غالب انسٹی ٹیوٹ کے زیر اہتمام دو روزہ بین الاقوامی وبینار بعنوان اردو میں سوانح اور سفر نامہ نگاری اختتام پذیر ہوا۔ اس وبینار کا افتتاحی اجلاس 4 دسمبر کو صبح ساڑھے دس بجے ہوا۔ کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے پاکستان کے ممتاز محقق اور دانشور پروفیسر تحسین فراقی نے کہا کہ اردو میں سفرنامہ نگاری کی تاریخ تقریباً ڈیڑھ سو سال پرانی ہے۔ یوسف خاں کمبل پوش کا سفر نامہ ’عجائبات فرنگ‘ نہ صرف اردو کا پہلا سفرنامہ ہے بلکہ سفرنامہ کے تقاضوں کو بڑی حد تک پورا بھی کرتا ہے۔ اس سفرنامے میں معلومات کا اتنا خزانہ ہے کہ کئی زاویوں سے اس کا مطالعہ مفید ہو سکتا ہے۔ سوانح نگاری ایسا علم ہے جس کے وسیلے سے ہم کسی شخصیت سے واقف ہی نہیں ہوتے اس سے ملاقات بھی کر لیتے ہیں۔ یہ قدیمی صنف ہے لیکن 1857 کے بعد نئے رجحانات نے اسے ثروت مند بنایا۔ اس دور میں ایک رجحان انگریزوں کی پیروی اور دوسرا اسلاف کے کارناموں کے ذریعے نشاۃ ثانیہ کا چراغ روشن کرنے کا تھا۔ ان دونوں عناصر نے اس کی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔ معروف تاریخ داں پروفیسر ہربنس مکھیا نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ سفرنامہ یا سوانح نگاری میں میری دلچسپی کا سبب یہ ہے کہ اس کے ذریعے ہم تاریخ کی ایسی باتوں کا پتا لگا لیتے ہیں جو درباری تاریخ میں نہیں ملتیں۔ مثلاً کسی ملک کے لوگ بازاروں میں کیا گفتگو کرتے ہیں ان کی دلچسپیوں کے مرکز کیا ہیں یہ تمام باتیں ہمیں سفرناموں میں مل جاتی ہیں۔ افتتاحی کلمات ادا کرتے ہوئے غالب انسٹی ٹیوٹ کے سکریٹری پروفیسر صدیق الرحمٰن قدوائی نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ غالب انسٹی ٹیوٹ نے ایک ایسے موضوع پر مذاکرہ کیا جس کی طرف عام طور سے توجہ نہیں دی جاتی۔ ڈاکٹر تحسین فراقی ہمارے عہد کے ممتاز محقق و دانشور ہیںانھوں نے سفرنامے پر بڑا علمی کام کیا ہے مجھے یقین ہے کہ اس موضوع پر ان کا خطبہ ہماری معلومات میں اضافہ کرے گا۔ اس اجلاس کی مہمان خصوصی ڈاکٹر رخشندہ جلیل نے کہا کہ سفرنامہ میری دلچسپی کا موضوع ہے۔ میں ان دنوں غالب کے سفر کلکتہ کو نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کر رہی ہوں۔ غالب نے اپنا سفرنامہ تو نہیں لکھا لیکن ان کے خطوط میں ان کے سفر کی روداد مل جاتی ہے جو ایک سفرنامہ جیسا ہی ہے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے کہا کہ ہمارے یہاں سفر وسیلۂ ظفر کا رجحان بہت پہلے سے موجود ہے۔ سوانح اور سفرنامہ غیر افسانوی اصناف میں ایسی صنف ہیں جنھیں حقیقی معنوں میں بین العلومی صنف کہا جا سکتا ہے۔ بد قسمتی سے اس صنف پر ہماری توجہ کم ہی گئی ہے لہٰذا ہم نے یہ فیصلہ کیا اس صنف پر ان افراد سے لکھنے کی فرمائش کی جائے جو اس کا استحقاق رکھتے ہیں۔ مجھے خوشی ہے کہ ہم اس موضوع پر اکثر اہم لوگوں کو جمع کرنے میں کامیاب رہے ۔ مجھے یقین ہے کہ دو روز ہ وبینار میں اس صنف کے اہم پہلو سامنے آئیں گے۔ افتتاحی اجلاس کے بعد ’فن سوانح نگاری‘ پر دو اجلاس منعقد ہوئے پہلے اجلاس کی صدارت اردو کے ممتاز ادیب ناقد اور دانشور پروفیسر انیس اشفاق نے فرمائی اس اجلاس میں پروفیسر قاضی جمال حسین، پروفیسر نسیم الدین فریس، اور ڈاکٹر معید رشیدی نے مقالات پیش کیے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت سابق صدر شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ، پروفیسر وہاج الدین علوی نے فرمائی اس اجلاس میں پروفیسر علی احمد فاطمی، پروفیسر سراج اجملی، اور ڈاکٹر مشرف علی نے مقالات پیش کیے۔ 5 دسمبر کو ’سفر نامہ‘ کے موضوع پر تین اجلاس منعقد ہوئے۔ اس دن کے پہلے اجلاس کی صدارت معروف نقاد پروفیسر انور پاشا نے فرمائی۔ اس اجلاس میں پروفیسر خالد محمود، ڈاکٹر خالد علوی، پروفیسر شافع قدوائی، اور ڈاکٹر ثروت خان نے مقالات پیش کیے۔ دوسرے اجلاس کی صدارت شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق صدر پروفیسر یعقوب یاور نے فرمائی اس میں پروفیسر ابن کنول، پروفیسر مظہر احمد، اور جناب نظیر احمد گنائی نے مقالات پیش کیے۔ آخری اجلاس کی صدارت شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر پروفیسر قاضی عبیدالرحمٰن ہاشمی نے فرمائی اور اس میں ڈاکٹر یحیٰ نشیط، ڈاکٹر جمیل اختر اور ڈاکٹر امتیاز احمد نے مقالات پیش فرمائے۔ غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ادریس احمد نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ ہم نے اس وبینار کا انعقاد اس مقصد سے کیا تھا کہ کہ اہل قلم اس فراموش کردہ صنف کی طرف راغب ہوں اور اس سے متعلق نئے گوشوں کو سامنے لائیں اور ہم اپنے مقصد میں بڑی حد تک کامیاب بھی ہوئے۔ مجھے یقین ہے کہ جب یہ مقالات کتابی شکل میں سامنے آئیں گے تو ایک ایسی کتاب سامنے آئے گی جس سے نئے مباحث کا سلسلہ شروع ہوگا۔ میں اپنی اور ادارے کی جانب سے تمام صدور حضرات، مقالہ نگار حضرات اور تمام شرکا کا تہ دل سے شکرگزار ہوں۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

