Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
کتاب کی بات

by adbimiras اکتوبر 10, 2021
by adbimiras اکتوبر 10, 2021 1 comment

’’اکیسویں صدی میں اردو ادب‘‘  ایک تنقیدی جائزہ – محمد یاسین گنائی

 

جموں وکشمیر کی ادبی ذرخیزیت سے ادبی دنیا بخوبی واقف ہیں اور یہاں کے گنے چنے ادبی علاقوں میں پونچھ خاصی پذیر ائی حاصل کرچکا ہے ۔اس علاقے سے کرشن چندر،کشمیری لال ذاکر ،محمد الدین فوق کی وابستگی ایک طرف اورٹھاکر پونچھی،جیلانی کامران،مالک رام آنند،بلراج بخشی،پرویز مانوس،شیخ خالد کرار وغیرہ کا آبائی وطن یہی پونچھ ہے ۔ اس ادبستان سے نئی نسل کے درجنوں فکشن نگار،شاعر ،صحافی اور ریسرچ اسکالر پیدا ہوئے ہیں اور ان میں ایک نام محمد ارشد کسانہ کا آتا ہے جو ان دنوں دہلی یونیورسٹی سے ڈاکٹر یٹ کی ڈگری میں مصرف ِ عمل ہیں۔حالیہ دنوں ان کی مرتب کردہ کتاب’’اکیسویں صدی میں اردو ادب‘‘ منظر عام پر آئی ہے ، چونکہ میں جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے ہر چھوٹے بڑے قلمکار کی کتاب پڑھنا پسند کرتا ہوں۔ لہٰذا ایک کتاب حاصل کرکے اس کا مطالعہ شروع کیا۔یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی نے شائع کی ہے اورکتاب کی قیمت ۲۵۰ رکھی گئی ہے،جو آج کی گراں بازاری میں نہ صرف مناسب بلکہ کم قلیل معلوم ہوتی ہے۔مجموعی طور پر کتاب ۱۹ مضامین پر مشتمل ہے جن کو پانچ اصناف شاعری،فکشن،غیر افسانوی نثر،تحقیق وتنقید اور صحافت کے خانوں میں بانٹا گیا ہے۔محمد ارشد کی مہارت نہ صرف مضامین کو مختلف اصناف کے تحت ترتیب دینے میں نظر آتی ہے بلکہ آغاز میں’’میں ذمہ دار نہیں ہوں‘‘ کے عنوان سے لکھی نظم سے بھی ہوتا ہے۔ مرتب نے ۴۰ صفحات پر مشتمل ایک ضخیم مقدمہ بھی تحریر کیا ہے۔جہاں تک مرتب کے مستقبل کا سوال ہے تو انہوں نے اس ضمن میں اپنا مشن واضح کیا ہے کہ وہ کن ادبی مصروفیات میں مشغول ہے۔اس سے پہلے ان کے افسانوں کا مجموعہ’’ابابیلیں اب نہیں آئیں گی‘‘۲۰۱۹ء میں شائع ہواتھا۔ان کی زیر طبع تصانیف میں’’چنار اُداس ہے(ناول)،مشن دوسری دنیا(ناول)،کفن ۲(افسانوی مجموعہ)،تمہیں بھلانے کی مسلسل جستجو میں ہوں(شعری مجموعہ)،پونچھ کے اردو ادیب (تنقیدوتحقیق) اور سرینگر کے اردو ادیب(تنقید وتحقیق)‘‘شامل ہیں۔اب ان میں سے کون کون سے کتاب منظر عام پر آئے گی ،یہ دیکھنے والی بات ہوگی۔ (یہ بھی پڑھیں  ادبیت اور تخلیقیت کے درمیان باہمی رشتہ – ڈاکٹر محمد علی حسین شائق)

زیر بحث کتاب کا مقدمہ قارئین کو ضرور اپنی طرف متوجہ کرے گا کیونکہ اس میں مصنف نے تفصیل سے اکیسویں صدی کے اردو ادب پر روشنی ڈالی ہے۔مقدمہ میں ارشد صاحب نے طلسماتی انداز اپنایا ہے،اس وجہ سے نہیں کہ اس میں فوق الفطری عناصر کا ذکر کیا ہو بلکہ اس وجہ ہے کہ کلیم الدین احمد کی طرح ہر بات کو سوالیہ انداز اورشک کی نظروں سے بیان کیا ہے۔مقدمہ کی شروعات ہی چونکا دینے والی بات سے کی ہے کہ اکیسویں صدی کا ادب صحافت کے بہت قریب ہوچکا ہے اور اس صدی کا ادب دل بہلانے کے بجائے انسان کو دکھوں میں مبتلا کرتا ہے۔حالانکہ ان باتوں پر سوالات کھڑے کیے جاسکتے ہیں لیکن اکیسویں صدی کے قارئین اس سے کوئی سروکار نہیں رکھتے ہیں کہ کون کیا کہتا ہے اور کس انداز سے کہتا ہے کیونکہ آج کل کسی کے پاس پڑھنے کی فرصت ہی نہیں ہے۔حالانکہ امتحان کی تیاری کے لئے طلبہ،نوکری  کے لئے ضرورت مند کسی حد تک مجبور ی میں سرسری مطالعہ کرتے ہیں لیکن نوکری کے بعد مشکل سے دس فیصد لوگ لکھنے پڑھنے کی طرف دھیان دیتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹریٹ کے باوجود ہمارے اساتذہ کے پاس ایک عدد مضمون لکھنے کی فرصت نہیں اور کتاب لکھنا تو بہت دور کی بات ہے۔

ارشد صاحب نے مقدمہ میں مزید کچھ سوالات اُٹھائے ہیں۔وہ اکیسویں صدی کے ادب کو نہ ادب برائے ادب اور نہ ادب برائے زندگی مانتے ہیں بلکہ اس کو ادب برائے سماج کا نام دیا ہے۔اردو ناول نگاروں سے یہ شکایت ہے کہ وہ آج تک پریم چند جیسا ناول گئودان نہیں لکھ سکیں ہیں۔حالانہ اکیسویں صدی میں شمس الرحمان فاروقی کا’’کئی چاند تھے سرآسمان‘‘ اور مشرف عالم ذوقی کا ’’مرگ ِ انبوہ‘‘کو زبردست پزیرائی ملی ہے۔سرسید تحریک کی ادبی خدمات سے کون واقف نہیں ہے لیکن ارشد صاحب نے اس تحریک پر بھی سوالات اُٹھائے ہیں کہ سرسید مرحوم نے ادب سے علم و اصلاح کا کام لیا ہے۔تو کیا ادب سے علم واصلاح کا کام لینا ممنوع ہے یا پھر یہ ادب کے دائرہ کار میں شامل نہیں ہیں۔تنقید کو مختلف ناقدین نے الگ الگ القاب سے یاد کیا ہے اور ارشد صاحب نے جدید دور کی تنقید کو قصیدہ گوئی سے تعبیر کیا ہے۔ان کا ماننا ہے کہ آجکل تنقید بھی فرمائش پر ہوتی ہے۔شاعری کے بارے میں کہتے ہیں کہ اکیسویں صدی کی شاعری دل کے بجائے دماغ کی دیں ہے اور جدید غزل کے نام پر پھیکی شاعری کا گراف روز بہ روز بڑھتا جارہاہے۔خواتین قلمکاروں کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ قراۃ العین حیدر جیسی علمبردار خاتون کے نقش قدم پر چلنے کے بجائے صرف اپنا رونا روتی ہے اور ان کی کل کائینات تانیثیت نظر آتی ہے۔گویا اگران کی تخلیقات سے رونا دھونا اور تانیثی شعور نکالا جائے وہ وہاں کچھ باقی نہیں رہے گا۔بہرحال کتاب کا مطالعہ کرتے وقت گہرائی سے مطالعہ کرنے والوں کو بحث ومباحثہ کے لئے زبردست مواد ملے گے۔مقدمہ میں مصنف نے اردو زبان وادب کی اہم پچاس ویب سائٹ کا بھی تعارف کرایا ہے۔المختصر انیسویں صدی میں ناسخ نے اپنا کلیات ’’دفتر پریشان‘‘ کے نام سے شائع کیا تھا اور اکیسویں صدی میں محمد ارشد نے اپنا مقدمہ’’دفترِ شکایات‘‘ منظر عام پر لایا ہے۔حالانکہ کچھ شکایات میں صداقت بھی نظر آتی ہے جیسے جموں وکشمیر کے مصنفین اور اداروں کے بارے میں جو رائے قائم کی ہے وہ حق بجانب نظر آتی ہے۔مضامین کے انتخاب اور صاف نیت سے قائم کی گئی شکایات کیلئے فاضل مرتب شاباشی کا حقدار ہے۔اردو زبان میں ہزاروں بہترین کتابوں کی طرح اس کتاب کو بھی خاطر خواہ قارئین میسر نہیں ہوں گے اور یوں کتاب مرتب کرنے کا مقصد فوت ہوسکتا ہے۔

زیر مطالعہ کتاب میں شامل مضامین پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں۔پہلا مضمون توصیف احمد ڈار کا’’اکیسویں صدی میں اردو غزل‘‘ ہے۔اگرچہ اس مختصر سے مضمون میں اکیسویں صدی کی غزل کی خوبیان بیان کی گئی ہے لیکن زیادہ اشعار وحوالہ جات کے سبب مضمون نگار وضاحت نہیں کرپایا ہے۔دوسرا مضمون دانش اثری کا’’اکیسویں صدی میں اردو نظم کی روایت‘‘ہے۔اس میں اکیسویں صدی کے اہم نظم گو شعراء کی خوبیوں،فکر اور زاوئے پر روشنی ڈالی گئی ہے۔محمد ارشد کسانہ نے’’اکیسویں صدی میں اردو رباعی‘‘ کے نام سے مضمون لکھا ہے۔اگرچہ اکیسویں صدی کے درجنوں رباعی گوشعراء اور ان کے شعری مجموعوں پر بحث کی ہے لیکن جموں وکشمیر کے دو مشہور رباعی گو شعراء مسعود سامعوں اور سلیم ساغر کا ذکر نہیں کیا ہے۔جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مصنف نے  علاقائی ادب کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہے۔کشمیر یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر مسرت آرا نے’’اکیسویں صدی میں اردو نعت‘‘ پرمختصر مضمون لکھا ہے ۔حالانکہ ان کے ڈاکٹریٹ کا موضوع جموں وکشمیر کے بارے میں ہی ہے لیکن ریاست کے صرف ایک نعت گو ذکر کرکے اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ وہ یہاں کے نعت گو شعراء سے واقف نہیں ہے ۔اگر صرف رسالہ ’’جہان حمد ونعت‘‘ کے ایڈیٹر ڈاکٹر جوہر قدوسی سے رابطہ کرتی تو درجنوں بہترین نعت گو شعراء سے شناسا ہوپاتی۔محمد ارشد کا مضمون’’اکیسویں صدی میں اردو مرثیہ‘‘ ایک عمدہ مضمون تصور کیا جاسکتا ہے کیونکہ اکیسویں صدی میں اس صنف کی طرف خاطر خواہ توجہ نہیں دی جاتی ہے۔بڑی محنت اور عرق ریزی نے اس صدی کے مرثیہ گو شعراء کے کلام تک رسائی حاصل کی ہے اور اس کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ آخرپر یہ کہنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی ہے کہ’’جدید مرثیہ کی تعریف یہ ہوسکتی ہے کہ وہ مرثیہ جو اپنے عہد کا آئینہ دار ہو وہ جدید مرثیہ ہے‘‘ص:۹۴)شاعری کے باب کا آخری مضمون اندور یونیورسٹی کے ریسرچ اسکالر ڈاکٹر حارث حمزہ لون کا ’’اکیسویں صدی میں قطعہ نگاری‘‘ ہے۔اس موضوع پر قلم اُٹھانا ہی حارث صاحب کی دلچسپی اور مطالعہ کا پتہ دیتی ہے۔بہترین انداز میں گنے چنے قطعہ نگاروں کے کلام کا جائزہ لیا ہے لیکن جموں وکشمیر کے کسی قطعہ گو کا ذکر نہ کرکے علاقائی ادب اور کشمیر کے وارث کا حق ادا نہیں کیا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اکیسویں صدی میں بچوں کا افسانوی ادب (ایک اجمالی جائزہ) ڈاکٹر خالد ظہیر )

زیر نظر کتاب کا دوسرا حصہ فکشن پر لکھے پانچ مضامین پر مشتمل ہے۔پہلا مضمون ناہید شفیع کا’’اکیسویں صدی میں اردو ناول کی روایت‘‘ ہے۔ان کے مطابق اکیسویں صدی کا پہلا ناول علی امام نقوی کا’’بساط‘‘ ہے۔اس مضمون کا مطالعہ کرنے سے قارئین کو بہت حد تک اطمینان ہوگا کہ واقعی عمدہ مضمون لکھا ہے۔نہ صرف تمام ناول نگاروں بلکہ جموں وکشمیر کے متعدد ناول نگاروں کا بھی ذکر کیا ہے۔اکیسویں صدی کے ناولوں کا موضوعاتی مطالعہ ہو یااہم مسائل کی عکاسی ہو ،تمام اہم نکات پر بخوبی روشنی ڈالی ہے۔فکشن کے باب میں محمد ارشد کا مضمون’’اکیسویں صدی میں اردو افسانہ‘‘ بھی شامل ہے۔اس مختصر مضمون میں عالمی مسائل کی گونج سنائی دیتی ہے۔محمد ارشد کا ماننا ہے کہ اکیسویں صدی کے افسانوں کا مطالعہ کرنے سے ایسا لگتا ہے کہ ہم کسی اخبار کا مطالعہ کررہے ہوں اور اکیسویں صدی کا کوئی افسانہ دوبارہ پڑھنے کو جی نہیں کرتا ہے۔ کیونکہ ان میں اخبارات کی طرح جنگ،بیماری، معاشی وسیاسی مسائل کے سوا کچھ نہیں ہوتا ہے۔حالانکہ اس مضمون کی خاص اہمیت یہ ہے کہ اس میں مصنف نے اس صدی کے ۲۷۵ ؍افسانہ نگاروں کے لگ بھگ ۵۰۰ افسانوی مجموعوں کی فہرست ترتیب دی ہے جو ایک تاریخی وتحقیقی کام ہے۔البتہ محمد ارشد نے جلد بازی سے کام لیکر ان افسانوں نگاروں کو کسی بھی ترتیب یعنی پیدائش یا حروف تہجی کے اعتبار سے ترتیب نہیں دیا ہے، جس کے سبب کچھ خامیاں در آئیں ہیں جیسے نمبر شمار ۱۸۷؍ اور۲۵۸ پر دونوں جگہ پر زنفر کھوکھر کا ذکر کیا ہے ۔ذوالفقار علی کا مضمون ’’اکیسویں صدی میں اردو افسانچہ‘‘ بھی ایک عمدہ مضمون ہے۔ذوالفقار نے بڑی محنت اورعرق زیزی سے اس صدی کے افسانچہ نگاروں اور ان کے مجموعوں کا ذکر کیا ہے۔انہوں نے افسانچہ نگاری کے آغاز میں خلیل جبران ،کرشن چندر اورعظیم راہی جیسے مشاہیر کی خدمات کا بھی اعتراف کیا ہے۔اگرچہ اس صنف کے حوالے سے مواد تلاش کرنا مشکل ہے لیکن مصنف نے ہندوپاک کے افسانچہ نگاروں کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیرکے تمام اہم افسانچہ نگاروں کی خدمات کا ذکر کیا ہے۔اس مضمون کیلئے مصنف صحیح معنوں میں داد کا مستحق ہے۔اس باب کا آخری مضمون اشفاق احمد آہنگر کا’’اکیسویں صدی میں اردو ڈراما: سمت ورفتار‘‘ ہے۔اشفاق صاحب نے بھی قدرے محنت سے اس صدی کے ڈراموں کا جائزہ لیا ہے۔اس مختصر مضمون میں منتخب ڈراما نگاروں کے اہم ڈراموں کا جائزہ لیا گیاہے ،نہ کہ اکیسویں صدی کے تمام ڈراموں کا ذکر کیا ہے۔اس صدی کے ڈراموں کے موضوعات خصوصاً شعور کی رو تکنیک استعمال کرنے والے ڈراموں نگاروں کی لمبی فہرست بیان کی ہے۔بہرحال اس باب میں اس صدی کے ناول،افسانہ،افسانچہ اور ڈراما نگاری کا عمدہ مواد پڑھنے کو ملتا ہے۔

تیسرا باب غیر افسانوی نثر کے عنوان سے ہے جس میں پانچ مضامین شامل ہیں۔محمد فیصل کسانہ کے مضمون ’’اکیسویں صدی میں سوانح نگاری‘‘میں اس صدی کے دس اہم سوانح نگاروں کا ذکر کیا ہے۔اگرچہ سوانح کے آغاز وارتقاء پر بھی سرسری نظر ڈالی ہے لیکن تمام تر توجہ ’’محمود الہٰی:حیات وخدمات،قاضی عبدالودود:شخصیت وخدمات اور مولانا ابوالکلام آزاد:ایک مطالعہ‘‘نامی تین سوانح پر مرکوز کی ہے۔اس مختصر مضمون کا اختتام پرپچاس سے زائد اہم سوانح عمریوں کے نام سے کیا ہے ۔ یوں مضمون نگار نے مضمون لکھنے کا حق بھی کسی حد تک ادا کیا ہے۔دوسرا مضمون محمد ارشد کا’’اکیسویں صدی میں اردو خودنوشت‘‘ ہے۔اس میں مصنف کا گہرا شعور، وسیع مطالعہ اور حقیقت نگاری نظر آتی ہے۔اردو کی پہلی خودنوشت’’کالا پانی‘‘ سے مضمون کی شروعات کی ہے اور پھر اس صدی کی ۳۲ خودنوشتوں کا مختصر تعارف پیش کیا ہے۔انہوں نے تین قسم کی خودنوشتوں طبع زاد،ترجمہ اورمرتب کردہ  خودنوشتوں کاذکر کیا ہے۔خودنوشت کے حوالے سے کچھ غلط بیانی کا بھی جواب دیا ہے۔جیسے حمایت علی شاعر نے ۲۰۰۱ء میں’آئینہ در آئینہ‘‘ کے نام سے منظوم خودنوشت لکھکر یہ دعویٰ کیا تھا کہ:

’’نثر میں خودنوشت سوانح حیات بہت لکھی گئی ہیں مگر نظم میں یہ’’پہلا تجربہ‘‘ ہے۔میں اسے پہلا تجربہ اس لئے کہہ رہا ہوں کہ اس میں واقعات،تاریخی حوالوں کے ساتھ مرتب ہوئے‘‘۔(ص:۱۷۴)

اس کا جواب محمد ارشد نے یوں دیا ہے کہ اس سے پہلے بھی منظوم خودنوشت لکھنے کا رواج ملتا ہے۔دوسری باب اردو میں مشاہیر کے خطوط سے خودنوشت مرتب کرنے کا رواج بہت پہلے سے چلا آرہا ہے اور اسی رواج کے تحت غالب، اقبال، رشید احمد صدیقی کے خطوط سے خودنوشتیں ترتیب دی گئی ہے۔محمد ارشد نے’’اکیسویں صدی میں اردو سفرنامہ کی روایت‘‘کے نام سی بھی مضمون لکھا ہے۔

اس میں اردو میں سفرنامے کی روایت اوراہم سفرناموں کا ذکر کیا ہے۔اردو میں سب سے زیادہ سفرنامے مستنصر حسین تاڑ نے ۳۸ سفر نامے لکھے ہیں۔اس مضمون میں سفرناموں اور حج ناموں دونوں کا ذکر ملتا ہے اور ریاست کے چند سفرناموں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔زاہد ظفر نے’’اکیسویں صدی میں اردو انشائیہ‘‘ کے عنوان سے مضمون لکھا ہے۔انہوں نے اس صدی کے چند اہم انشائیہ نگاروں اور ان کے مجموعوں کا ذکر کیا ہے۔جن میں’’پروفیسر خورشید جہاں،خالد محمود،بختیار احمد،سید مشہود جمال،عابدمعز اورزاہد علی خان ‘‘خصوصی طور پر شامل ہیں۔اگرچہ ان منتخب انشائیہ نگاروں کے فکر وفن اور موضوعات پر روشنی ڈالی ہے لیکن جموں وکشمیر سے تعلق رکھنے والے سب سے اہم انشائیہ نگار پروفیسر محمد زماں آزردہ کا ذکر نہیں کیاہے۔جن کے ایک درجن کے قریب مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں۔زاہد ظفر کشمیر کے ایک ہونہار ریسرچ اسکالر ہیں اور منصور احمد منصور،گلزار احمد وانی،طالب کاشمیری جیسے صاحب کتاب انشائیہ نگاروں کو چھوڑنا کوئی گناہ نہیں ہے لیکن اکیسویں صدی کے سب سے معتبر ومعروف انشائیہ نگار محمد زماں آزردہ کا نام نہ لینا مصنف کی ادبی گستاخی یا ذاتی تعصب قرار دیا جاسکتا ہے۔میری ذاتی رائے ہے کہ آزردہ صاحب ان منتخب انشائیہ نگاروں سے کئی سو فٹ اونچائی پر پرواز کررہے اور اس صدی کے سب سے بڑے انشائیہ نگار بھی ہیں۔اس باب کا آخری مضمون اعجاز احمد لون کا ’’اکیسویں صدی میں اردو خاکہ کی روایت‘‘ ہے۔یہ ایک طویل،مدلل اور معلوماتی مضمون ہے۔ اس میں اس صدی کے ۲۱ خاکہ نگاروں کے خاکوں کا جائزہ لیا گیا ہے۔مصنف نے خاکہ نگار کا نام،مجموعہ خاکہ، اس میں شامل خاکوں کے نام اور کسی ایک اہم خاکہ کا اقتباس قارئین کے سامنے رکھا ہے۔یوں ان منتخب خاکہ نگاروں کی جملہ خوبیاں منظر عام پر آتی ہے لیکن دو خامیاں ضرور کھٹکتی ہے ۔خاکہ نگاری پر مضمون لکھتے وقت دیگر تصانیف کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے اور دوم کیا جموں وکشمیر میں کوئی بھی خاکہ نگاری کا شوق نہیں رکھتا ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ماحولیاتی تحفظ اور ادب اطفال – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن )

زیر مطالعہ کتاب کا چوتھا باب تحقیق وتنقید کے عنوان سے ہے اور اس میں صرف دو مضامین شامل ہیں۔ڈاکٹر مجاہد الاسلام نے’’اردو تنقید:اکیسویں صدی میں‘‘ کے عنوان سے ایک مختصر مضمون لکھا ہے۔حالانکہ ابتدا میں غیر ضرور بحث کے تحت چار صفحات تنقید کیا ہے؟ میں صرف کیے ہیں اور پچھلے سو سال یہ بحث سن رہے ہیں۔بہرحال اس مضمون میں اکیسویں صدی کے اہم ناقدین جمیل جالبی،وزیر آغا،شمیم حنفی،شمس الرحمٰن فاروقی،شارب ردولوی،گوپی چند نارنگ، ابوالکلام قاسمی،کرامت علی کرامت،عتیق اللہ جیسے اہم ناقدین کا ذکر کیا ہے۔اگرچہ ان کی تصانیف اور نظریات کا ذکر کیا ہے لیکن پروفیسر حامدی کاشمیری جیسے نظرساز ناقد کا ذکر نہ کرکے مصنف نے اپنی لاعلمی کا مظاہرہ کیا ہے۔حقیقت نگاری،غیرجانبداری اوروسیع مطالعہ اسی چیز کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کم ازکم کسی میدان کے دس اہم نام دیانتداری سے لیے جائیں اور حامدی صاحب اکیسویں صدی کے دس بہترین ناقدین میں شامل ہوتے ہیں۔مرتب اور صاحب مضمون دونوں کو اس بات کا خیال رکھنا چاہیے تھا کہ اس باب میں تنقید کے حوالے سے صرف ایک مضمون ہے، تو ایک مفصل ومدلل مضمون شامل کرنا چاہیے تھا،جو اطمینان بخش ہوتا۔اس با ب کا دوسرا مضمون ابراہیم افسر کا’’اکیسویں صدی میں اردو تحقیق‘‘ کے عنوان سے ہے۔جو تمام مضامین کے مقابلے میں گہرے مطالعہ اور محنت کا ثمر نظر آتا ہے۔اس میں مختلف اداروں جیسے شبلی اکیڈیمی،انجمن ترقی ہند،غالب انسٹی ٹیوٹ،قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان وغیرہ کی تحقیقی خدمات،مختلف یونیورسٹیوں کی تحقیقی خدمات،مختلف محقیقین کی تحقیقی وتنقیدی خدمات اور مختلف علاقوں مثلاً علی گڑھ،تامل ناڑو،اعظم گڑھ، مظفرگڑھ،کیرالا،،میرٹھ،بہار،اودھ،برہان پور،ہریانہ،بھوپال،ر اجستھان وغیرہ کی تحقیقی خدمات اور مختلف محقیقین واداروں کی اقبال شناسی،میر شناسی،غالب شناسی،انیس شناسی،سرسید شناسی،شبلی شناسی وغیرہ پر روشنی ڈالی ہے۔افسر صاحب نے مضمون تو بہت عمدہ لکھا ہے لیکن ہندوستان کے قدیم ادب نوازوں کی روش اپناتے ہوئے جموں وکشمیر کے محقیقین بلکہ من جملہ پورے علاقے کو ہی نظر انداز کیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے ان کی نظر جموں سے آگے نہیں پڑی ہے ۔کیونکہ محمد یوسف ٹینگ،غلام نبی خیال،محی الدین زور،جوہر قدوسی،نذیراحمد ملک،شفق سوپوری،الطاف انجم وغیرہ کو چھوڑ کرکسی ریسرچ اسکالر کا ذکر بطور محقق وناقد کرنا کون سی دیانت ہے۔ دبستان کشمیر سے تعصب ہی کہا جاسکتا ہے کہ ادنا سے رسائل کے خصوصی شماروں کا ذکر کیا ہے لیکن کلچرل اکادمی کے ماہنامہ شیرازہ کے خصوصی شماروں کا ذکر نہیں کیا ہے ۔حالانکہ ہندوستان کے تمام رسائل میں سب سے زیادہ خصوصی شمارے شیرازہ کے ہی نکلے ہیں۔اشاریہ سازی میں عبداللہ خاور جیسے پیدائشی اشاریہ ساز کو بھی نظر انداز کیا ہے اور اقبال شناسوں کے ذکر میں نہ اقبال انسٹی ٹیوٹ کشمیر یونیورسٹی کا ذکر کرنا ضروری سمجھا ہے اور نہ اس ادارے سے وابستہ اور دیگر اقبال شناسوں جیسے بشیر احمد نحوی، مشتاق احمد گنائی،غلام نبی خیال وغیرہ کا ذکر کیا ہے۔بہرحال ہر لحاظ سے مضمون کی تعریف تو کی جاسکتی ہے لیکن کشمیر اور کشمیر کے اردو داں حضرات سے چشم پوشی نظر انداز نہیں کی جاسکتی ہے۔

زیر نظر کتاب کے آخری باب صحافت میں محمد یوسف شاشیؔ کا مضمون’’اکیسویں صدی میں اردو صحافت‘‘ شامل ہے۔مصنف نے بڑی محنت سے ہندوستان کی تمام ریاستوں اور پاکستان سے شائع ہونے والے رسائل وجرائد کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔صحافت کی تعریف کے ساتھ اس صدی میں صحافت کے تقاضوں پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ایک جگہ لکھا ہے:

’’اکیسویں صدی میں اخبارات اور رسائل کے ساتھ الیکٹرانک میڈیا،سوشل میڈیا جیسے نئے تیز رفتار اور بے کاغذ وقلم ذرائع کو زبردست وسعت،پھیلائو،اور اثر ورسوخ حاصل ہوا ہے جس نے ماس میڈیا کی دنیا کی شکل ہی بدل دی ہے‘‘۔(ص:۲۴۸)

مجموعی طور پر مرتب اور تمام مضمون نگار مبارک بادی کے مستحق ہیں۔ریسرچ اسکالرہوں یا کالج کے طلبہ ہر کسی کو اس کتاب کا مطالعہ کرنا چاہیے، تاکہ اس صدی کے ادب سے روشناس ہونے کا موقع ملے۔اگرچہ مضمون نگاروں میں متعدد کا تعلق جموں وکشمیر کے مختلف علاقوں سے ہے لیکن ان سے ادبی لحاظ سے ایک شکایت یا گلہ ضرور رہے گا کہ انہوں نے اپنے مضامین میں علاقائی ادب کا خاطر وخواہ حق ادا نہیں کیاہے۔ایسا تحقیق کے اصولوں میں لکھا گیا ہے اور پروفیسر گیان چند جین نے وضاحت کے ساتھ لکھا ہے کہ ایک ادیب کا فرض زبان وادب کی ترقی وترویج کے ساتھ اپنے علاقائی ادب کی پذیرائی کرنا بھی ہوتا ہے۔جموں وکشمیر کے ادیبوں کو ہمیشہ ہی دور کے ڈھول سہانے نظر آئے ہیں اور اپنے شباب کے دور میں ہمارے بزرگ ادبا وشعراء نے بھی اپنوں کو خاطر میں نہیں لایا تھا اورکچھ لوگ اسی کے بدلہ لیتے ہوئے ان کو بھی عصرحاضر کے ادب سے نکال باہر کرتے ہیں ۔لیکن اس رسم کو ختم کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر اپنوں اور اپنے علاقے کو نظر انداز کرنے کا یہ رواج جاری رہا، تو ہندوپاک کا ادب مستقبل میں ابراہیم افسر جیسے مضمون کی شکل میں ملے گا اور بین الاقوامی سمیناروں اور کانفرنسوں میں کسی بھی ریاستی ادیب یا شاعر کا نام نہیں لیا جائے گا۔

 

محمد یاسین گنائی

پلوامہ کشمیر

7006108572

 

مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

اکیسویں صدی میں اردومحمد یاسین گنائی
1 comment
2
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
کورونا کا درد اور حکومت کی ناکامی کا اہم دستاویز ہے ’’کورونا کال ‘‘: سنجے سنگھ
اگلی پوسٹ
غزل – نوشاد اشہر اعظمی

یہ بھی پڑھیں

فروری 2, 2026

فروری 1, 2026

دسمبر 14, 2025

ستمبر 29, 2025

جولائی 12, 2025

جولائی 12, 2025

فروری 5, 2025

جنوری 26, 2025

ظ ایک شخص تھا – ڈاکٹر نسیم احمد...

جنوری 23, 2025

جنوری 18, 2025

1 comment

ساجد منیر ریسرچ سکالر بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری جموں و کشمیر اکتوبر 12, 2021 - 4:39 صبح

بہت بہترین انداز میں تجزیہ پیش کیا ہے۔ مبارک ہو۔

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں