رمضان المبارک کا آخری عشرہ چل رہا ہے، اور یہ بھی بس ختم ہو نے کو ہے ؛ نیکیوں وخیرات کا موسم بہار اپنے الوداع کا جرس بجا چکا ہے، رمضان المبارک کے حسین لیل ونہار ؛پر کیف لمحات اور ہمایوں ساعات اب بس دو تین دن کے مہمان ہیں ‘اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم خود کا محاسبہ کریں اور اپنے اعمال کا جائزہ لیں کہ ہم نے اس ماہ مبارک کا کتنا حق ادا کیا، تلاوت قرآن کا کیا حال رہا اور صدقات و خیرات کا کیا معمول رہا ؛ قرآن کریم نے روزے رکھنے کاجو مقصد بیان کیا ہے وہ حاصل ہوا کہ نہیں؟
قرآن کریم نے روزہ کے مقصد کو ایک مختصر وبلیغ فقرہ میں بیان کیا ہے، وہ ہے لعلكم تتقون ، پوری آیت یہ ہے "یا ایھا الذین آمنوا کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون” (بقرہ 183) ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تم متقی و پرہیز گار بنو
اس آیت کریمہ میں روزے کا مقصد تقویٰ بتایا گیا ہے، تقوی دل کی اس کیفیت کو کہتے ہیں جس کے حاصل ہونے کے بعد دل کو گناہوں سے جھجک معلوم ہونے لگتی ہے اور نیک باتوں کی طرف اس کو بے تابانہ تڑپ ہوتی ہے اور روزہ کا مقصود ہی یہ کہ انسان کے اندر یہ کیفیت پیدا ہو ، تقوی ہی وہ طاقت وپاور ہاؤس جس سے تمام نیک اعمال صادر ہوتے ہیں یہی وہ چشمۂ الٰہی ہے جس سے خیر و بھلائی کے سوتے پھوٹتے ہیں
امام ابن القیم اپنی مشہور کتاب” زاد المعاد "(ج1ص 152 )روزہ کے مقاصد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں ” روزہ سے مقصود یہ ہے کہ نفس انسانی خواہشات اور عادتوں کے شکنجے سے آزاد ہو سکے اس کی شہوانی قوتوں میں اعتدال اور توازن پیدا ہو اور اس ذریعے سے وہ سعادت ابدی کے گوہر مقصود تک رسائی حاصل کر سکے اور حیات ابدی کے حصول کے لیے اپنے نفس کا تزکیہ کر سکے ” حقیقت یہ ہے کہ روزہ ہماری قلبی ذہنی و فکری اور بدنی تزکیہ و تصفیہ ہے جو ہمارے دل کی بیماریوں کینہ؛ حسد ؛جلن اور بغض و عداوت کو کرید کرید صاف کر تاہے، اور ذہن وفکر کی کجیوں کو درست کرتاہے، اور اسی طرح وہ ہمارے بدن کے فاسد مواد کو نکال کر ہمیں اس قابل بنا دیتا ہے کہ ہم کتاب الہی کو سمجھ سکیں اور اس کے تعلیمات وہدایات پر عمل کر سکیں، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے روزہ کی فرضیت بیان کرنے کے بعد نزول قرآن کا ذکر کیا ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے ”
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدىً لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ ”
یعنی قرآن تمام انسانوں کے لئے کتاب ہدایت اور اس سے کما حقہ استفادہ اہل تقوی ہی کر سکتے ہیں جیساکہ قرآن نے اس حقیقت کو اس سورہ کے شروع میں ہی بیان کر دیا ہےهدى للمتقين.
نزول قرآن بنی نوع اِنساں لیے وہ سعادت عظمی ہے، جس کے سامنےتمام سعادتیں ہیچ اور ایسی بیش قیمت دولت ہے جس کے مقابلہ میں تمام دولتیں اور نعمتیں ٹھیکرے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتیں، اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس سامان ہدایت کے ملنے پر بندوں کو حکم دیا ہے خدا کی عظمت و کبریائی کا گن گاؤ اور اس نعمت عظمیٰ پر اللہ کا شکر ادا کرو کہ تم کو اس قابل سمجھا” ولتكبروا الله على ما هداكم ولعلكم تشكرون ” –
اس کے بعد اللہ تعالٰی ماہ رمضان کی رخصتیں: غروب آفتاب کے وقت سے طلوع فجر صادق تک کھانے پینے اور بیوی سے مقاربت کرنے کی اجازت بیان کرنے اور اعتکاف کے آداب واحکام بتانے کے بعد پھر اسی مر کزی نقطہ کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ ان احکام کا مقصد لوگوں میں تقوی وانابت کی روح پیدا کرنا ہے ، اس کو یوں ذکر کرتا ہے” كذلك يبين الله آياته للناس لعلهم يتقون "-
یہ رکوع اس آیت کریمہ پر ختم ہوتا ہے”
: ولا تأكلوا أموالكم بينكم بالباطل وتدلوا بها إلى الحكام لتأكلوا فريقا من أموال الناس بالإثم وأنتم تعلمون "اپنے درمیان باطل طریقہ سے مال نہ کھاؤ اور نہ حکام رسی کے لیے مال استعمال کرو کہ لوگوں کے مال وجائداد میں سے کوئی حصہ جانتے بوجھتے کرتے ہوئے تم ہڑپ کر لو۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہےکہ متقی و پرہیز گار لوگ دوسروں کے مال نا جائز طریقے سے نہیں کھاتے اور نہ کسی کا حق مار تے ہیں . (یہ بھی پڑھیں حضرت مولانا نور عالم خلیل امینی رح۔: آتی ہی رہےگی تیرے انفاس کی خوشبو – مفتی محمد ثناء الہدیٰ قاسمی )
اب ذرا ہم اپنے اندر جھانک کر دیکھیں کہ ہمارے اندر تقوی کا عکس جمیل اترا کہ نہیں اگر تقوی کے قندیل ربانی سے دل کی دنیا روشن ہے تو اللہ کا سو شکر ادا کریں اور اگر کمی محسوس ہوتی ہے تو توبہ واستغفار کریں اور اللہ کے حضور گڑگڑا ئیں ا ور باقی بچے دو تین زیادہ سے زیادہ نوافل پڑھیں ،خوب تلاوت کریں اور اللہ کی دی ہوئی دولت سے اللہ کے غریب ومسکین بندوں کی دست گیری اور ان کی حاجتیں پوری کریں-
اگر یہ ماہ خیر وخوبی سے گزرگیا ، تو ان شاءاللہ تعالیٰ سال کے دوسرے گیارہ مہینے بھی خیریت وعافیت گزریں گے، کوچۂ تصوف کے ماہر ، اسرار شریعت کے رمز آشنا امام مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فر ماتے ہیں : "اگر اس مہینہ میں کسی آدمی کو اعمال صالحہ کی توفیق مل جائے تو پورے سال یہ توفیق اس کے شامل حال رہی گی اور اگر یہ مہینہ بے دلی فکر وتردد اور انتشار کے ساتھ گزرے تو پورا سال اسی حال میں گزرنے کا اندیشہ ہے "-
اس لیے بڑی تیقظ وبیداری کے ساتھ یہ با قی بچے دو تین گزاریں ایسا نہ ہو کہ یہ ایام بھی غفلت میں گزرجاۓ اور بعد میں ہمیں یہ نہ کہنا پڑے کہ
اب کے دن گزر گئے یوں ہی بہار کے
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

