باپ نے کیا سوچا تھا، بیٹا کیا بن گیا۔ باپ نے سوچا کہ بیٹے کو زراعت کی تعلیم دلائی جائے ’’میں نے والد صاحب کی خواہش کے آگے سر تسلیم خم کردیا‘‘۔
’’پھر زراعت کہاں رہ گئی اور آپ ادب کی طرف کیسے نکل آئے؟‘‘
’’ہوا یوں کہ والد صاحب نے لائل پور کے زرعی کالج میں داخل ہونے کے لیے بھیجا، میں لائل پور گیا۔ ریلوے اسٹیشن سے زرعی کالج کا رخ کیا، مگر جب کالج کے گیٹ میں قدم رکھا سامنے ہی فارم نظر آیا۔ وہاں مجھے اپنے اسکول کے ساتھی ریاض انور کی صورت نظر آئی کہ ہل چلا رہا تھا۔ میں نے ریاض انور کو ہل چلاتے دیکھا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ سیدھا واپس اسٹیشن پہنچا اور دلی کی گاڑی میں بیٹھ لیا۔ دلی پہنچ کر میں نے دلی کالج میں داخلہ لے لیا‘‘۔
لائل پور کے زرعی کالج سے بھاگا ہوا نوجوان دلی جاکر دوسرے ہی رستے پر ہولیا۔ دلی کالج میں داخلہ لیا۔ اس شہر میں پلا بڑھا اور ڈاکٹر گوپی چند نارنگ بنا۔
میں نے یہ سنا اور ریاض انور کو جو نارنگ صاحب سے لگا بیٹھا تھا، قدر کی نظروں سے دیکھا۔ سرائیکی کے اس مبلغ کا اردو زبان و ادب پر کتنا احسان ہے مگر معاف کیجیے یہ بات تو باتوں باتوں میں نکل آئی تھی۔ میں نے باقاعدہ انٹرویو تھوڑا ہی لیا تھا۔ اصل میں میں اس گمان میں رہا کہ نارنگ صاحب تو اب لاہور میں ہیں اور میری مٹھی میں ہیں۔ ایسی جلدی کیا ہے۔ اپنی باتیں تو کرلیں، پھر کسی ساعت یہ اخباری فریضہ بھی ادا کرلیں گے مگر تین دن ایسے گزر گئے جیسے شب وصل گزر جاتی ہے۔ اب صبح رخصت قریب تھی۔ میں نے بس بھاگتے دوڑتے دو ڈھائی سوال کیے اور جواب لیے، خیر کوئی بات نہیں، نارنگ صاحب کے مفصل انٹرویو مختلف اخباری بھائیوں نے لیے ہیں، مفصل انٹرویو پڑھنے کی آرزو ان اخباروں کے اوراق میں آپ پوری کرلیں۔ میرے ذہن میں تو اردو ادب سے متعلق چند ایک سوال اٹکے ہوئے تھے جو اپنے جوابوں کے لیے نارنگ ایسے کسی صاحب نظر نقاد کے منتظر تھے۔
ویسے ایک بات اور سنتے چلیے۔ نارنگ صاحب ہماری تنقید اور تحقیقی روایت میں نرالے آدمی ہیں۔ بات یہ ہے کہ ہماری اس روایت میں خانے بہت سخت ہیں، جو ایک خانے میں داخل ہوگیا بس وہ اس خانے ہی میں بند ہوکر رہ گیا۔ نارنگ صاحب کسی خانے میں بند نہیں ہیں۔ جتنا لسانیات میں پیرے ہوئے ہیں اتنے ہی تحقیق کے شناور ہیں۔ ادھر تنقید میں بھی بند نہیں ہیں اور تنقید میں جتنا کلاسیکی روایت میں اترے ہوئے ہیں اسی قدر ہمعصر ادب میں بھی نظر رکھتے ہیں اور ایسا بھی نہیں کہ شاعری کی تنقید ہی کو پوری تنقید جانتے ہوں، فکشن کی بھی خوب جانچ پرکھ کر رکھی ہے۔
میں نے پوچھا ’’نارنگ صاحب یہ بتائیے کہ ہمارے یہاں نئے فکشن کا آغاز تو ناول ہی سے ہوا تھا۔ آغاز میں ناول پھولتا پھلتا نظر آتا ہے پھر کیا ہوا کہ ناول کی روایت فروغ پاتے پاتے بکھر گئی۔ مختصر افسانہ نے زور باندھا، پھر تب سے اب تک ناول کی روایت کو فروغ نہیں مل سکا‘‘۔
بولے ’’ناول کی روایت ڈرامہ کی روایت سے جڑی ہوئی ہے۔ دونوں ہی روایتیں اردو میں کمزور ہیں۔ ڈرامے کا حال زیادہ خراب ہے۔ ان کے مقابلہ میں مختصر افسانے نے بہت فروغ پایا۔ اس پر سوال بھی اٹھائے گئے ہیں۔ بعض نقادوں نے یہاں تک کہا ہے کہ مختصر افسانہ تو دوسرے درجے کا فن ہے۔ اول درجے کا فن تو ناول ہے۔ میرے خیال میں اس مسئلہ کو یوں دیکھنا چاہیے کہ اردو کا فکشنل مزاج کیا ہے۔ جس ثقافت کے بطن سے اردو نے جنم لیا ہے اس کا ایک سرا اسلامی روایت سے جڑا ہوا ہے، دوسرا سرا قدیم آریائی روایت سے۔ قدیم آریائی معاشرے میں کتھا ہوتی تھی۔ چھوٹی چھوٹی کہانیاں ہوتی تھیں، جاتکائیں، پنچ تنتر، طوطے کی کہی ہوئی کہانیاں، کہانیوں کی اس روایت نے عہد وسطیٰ میں حکایت سے آمیز ہوکر داستان کی شکل اختیار کرلی۔ وقت گزرنے کے ساتھ داستان زوال کر گئی۔ ناول کے لیے تخلیقی عمل کو وسیع کینوس پر سنبھالے رکھنے کی ضرورت ہے مگر ہمارا تخلیقی مزاج کہانی کے مختصر کینوس سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہماری مصوری کی روایت میں Miniature کو مرکزیت حاصل ہے اور شعری روایت میں طویل مثنوی رفتہ رفتہ پیچھے سرک گئی اور غزل کو مرکزیت حاصل ہوگئی۔ نظم میں رجحان مختصر نظم کی طرف ہے۔ مطلب یہ نہیں کہ ناول اور طویل نظمیں نہیں لکھی جارہی ہیں لیکن غالب رجحان مختصر نظم اور مختصر افسانے کا ہے۔ اس کا رشتہ ہمارے ثقافتی مزاج سے ہے‘‘۔
’’مگر نارنگ صاحب قدیم آریائی روایت میں تو مہابھارت بھی ہے اور جسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ وہاں کہانی کہاں مختصر ہے وہ تو سمندر کی طرح پھیلی ہوئی ہے اور عہد وسطیٰ کی روایت نے داستان کو پیدا کیا وہاں بھی صورت یہ ہے کہ دفتر کے دفتر لکھے گئے اور کہانی ختم ہونے میں نہیں آتی‘‘۔
’’ٹھیک ہے مگر دونوں جگہ بنیادی ساخت کہانی ہی کی ہے۔ کہانیوں کو جوڑ کر داستان بنائی جاتی ہے۔ مہابھارت میں بھی قصوں میں قصے جڑے ہوئے ہیں‘‘۔
میں نے اس بات کو یہیں چھوڑا اور دوسرا ذکر چھیڑا۔
نارنگ صاحب اب سے تھوڑے زمانے پہلے تک ہماری تنقیدی روایت کا اوڑھنا بچھونا شاعری تھی مگر پچھلے چند برسوں میں ایسا لگتا ہے کہ تنقید کا مرکز ثقل شاعری سے فکشن کی طرف منتقل ہوگیا ہے۔ انھیں برسوں میں شاعری کچھ پچھڑتی نظر آتی ہے۔ فکشن کی کتابیں ایک دم سے زیادہ تعداد میں شائع ہوئی ہیں۔ آپ اس واقعہ کی توجیہ کیسے کریں گے‘‘۔
’’ہمارا دور اصلاً نثر کا دور ہے۔ پیچھے مڑ کر اپنی ادبی تاریخ پر نظر ڈالیے۔ اردو نثر کی عمر پونے دو صدیوں سے زیادہ نہیں جبکہ ہماری شعری روایت پانچ چھ سو سال پرانی ہے۔ شعری روایت کے فروغ میں عہد وسطیٰ کے مخصوص حالات اور درباروں کی سرپرستی کو دخل رہا ہوگا۔ جب فورٹ ولیم کے ساتھ نئی انسانی ضرورتوں کا سورج طلوع ہوا تو نثر کی ضرورت واضح طور پر محسوس ہوئی۔ سرسید تحریک کی عقل پرستی نے اس لے کو بڑھایا لیکن فکشن کا فروغ انیسویں صدی کے آخر یا بیسویں صدی کے آغاز کی دین ہے۔ لگتا ہے کہ ہماری ادبی روایت کی تعمیر میں جو یک رخاپن تھا بیسویں صدی میں اس کی کوتاہیوں کی تکمیل کا عمل شروع ہوا۔ بیسویں صدی نثر کی صدی ہے۔ چنانچہ فکشن کی طرف توجہ ناگزیر تھی، شاید انھیں ضرورتوں نے بعض اچھے فنکاروں اور ذہنوں کو جھنجھوڑنے والے رجحانات پیدا کیے۔ ایسی صورت میں تنقید کو بھی کسی نہ کسی وقت اپنا فرض ادا کرنا ہی تھا‘‘۔
’’ایک بات شاعری کے بارے میں بھی ہوجائے‘‘۔
’’جی؟‘‘
’’ہماری نئی غزل کا فراق سے گہرا تعلق ہے مگر یہ کیا بات ہے کہ فراق تو ہندوستان میں اکیلی آواز بنے بیٹھے رہے۔ نئی غزل پاکستان میں پیدا ہوئی اور جب ہندوستان میں غزل نے نئی کروٹ لینی شروع کی تو وہ براہِ راست فراق کے واسطے سے نہیں تھی بلکہ یہ واقعہ اس وقت ہوا جب ناصر کاظمی کی آواز وہاں پہنچی‘‘۔
’’مجھے آپ کے خیال سے اتفاق ہے۔ یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ اردو شدید طور پر معیار بند (Standardized) زبان ہے۔ اردو کی لسانی روایت کا اصلی خطہ گنگ و جمن کی وادی ہے لیکن جب کوئی زبان ضرورت سے زیادہ معیاربندی کے عمل سے گزرتی ہے تو وہ فرسودگی کا شکار ہوجاتی ہے۔ نئے شعری رجحانات کے سلسلہ میں اس خطہ کے مقابلہ میں زندہ دلاں پنجاب کا خاص کردار رہا ہے۔ یہ تاریخی سلسلہ حالی اور آزاد سے شروع ہوگیا تھا۔ فراق کا کمال یہ تھا کہ معیاربندی کے خطہ سے متعلق ہوتے ہوئے بھی انھوں نے کچھ تو اپنے اجتماعی لاشعوری آریائی اثرات اور کچھ شعوری پراکرتی احساس کی وجہ سے لسانی فرسودگی سے ٹکرانے کی کوشش کی۔ بعض عظیم فنکاروں کے ساتھ یہ بھی ہوتا ہے کہ بیج ایک جگہ ڈالا جاتا ہے اور پودا کہیں اور نمودار ہوتا ہے۔ فراق کے اثرات ناصر کاظمی کی شکل میں اگر خطۂ پنجاب میں ظہور پذیر ہوئے تو شاید اس کی وجہ یہی ہے کہ یہاں روایت کی جکڑبندی اتنی شدید نہیں تھی۔ تازگیٔ احساس اور تازگیٔ فکر کی راہیں کھلی تھیں۔ ایک نئے ذہین شاعر نے فراق کی نئی غزل کے ذائقہ کو جذب کرکے ان کی تقلیب بالکل اسی طرح کرنی شروع کی جس طرح کوئی ٹرانسمیٹر آواز کی لہروں کو قبول کرکے فضا میں انھیں پھیلا دیتا ہے۔ ناصر نے اس لہجہ کو نئی حسیّت کے تقاضوں سے آمیز کرکے اور اپنے عہد کی اداسی کی آگ میں تپا کر اسے کندن بنادیا۔ اس کے بعد دونوں طرف نئی تخلیقی آگ کا بھڑک اٹھنا بالکل فطری تھا اور اب میں آپ سے سوال کرتا ہوں‘‘۔
’’کیجیے!‘‘
’’کیا ناصر کاظمی فراق کے اثرات کو تسلیم کرتے تھے؟‘‘
’’بالکل کرتے تھے‘‘۔
’’میں نے یہ سوال یوں کیا کہ آپ نے ناصر کاظمی سے بستر مرگ پر جو انٹرویو کیا تھا اس میں آپ نے ان سے میر کے اثرات قبول کرنے کے بارے میں سوال کیا تھا۔ مجھے محسوس ہوا کہ ناصر صاحب جیسے اس سوال کا جواب دینے سے پہلو بچا رہے ہوں۔ شاید انھیں یہ احساس تھا کہ یہ بات مان لینے سے ان کی انفرادیت کو ضرر پہنچے گا‘‘۔
’’مجھے اپنا وہ سوال اور ناصر کا جواب اس وقت ٹھیک سے یاد نہیں آرہا مگر میں آپ کو یہ اطلاع فراہم کرسکتا ہوں کہ میر کے ذکر کے بغیر تو ناصر کا کھانا ہضم نہیں ہوتا تھا اور میر کے بعد فراق کا ذکر بھی لازم ٹھہرتا تھا‘‘۔
’’گویا یہ دو شاعر میر اور فراق ناصر کاظمی کے لیے خاص معنی رکھتے تھے‘‘۔
’’میرا مطلب یہی ہے‘‘۔
بات اچھی چل رہی تھی کہ انور سجاد نے بڑی بیچارگی سے مجھے دیکھا۔ رات ڈھل رہی تھی اور صبح رخصت قریب تھی اور انور سجاد کو جو مہمان ادبی شخصیتوں کے ساتھ ایک خفیہ سٹنگ کرنی ہوتی ہے وہ نارنگ صاحب کے ساتھ نہیں ہوپائی تھی۔
’’یار بس کرو‘‘۔ انور سجاد نے اتنی بیچارگی سے کہا کہ میں پسیج گیا اور نارنگ صاحب کو انور سجاد کے حوالے کردیا۔
روزنامہ مشرق، لاہور اور کراچی
(27 اپریل 1982)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

