’بجھاکے رکھ دے یہ کوشش بہت ہواکی تھی‘
شب کی گہری تاریکی‘سحر کی نوید ہوتی ہے‘ لیکن کچھ راتیں اس قدرسیاہ ہوتی ہیں کہ دوردورتک اجالے کی ایک مدھم اور ہلکی لکیر بھی دکھائی نہیں دیتی‘لیکن…… اس وحشت میں …… حوصلوں کو پست اور اعتماد کاخون کرنے والی ان طویل‘ جان لیوا راتوں میں ……اپنی اندرونی قوتوں کو مجتمع کرکے صبح ِنو کی امیدرکھنے والے لوگ بھی‘ اس دنیا میں موجود ہیں ……ان کی ہمت‘ حوصلہ ‘لگن اورنہ تھکنے اور گرکر سنبھلنے کی صلاحیت‘ دوسروں کے لیے سرچشمہ فیض اور مشعل ِراہ ثابت ہوتی ہے۔
کیاکوئی برسوں سے لاحق تکلیف دہ ٹیومر کی بیماری‘حوصلہ شکن 31 مختلف آپریشنس‘کمر اور پاؤں کے بیچ 183 ٹانکے لگنے کے بعد آدھے سے زائد مفلوج جسم کے ساتھ زندگی کی طرف لوٹنے کی ہمت کرسکتاہے؟ایک خوشگوار‘بھرپورزندگی جی سکتا ہے؟
مفلوج و معذور خاتون کھلاڑی دیپاملک نے Paralympics 2016 میں shotput F 53 زمرے میں چاندی کا تمغہ جیت کرہمت اور حوصلے کی نئی تاریخ رقم کی تھی۔دیپاکی زندگی اس بات کی ایک روشن نظیر ہے کہ حادثے انسان کو ایک نئی طاقت سے بھردیتے ہیں‘وہ ’منفی‘ کو’مثبت‘ میں بدلنے کا ہنر جان لیتا ہے۔مایوسیوں میں امید کا ایک دریچہ اس کے لیے کھل جاتا ہے۔ وہ اپنی مٹھی میں آس کا جگنو پالیتا ہے۔
50 سالہ دیپاایک آرمی آفیسر کی اہلیہ ہیں‘ ان کی دو بیٹیاں ہیں۔6 سال کی عمر میں پتا چلا کہ انہیں ٹیومر ہے۔1999 ء میں spinal tumor کے علاج کے بعد ان کے جسم کا کمرسے نچلا حصہ مفلوج ہوگیا۔ وہ چلنے پھرنے کے قابل نہیں رہیں۔دیپامعذور ہونے سے قبل کرکٹ کھیلا کرتی تھیں‘ انہیں بائکس اور موٹر سائکلینگ کابے حد شوق تھا۔لیکن تقریباً بیس برس قبل ٹیومر کے ساتھ جنگ کے دوران وہ فالج کی زدمیں آگئیں‘ اور وہیل چیئر ان کے جسم کا ایک حصہ بن گئی۔
ایک طویل صبرآزما سفر کے بعد ریوپیرا اولمپک میں کوئی بھی میڈل جیتنے والی وہ ملک کی پہلی خاتون کھلاڑی بن گئی تھیں۔انہیں دیگرکھیلوں جیسے javelin throwوغیرہ میں بھی مہارت حاصل ہے۔ وہ ایک بائکرہونے کے علاوہ ایک ماہرتیراک بھی ہیں‘انہوں نے تیراکی میں کئی بین الاقوامی تمغے حاصل کیے ہیں۔ جیولین تھرو میں ان کے نام ایشیائی ریکارڈ ہے۔انہوں نے 2011 ء میں عالمی چیمپیئن شپ میں شاٹ پٹ اور ڈسکس تھرومیں چاندی کا تمغہ جیتا تھا۔ وہ اب تک قومی سطح پر57 اوربین الاقوامی سطح پر17 تمغے اپنے نام کرچکی ہیں۔
ہندی اخبار’دینک بھاسکر‘ کے مطابق دیپااب تک 68 گولڈ میڈلس حاصل کرچکی ہیں۔
دیپا hand controlled car کاخصوصی لائسنس رکھتی ہیں۔وہ ملک کی پہلی جسمانی طورپر معذورشخصیت ہیں جنہوں نے فیڈریشن موٹر اسپورٹس کلب آف انڈیا سے official rally licence حاصل کیاہے۔وہ modified ریلی وہیکل کے لیے لائسنس رکھنے والی بھی پہلی شخصیت ہیں۔
حیران کن بات یہ ہے کہ دیپا نے اپنے sports کریئر کاآغاز 36 سال کی عمر میں کیا۔جبکہ وہ وہیل چیئر کی محتاج ہوگئی تھیں۔اکثر کھلاڑی اس عمر میں سبکدوش ہوجاتے ہیں۔ حکومت ِ ہند نے انہیں 42 برس کی عمر میں ارجن ایوارڈسے نوازا۔
دیپاملک 3000 کلومیٹر تک دہلی سے لداخ ڈرائیونگ کا ریکارڈ رکھتی ہیں۔یمنا ندی میں تیراکی کے علاوہ دیگر کارناموں کے لیے چارمرتبہ ان کا نام لمکابک آف ریکارڈز میں درج ہوچکاہے۔
وہ President role model award کے بشمول دیگرکئی ایوارڈزاوراعزازات حاصل کرچکی ہیں۔
دیپا ملک کو ٹیومر(اوراس کا مسلسل پست ہمت کردینے والا طویل علاج و معالجہ) کے علاوہ ہائیپوتھائرائڈ کاعارضہ بھی ہے‘پتے کے نکال دینے کی وجہ سے بھی انہیں صحت کے مسائل لاحق ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں کبھی یوں بھی تو ہو – سفینہ عرفات فاطمہ )
دیپا کے pageپرانیتا سانگوان کی جانب سے لیاگیا ان کا انٹرویو موجود ہے۔وہ انٹرویونگار کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ایسے پریشان کن اوردہشت انگیز طبی تجربات کے بعد عام طورپرلوگ ہارمان لیتے ہیں؟ دیپا نے جواب دیا کہ ”دراصل مجھ میں ایک غصہ تھا‘جب میں ٹیومرسرجریز سے گزری اور مفلوج ہوگئی تو میں دوسروں کے لیے حتی کہ اپنے دوستوں کی نظر میں بھی ایک صحت مند فرد نہیں رہ گئی تھی۔ وہیل چیئر جومیری معاون ہے‘لوگوں کی نگاہ میں میری محرومی اورمعذوری کی ایک علامت بن گئی تھی‘یہ سفر) sports career (یہ ثابت کرنے کی خاطر شروع کیاتھا کہ وہیل چیئر پر بیٹھنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اب زندگی ختم ہوگئی ہے‘ہم علیل نہیں ہیں‘ہم مریض نہیں ہیں‘ہم صرف وہیل چیئر کا استعمال کرتے ہیں اور بس‘ ہم ایک صحت مندزندگی جی سکتے ہیں۔میں نے محسوس کیا کہ وہیل چیئراستعمال کرنے والوں میں یہ احساس پیداکیاجائے کہ وہ ایک بھرپورزندگی گزارسکتے ہیں۔اسی مقصد کے تحت میں نے ability beyond disability کامشن شروع کیا۔“
دیپا کی خواہش ہے کہ وہیل چیئر کے لیے ہرجگہ قابل رسائی ہو یہ نہ ہو کہ ”ہم وہاں کیسے جائیں گے اور یہ کہ وہیل چیئر وہاں کیسے جائے گی؟“ (دیپاملک ایک motivational speakerبھی ہیں)۔
وہ اپنے انٹرویو میں کہتی ہیں:میرا یہ ماننا ہے کہ زندگی ایک تہوارہے اورہمیں اس کا جشن منانا چاہیے۔ ٹیومرکی باربارابھرنے والی تکلیف سے گزرنے کے بعد میں نے یہ سیکھا ہے کہ ہردن میری زندگی میں ایک بونس ہے‘ اوربونس ملنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس سے لطف اندوز ہواجائے۔
http://deepamalik.com
دیپا کے ہمت اور حوصلے کے اس سفر میں ہمیشہ ان کے شریک سفر نے ان کا ساتھ دیا۔ وہ اپنی اس کامیابی کو شوہر‘بیٹیوں‘ ارکان خاندان اور دوستوں کی حوصلہ افزائی کا نتیجہ قراردیتی ہیں۔
زندگی کی خاردار راہوں پرچلنا اس وقت سہل ہوجاتا ہے جب آپ کے ساتھ چند ہمدردومونس عزیزواقارب ہوں۔دیپا ”دی کپل شرما شو“ کا حصہ بھی بنی تھیں۔وہ کسی بھی پہلو سے ایک مفلوج اور اپاہج خاتون نہیں لگتیں۔ ان کا درخشاں چہرہ‘ ان کی خوش مزاجی اور زندگی سے بھرپورقہقہہ ان صحت مند افراد کو شرمندگی میں مبتلا کرسکتا ہے جنہیں زندگی سے شکایتیں ہیں۔
بجھا کے رکھ دے یہ کوشش بہت ہوا کی تھی
مگرچراغ میں کچھ روشنی انا کی تھی

