب بہادر شاہ نے دربار کیا تو مرزا غالب نے سکہ کہہ کر گردانا ۔چنانچہ امن قائم ہونے کے بعد جب غالب نے پنشن اور دربار بحال کیے جانے کے لیے جنبانی کی تو انھیں صاف صاف کہا گیا کہ وہ غدر کے دنوں میں باغیوں سے اخلاص رکھتے تھے اور اس بنا پر ان کی پنشن اور دربار موقوف رہا ۔‘‘(۶)

اس اقتباس کے مطالعہ سے غالب کے اصل مقصد کی وجہ کافی صاف ہو جاتی ہے لیکن غالب اس برے وقت میں بھی انگریزوں کی شان میں جو قصیدے کہہ رہے تھے اس پر مزید وضاحت کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس سے یہ تصویر اور بھی صاف ہو جائے گی کہ غالب جو کچھ کر رہے تھے خوشی سے نہیں بلکہ زندہ رہنے کے لیے اور کوئی راستہ بچا نہیں تھا ،ضرورتیں پوری کرنے کے لیے خوشامد ہی واحد راستہ بچا تھا،اس کے علاوہ غالب کی حب الوطنی پر اٹھ رہے سوالوں کے جواب اور ان کے پیچھے کیا اہم وجوہات تھے ان تمام  موضوعات کو سمجھنے کے لیے یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں :

’’یہ غالب کی شخصی اور ذاتی ضرورتیں تھیں جن کی وجہ سے وہ انگریزوں کے اثرات سے علم و آئین کی جو نئی کرن پھوٹ رہی تھیں ،غالب اس کا خیر مقدم کرتے تھے کیونکہ ان ترقیوں کے مقابلے میں انھیں مغلیہ نظام ازکار رفتہ اور بوسیدہ معلوم ہوتا تھا اور وہ ان کی نظروں کے سامنے پارہ پارہ بھی ہو رہا تھا ،لیکن اس کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بربادی اور اپنی سلطنت اور حکومت کے جاتے رہنے پر ان کا دل کڑھتا بھی تھا، اور اپنے ہم وطنوں کی تباہی بالخصوص شہر دہلی کی ویرانی و بربادی پر انھوں نے اپنے خطوں میں خون کے آنسو بھی بہائے ہیں ۔انگریزوں کی مدح کرنے اور ملک و قوم کی تباہی پر غم زدہ ہونے کی ان دونوں کیفیتوں میں بظاہر تضاد ہے۔غالب کے یہاں یہ تضاد مسلسل ایک تخلیقی کشاکش میں ڈھلتا رہا ہے ۔وہ چونکہ واقعیت پسند تھے ،ان کی واقعیت پسندی انھیں مجبور کرتی تھی کہ جہاں وہ انگریز کو نئی ترقیوں کا استعارہ سمجھ کر قبول کریں وہاں اپنے ہم وطنوں کی تباہی و بربادی کا ماتم بھی کریں ،یعنی انھوں نے اپنے عہد کی ان دونوں متصادم صداقتوں میں کسی ایک سے بھی نظر نہیں چرائی بلکہ دونو ں کو ان کی پوری تاریخی و تہذیبی کشاکش کے ساتھ قبول کیا اور برتا ،ان کا یہ تخلیقی ڈائلیما موج تہ نشیں کی طرح ان کی شاعری میں جاری و ساری ہے :

ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے ‘‘(۷)

اس طرح اس عہد میں بے شمار شعرا ٔ نے جنگی اشعار لکھے اور آنکھوں دیکھا حال بیان کیا ۔یہ سچ ہے کہ غالب کے یہاں حب الوطنی پر مبنی اس طرح شاعری نہیں کی گئی جس طرح اقبال یا دیگر شعرا ٔ کے کلام میں نظر آتی ہے ۔غالب نے اٹھارہ سو ستاون کی غدر میں جو خونریزی کا ماحول دیکھا ،ہر طرف چیخ و پکار دیکھی ،روتے بلکتے لوگ دیکھے ،اپنوں سے پچھڑنے کا غم دیکھا ایسے وقت میں حب الوطنی کے قصیدے پڑھنا ممکن بھی نہیں تھا ،نہ کوئی ایسا ماحول تھا جو بعد کے شعرأ کو حاصل ہوا۔

اس طرح گوپی چند نارنگ کے بیانات سے غالب کی حب الوطنی پر اٹھ رہے سوالوں کی گرد کافی حد تک صاف ہو جاتی ہے اور اصل وجوہات تک پہنچنے میں رسائی ہوتی ہے ۔یہ یقینا ایک وسیع موضوع ہے جسے چند صفحات میں سمیٹنا اور اس پر تفصیلی گفتگو کرنا ممکن نہیں ۔لیکن اس مضمون میں ان تمام اہم نکات اور وجوہات پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے جس سے اٹھارہ سو ستاون کے حالات غالب کی حب الوطنی اور اس پر نارنگ صاحب کے خیالات پر بھر پور روشنی پر سکے اور اس موضوع کو سمجھا جا سکیں ،امید یہ میری یہ کاوش آپ کو پسند آئے گی ۔

{حواشی }

(۱)بحوالہ: بنام عبدالغفور سرور ،اردوئے معلی،ص ۱۰۴۔

(۲)دستنبو ،ص ۳۲۔(۳)مضمون : غالب کا جذبہ ٔ حب الوطنی اور واقعات سنہ ستاون ،گوپی چند نارنگ ؛ص،۴۸۔

(۴)اردوئے معلی ،ص ۲۵۵۔

(۵)بنام تفتہ ،اردوئے معلی ۔ص ،۹۱۔

(۶)مضمون : غالب کا جذبہ ٔ حب الوطنی اور واقعات سنہ ستاون ،گوپی چند نارنگ ؛ص،۵۰۔

(۷) غالب نام آورم ،انجمن ترقی اردو ،کراچی ،پاکستان ،1969۔

ڈاکٹرصالحہ صدیقی(الٰہ آباد)

 Email-  salehasiddiquin@gmail.com

mob 9899972265

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
ghalibgopi chand narangغالبگوپی چند نارنگ
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ : آدھا مسلمان؟ – انٹرویو : اختر امان
اگلی پوسٹ
ڈاکٹر گوپی چند نارنگ سے ڈیڑھ بات – انٹرویو : انتظار حسین

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں