Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسینصابی مواد

غزل اور تدریس غزل-پروفیسر خالد محمود

by adbimiras اگست 27, 2020
by adbimiras اگست 27, 2020 0 comment

ادب کی تدریس کا سب سے دلچسپ حصہ نظم کی تدریس ہے اور تدریسِ نظم کا لطیف و نازک مرحلہ غزل ہے۔ درس و تدریس میں سمجھنے سمجھانے کی جن مہارتوں پر سبق کی بنیاد استوار کی گئی ہے اور جن طریقوں کو ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے، صنف غزل اپنے منفرد مزاج اور مخصوص طرز بیان کی وجہ سے ان مہارتوں سے زیادہ کی طلب گار رہتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ دوسری اصناف شعر کی بہ نسبت غزل کے مدرس کی ذمہ داریان کچھ سوا ہوجاتی ہیں۔

غزل اردو شاعری کی مقبول ترین صنف سخن ہے اور اپنے آغاز ہی سے ہماری شاعری کی روح رواں بنی ہوئی ہے۔ بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ ولی دکنی کی دہلی آمد (1700) سے انجمن پنجاب لاہور کے مشاعروں میں محمد حسین آزاد اور حالی کی کوششوں کے تحت وجود میں آنے والی جدید نظمیہ شاعری کے آغاز (1875) تک غزل ہی اردو شاعری کے اقتدار اعلیٰ پر قابض تھی تو غلط نہ ہوگا۔ حالاں کہ دوسری کلاسیکی اصناف قصیدہ، مثنوی، مرثیہ، رباعی وغیرہ بھی اپنا علیحدہ اور مستحکم وجود رکھتی تھیں تاہم غزل کے آگے ان کی حیثیت سورج کی روشنی میں چراغوں جیسی تھی۔ جدید شاعری اور اس کے بعد کی مختلف ادبی تحریکوں اور رجحانوں خصوصاً ترقی پسند تحریک (1936) کے زور پکڑنے اور اس تحریک کے ذریعے غزل کو پس پشت ڈال کر مربوط ومسلسل نظموں پر ساری توجہ مبذول کیے جانے کی وجہ سے غزل کی مقبولیت میں وقتی طور پر کمی واقع ہوگئی تھی اور پھر اسی عہد میں غزل کی مخالفت میں شدت پیدا ہوئی۔ مخالفین نے غزل کی انھیں روایات پر ضرب لگانے کی کوششیں کیں جو اس کی خاص پہچان تھیں اور جن کے حوالے سے غزل نہ صرف اپنی شناخت قائم رکھنے بلکہ اپنا تعارف کرانے میں فخر محسوس کرتی تھی چنانچہ کچھ عرصے غزل مخالفین کے دبائوں میں رہی۔اس کی جاذبیت اور مقبولیت کچھ ماند سی پڑنے لگی لیکن یہ صورت حال عارضی ثابت ہوئی اور بہت جلد اس نے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرلیا۔

غزل کی وہ انفرادیت جس میں اس کی بے پناہ جاذبیت اور مقبولیت کا راز پوشیدہ ہے ۔ آخر ہے کیا؟ اس سوال پر غور کرتے ہوئے جب ہم غزل کی جانب بہ نظر غائر دیکھتے ہیں تو ہر شے کی طرح اس کے بھی دو پہلو صاف طورپر عیاں ہوجاتے ہیں یعنی ایک خارجی پہلو یعنی ہیئت اور دوسرا داخلی پہلو یعنی موضوع اور مواد۔

خارجی پہلو کے لحاظ سے غزل کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ غزل اشعار کے اس مجموعے کا نام ہے جو وزن ، بحر، قافیہ، ردیف اور مصرعوں کی خاص ترتیب و تنظیم کے تابع ہو۔ غزل کے لازمی اجزا میں وزن بحر اور قافیہ شامل ہیں اور انھیں تینوں کو غزل کی زمین کہا جاتا ہے مگر ایک مکمل غزل میں وزن بحر اور قافیے کے علاوہ مطلع ، زیب مطلع ، مقطع، ردیف اور شاعر کا تخلص وغیرہ بھی شامل ہوجاتے ہیں۔ مطلع غزل کا وہ پہلا شعر ہے جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور اگر غزل میں ردیف بھی ہے تو ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ بعض غزلوں میں ایک سے زیادہ مطلع بھی ہوسکتے ہیں۔ مطلعے کے بعد والا شعر زیب مطلع یا حسن مطلع کہلاتا ہے۔ واضح ہو کہ غزل میں ردیف ضروری نہیں مگر قافیہ ضروری ہے۔ یہ ایک بات ہے کہ ردیف ، غزل کے حسن ، روانی ، موسیقی اورمعنویت میں اضافے کا باعث ہوتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ  اردو کی بہت کم غزلیں غیر مردف ہیں ورنہ بیشتر غزلوں میں ردیفوں کا التزام کیا گیا ہے۔ بعض حضرات قافیے کی طرح ردیف کو بھی غزل کا جزو لاینفک سمجھتے ہیں۔ مقطع غزل کا وہ آخری شعرہوتا ہے جس میں شاعر اپنا نام جسے شاعری کی اصطلاح میں تخلص کہتے ہیں شامل کرتاہے۔ تخلص شاعر کا اصلی نام بھی ہوسکتا ہے اور قلمی نام بھی۔ ہر غزل میں مطلعے سے مقطعے تک باقی اشعار کے دوسرے مصرعے مطلعے کی بحر اور قافیے کے پابند ہوتے ہیں۔ غزل میں ردیف ہر شعر کے بالکل آخر میں آتی ہے اور بدلتی نہیں پوری غزل میں ایک ہی رہتی ہے ۔ قافیے کا مقام ردیف سے پہلے ہے اور اس میں آخری حرف کو چھوڑ کر جسے حرف روی کہتے ہیں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ غزل میں اشعار کی تعداد مقرر نہیں، مگر کم سے کم تین اور زیادہ سے زیاہ سترہ یا انیس ہوسکتے ہیں۔ ایک غزل میں عموماً پانچ ، سات یا نو شعر ہوتے ہیں۔ نو سے زیادہ اشعار کی غزلیں بھی بڑی تعداد میں ملتی ہیں۔ اساتذہ نے سترہ اشعار کے بعد ایک نیا مطلع کہہ کر پھر اسی زمین میں کئی اشعار کہے اور پھر ایک مطلع کہہ کر مزید اشعار کہے ۔ اس طرح اپنی مشاقی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے استادی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ایک ہی زمین میں کہی گئی ایسی طویل طویل غزلوں کو دو غزلہ اور سہ غزلہ کہا جاتا ہے۔ غزل کے اشعار کے تعلق سے ایک خاص بات یہ ہے کہ ان کی تعداد کچھ بھی ہو مگر جفت نہیں طاق ہوتی ہے۔ جفت وہ عدد ہے جو دو سے تقسیم ہوجائے۔ اور طاق وہ ہے جو دو سے تقسیم نہ ہو۔ غزل کے اشعار میں طاق کی شرط کا نکتہ یہ ہے کہ غزل کی روایت کے مطابق شاعر کا محبوب یکتا اور بے نظیر ہے۔ دنیامیں اس کا کوئی ثانی یا جفت نہیں ملتا۔ دوسرے خیال کے مطابق غزل میں عام طور پر ہجر و فراق کی کیفیت کا بیان ہوتا ہے ۔ عاشق و محبوب ایک دوسرے کے قرب کی لذت سے محروم رہتے ہیں ۔ اس لیے غزل کی شاعری ہجر و مفارقت ہی کی فضا میں پرورش پاتی ہے اور اس میں ہجر کے مضامین ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ ہجر کو طاق سے مناسبت ہے اس لیے غزل کے بیشتر شعرا نے طاق اشعار کی پابندی کا لحاظ رکھا ہے۔

غزل کی سب سے بڑی خوبی جسے بعض ناقدین نے خامی قرار دیا ہے ۔ یہ بیان کی گئی ہے کہ غزل کا ہر شعر اپنے معنی کے لحاظ سے آزاد، خود مکتفی ، قائم بالذات اور اپنی جگہ مکمل حیثیت کامالک ہوتا ہے۔ یعنی اپنے سے پہلے اور بعد والے شعر سے الگ اپنی معنوی پہچان رکھتا ہے یعنی اپنے معنی میں کسی سے اشتراک نہیں کرتا لیکن اگر کوئی مضمون یا خیال ایک شعر مین نہیں سماتا اور شاعر اسے دو یا دو سے زیادہ اشعار مین تسلسل کے ساتھ بیان کرنا چاہتاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے، اس طور سے غزل کے ان مسلسل اشعار کی حیثیت قطعے جیسی ہوجاتی ہے۔ اس لیے ان اشعار کو قطعہ بند کہاجاتا ہے۔ قطعہ بند کی نشاندہی کے لیے ’’ق‘‘ قطعہ یا قطعہ بند بھی لکھنے کا رواج ہے۔ تاہم غزل میں ایسی صورت حال شاذ ہی پیدا ہوتی ہے۔

غزل کی ایک قسم غزل مسلسل بھی ہے۔ پہچان یہ ہے کہ اس کی ظاہری شکل یا ہیئت تو عام غزلوں کی سی ہوتی ہے مگر اس کے تمام اشعار نظموں کی طرح آپس میں مربوط و مسلسل ہوتے ہیں۔ کلاسیکی غزلوں میں ان کی تعداد زیادہ نہیں ہے البتہ غزل کے وہ معترضین جو غزل میں ہر شعر کی جداگانہ حیثیت کو ریزہ خیالی کہہ کر ہد ف تنقید بناتے ہیں اپنی غزلوں کے اشعار میں نظموں جیسا ربط و تسلسل پیدا کر کے انھیں ایک موضوعی بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جوش ملیح آبادی نے ایک قدم آگے بڑھ کر اپنی یک موضوعی غزلوں پر نظموں کی طرح عنوانات بھی لگادیے ہیں۔

غزل کے مذکورہ بالا پہلو کا تعلق خارجی عناصر سے ہے جس میں ہیئت یا ظاہری شکل و صورت کے علاوہ زبان و بیان، طرزاداد اور اسلوب کا اضافہ کیاجاسکتا ہے۔ اور اس میں شک نہیں کہ غزل کی ہیئت سے اس کی پہچان کا گہرا تعلق ہے۔ شعری ادب میں کچھ اصناف اپنی ہیئت سے پہچانی جاتی ہیں اور کچھ اپنے موضوع اور مواد سے اور کچھ دونوں سے ۔ موضوع سے پہچانی جانے والی اصناف میں مثال کے طور پر مرثیہ کا نام لیاجاسکتا ہے۔ اسی طرح خاص ہیئت یا شکل سے پہچانی جانے والی اصناف سخن میں مثلث ، مخمس، مسدس، مستزاد، ترجیع بند، ترکیب بند، قطعہ اور رباعی جیسی اسم بامسمّیٰ اصناف کے علاوہ غزل بھی شامل ہے۔ موضوع اور مواد سے پہچانی جانے والی اصناف میںمرثیہ ، شہر آشوب ، ریختی اور واسوخت وغیرہ کے نام لیے جاسکتے ہیں۔

غزل کے لغوی معنی عورتوں سے عشق و محبت کی باتیں کرنا ہیں۔ ابتدا میں غزل کے بیشتر اشعار اسی معنی کے ارد گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ غزل کے موضوعات میں تنوع پیدا ہوتا گیا ، یہاںتک کہ غزل کے موضوعات زندگی کے موضوعات کی طرح لا محدود اور لامتناہی ہوتے چلے گئے۔ غزل کی ایک داخلی خوبی جو دوسری اصناف میں نسبتاً کم پائی جاتی ہے اس کی ایمائیت اور اشاریت ہے۔ شاعری کی دوسری اصناف میں اشعار کے باہمی ربط اور معنوی تسلسل کی وجہ سے بات کو وضاحت کے ساتھ بیان کرنے کی گنجائش اور مواقع ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں اشاروں کنایوں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس غزل میں چوں کہ ہر شعر مکمل اکائی اور کامل نظم ہوتا ہے اس لیے جو کچھ کہنا ہے بس ایک ہی شعر یعنی دو مصرعوں میں کہنا ہے۔ چند لفظوں ہی میں اپنی بات پوری کرنا غزل کا فنی اختصاص ہے۔ چنانچہ اس مختصر گوئی کی شرط یا قید کی وجہ سے غزل کاشاعر لغوی کے معنی پر انحصار نہیں کرتا بلکہ لغت سے باہر آکر الفاظ کے اصطلاحی اور مرادی معنی کے ساتھ ساتھ تشبیہات و استعارات کی مدد سے ایک نیا جہان معنی آباد پیداکرتا ہے۔غزل کا شاعر ایجاز و اختصار ، ایمائیت اور اشاریت کے وسیلے سے غزل کے اشعار مین وہ منفر جوہرپیدا کرنا چاہتا ہے جسے کوزے میں دریا بھرنے والی خصوصیت کہتے ہیں۔ غزل کی اسی صفت کی وجہ سے اس کے فن کو چاول پر قل ھواللہ لکھنے کا فن بھی کہتے ہیں۔ غزل کا مزاج اور اس کی خصلتیں محبوب کے مزاج اور اس کے ناز و ادا و عشوہ اورغمزوں سے بہت ملتی جلتی ہیں یہی وجہ ہے کہ محبوب کی طرح غزل بھی بات کو سیدھے طور پر کہنے کی بجائے گھما پھرا کر کہتی ہے۔ غزل کا شاعر بالواسطہ طرز اظہار سے کام لیتے ہوئے کہتا کچھ اور ہے اور اس کا مطلب کچھ اور ہوتا ہے ۔ کسی اور کے یا خود اپنے لیے ایک بات کہتا ہے مگر اس کا ہدف کوئی دوسرا ہوتا ہے۔ میر کا مشہور مقطع ہے   ؎

میرؔ کے دین و مذہب کو اب پوچھتے کیا ہو ان نے تو

قشقہ کھینچا دیر میں بیٹھا کب کا ترک اسلام کیا

اسی طرز اظہار کی مثال ہے ۔ بظاہر اس مقطعے کو پڑھ کر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میر نے اسلام چھوڑ کر ہندو دھرم قبول کرلیا ہے اور وہ مرتد ہوگیا ہے مگر غزل کی روایت کا علم ہونے اور میر کے لب و لہجے پر غور کرنے سے صاف پتہ چل جاتا ہے کہ میر نے یہ شعر بظاہر تو اپنے لیے کہا ہے مگر اس کانشانہ ’’گندم نما جو فروش‘‘ مذہبی گروہ کے وہ ظاہر پرست اور ریا کار لوگ ہیں جن کے ظاہر و باطن میں زبردست تضاد ہے۔ شعر میں دین و مذہب اور قشقہ و دیر کی مذہبی اصطلاحات کو لغوی معنی میں استعمال کرنے کے بجائے مجازی معنی میں معروف علامتوں کے طورپر استعمال کر کے میرنے اسی گرہ کے رویوں پر طنز کیا ہے ۔ میر اس شعر کے ذریعے ظاہر و باطن کے اسی تضاد، نمائش اور ریاکارانہ مذہبیت سے اپنی برأت کا اظہار کرتے ہیں۔

غزل کی اس مخصوص شعری روایت کی وضاحت مولاناحالی نے مقدمۂ شعر و شاعری میں بڑی صراحت سے کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں:

’’جس طرح عشقیہ مضامین غزل کے نیچر میں داخل ہیں اسی طرح خمریات یعنی شراب اور اس کے لوازمات کا ذکر نیز فقہا اور زہّاد اور تمام اہل ظاہر پر طعن و تعریض کرنی،اپنی لیے خواری اور توبہ شکن و خرابات نشینی پر فخر کرنا اہل شرع اور اہل تقویٰ کے اعمال و اقوال میںعیب نکالنے اور اسی قسم کی اور باتیں جو عقل و شرع کے خلاف ہوں۔ یہ مضامین بھی غزل کے اجزائے غیر منفک قرار پاگئے ہیں۔ سب سے پہلے غزل مین یہ طریقہ شعرائے متصوفین نے جو اہل اللہ اور صاحب باطن سمجھے جاتے تھے اختیار کیا تھا جیسے سعدیؔ، رومیؔ اور حافظؔ و خسروؔ وغیرہ۔ چوں کہ ان لوگوں کی غزل نے ایران اور ہندوستان میں زیادہ رواج اور حسن قبول پایا اور خاص کر خواجہ حافظ کی غزل جس میں ان مضامین کی بہتات سب سے بڑھ کر ہے حد سے سے زیادہ مشہور و مقبول ہوئیں۔ اس لیے متاخرین نے بھی ان کی تقلید سے یہی شیوہ اختیار کرلیا۔ مگر ہم کو دیکھنا چاہیے کہ ان بزرگوں نے جو ایسے مضامین باندھے ہیں اس قدر غلو کیا ہے اس کا منشا کیا تھا۔‘‘

آگے رقم طراز ہیں:

’’فقہا اور اہل ظاہر ہمیشہ دو فرقوں کے سخت مخالف رہے ہیں ایک اہل باطن کے دوسرے اہل رائے کے،فقہا کے فتووں کے ان دونوں گروہوں کو ہمیشہ سخت نقصان پہنچتے رہے ہیں۔ قتل کیے گئے ہیں۔ دار پر چڑھائے گئے ہیں۔ مشکیں بندھی ہیں۔کوڑے کھائے ہیں۔ قید بھگتی ہیں ۔ جلاوطن کیے گئے ہیں۔ کتابیں جلائی گئی ہیں اور کیا کیا کچھ ہوا ہے۔ جب کہ فقہا کی مخالفت کا ان لوگوں کے ساتھ یہ حال تھا تو وہ بھی اپنی تصنیفات میں نثر ہو یا نظم خوب دل کے بخارات نکالتے تھے۔ انھوں نے ان کے اخلاق کی قلعی کھولنی شروع کی ۔ انھوں نے کہ شراب خوری و قمار بازی جو ا اکبر الکبائر ہیں وہ بھی جو فروشی گندم نمائی سے بہترہیں ۔ انھوں نے کہا اعلانیہ کفر بکنا اس سے بہتر ہے کہ دل میں کفر ہو اور زبان پر اسلام۔ وہ ’’امربالمعروف ‘‘اور ’’نہی عن المنکر ‘‘کرتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ اوروں کی ہدایت کرنے اور اپنے آپ کو گمراہ رہنے سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔ وہ کہتے تھے کہ تم حقوق الٰہی ادا نہیں کرتے۔ انھوں نے کہا تم حقوق عباد میں خیانت کرتے ہو۔ الغرض شعرائے متصوفین نے جو اہل ظاہر کی خردہ گیریاں کی ہیں وہ اسی قسم کی تعریضات اور مطارحات ہیں ۔ اس کے سوا ان لوگوں کی غزلوں میں اکثر شراب و ساقی و جام و صراحی اور ان لوازمات اورخلاف شرع الفاظ، مجاز اور استعارے کے طورپر استعمال ہوئے ہیں۔ یہ لوگ یا تو اس خیال سے دوست کا راز اغیار پر ظاہر نہ ہو یا اس نظر سے کہ لوگوں کا حسن ظن جو رہزن طریقہ ہے اس سے محفوظ رہیں۔ یا اس لیے کہ عشق و محبت کی بھڑاس آزادنہ اور رندانہ گفتگو میں بہ نسبت سنجیدہ اور مودب گفتگو کے خوب نکلتی ہے یا اس غرض سے کہ حریفوں کو چھیڑ چھیڑ کر اور زیادہ بھڑکائیں اور ان کے زجردملاقتی جو بے گناہ ملزموں کو تحسین و آفرین سے زیادہ خوشگوار ہوتی ہے مزے لے لے کر سنیں۔ روحانی کیفیات کو شراب شاہد کے پیرائے میں بیان کرتے تھے۔‘‘

مولانا حالی کے ان اقتباسات سے غزل کی داخلی کیفیت اور خصوصاً کلاسیکی غزل کے پیرایۂ بیان کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے۔

تدریس غزل کے باب میں جو معاملات موضوع گفتگو بنے ہیں یا بن سکتے ہیں ان میں غزل کی ہیئت اور اس کے داخلی اور خارجی پہلوئوں کے علاوہ آغاز و ارتقا ، مزاج اور نوعیت ، موضوعات اور شعریت، اسالیب و اظہار، تحریکات و رجحانات ، رموز و علائم اور ان کی فکری اور فنی جہات۔ داخلیت ، خارجیت، مادیت، رجائیت، قنوطیت ، ارضیت اور ماروائیت جیسے میلانات روایت، بغاوت، فرسودگی ، جدت، قافیہ پیمائی ابتذال اور انحراف و اجتہاد جیسے بے شمار مسائل ہیں جن کی واقفیت کے بغیر تدریس غزل کا حق ادا نہیں کیاجاسکتا۔

غزل کی تفہیم میں جو اصطلاحات مدت دراز سے شعر اور شاعر کے تعین قدر کا وسیلہ ہیں ان میں شستگی، شائستگی، روانی ،بے ساختگی، ندرت خیال ، ندرت بیان، جدت ادا، جوش بیان، سوز گداز ، مضمون آفرینی ،معنی آفرینی صداقت جذبات، شدت احساس، نزاکت فکر، زبان کی سادگی بیان کی صفائی ، سلاست، روزمرہ ، محاورہ، ضرب المثل ، بندش کی چستی، اثر انگیزی، اثر آفرینی، جیسے ایمائی حوالے اور صنائع بدائع کے تعلق سے تشبیہ ، استعارہ ، تلمیح ، تضاد ، مبالغہ ، مراعات النظیر ، رعایت، مناسبت ، علامت ، ایہام، کنایہ، مجاز، مجاز مرسل، لف و نشر، حسن تعلیل اور اسی قبیل کی دوسری معروف اور کثیر الاستعمال صنعتیں ہیں جن کا علم و اداراک غزل کے استاد کے لیے از بس ضروری ہے۔

غزل کی خارجی شناخت اور داخلی کیفیات کا علم ہونے کے ساتھ ساتھ اگر اس کے آغاز و ارتقا کا خاکہ بھی ذہن نشیں کرلیا جائے تو غزل کی تاریخ کا یہ علم تدریسی عمل کو زیادہ دلچسپ، پرازمعلومات اور پراعتماد بنانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ اس خیال کے پیش نظر غزل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غزل عربی قصیدے کی تشبیب سے علیحدہ کر کے ایک مستقل صنف کے طور پر ایران میں بہ زبان فارسی رائج کی گئی ۔ اگرچہ بعض ناقدین کی رائے ہے کہ یہ صنف علیحدہ صورت میں عربی زبان میں بھی پہلے سے موجود اور رائج تھی، بہرحال اردو میں یہ صنف فارسی کے ذریعہ پہنچی اور جوں کی توں قبول کر لی گئی۔ جوں کی توں قبول کرنے سے مراد یہ ہے کہ اردو کی ابتدائی غزلوں میں بلکہ تمام کلاسیکی سرمایۂ غزل میں ہیئت کے علاوہ وہی موضوعات جو فارسی غزل کا طرۂ امتیاز تھے انھیں تشبیہات و استعارات اور لفظیات کے ساتھ مل جاتے ہیں جو ایرانی غزل میں اس کے اجزئاے لازمی کے طورپر مستعمل رہے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ تلمیحات اور تشبیہات جن کا تعلق یا تو ایران سے تھا یا عرب سے ایران پہنچی تھیں اردو غزل نے من و عن قبول کرلیں حالاں کہ بعد میں ان باتوں پر اعتراضات بھی ہوئے۔

ہندوستان میں اردو زبان کا آغاز شمالی ہند یعنی دہلی اور دہلی کے قرب و جوار میںہوا مگر اردو ادب کی ابتدائی کرنیں جنوبی ہند میں پھوٹتی نظرآتی ہیں۔ اس تعلق سے جنوبی ہند کی ریاستوں خصوصاً گولکنڈہ اور بیجا پور کی خدمات لائق ستائش ہیں۔ اردو کا پہلا صاحب دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ گولکنڈہ کا بادشاہ تھا شمالی ہند میں اردو غزل کا باقاعدہ آغاز بھی جنوبی ہند ہی کے ایک شاعر ولی دکنی کی دلی آمد (1700) سے ہوتا ہے ۔ قطب شاہ سے ولی تک تقریباً سو برس کا فاصلہ ہے۔ ولی کی آمد کے بعد دلی میں اردو کا چرچا عام ہوگیا ۔ ولی سے قبل دلّی کے وہ باقاعدہ فارسی شاعر بطور تفنن طبع فارسی میں ہندوی کا پیوند لگا کر شعر کہہ لیا کرتے تھے۔ ان میں موسوی خاں فطرت، خواجہ عطا، مرزا جعفر زٹلّی، اٹل بلگرامی ار مرزا بیدل وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان میں جعفر زٹلّی نے نہایت بے باکی اور برہنہ گفتاری کا مظاہرہ کیا اور اسی بے باکی کی وجہ سے بادشاہ وقت کے ہاتھوں اپنی جان بھی گنوائی۔

کلام ولی کے ایہام نے شعرائے دہلی کا دل موہ لیا۔ ولی کی دلی سے واپسی کے بعد اس فن میں آبروؔ، ناجیؔ، فغاںؔ، یک رنگ، مضمونؔ اور حاتم وغیرہ نے پچیس تیس برس خوب گل کھلائے ۔ اسی عہد میں مرزا مظہر جان جاناں نے بھی اردو غزل کی آبیاری کی۔ ایہام گوئی کے فیشن کی وجہ سے اس دور کو ’’دور ایہام گویاں‘‘ کہا گیا۔ ’’تلاش لفظ تازہ‘‘ اس دور کا طرہ امتیاز تھا۔ بنابریں زبان کی وسعت کے لحاظ سے یہ رجحان بھی مفید ثابت ہوا۔ ان اساتذہ کے بعد اردو غزل کا وہ سنہری دور شروع ہوا جسے میرؔ، سوداؔ اور میر دردؔ جیسے عہد آفریں شعرا کے دور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس دور میں اردو غزل نے بے مثال ترقی کی۔ ان اساتذہ نے اردو غزل کے ایسے معیارات اور اسالیب مقررکردیے  جن کے آثار آج تک دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کے فوراً بعد انشاء، مصحفی، جرأت ، آتش ، ناسخ وغیرہ کا زمانہ آتا ہے اور اسی عہد سے منسلک ایک اور نئے دور کی بنیادیں استوار ہوتی ہیں۔ یہ دور غالب، مومن اور ذوق جیسی نادر روزگار ہستیوں کے وجود سے منسوب ہے۔ ان میں غالب وہ نابغۂ روزگار شخص ہے جس نے نہ صرف اردو کی کلاسیکی شاعری کو اپنی انتہا پر پہنچایا بلکہ جدید غزل کا بھی آغاز کیا اور پھر اسے بھی منتہائے کمال تک پہنچا دیا۔ غالب کے بعد غزل نے گویا اپنی معراج حاصل کرلی اور کلاسیکی غزل اور جدید غزل دونوں کی بلندیوں کو چھوکر آگے جانے کے تمام راستے محدود و مسدود کردیے۔ چنانچہ اس رنگ و آہنگ کے متوالے بعد کے شعرانے تقلید وپیروی کی راہ اپنائی اور اپنے اپنے ذوق و ظرف ، مطالعہ اور فکر کے مطابق تنوع اور جدت پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ جدت پیدا کرنے کی سعی کرنے والوں نے کہیں لفظیات میں اضافہ کیا، کبھی خیال کو بدل کردیکھا، کہیں نئی اورتازہ تشبیہات کے لیے نئے پہلو تلاش کیے اور اپنی کوششوں میں کسی قدر کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ امیرؔ ، داغؔ ، جلالؔ ، صفیؔ، بیخودؔ، یگانہؔ، حسرتؔ، فانیؔ، اصغرؔ، جگرؔ وغیرہ جیسے کلاسیکی شعرا کے ساتھ ساتھ غزل کے اس سفر میں مختلف تحریکوں اوررجحانوں سے وابستہ شاعر بھی شریک ہوتے گئے۔ ان میں فیضؔ، مجروح؎ِ فراقؔ، ناصر کاظمیؔ جیسے کئی نام شامل ہیں۔ ان شعرا نے اردو غزل کو خیال کی سطح پر دوسری زبانوں کے ادب سے بھی متعارف کرایا۔ اقبالؔ اردو کے عظیم شاعر ہیں۔ انھوں نے بہت اچھی غزلیں کہیں ہیں مگر چوں کہ غزل ان کے مقاصد کی تکمیل کا ذریعہ نہیں بن سکتی تھی اس لیے انھوں نے پابند نظم کو اپنایایا غز ل کی ہیئت میں مربوط و مسلسل غزلیں کہیں جو ظاہر میں غزل اور باطن میں نظم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس دوران غزل کے معترضین بھی پیدا ہوتے رہے مگر ان معترضین کی تعداد اس کے چاہنے والوں کے مقابلے میں ہمیشہ مختصر رہی۔ ان معترضین کی دو قسمیں ہیں ایک وہ جنھیں غزل کے موضوعات اور مواد پر اعتراض ہے ۔ حالاں کہ وہ خود بھی غزل کہتے ہیں۔ اس فہرست میں حالی کا نام سر فہرست ہے۔ حالی نہ صرف ایک اچھے شاعر بلکہ اچھے انسان بھی تھے۔ ان کے اعتراضات میں اصلاح کا پرخلوص جذبہ کارفرما ہے۔ بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے کوئی ہمدرد انسان اپنی کسی پسندیدہ شے کے خراب ہونے سے بدحظ اور برافروختہ ہوکر ۔ اس کی اصلاح کا طالب ہو۔ غز ل کے مواد پر حالی کے اعتراضات کی طویل فہرست ’’مقدمہ شعر و شاعری‘‘ میں شامل ہے۔ حالی کے اعتراضات کا اتنا شدید رد عمل ہواکہ اس کی مخالفت اور حمایت کا سلسلہ تقریباً چالیس سال تک چلتا رہا اور اس حوالے سے غزل کی تجدید اور احیا کا عمل جاری رہا۔ حالی کے بعد عظمت اللہ خاں اور وحیدالدین سلیم نے بھی غزل پر اعتراضات کیے۔ عظمت اللہ خاں تو غزل سے اس قدر سخت ناراض ہوئے کہ انھوں نے غزل کی گردن بے تکلف اڑا دینے کی صلاح دے ڈالی۔ جوش ملیح آبادی کو غزل کے ہرشعر کی معنوی خود انحصاری پسند نہیں آئی۔ چنانچہ انھوں نے اسے ریزہ خیالی اور داخلی انتشار کہہ کر مسترد کردیا۔ عندلیب شادانی نے غزل کے رسمی اور تقلیدی انداز بیان پر وہی اعتراضات کیے جن کی ابتدا حالی سے ہوئی تھی۔ اردو کے مشہور نقاد کلیم الدین احمد نے غزل کو نیم وحشی صنف سخن قرار دیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسی دور میں رشید احمد صدیقی غزل کو ’’اردو شاعری کی آبرو‘‘ کہہ رہے تھے۔ اب غورفرمائیے کہ اسکولوں میں ایک ایسی صنف سخن کی تدریس کس قدر دشورا ہوگی جس کے اتنے امتیازات ہوں اور جس پر اس قبیل کے اعتراضات وارد ہوچکے ہوں۔ اس کے علاوہ اسکولوں کے اردو نصاب میں غزل کی شمولیت پر بھی حسب ذیل اعتراضات کیے جاسکتے ہیں:

1:     کلاسیکی غزل پر فارسی کا غلبہ ہے اور اسکول کے طلبا فارسی سے واقف نہیں ہوتے۔

2:     غزل کے بہترین نمونے اعلیٰ فکری صلاحیتوں کے متقاضی ہوتے ہیں۔ کم عمر طلبا سے اس کی تفہیم کی توقع نہیں کی جاسکتی۔

3:     غزل اسکول کے مادی ماحول سے مناسبت نہیں رکھتی۔

4:     غزل اسکول کے بچوں کی عمر اور تجربات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

5:     غزل انحطاطی دور اور مریضانہ ذہن کی عکاس ہے۔ اس کا پڑھنا بچوں کے لیے مناسب نہیں۔

6:     غزل کا قابل لحاظ حصہ عاشقانہ بوالہوسی سے متاثر ہے نوعمر طلبا کے لیے اس کا مطالعہ درست نہیں:

۷:     غزل سکینڈری اسکول کے طلبہ کے لیے ضرورت سے زیادہ لطیف و دقیق ہے۔

غزل کی تدریس کے سلسلے میں ان اعتراضات کی مضبوطی سے انکار نہیں کیاجاسکتا مگر یہ بھی ملحوظ رکھنا ہوگا کہ غزل اردو شاعری کے تمام سرمائے کا باعتبار معیار و مقدار غالب اور حاوی حصہ ہے۔ اس حقیقت کی روشنی میں غزل کو نصاب میں شامل نہ کیاجانا خود صنف غزل کے علاوہ اردو ادب اور اردو طلبا تینوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ اس لیے بہتر ہوگا کہ اردو نصاب میں غزل کی شمولیت کے لیے ایک انتخابی اصول تیار کیا جائے جس کو یوں وضع کیا جاسکتا ہے۔

1:     وہ اشعار جو بہت زیادہ فلسفیانہ یا عالمانہ ہوں۔

2:     وہ اشعار جن میں فارسیت زیادہ ہو۔

3:     وہ اشعار جو ابوالہوسی ، فحاشی یا اخلاق شکنی کے تابع ہوں۔

4:     وہ اشعار جو عشق و محبت کے جنسی پہلوئوں کو نمایاں کرتے ہوں۔

نصاب سے خارج کردیے جائیں اور غزل کی تعلیم ثانوی درجات سے پہلے شروع نہ کی جائے۔ غزل میں چوں کہ ہر شعر بجائے خود مکمل ہوتا ہے۔ اس لیے اشعار کے انتخاب میں کوئی دشواری پیدا نہیں ہوگی۔

تدریس غزل کے مقاصد:

غزل چوں کہ سمجھنے سمجھانے سے زیادہ محسوس کرنے اور لطف اٹھانے کی چیز ہے اس لیے اس کی تدریس کے مقاصد بھی ادب کی دوسری اصناف سے مختلف ہیں۔ دوسری اصناف کی تدریس میں لسانی قابلیت ، زبان کی نشو ونما، معلومات میں اضافہ اور اظہار خیال کی صلاحیت پر زیادہ زور دیا جاتا ہے۔ جب کہ غزل کی تدریس میں ادبی حسن شناسی اور لطف اندوزی ہی اصل مقاصد ہوتے ہیں۔ غزل کے سبق میں بحث و مباحثے کی گنجائش بہت کم ہوتی ہے۔

یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر تدریس غزل کا مقصد حسن شناسی اور لطف اندوزی ہے تو ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ آخر ان اصطلاحات کا مفہوم کیا ہے اور تدریس غزل کے یہ مقاصد کس طرح حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ اس خیال کے تحت جب ہم ادبی حسن شناسی اور لطف اندوزی کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ادبی لطف اندوزی ایک وسیع اور پیچیدہ عمل ہے جو گوناگوں عناصر سے مرکب ہے۔اختر انصاری کے الفاظ میں :

’’ادبی لطف اندوزی کے کم از کم معنی یہ ہوں گے کہ طلبا اشعار کی اندرونی موسیقی کی گونج اپنے ذہنوں میں محسوس کریں ۔ شاعر نے جو مناظر جھلکائے ہیں ان کے رنگ و نور اور کیف و سرور کو محسوس کریں۔ خوبصورت الفاظ اور حسین تراکیب کی مدد سے جو تصویری پیکر تیار کیے گئے ہیں ان کو اپنی چشم تصور کے سامنے جیتا جاگتا اور چلتا پھرتا محسوس کریں اور جن جذبات اور جمالیاتی تجربات کی ترجمانی کی گئی ہے ان کی تاثیر کواپنی روح کی گہرائیوں میں محسوس کریں۔ غرض یہ سارا کھیل محسوس کرنے کا ہے۔ ادبی لطف اندوزی دراصل ایک جمالیاتی بازآفرینی کا عمل ہے جو سراسر ذاتی اور شخصی احساس پر مبنی ہے جس میں استاد کی طول طویل تشریحات ، تفصیلی تبصرے تنقیدی موشگافیاں اور توجیہیں لاطائل ثابت ہوتے ہیں۔‘‘

چنانچہ بہتر ہوگا اس طریق کار کے بجائے پُر اثر بلند خوانی اور متحد المعنی اشعار کی پیش کش کے ذریعے طلبا میں ادبی حسن شناسی اور لطف اندوزی کا احساس زیادہ مؤثر انداز میں پیدا کیاجائے۔ اس کوشش میں طلبا کی نفسیات کو ذہن میںرکھ کر سبق میں ان کی شرکت اور دلچسپی کو یقینی بنانا استاد کی ذمہ داری ہے اور یہ کچھ مشکل کام نہیں بشرطیکہ استاد محترم اس کام کے لیے خود کو آمادہ کرسکیں۔ بعد ازاں طلبا کی یہی دلچسپی اور سبق میں ان کی شرکت اس بات کا ثبوت ہوگا کہ طلبا غزل سے لطف اندوز ہو رہے ہیں، اور یہی ثبوت مقاصد سبق کے حصول میں کامیاب ہونے کی ضمانت ہے۔

 

نوٹ: مضمون نگار دہلی اردو اکادمی کے سابق وائس چیرمین اور شعبہ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق صدر شعبہ ہیں۔

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔
انجمن پنجابترقی پسندغزل
0 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
جدید نظم کی شعریات اور کہانی کا تفاعل-پروفیسرگوپی چند نارنگ
اگلی پوسٹ
دیدہ و دل کا شاعر:  احمد فراز -ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں