ہندوستان میں بولتی فلمو ں کے آغاز سے گیت کا ایک اہم رول رہا ہے ۔فلموں کی کامیابی کا انحصار یوں تو کئی چیزوں پر ہے ،لیکن ان میں ایک اہم چیز گیت ہے ۔گیتوں سے فلم کی کہانی میں شدت پیدا ہوتی ہے۔عموماً گیت فلم کے کسی خاص سچیویشن(Situation) کو پیش کرتے ہیں مثلا جب متکلم کا وصال اپنی محبوبہ سے ہوتا ہے تو وہ جوش اور جذبات سے لبریز ہوکر کہتا ہے کہ ’’بہاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے ۔ ‘ اسی طرح جب ہم ا س گیت کو سنتے ہیں کہ’’ تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤگے ‘‘تو ہمیں احساس ہوجاتا ہے کہ محبوب کی بے رخی سے متکلم دل آزار ہے اور وہ اپنے محبوب کو ان خوبصورت لمحوں کی یاد دلانا چاہتا ہے جو کبھی انہوں نے ایک ساتھ گزارے تھے ۔
گیت ایک گائے جانے والی صنف ہے یا یوں کہیں کہ گیت موسیقی کا حصہ ہے،اس لیے گیت کے ساتھ موسیقی یا سنگیت کا لفظ آتا ہے۔موسیقی کا کام کسی خیال یا جذبے کو آواز دینا ہے جب کہ گیت اس جذبے کو الفاظ کا پیرایہ فراہم کرتا ہے۔لہذا ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ گیت کی ابتدا اس وقت ہوئی جب موسیقی کا وجود عمل میں آیا۔
جب سے ہندی فلموں کا آغاز ہوا متعدد شعرا نے فلم کی طرف پیش رفت کی مگر چند ہی شعرا کی گیت کاری نے اپنا پرچم لہرایا۔ حسرت جے پوری کا شمار بھی ان ہی چند شعرا میں ہوتا ہے ،جنہوں نے ہندی فلم کو اپنی نغمہ نگاری سے ایک نئی پہچان دی ۔یہی نہیں بلکہ برسوں بیت جانے کے بعد بھی حسرت جے پوری کے گیت ہمارے ذہنوں میں آج بھی تروتازہ ہیں ۔
حسرت جے پوری کا اصل نام اقبال حسین ہے ۔ان کی پیدائش 15اپریل 1922کو جے پور راجستھان میں ہوئی ۔حسرت جے پوری نے اپنی تعلیم کا آغاز انگیریزی میڈیم اسکول سے کیا ،اردو اور فارسی کی تعلیم اپنے دادا فدا حسین سے حاصل کی ۔فدا حسین خود بھی اردو اور فارسی کے عالم تھے ۔حسرت کی شخصیت پر ان کے دادا کا اثر بھی پڑا۔
حسرت جے پوری کو شاعری کا شوق ابتدائی دنوں سے تھا۔مگر حسرت مزاجاََ شرمیلے واقع ہوئے تھے،ان ہی دنوں کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ جب ان کی عمر کوئی بیس سال کی قریب تھی ،ان کو ایک لڑکی ’’رادھا‘‘سے محبت ہوگئی ۔انہوں نے رادھا کو متعدد خطوط لکھے مگر وہ رادھا تک پہنچ نہیں سکے ۔اس کی وجہ حسرت کی فطری خامشی اور جھجک تھی ۔ان خطوط میں ایک خط ایسا تھا جس میں ان کی نظم ’’یہ میرا پریم پتر پڑھ کر تم ناراض نہ ہونا ‘‘لکھا تھا ۔یہ گیت راج کمار کو بہت پسند آیا اور انہوں نے اسے اپنی فلم ’’سنگم ‘‘میں شامل کرلیا ۔ اس گیت کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی ۔گزرتے وقت کے ساتھ حسرت جے پوری کے ذہن سے رادھا دور ہوتی چلی گئی ۔حسرت جے پوری کی ازدواجی زندگی بڑی خوشگوار رہی ان کی بیوی ایک گھریلو اور ذہین خاتون تھیں ۔حسرت جے پوری کہتے ہیں کہ ان کی بیوی وقت اور حالات سے باخبر تھیں اور انہوں نے مستقبل کے لئے بہت سی جائیدا د جمع کرلی تھی جو بعد میں حسرت اور ان کے اہل خانہ کے بہت کام آئی ۔
حسرت جے پوری کا فلمی کرئیر۔:
حسرت جے پوری کو فکر معاش ممبئی لے آئی ۔بات 1920کی ہے جب ان کی عمر 18سال تھی ۔ نوکری کی تلاش میں ادھر ادھر بھٹکتے رہے بالآخر بس کنڈیکٹری کی حیثیت سے نوکری کا آغاز کیا، اس وقت ان کی تنخواہ محض گیارہ روپے تھی ۔ تمام طرح کی معاشی تنگی اور پریشانیوں کے باوجود حسرت کی دلچسپی شعر وشاعری سے قائم رہی اور وہ مشاعرے میں بھی شرکت کرنے لگے۔ اسی زمانے میں پرتھوی راج ایک بار سامعین کی حیثیت سے مشاعرے میں شریک ہوئے ،وہ حسرت کی شاعر ی کو سن کر بہت متاثر ہوئے ۔انہوں نے حسرت کی شاعرانہ خوبیوں کا ذکر اپنے بیٹے اور فلم ساز راج کپور سے کیا ۔راج کپور کی شناخت ایک کامیاب فلم ساز کی تھی اور وہ اس وقت ایک لو اسٹوری فلم ’’برسات ‘‘بنانے کی سوچ رہے تھے ۔حسرت جے پوری نے فلموں کے لئے اپنا پہلا نغمہ ’’جیا بے قرار ہے ‘‘اسی فلم برسات کے لئے لکھا ۔جس کو شنکر جے کشن کی جوڑی نے موسیقی سے اور زیادہ خوبصورت بنادیا ۔راج کپور کے لیے ان کا آخری گیت ان کی موت (17؍ستمبر1999)کے پانچ سال بعد فلم ’’ہتھیا دی مرڈر(Hatya: the Murder)‘‘میں شامل کیا گیا ہے ۔حسرت جے پوری نے راج کپور کے لیے 1971تک فلموں میں گیت لکھے ۔مگر شنکر جے کشن کی موت اور فلم میرا نام جوکراور فلم ’’کل آج اور کل ‘‘کی ناکامی کا اثر حسرت اور راج کپور کے رشتوں پر بھی پڑا، جس کے پاداش میں حسرت نے راج کپور کے لیے گیت لکھنا بند کردیا ۔گرچہ بعد میں راج کپور نے اپنی فلم روگ کے لئے حسرت سے گیت لکھوانے کی خواہش کا اظہار کیا مگر بات نہیں بنی بالآخر قز لباش نے فلم ’’روگ‘‘کے گیت لکھے ۔راج کپور کو حسرت جے پوری کی نغمہ نگاری کی خوبیوں کا احساس تھا لہذا پرانی باتیں بھلا کر راج کپور نے اپنی فلم حنااور ’’رام تیری گنگا میلی ہوگئی ‘‘(1985)کے گیت لکھنے کی گزارش حسرت سے کی ،حسرت نے ان دو فلموں کے لیے گیت لکھے ۔فلم ’’حنا‘‘کا یہ گیت’’میں ہوں خوش رنگ حنا ‘‘اور ’’رام تیری گنگا میلی ہوگئی ‘کا گیت’’سن صاحبہ سن ،پیار کی دھن ‘‘،کو بہت مقبولیت ملی اور آج بھی ان گیتوں میں وہی تازگی اور نغمگی برقرار ہے جو فلم کے ریلیز کے وقت تھی۔
حسرت جے پوری حساس طبیعت کے مالک اور صاحب فکر شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پروقار شخصیت کے مالک تھے ان کی شاعری میں جذبات کی حرارت تو جا بجا ملتی ہے مگر حسرت کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خود کو عریانی اور فحاشی سے بچائے رکھا۔جس سے ان کی شاعری اور شخصیت دونوں کی عظمت برقرار رہی۔
فلم کسی بھی موضوع اور کسی بھی درجے کی ہو اسے کامیاب بنانے میں کئی شعبوں کا تعاون اور کارکردگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ٹھیک اسی طرح نغمہ کو شہرت کی بلندی تک پہنچانے میں گلو کار کا بہت اہم رول ہوتا ہے اور بڑی حد تک گیت کی کامیابی کا انحصار بھی گلو کاری پر ہوتا ہے۔ حسرت جے پوری کے گیتوں کو کئی گلو کار نے اپنی آواز دی، مگر مکیش کی گلو کاری اور ان کو شہرت کی بلندیوں تک پہنچانے میں حسرت کے گیت کا ایک اہم رول رہا ہے ۔حسرت جے پوری اور مکیش کی جوڑی نے فلم انڈسٹری کو بہت سے خوبصورت اور یادگار گیت دیے ہیں ۔چند گیت کے ٹکڑے ملاحظہ ہوں:
1۔چھوڑ گئے بالم مجھے ہائے اکیلا چھوڑ گئے
میرا پیار بھرا دل توڑ گئے (برسات)
2۔ آجارے اب میرا دل پکارا
رو رو کے غم بھی ہارا(آہ)
3۔اچک دانا ،بی چک دانا ،دانے اوپر دانا
چھت کے اوپر لڑکی ناچے،لڑکا ہے دیوانہ (شعری 420)
4۔ آنسو بھری ہیں یہ جیون کی راہیں
کوئی ان سے کہہ دے مجھے بھول جائیں(پرورش)
(5) وہ کھلا وہ تارے ہنسے،یہ رات عجب نرالی ہے
سمجھنے والے سمجھ گئے ہیں،جو نہ سمجھے وہ اناڑی ہے(اناڑی )
(6)جاؤ ں کہاں بتا اے دل،دینا بڑی ہے سنگ دل
چاندنی آئی گھر جلانے،سوجھے نہ کوئی منزل (چھوٹی بہن)
(7) تم روٹھی رہو میں مناتا رہوں
کہ ان اداؤں پہ اور پیار آتا ہے(آس کا پنچھی)
(8)ابتدائے عشق میں ہم ساری رات جاگے
اللہ جانے کیا ہوگا آگے،او مولا جانے کیا ہوگا آگے(ہریالی اور راستہ )
(9)دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی
کاہے کو دنیا بنائی تو نے،کاہے کو دنیا بنائی(تیری قسم )
(10)جانے کہاں گئے وہ دن
کہتے تھے تیری راہ میں،نظروں کو ہم بچھائیں گے(میرا نام جوکر(
مذکورہ بالا گیت تو بس مثال کے طور پر پیش کیے گئے ہیں اس کے علاوہ بھی حسرت اور مکیش کے نغمے ہیں جن کو بہت شہرت ملی،بلکہ ان گیتوں کی وجہ سے فلم نے اچھا کاروبار بھی کیا ۔
حسرت جے پوری کے گیتوں کو گنگناتے اور سنتے وقت جس تازگی اور نغمگی کا احساس ہوتا ہے عموماََ ان کو پڑھتے ہوئے وہ مزہ نہیں ہوتا،یہ مسئلہ صرف حسرت کی نغمہ نگاری کا نہیں بلکہ یہ مسئلہ نغمہ نگاری کا ہے۔فلمی گیت لکھتے وقت شاعر کے ذہن میں فلم کی کہانی اور ایک خاص سیچویشن ہوتا ہے بلکہ کئی موقعوں پر موسیقی کا بھی خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے جس کے پیش نظر گیت لکھنے ہوتے ہیں،اتنی ساری بندشوں کے ساتھ شاعر سے یہ امید کرنا کہ اس کی شاعری گنگنانے کے ساتھ ساتھ پڑھنے میںدلچسپی بنی رہے مشکل معلوم ہوتا ہے۔حالی نے شاعری کا اصول وضع کرتے ہوئے جو ایک اہم بات بتائی تھی کہ شاعری میں خیال ’’آمد‘‘ اور’’ آورد‘‘ دو طرح سے آتے ہیں۔گیت لکھتے وقت شاعرکو کسی خیال کی پیش کرنے کے لیے انتھک کوشش کرنی پڑتی ہے،اور اتنی محنت کے باوجودفلمی گیت میں وہ ادبیت اور آفاقیت قائم نہیں رہ پاتی جواچھی شاعری کے لیے ضروری ہوتا ہے۔اور شاید یہی وجہ ہے کہ فلم کے اکثر گیت وقت کے دھند میں کھو جاتے ہیں۔اسے فلمی شاعری کا المیہ کہنا درست ہوگا کہ فلم ریلیز ہونے کے چند دنوں بعد جب کوئی دوسرا گیت مقبول ہوجاتا ہے تو پہلے کی تازگی ختم ہوجاتی ہے اور اس گیت کی مقبولیت میں بڑی تیزی سے گراوٹ دیکھنے کو ملتی ہے۔مگر چند گیت ایسے بھی ہیں ایک خاص قسم کی آفاقیت اور گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کے حسن اور مقبولیت میں اضافہ ہوتا ہے۔حسرت جے پوری کی نغمہ نگاری کا مجموئی طور پر جائزہ لیتے ہوئے ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ان کے کئی گیت ایسے ہیں جسے وقت کی زنجیر میں قید نہیں کیا جا سکتا ،وہ آج بھی اتنی ہی پسند کی جاتی ہے جتنی کہ ریلیز کے وقت پسند کی جاتی تھیں۔
حسرت جے پوری کی فلمی نغمہ نگاری کا سرسری طور پر جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے تقریباً (۴۰)چالیس سالہ فلمی کرئیر میں ۳۰۰ (تین سو)سے زیادہ فلموں کے لئے تقریباً دو ہزار گیت لکھے ۔
حسرت جے پوری کی شاعری :
اقبال حسین حسرت جے پوری کی اصل شناخت ان کے فلمی نغموں سے ہے ۔مگر بنیادی طور پر ان کی شاعری کو دو خانوں میں رکھا جاسکتا ہے ۔ان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ وہ ہے جو انہوں نے وہ غزلیں اور نظمیں ہیں جنہیں فلموں میں شامل نہیں کیا گیا ۔
حسرت جے پوری کی غیر فلمی شاعری کی بات کی جائے تو ہمارا ذہن ان کی غزلوں کی طر ف چلا جاتا ہے ۔ان کی غزلوں کو پڑھ کرکسی قسم کی جدت ،انفرادیت یا نئے پن کا احساس نہیں ہوتا ۔حسرت کی غزلوں میں سلاست اور روانی توہے مگران کی غزلوں کے مضامین مجموعی طور پرعشق اور محبت سے متعلق ہیں ۔
حسرت جے پوری کی فلمی شاعری پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ فلمی ضرورتوں کے باوجود ان کی زبان صاف ستھری اورسلاست سے پر ہے ۔دراصل حسرت بھی مجروح سلطانپوری ،ساحرلدھیانوی اور شکیل بدایونی کی طرح فلمی شاعر ہونے کے باوجود شعر وادب کا رچا ہوا ذوق رکھتے تھے اگر فلمی شاعروں کی فہرست تیار کی جائے تو حسرت جے پوری کا شمار اول درجے کے شاعروں میں ہوگا ۔حسرت کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب کی ہلکی جھلک ،رنگا رنگ موسموں،تہواروں اور مختلف رسومات کا اظہار بھی نظر آتا ہے ساتھ ہی ان گیتوں میں ہندوستان کی مٹی کی وہ بھینی بھینی خوشبو کا احساس مل جاتا ہے جو قطب شاہ کا خاصہ رہی ہے۔ عام طور پر فلمی شعرا کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ فلمیں ان کے اندر کے فن کار کو ابھرنے نہیں دیتیں ،مگر حسرت کی شاعری کے مطالعے سے یہ بات غلط ثابت ہوجاتی ہے ۔اگر حسرت نے فلمی شاعری کی طرف رخ نہیں کیا ہوتا تو ان کی شاعری میں نکھار نہیں آتا ۔فلمی شاعری کے بارے میں ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ ان میں ادبیت نہیں پائی جاتی یہ بات ایک حد تک درست بھی ہے کیونکہ فلمی دنیا اور ادبی دنیا کے تقاضے ایک نہیں ہیں ۔فلموں کی اپنی ضرورتیں ہوتی ہیں اور ان ضرورتوں کے پیش نظر شاعر فلمی گیت لکھتا ہے ، ایسے میں فلمی گیتوں میں ادبیت تلاش کرنا غیر مناسب ہے ۔مگر جہاں تک حسرت کی شاعری کا تعلق ہے تو انہوں نے اردو شاعری کے تمام لوازمات کو اپنی شاعری میں برتنے میں کوتاہی نہیں کی ہے۔ حسرت کے چند مشہور گیت کے مصرعے ملاحظہ ہوں :
(۱)بہاروں پھول برساؤ میرا محبوب آیا ہے
ستاروں مانگ بھرجاؤ میرا محبوب آیا ہے
(۲)ابتدائے عشق میں ہم ساری رات جاگے
اللہ جانے کیا ہوگا اور مولا جانے کیا ہوگا
3۔ تیری پیاری پیاری صورت کو کسی کی نظر نہ لگے
چشم بد دور………………
(4)تیری زلفوں سے جدائی تو نہیں مانگی تھی
قید مانگی تھی رہائی تو نہیں مانگی تھی
(۵)تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤ گے
جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
سنگ سنگ تم بھی مسکرائو گے
(6)رخ سے ذرا نقاب اٹھادو میرے حضور
جلوہ پھر ایک بار دیکھادو میرے حضور
(7)دل کے جھروکے میں تجھ کو بٹھاکر ، یادوں کو تیری دلہن بناکر
رکھوں گا دل کے پاس ،مت ہو میری جان اداس
مذکورہ گیت خاص رومانی کیفیت کو پیش کرتی ہیں زبان وبیان کی سطح پر بھی یہ گیت اہم ہیں ایک دو جگہ ہندی الفاظ کا استعمال ضرور ہوا ہے مگر بنیادی طور پر ان گیتوں میں اردو زبان کا اثر صاف نظر آتا ہے ۔حسرت جے پوری نے فلموں میں خالصتاً رومانی قسم کے گیت لکھے ہیں ۔ان نغموں میں ایک خاص قسم کی گہرائی وگیرائی پائی جاتی ہے ۔جب ہم گیت یا غزل کی بات کررہے ہوں تو ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ غزل اور گیت کے ہر اشعار معنوی اعتبار سے اہم نہیں ہوتے باوجود اس کے حسرت جے پوری کی شاعری کا بیشتر حصہ ایک عشقیہ جذبات پر لطف بیان سے پر ہے ۔عشق ومحبت ،حسن وعشق ، وصال وہجر کا جابجا اظہار حسرت کے کلام میں نظر آتا ہے ۔محبوب کی آمد سے شاد ہوکر متکلم بے ساختہ کہہ اٹھتا ہے ۔
بہاروں پھول برسائو میرا محبوب آیا ہے
ستاروں مانگ بھر جائو میرا محبوب آیا ہے
اردو شاعری کا بیشتر حصہ حسن وعشق کے واردات سے متعلق ہے ایسے میں اگرعاشق اپنے محبوب کی آمد سے مسرور ہوکر بہار اور ستاروں کو خوش آمدید کرنے کے لئے کہتا ہے ،تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں ۔اردو شاعری میں محبوب کی ظاہری خد وخال کا ذکر بھی بڑے خوبصورت انداز میں کیا جاتا رہا ہے،حسرت نے بھی اپنے محبوب کی ظاہری خوبصورتی کا ذکر کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ:
اے پھولوں کی رانی بہاروں کی ملکہ
تیرا مسکرانا غضب ڈھاگیا
روٹھنا منانا محبت ہی کا ایک حصہ ہے جب سے اردو شاعری کا آغاز ہوا ہے محبوب کی ناراضگی اور عاشق کے منانے کا ذکر اردو کے تمام شعرا کے یہاں نظر آتا ہے ۔
آواز دے کر ہمیں تم بلائو
محبت میں اتنا نہ ہم کو ستائو
اردو شاعری کا وصف خاص رہا ہے کہ محبوب نہ صرف وصال کا وعدہ کرکے ملنے نہیں آتا بلکہ عموما اپنے عاشق کو انتظار کرواتا ہے اور اسے ستاتا ہے مگر عاشق پھر بھی اس کا انتظار کرتا ہے۔،محبوب کی بے رخی ،اس کا انداز مسکراہٹ ملنا،بات کرنا، روٹھنا،وغیرہ شاعری کا حصہ رہا ہے ۔اور عاشق جو اپنی محبت کو ہی اپنی زندگی کا مقصد حیات بنالیتا ہے ۔وہ اس کو یادوں میں تڑپتا رہتا ہے ۔اپنی محبت کا یقین دلانے کی ہر ممکنہ کوشش کرتا ہے باوجود اس کے محبوب کے ناز ونخر ے اسے پریشان کرتی ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عاشق ان تمام ظلم وستم کو اپنا مقدرمان لیتا ہے ۔
تجھے جیون کی ڈور سے باندھ لیا ہے
تیرے ظلم وستم سر آنکھوں پر
محبوب کے اس ظلم وستم کے باوجود عاشق کے دل میں پیار کی چنگاری جلتی رہتی ہے اور وہ محبوب کے ظاہری اور خوبصورتی کا ذکر باربار کرکے اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے ۔
تیری پیاری پیاری صورت کو
کسی کی نظر نہ لگے ۔چشم بد دور
حسرت جے پوری کی فلمیں شاعری میں وصال ،ہجر ،آنسو ،مسکراہٹ،خوشی،غم،روٹھنا،اور منانا وغیرہ کی زیریں لہر اہتمام سے استعمال کی گئی ہیں مگر حسرت جے پوری نے محض عشقیہ شاعری نہیں کہی،ان کی فلمی شاعری کو سامنے رکھا جائے تو ایسے بہت سے گیت مل جاتے ہیں جن میں زندگی کے دوسرے مسائل پر بھی گفتگو کی گئی ہے ،چند مکھڑے ملاحظہ ہوں:
اس رنگ بدلتی دنیا میں ،انسان کی نیت ٹھیک نہیں
جانے کہاں گئے وہ دن کہتے تھے تیری یاد میں
زندگی ایک سفر ہے سہانا ،یہاں کل کیا ہو کس نے جانا
دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی،کاہے کو دنیا بنائی ………
حسرت جے پوری ان نغمہ نگاروں میں ہیں جنہوں نے ہندی فلموں کے ٹائٹل گیت لکھ کر اپنا ایک الگ مقام بنایا ۔ فلموں کے تعلق سے ایک بات یہ کہی جاتی ہے کہ ٹائٹل گیت لکھنا بہت مشکل امر ہوتا ہے ،مگر حسرت جے پوری کو ٹائٹل گیت لکھنے میں مہارت حاصل تھی ۔انہوں نے کئی کامیاب ٹائٹل گیت لکھے بلکہ جب بھی ٹائٹل گیت کا ذکر ہوتا ہے حسرت کا نام زبان پر آجاتا ہے ۔لہذا اس زمانے میں فلم ساز کو جب بھی ٹائٹل گیت کی ضرورت ہوتی وہ حسرت سے رابطہ ضرور کرتے ۔حسرت جے پوری کے چند ٹائٹل گیت ملاحظہ ہوں :
دل ایک مندر ہے ……(دل ایک مندر)
تیرے گھر کے سامنے،ایک گھر بنائوں گا (تیرے گھر کا سامنے)
دیوانہ مجھ کو لوگ کہیں (دیوانہ)
رات اور دن جیا جلے(رات اور دن)
یہ چند ٹائٹل تو محض مثال ہیں ۔ایسے بہت سے ٹائٹل گیت ہیں جسے حسرت جے پوری نے لکھا ہے۔ مجموعی طور پر حسرت جے پوری کی فلمی شاعری کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے اردو شاعری کے اصولوں کی بڑی حد تک پاسداری کی،فلمی گیت کی اپنی جو ضرورتیں ہیں اور جو اصول میں ان کا بھرپور خیال رکھا ان کی شاعری کو پڑھ کر، گنگنا کر ایک تازگی کا احساس ہوتا ہے ۔اپنی فلمی نغموں سے سامعین کو مسحور کردینے والے حسرت جے پوری 17؍ستمبر 1999کو موسیقی سے دلچسپی رکھنے والے سامعین کو اپنے اس گیت کے ساتھ:
تم مجھے یوں بھلا نہ پاؤگے
جب کبھی بھی سنو گے گیت میرے
سنگ سنگ تم بھی گنگناؤں گے
ا س دنیا سے رخصت ہوگیا ۔مگر حسرت کے گیت انہیں برسوں عوام کے دل میں زندہ رکھیں گی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

