۔
15 جون 2022 کو یہ خبر ملی کہ اردو کے مایہء ناز قلمکار اور گنگا جمنی تہذیب کے علمبردار پروفیسر گوپی چند نارنگ نے اپنے حصے کی ذمے داریاں نبھا کر اس دنیا کو خیر آباد کہہ دیا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی اردو داں حلقے میں غم کی لہر دوڑ گئی ادب کی بساط پہ ان کی خدمات کے معترف ہر انسان کو یہ خسارہ ناقابل تلافی خسارہ معلوم ہوا تقریباً 9 دہائیوں پہ مشتمل ان کے ادبی سفر کا کلائمکس بصورت موت ہمارے سامنے تھا جو کہ ہر دل پر کسک کی صورت اپنا عکس چھوڑ گیا۔ یہ خبر سن کر یوں محسوس ہوا کہ جیسے ایک روشن تابناک ستارہ ٹوٹ کر تو آنکھوں سے اوجھل ہو گیا لیکن اس کی روشنی کہیں آنکھوں میں رہ گئ ہو جو کہ اردو کی ہیئت و ماہیت کو عیاں کر رہی ہے۔
پروفیسر گوپی چند نارنگ کی حیثیت ایک عہد کے معمار کی سی تھی انھوں نے اردو ادب کی جس طرح ناقابل فراموش خدمت کی تھی اس کے پیش نظر اگر انھیں لشکر اردو کا سپہ سالار کہا جائے تو کچھ غلط نہیں ہوگاکیوں کہ انھوں نے واقعی خود کو اردو ادب کے لئے وقف کر دیا تھا۔ انھوں نے بابائے ادب کی طرح اردو کی ساری زندگی سرپرستی کی تھی ان کی شخصیت بیسیوں اور اکیسویں صدی میں ایک فرد کے جیسی نہیں بلکہ اپنے آپ میں ایک ادارے کی طرح تھی ۔ ان کی شخصیت شش جہت کی اسیر تھی ان کی اس ہمہ جہت شخصیت کے اعتراف میں ملکی اور غیر ملکی سطح پہ انھیں بےشمار ایوارڈز سے نوازا گیا انھیں ہندوستان کا سب سے بڑا اعزاز پدم بھوشن اور پاکستان کا سب بڑا اعزاز ستارہء امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا اس کے علاؤہ بھی کئی اعزاز ان کے نام کئے گئے تھے جو ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں ان کو دئے گئے تھے۔
وہ ایک بہترین ماہر لسانیات اور ادیب ،افسانہ نگار، محقق و ناقد تھے انھوں نے اردو ادب میں مابعد جدیدیت کی دریافت کی تھی انھوں نے اپنی فکر انگیزی اور فنی مہارت سے اور اعلی سطحی شعور سے اردو ادب کی غیر معمولی خدمت کی تھی جس کا اعتراف ان کے مداحوں کے ساتھ ساتھ ان کے مخالفین نے بھی کیا ہے مخالفیں سے مراد ان کے عدو نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو ان سے نظریاتی اختلاف رکھتے ہیں ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی روایت کو زندگی دینے میں گوپی چند نارنگ نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا ان کے چلے جانے سے اس صف میں جو خلا واقع ہوا اس کو پر کرنے کے لئے شاید ایک لمبا عرصہ بھی ناکافی ثابت ہو کیوں کہ موجودہ وقت میں جس طرح اردو اور ہندی کو مذہب کے دائرے میں رکھا جا رہا ہے ایسی صورتحال میں جب کہ اردو کو کسی مولوی صاحب سے پڑھتا ہے پھر اس کی شیرینی سے اس قدر مانوس ہو جاتا ہے کہ تاحیات اس کی لذت اس کے زبان سے نہیں جاتی ایسی نابغہء روزگار ہستی کا پیدا ہونا مشکل ہے ۔
گوپی چند نارنگ کی پیدائش 11 فروری 1931 کو تحصیل دکی ضلع لورالائی میں ہوئی جو بلوچستان میں واقع ہے ۔ گوپی چند نارنگ کے والدین گوپی صاحب کی پیدائش کے ڈیڑھ سال بعد موسی خیل ہجرت کر گئے وہاں پہ انھوں نے زندگی کی کئ بہاریں دیکھیں بچپن گزارا ان کے بچپن کی یادیں موسی خیل سے وابستہ ہیں ۔ گوپی چند نارنگ کے بزرگوں کا وطن مغربی پنجاب لیہ ضلع مظفر گڑھ ہے جہاں ان کے خاندان کے بزرگ صدیوں سے آباد تھے ۔ گوپی چند نارنگ موسی خیل سے وابستہ اپنی یادوں کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ لکھتے ہیں "تحصیل کے مکانوں کے پیچھے کا بڑا سا باغ جس میں انار، ناشپاتی اور شفتالو کے درخت اور انگوروں کی بیلیں تھیں ۔ چاروں طرف چھوٹے بڑے پہاڑ مختصر سا بازار جس میں ڈاک کی لاری رکا کرتی تھی سب بچے اسی میں چڑھ جاتے اور ڈاک گھر سے بازار تک کی سیر کرتے ۔ مغرب میں پتھریلی سڑک تھی جو فورٹ سنڈے من کو جاتی تھی اسی کے راستے میں ندی میں دو پل تھا اس کے نیچے گہرے نیلے پانی ہم کنکر پھینکنے تو مچھلیوں کے سنہرے پر چمکنے لگتے تھے (فن اور شخصیت، آپ بیتی نمبر : صفحہ 383)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گوپی چند نارنگ نے فطری زندگی کو کتنے قریب سے دیکھا تھا انھوں نے حقیقی زندگی کو اس کے اصل عکس سے جدا کرکے دیکھنے کی کبھی خواہش نہیں کی تھی ۔ ان کی پیدائش ایک ایسے دور میں ہی ہوئی جب ملک ازاد ہونے کی جدو جہد سے گزر رہا تھا اس وقت ملکی فضا میں ہندو مسلم کو ایک ہی کمیونٹی خیال کیا جاتا تھا یہی وجہ تھی کہ موجودہ وقت کی طرح اس وقت ملک تعصب کی زد میں نہیں تھا اردو زبان کا کوئی مذہب نہیں تھا بلکہ وہ ایک زبان تھی یہی وجہ تھی کہ اردو ان کا لازمی مضمون تھا جب کہ سنسکرت اختیاری مضمون انھوں نے اردو کا پہلا قاعدہ عبد العزیز صاحب سے پڑھا انھیں بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے کا چسکا لگ گیا تھا اردو کو باقاعدہ انھوں نے کلاسوں میں پڑھا مولوی مرید حسین سے بھی انھوں نے اردو کی تعلیم حاصل کی تھی یہی وجہ تھی کہ ان کی طبیعت میں گنگا جمنی تہذیب کی جڑیں اتنی گہری تھیں کہ ملک کے بدلتے مناظر میں بھی اس کی شدت اور گہرائی میں کوئ کمی نہیں آئی ۔ دہلی میں ڈاکٹر خواجہ احمد فاروقی نے ان کی ادبی صلاحیتوں کو جو مہمیز دی تھی اس کی تان ساری عمر قائم رہی ۔
ان کی تحریروں کی سلاست و سادگی ان کی شناخت ہے اور ان کا محققانہ مزاج ان کی ذات کا حصہ ہے انھوں نے ہمیشہ جو کچھ دیکھا پڑھا سمجھا محسوس کیا اس کو بڑے ہی سادگی کے ساتھ اپنے قارئین کے سامنے پیش کر دیا۔ وہ حقیقت سے فرار ہونے کو کبھی بھی قبول نہیں کرتے تھے انھوں نے اپنی ناقدانہ طبیعت سے سچائی کو طشت از بام پہ لانے کی ہمیشہ کوشش کی تھی اور وہ اس میں کامیاب بھی رہے تھے۔
گوپی چند نارنگ کو سفیر اردو بھی کہا جاتا ہے بےشک انھوں نے اردو کی سفارت جس طرح عالمی سطح پہ کی تھی ان کو یہ خطاب ملنا ہی تھا انھیں اردو ادب کی بساط پہ ایک کامیاب مہرے کا مقام حاصل رہا تھا جس کی دانائی اور زیرکی سے چلنے والی ہر چال ایک نیا تاثر پیدا کر دیتی تھی انھوں نے تصنیف و تالیف میں اپنی ساری عمر کھپا دی ان کی ان کوششوں نے نہ صرف ان کی پہچان کو مستند بنایا ہے بلکہ اردو کی شناخت کو مزید مستحکم کر دیا ہے ان کی تصنیفات ایسی نہیں کہ جسے سرسری طور پر پڑھنے کو کافی خیال کیا جائے بلکہ اس کو پڑھنے کے لئے غور و فکر کے مزاج کا ہونا ضروری ہے کیوں کہ انھوں نے جو بھی لکھا ہمیشہ مدلل انداز میں لکھا اسی وجہ سے انھیں اردو ادب کا ایک نہایت اہم ستون سمجھا جاتا تھا ان کی کتابوں سے استفادہ کرنے والوں میں ایک استاد کے ساتھ ساتھ طالب علم اور ایک عام قاری بھی شامل ہوتا ہے ہر عمر کے لوگوں نے ہمیشہ ان کی تحریروں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔
اردو ادب کے لئے ان والہانہ محبت کا صحیح اندازہ ان کے اپنے ہی لفظوں سے کیا جا سکتا ہے وہ ایک جگہ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں
"اردو ہماری صدیوں کی تہذیبی کمائی ہے ،یہ ملی جلی گنگا جمنی تہذیب کا وہ ہاتھ ہے جس نے ہمیں گڑھا ، بنایا اور سنوارا ہے یہ ہماری ثقافتی شناخت ہے جس کے بغیر ہم نہ صرف گونگے بہرے ہیں بلکہ بےادب بھی، میں نے بارہا کہا ہے کہ اردو کو محض ایک زبان کہنا اردو کے ساتھ بےانصافی کرنا ہے یہ ایک طرز حیات ہے ایک اسلوب زیست ہے ایک انداز نظریہ جینے کا ایک سلیقہ طریقہ بھی ہے اس لئے کہ اردو صدیوں کے بتاریخی ربط و ارتباط سے بنی ایک جیتی جاگتی ژندہ تہذیب کا ایک ایسا روشن استعارہ ہے جس کی کوئی دوسری مثال کم ازکم برصغیر کی زبانوں میں نہیں ”
یہ اقتباس اردو زبان کے تئیں ان کے عشق کی ایک چھوٹی سی جھلک ہے اردو زبان ان کی مادری زبان نہ ہوتے ہوئے بھی ان کے احساسات و جذبات کو اسیر کئے ہوئے تھی۔ ان کے ننھیال و ددھیال میں سرائیکی بولی جاتی تھی لیکن اردو زبان کی جادوئی تاثیر کا کرشمہ تھا جو ان کے رگ و پے میں ایسے سرایت کرتی چلی گئی کہ اس نے اس کو اپنا مسکن بنا لیا ۔ انھوں نے اس پہلو بےشمار کامیابیاں حاصل کیں اور کئ درجن کتابیں تصنیف کیں جو کہ متنوع موضوعات پہ مشتمل تھیں ۔ ساہتیہ اکادمی دہلی میں گوپی چند نارنگ پہلے اردو زبان کے صدر ہوئے جو ان کے لئے اور تمام اہل اردو کے لئے کسی عالمی اعزاز سے کم نہیں تھا۔
انھوں نے خواجہ احمد فاروقی سے جو کچھ سیکھا تھا انھوں نے اسے کئ گنا بہتر کرکے اپنی اگلی نسلوں تک منتقل کیا ہے یہ کسی ادیب کی سب سے بڑی کامیابی ہوتی ہے کہ اپنی صلاحیتوں سے اتنے مشعل جلا جاتا ہے جس سے لوگ ایک عمر رہنمائی حاصل کرتے رہتے ہیں۔
ان کا اردو ادب کے تئیں اس والہانہ التفات اور سچی عقیدت کے تئیں ہی ہندی کے مشہور و معروف ناول نگار، ادیب ، دانشور کملیشور نے ایک موقع پر کہا تھا کہ” ہندوستان کی تہذیبی اور ثقافتی روح کو ژندہ رکھنے کے لئے ہر زبان کو گوپی چند نارنگ کی ضرورت ہے ” یہ جملہ گوپی چند نارنگ کے لئے بہترین خراج عقیدت ہے واقعی وہ ایک یکتائے روزگار شخصیت تھے ایسی ہستی جو صدیوں میں پیدا ہوتی ہے اور صدیوں تک تاریخی اوراق میں ان کے نقوش پائے جاتے ہیں ۔ ان کا چلے جانا اگرچہ اردو ادب کے لئے ایک ناقابل تلافی خسارہ ہے ۔ لیکن ان کا اردو ادب کے حوالے سے چھوڑا جانے والا علمی ادبی ورثہ تاحیات ان کے احساس کو ہمارے دلوں میں ژندہ رکھے گا اور ہم ان کے چلائے ہوئے چراغ کی روشنی میں اپنی منزل کو تلاشنے کی تگ و دو کرتے ہوئے ان کو یوں ہی ہمیشہ خراج تشکر پیش کرتے رہیں گے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

