Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

دیدہ و دل کا شاعر:  احمد فراز -ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی

by adbimiras اگست 27, 2020
by adbimiras اگست 27, 2020 0 comment

آزادی کے بعد اردو شاعری بالخصوص اردو غزل گوئی میں جن شعرا نے اہم اور منفرد مقام حاصل کیا ان میں ایک بڑا نام احمد فراز کا بھی ہے۔احمد فراز 14جنوری 1931ء کوپاکستان کے شہر نو شیرواں میں پیدا ہوئے ۔ان کاپورا نام سید احمد شاہ اورتخلص فراز تھا۔ادبی دنیا انھیں احمد فراز کے نام سے جانتی ہے ۔ ایک لمبی اور مرفح الحال زندگی گزار کر 77سال کی عمر میں انھوں نے /25اگست 2008ء کو انتقال فرمایا اور اپنے عقیدت مندوں اور پرستاروں کے لیے بہت سی یادگاریں چھوڑ گیا۔احمدفراز کااولین مجموعۂ کلام’ تنہا تنہا ‘اگرچہ 1958ء میں شائع ہوا تھا لیکن اس سے بہت پہلے ہی ملک و بیرون ملک کے مختلف معتبر رسائل وجرائدمیں ان کے کلام شائع ہو رہے تھے اور مشاعروں کے ذریعے تو ان کا دور دورتک شہرہ تھا۔ پہلا مجموعہ کلام ’ تنہا تنہا ‘ کے بعد یکے بعد دیگرے ان کے چو دہ شعری مجموعے منظر عام پرآئے۔ درد آشوب 1966ء میں،نایافت 1970ء میں،شب خون1971ء میں،میرے خواب ریزہ ریزہ1972ء میں،جاناں جاناں1976ء میں،بے آواز گلی کوچوں میں1982ء میں،نابینا شہر میں آئینہ 1984ء میں،سب آوازیں میری ہیں85 19ء میں، پس انداز موسم 1989ء میں،بودلک1994ء میں،خواب گل پریشاں 1994ء میں ،غزل بہانہ کروں 1999ء میں اور پھر 2004ء میں ان کا آخری مجموعۂ کلام شہرِسخن آراستہ ہے شائع ہو کرمنظر عام پر آیا۔ اس طرح فراز کی زندگی ہی میں ان کے تمام مجموعے شائع ہو چکے تھے۔اب ان کی کلیات بھی’’کلیاتِ احمد فراز‘‘ کے نا م سے دستیاب ہے۔

ہر بڑے شاعر کی طرح احمدفراز نے بھی کم سنی ہی میں شعر گوئی شروع کردی تھی۔ایک حوالے کے مطابق انھوں نے تبھی سے شاعری کا آغاز کر دیا تھا جب کہ وہ صر ف نویں یا دسویں جماعت کے طالبِ علم تھے۔ مگرانھوں نے باقاعدہ شعر و سخن کے میدان میں قدم کب رکھا ہنوز اس کا علم نہیں۔البتہ اتنا تو طے ہے کہ ان کے پاس بچپن سے ہی ایک رچا ہوا شعری ذوق اور سخن فہمی کا ہنر موجود تھا اور انھیں اس کا بہت جلد علم بھی ہو گیا تھا۔اس کا اندازہ ہمیں ان کے اس شعری سفرسے ہوتا ہے جو گزشتہ نصف صدی سے زائد عرصے پر پھیلاہوا ہے۔ان کے اس لمبے سفر کے دوران میں اردو شعر و ادب نے کئی نشیب وفراز اور اتارچڑھاؤ دیکھے۔ترقی پسند تحریک ،جدیدیت اورمابعد جدیت یہ تما م تحریکات و رجحانات اسی زمانے کی دین ہیں۔ فرازنے جب آنکھیں کھولیں اور شعر گوئی کی ابتدا کی تو ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی۔ہر طرف ترقی پسندیت کا غلغلہ سنائی دے رہے تھا ۔ فیض، سر دار جعفری،کیفی اعظمی، تاباں ،مجاز اور مخدوم وغیرہ کی آوازیں سب کے کانوں میں گونج رہی تھیں اوریہ گونج اس قدر سحر انگیز اور متاثر کن تھی کہ اس کے سامنے باقی تمام آوازیں دب سی گئی تھیں۔ چنانچہ فراز بھی بہت جلد اس کے حلقۂ تاثیر میں آگئے اور کالج کے زمانے ہی سے نہ صرف ترقی پسند تحریک کے علمبرداربن گئے بلکہ فیض او رعلی سردارجعفری ان کے محبوب اورآئڈیل شاعر قرار پائے۔ یہی وجہ ہے کہ فرازکے ابتدائی دور کے کلام میں ہمیں فیض اور سردار جعفری کے رنگ و آہنگ نظر آتے ہیں:

اب کے تجدید وفا کا نہیں امکاں جاناں

 

یاد کیا تجھ کو دلائیں تیرا پیماں جاناں

میں کیا کروں مرے قاتل نہ چاہنے پر بھی

 

ترے لیے مرے دل سے دعا نکلتی ہے

اگرچہ احمد فراز کی نشو نما ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر ہوئی اور تاحیات وہ اس کے علمبردار بنے رہے ۔ لیکن کبھی بھی ان کی شاعری کسی بندھے ٹکے اصول کی پابند نہیں رہی ۔ علم و آگہی کے دروازے ہمیشہ ان کے سامنے کھلے رہے۔یہی وجہ ہے کہ ترقی پسندی تحریک سے وابستگی کے باوجود بھی فیض کی طرح بہت جلد وہ اپنی ایک الگ راہ نکانے میں کامیاب رہے اور اپنے مخصوص رنگِ سخن اور منفرد لب و لہجے کی وجہ سے نہ صرف دورسے ہی پہچان لیے جانے لگے بلکہ غزل کی اعلیٰ روایت کے پاس دار بھی قرار پائے۔فراز کے انتقال کے بعد ایک تعزیتی جلسے میں پروفیسر عتیق اللہ نے کہا تھا کہ:’’فیض احمد فیض،مجروح سلطان پوری او ر ناصر کاظمی کے بعد جن شعرا نے غزل کی اعلیٰ روایات کا پاس رکھا اور اسے قبولِ عام بنانے کی کوشش کی ان میں احمد فراز کانام خاص اہمیت کا حامل ہے۔‘‘ یقینا انھوں نے اردو غزل کی اعلیٰ روایتوں کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اسے جس طرح  مقبو ل عام بنایا ہے اس کی مثال ان کے ہم عصر شعرا میں کم ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔

ترقی پسند تحریک کے دورِ عروج اور پھر اس کے بعد کے کچھ زمانے تک کو غزلوں سے زیادہ نظموں کا دور تسلیم کیا جاتا ہے۔ اپنے عہد کے دیگر بڑے شعرا کی طرح احمد فراز نے بھی بڑی تعداد میں غزلوں کے علاوہ بہت سی کامیاب نظمیں بھی کہیں ہیںاور اپنے منفرد لب ولہجہ اوراندازواسلوب کی بدولت ایک نظم گو شاعر کی حیثیت سے اپنی شناخت بھی بنائی ہے لیکن جب ہم ان کی شاعری کا بالاستیعاب مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ا ن کی غزلیہ شاعری نظمیہ شاعری سے کہیں زیادہ اہم اور موجودہ عہد سے مربوط وریلیونٹ ہے۔ عصر حاضر کی پیچیدگیاں، نئی تہذیب کی کشمکش ، بنتی بگڑتی قدریں ،سیاسی و سماجی مسائل، معاملات ِحسن و عشق کے تقاضے اور اس کی نئی حسیت کا اظہار و بیان فراز نے اپنی غزلوں میں جس سلیقے اور ہنر مندی  کے ساتھ کیاہے اس کی نظیر شاید ہی ان کی نظموں میں ملتی ہو۔ نظم کے مقابلے میں وہ غزل بڑی آسانی اور ہنر مندی سے کہتے ہیں اور صرف دو مصرعے میں اپنی پوری بات اس قدر عمدگی اور بہتری کے ساتھ کہہ جاتے ہیںکہ اس کا اثر اتنا بھر پور اورمعنی خیز ہوتا ہے کہ بات نہ صرف دل میں اتر جاتی ہے بلکہ نقش ہو جاتی ہے۔اس کا اندازہ فراز کے ایک اس شعر سے لگایا جاسکتا ہے جس کو انھوںنے ایک عسکری جرنیل کے ظاہری فخر و تمکنت اور باطنی کمزور ی اور کھوکھلاپن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا   ؎

جنھیں زعم کمان داری بہت ہے

 

انہی پر خوف بھی طاری بہت ہے

گو کہ بنیادی طورپر فراز غزل کے شاعر ہیں۔غزل میں آج ان کو جومقام و مرتبہ حاصل ہوا ہے وہ بڑی فنی ریاضتوں اورفکری کاوشوں کی دین ہے ۔یہاں تک پہنچنے میںان کے فکر وفن نے ان کا بڑا ساتھ دیا ہے۔ ایک مخصوص نظامِ فکر، اسلوب بیان کی ندرت اور اچھوتے رنگ و آہنگ کی بدولت اردو شاعری میں فراز ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ فراز کا کمال فن یہ ہے کہ انھوں نے عام شعرا سے ہٹ کر اپنی فکرکو ایک مثبت سمت عطا کیاہے جس میں ایثار و خلوص اور سچائی ومحبت کی آمیزش کار فر ما نظرآتی ہے اورجوکہ بقول مِلٹن ایک اچھی شاعری کی علامت بھی ہے ۔ فراز کے اس شاعرانہ وصف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فراق گو رکھپوری لکھتے ہیں:

’’احمد فرازکی شاعری اردو میں ایک نئی ااور انفرادی آواز کی حیثیت رکھتی ہے۔ان کے وجدان کی اور جمالیاتی شعور کی ایک خاص شخصیت ہے جو نہایت دلکش خدوخال سے مزین ہے۔ان کے سوچنے کا انداز نہایت حساس اور پرخلوص ہے۔ان کی شاعری کو صرف کلاسیکی یا صر ف رومانی شاعری نہیں کہا جا سکتا ہے بلکہ دورحاضر کے لطیف ذہنی ردِ عمل کا سچا نمونہ کہا جا سکتا ہے۔و ہ صداقت کے نئے مقامات سے اپنی باتیں کہتے ہیں اور یہ باتیں دعوت فکر دیتی ہوئی حد درجہ دلکش اور دلنشیں ہیں۔‘‘

فراز ایک حساس طبع کے مالک تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں ہر معاملہ پوری حساسیت کو لیے ہوئے نظر آتاہے۔ اس دنیا میں انھوں نے جو کچھ بھی دیکھا اور محسوس کیا اسے غم جاناں اورغم دوراں کی شکل میں پیش کر دیا ہے۔ اس کا اندازہ ہمیں ان کے اس شعری سرمایے سے ہوتا ہے جس میں ان کے حساسات و تجربات موجزن ہیں۔ فراز نے اپنی شاعری میں غم جاناں اور غم دوراں کا اظہاراس خوبی اور ہنر مندی سے کیا ہے کہ اس میں ان دونوں کی دوئی مٹ گئی ہے۔ بقول کنور مہندرسنگھ بیدی فراز کی شاعری غم جاناں اور غم دوراں کا ایک حسین سنگم ہے۔ کبھی غم جاناں غم دوراں کو محیط کرتا ہے اور کبھی غم دوراں ہی غم جاناں بن جاتا ہے۔ ان دونوں کو الگ کرنا مشکل ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پہلا مصرعہ غزل کے لیے موزوں کرتے ہیں۔ لیکن فوراً انھیں اندرونی کرب موضوع بدلنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ اس طرح ان کی شاعری میں یہ دنوں موڑ ہمیں واضح طور پر دیکھائی دیتے ہیں کہ پہلے سرو قامت کا خیال آتا ہے لیکن پھر موضوع بدل جاتاہے۔فراز کا یہی وہ کمال فن ہے جس نے ان کی شاعرانہ مرتبت کو اس حد تک عظیم بنا دیا ہے کہ جہاں وہ صرف ایک انسان دوست اور انصاف پسند انسان نہیں رہ جاتے ہیں بلکہ دورِ حاضر کا نمائندہ شاعر بن جاتے ہیں:

وہ دشمن جان جان سے پیارا بھی کبھی تھا

 

اب کس سے کہیں کوئی ہمارا بھی کبھی تھا

ہمیں بھی غم طلبی کا نہیں رہا یارا

 

ترے بھی رنگ نہیں گردش زمانہ وہ

پاگل ہو فراز آج جو راہ دیکھ رہے ہو

 

جب اس سے ملاقات کا وعدہ بھی نہیں ہے

اس کے علاوہ چند اور اشعار دیکھئے:

کج اداؤں کی عنایت ہے کہ ہم سے عشاق

 

کبھی دیوار کے پیچھے کبھی دیوار کے بیچ

 

رات کیا سوئے کہ باقی عمر کی نیند اڑ گئی

خواب کیا دیکھا کہ دھڑکالگ گیا تعبیر کا

اُ س کی وہ جانے اُسے پاس وفا تھا کہ نہ تھا

تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے

 

سب لوگ لیے سنگ ملامت نکل آئے

کس شہر میں ہم اہل محبت نکل آئے

 

یارو مجھے مصلوب کرو تم کہ مرے بعد

شاید کہ تمہار ا قد و قامت نکل آئے

 

ا ب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

جس طرح سوکھے ہوئے پھو ل کتا بوں میں ملیں

مذکورہ بالا اشعار میں غم دوراں کے ساتھ ساتھ ایک خاص قسم کا شاعرانہ تخیل اورفکرو آگہی نظر آتی ہے جس میں کہ روایتی دائرے میں رہنے کے باوجود نو رومانی فکر اور عہد حاضر کی حسیت اپنی تما م تر توانائیوںکے ساتھ موجودہے۔ ان کا یہ شاعرانہ رنگ ذیل کی مشہور زمانہ غزل میں اور بھی نکھر کر سامنے آتا ہے :

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ

آپھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

 

کچھ تو میرے پندارِ محبت کا بھرم رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ  کو منانے کے لیے آ

 

پہلے سے مراسم نے سہی پھر بھی کبھی تو

رسم و رہِ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ

 

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تومجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

 

اِ ک عمر سے ہوں لذتِ گریہ سے بھی محروم

اے راحتِ جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ

 

اب تک دل ِخوش فہم کو تجھ سے امیدیں

یہ اخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ

اس غزل کی قرأت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ فراز کو جذبات کی عکاسی پر کس قدر غیر معمولی قدرت حاصل ہے۔ ان اشعار میں انھوں نے وہ ساری باتیں بڑی خوبصورتی کے ساتھ بیان کر دی ہیں جو ان پر گزری تھیں۔ عصر حاضر کو سامنے رکھ کراگر ان اشعار پر غورو فکر کی جائے تو موجود ہ عہد کے معاملات ِ حسن وعشق پر یہ غزل زیادہ منطبق آتی ہے۔اس طرح فراز کی شاعری جذبے کی تڑپ اور شدت احساس کی شاعری بن جاتی ہے جو کہ حد درجہ تجربے کی بھٹی میں تپنے کے بعد نکلی ہے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر فراز کے یہاں یہ شعری نظام، رچا ہوا ذوق اور پختہ اسلوب کہاں سے آیا ؟تو اس سوال کا جواب ہمیں روایتی شاعری سے فراز کی حد درجہ وابستگی اور تعلق میں نظر آتاہے ۔ اردو کے کلاسیکی سرماے پرفرازکی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ اس سے استفادے کے باوجود بھی وہ روایتی شاعری کے ڈھانچے میں قید نہیں ہوتے ہیں بقول شمیم حنفی:

’’شعر کے کلاسیکی محاورے اورا سلوب پر اُ ن کی گرفت اس اعتبار سے بہت منفرد اور غیر معمولی ہے کہ انھوں نے اسی روایتی دائرے میں اپنی نورومانی فکراور اپنے عہد کی حسیت کے اظہار کی گنجائش بھی پیدا کی ہے۔فراز نے اپنی حسیت میں نئی تخلیقی جہتوں اورزاویوں کی شمولیت کے بغیر اور شعری زبان اور تخلیقی دروبست میں کسی طرح کی لسانی چھیڑ چھاڑ کے بغیر اپنی پہچان بنائی ہے اور بے چہرہ و بے رنگ ہم عصروں کی بھیڑ میں اُ ن کاشعر آسانی سے الگ کیا جاسکتاہے۔ سودا ، میر ، مصحفی ، آتش ، غالب او راسی طرح فراق اورفیض کے لسانی اور فکری اسالیب سے استفادے کے باوجود ،فراز کی شاعری روایتی شاعری کے سانچے میںقید نہیں ہوتی۔ نورومانیت اور نو کلاسیکیت کو فراز کے انفرادی میلانات نے ایک نئی سطح تک پہنچا یا ہے۔‘‘

اردو کی کلاسیکی و نو کلاسیکی شاعری سے اخدو استفادہ کے باوجود بھی فراز کے یہاں جو اسلوب نظرآتا ہے وہ کسی سے مستعار نہیں ہے بلکہ ان کا خودتراشیدہ ہے۔اگر چہ انھوں نے شاعری میں فیض و فراق اور سردار جعفری کی اقتدا کی تھی لیکن ایسا نہیں ہے کہ انھوںنے ان کے سکے پہ سکہ بٹھایا ہے بلکہ اردو شاعری میں فراز کوجو بھی مقام و مرتبہ حاصل ہوا ہے وہ محض ان کے شاعرانہ کمال کی بنیا دپر ہوا ہے۔ فرازکا یہ کمال شاعری ہی ہے کہ جس مضمون کو بھی ہاتھ لگایا اس میں انھوں نے جان ڈال دی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ بقول شخصے انھوں نے گرے پڑے الفاظ کو بھی نئے معانی و مفاہیم دے کر ان میں ایک رومانوی فضا پیدا کر دی ہے ۔’’حسن ‘‘کے تعلق سے ان کی مشہور غزل کے چند اشعار دیکھیے:

سنا ہے بو لے تو باتوں سے پھول جھڑ تے ہیں

یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں

 

سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے

ستارے بام فلک سے اتر کر دیکھتے ہیں

 

سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں

سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں

 

سنا ہے حشر ہیں اس کی غزال سی آنکھیں

سنا ہے اس کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں

 

سنا ہے اس کے بدن کی تراش ایسی ہے

کہ پھول اپنی قبائیں کتر کے دیکھتے ہیں

 

رکے تو گر دشیں اس کا طواف کرتی ہیں

 

چلے تو اس کو زمانے ٹھہر کے دیکھتے ہیں

فراز کے یہاں انسانی تجربات ومشاہدات جب غزل کے پیکر میں ڈھلتے ہیں تو وہ اس کی آرائش و زیبائش اور نزاکتوں سے کسی طرح بھی الگ نہیں ہوتے ہیں بلکہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔اس طر ح فراز کی غزل انسانی تجربات اوراحساس و جذبات کی تجسیم و ترسیل کامعجزہ بن جاتی ہے اور قاری و سامع اس تر سیلی معجزے کاحصہ ۔ فراز کی غزلوں کی یہی وہ تر سیلی خصوصیت ہے جو اسے کتابی غزل سے بالکل الگ کر دیتی ہے۔ پروفیسر عتیق اللہ لکھتے ہیں :

’’ احمد فراز اس لیے بھی یاد رکھے جائیں گے کہ ان کی غزل اس کتابی غزل سے ایک الگ راہ اختیار کر کے چلتی ہے جس کی معیار سازی ہماری موجودہ تنقید نے کی تھی اور جو جذبے سے خوف کھاتی ہے‘‘۔

چند اشعار ملاحظہ ہوں:

ہمیشہ کے لیے مجھ سے بچھڑ جا

یہ منظر بارہا دیکھا نہ جائے

 

دور ہے تو، تو تری آج پرستش کر لیں

ہم جسے چھو نہ سکیں، اس کو خدا کہتے ہیں

 

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل

کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

اک شب تھا وہ مہمان میرا

کچھ اور ہی تھا جہان میرا

 

فراق و وصل کیا ہیں عاشقی کے تجربے ہیں

مگر اس سے زیادہ زندگی کے تجربے ہیں

 

مسیحاؤں کو جب آواز دی ہے

پلٹ کر آگئے ہر بار قاتل

اگرچہ فراز نے رومان و انقلاب کے مضامین کوکثرت سے برتاہے لیکن ایسا نہیں ہے کہ ان کی پوری شاعری میں صرف اسی قسم کے مضامین ہیں بلکہ ان کے یہاں حیات و کائنات اور فکر و عمل کے بیشترمسائل بھی اپنی تمام تر نزاکتوں کے ساتھ جلوہ گرہیں۔عصر حاضر کی پیچیدگیاں، بے اعتدالیاں،تضادات اور نفسیاتی کشمکش وغیرہ کے مضامین بھی جگہ جگہ دیکھنے کو ملتے ہیں۔  چند اشعار ملاحظہ ہوں:

کل شب تھا عجب دید کا منظر مرے آگے

دنیا تھی نہ ہونے کے برابر مرے آگے

 

 

چلی ہے شہر میں کیسی ہوا اداسی کی

سبھی نے اوڑھ رکھی ہے ردا اداسی کی

منصف ہو اگر تم تو کب انصاف کروگے

 

مجرم ہیں اگرہم تو سز اکیوں نہیں دیتے

زخم بھر جائیںگے مگر داغ تو رہ جاتا ہے

 

دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیںمر سکتیں

منزلیں ایک سی آوارگیاں ایک سی ہیں

 

مختلف ہو کے بھی سب زندگیاں ایک سی ہیں

کیا کیا نہ غزل اس کی جدائی میں کہی ہے

 

ہم پر شبِ ہجراں ترے احساں ہیںزیادہ

سلسلے توڑ گیا وہ سبھی جاتے جاتے

 

ورنہ اتنے تو مراسم تھے کہ آتے جاتے

غرض یہ کہ روایات سے یہی وہ گہری وابستگی،فکروفن سے آگہی اوراچھوتا انداز واسلوب ہے جس کی بنیاد پر فرازکا کلام ایک اعلیٰ اور معیاری شاعری کی خوبیاں لیے ہوئے ہے اور دور حاضر بالخصوص نئی نسل کے دھڑکتے دلوں کا ترجمان بن گیا ہے۔ نیز فراز کا یہی وہ شاعرانہ امتیار ہے جس کی بدولت وہ نہ صر ف اس دور میں بلکہ آنے والے تمام ادوار میں بھی یا د کیے جائیں گے اور ان کا نام تاریخ کے باب میں ہمیشہ جلی اور روشن رہے گا۔

 

 

Dr. Abdur Razzaque Ziyadi

House No.404(Third Floor) Street No.14

GhaffarManzil, Jamia Nagar, Okhla

New Delhi-110025

Mobile No.: +919911589715

E-mail: arziyadi@gmail.com

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
غزل اور تدریس غزل-پروفیسر خالد محمود
اگلی پوسٹ
حسرت جے پوری کی فلمی شاعری-نوشاد منظر

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں