تغیر و تبدل،ادب کے مزاج کا اہم حصہ رہا ہے۔ازل سے ابد تک ترمیم و تقلیب کا یہ سلسلہ یوں ہی چلتا رہے گا ۔ ادبیاتِ عالم کے بارے میں ہمارے ناقدین کا عام تصور یہ ہے کہ دنیا میں رونما ہونے والے سانحات و واقعات کو جس طرح سے ادب میں اظہار کیا جا سکتا ہے،دوسرے علوم میں نہیں۔اسی لیے ادب میں تمام طرح کے موضوعات کا احاطہ کیا جا تا رہاہے۔اردو ادب کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح کا ہے۔اردو کی تمام اصناف میں معاصر رجحانات نے اپنا اثر ڈالا ہے،خواہ رومانی تحریک ہو،ترقی پسند تحریک ہو،جدید رجحان ہو یا مابعد جدید ۔الیاس احمد گدی نے جس زمانے میں لکھنے کی ابتدا کی، وہ ترقی پسندی کا دور تھالیکن جلد ہی وہ اس تحریک سے نظریں پھیر لیں اور دوسرے فن کاروں کی طرح جدیدیت سے منسلک ہوگئے ۔بعد میں جب جدیدیت کی مخالفت ہوئی تو الیاس احمد مابعد جدیدیت کے تحت لکھنے لگے اوراسی زمانے میں ’’فائر ایریا ‘‘جیسا شاہکار ناول تخلیق کیا۔موزوں معلوم ہوتا ہے کہ الیاس احمد گدی کے معاصر رجحان سے قبل افسانوی تحریکات کا جائزہ لیا جائے۔اس ضمن میں ترقی پسند تحریک کو فوقیت حاصل ہے۔اسی تحریک کے تحت الیاس احمد گدی نے افسانے لکھنے شروع کیے اور پہلی کہانی’’سرخ ہونٹ‘‘لکھا جو ۱۹۴۸ء میں شائع ہوا۔الیاس احمد گدی سے قبل دبستان یلدرم اور دبستان پریم چند اور بہت سے ایسے افسانہ نگار ہیں جنھوں نے ترقی پسند تحریک سے قبل اردو افسانے کی روایت میں مستحکم بنیاد ڈالی لیکن اس ضمن میں انگارے گروپ کی نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔۱۹۳۲ء میں انگارے کی اشاعت محض چند افسانوں کے ایک مجموعے کی اشاعت نہ تھی بل کہ فرسودہ روایات اوررسمی قیود سے بغاوت کا مہذب اظہار تھی جوایک نئے عہد نامے کا اعلانیہ بھی تھی۔اردو افسانے کی بات کریں تو یہ بات کہنے میں کوئی تامل نہیں کہ افسانے میں ایک ساتھ کئی تحریکات و رجحانات ایک ساتھ چلتے ہیں اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ قاری کی تفہیم اس لیے مشکل ہوجاتی ہے کہ وہ ایک ہی فنکار کے بارے میں یہ طے نہیں کرپاتا کہ وہ کس رجحان کی نمائندگی کررہا ہے۔اب دیکھیں کہ جب ترقی پسند تحریک عروج پر تھی تو فارمولا بند اصولوں کے تحت افسانے لکھنے کی مخالفت کے سبب ہی ۱۹۳۹ء میں ’’بزم داستاں گویاں‘‘(حلقۂ اربابِ ذوق) کا قیام عمل میں آیا تھا کیوں کہ ترقی پسند تحریک نے بہ طورِ خاص دیہی زندگی،سرمایہ داروں کے مظالم،بھوک ،افلاس وغیرہ کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔شروع میں تو اُن فن پاروں میں کچھ صداقت نظر آتی تھی لیکن بعد کے افسانوں کو دیکھ کر ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ گھسے پٹے موضوعات پر خواہ مخواہ خامہ فرسائی کر رہے ہیں اور اُن کا کوئی خاص نظریہ اور مقصد نہیں ہے لیکن آزادی کے فوراً بعد ترقی پسند تحریک سے فنکار خصوصاً افسانہ نگار دست بردار ہونے لگے اور ادب کے موضوعات میں خوںریزی، فساد،اپنوں سے دوری کا احساس اور پڑوسیوں ؍غیر قوموں سے نفرت کا جذبہ سر چڑھ کر بولنے لگا۔یادِ ماضی Nostelgia کا ایسا سیلاب امڈا کہ ہر فنکار نے اس حوالے سے کہانیاں لکھ ڈالیں خواہ وہ فساد سے متاثر ہوا ہو یا دور بیٹھے موجوں کا نظارہ دیکھ رہا ہو۔الیاس احمد گدی کا ایک افسانہ تقسیم ہند کی یاد دلاتا ہے۔افسانہ ’’سدھ کیا ہوا سانپ‘‘علامتی افسانہ ہے جس میں ایسے سانپ کا ذکر ہے جو شہر میں ادھم مچاتا پھررہا ہے اور بِین بجانے والے جوگی اپنی اپنی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں لیکن سانپ ہے کہ نکلتا ہی نہیں ہے ۔ایک جوگی دوسرے پر الزام دھرتے ہیں کہ کسی نے سانپ کو سدھ کر دیا ہے اور یہ کام انہی میں سے کسی کا ہے۔اس افسانے کو فساد کے حوالے سے دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ سیاسی رسہ کشی میں انسان نے انسان کو مدہوش کردیا ہے اور کسی کو انسانیت کی خبر ہی نہیں بلکہ لوگ ایک دوسرے کو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔الیاس احمد گدی کا یہ افسانہ اُن کے مجموعے’تھکا ہوا دن‘میں شامل ہے۔یہ مجموعہ مکتبہ غوثیہ ،گیا سے ۱۹۸۹ء میں اشاعت سے ہمکنار ہوا۔مجموعے کے زیر نظر افسانے میں اس بات کا شدت سے ذکر ملتا ہے کہ فسادات میں لوگوں نے انسانیت کو پرے رکھ کر اپنے دوست، احباب اور پڑوسیوں کا وہ قتل عام کیا جس کی مثال پوری تاریخ میں نہیں ملتی۔اس سنگین واقعے نے اردو افسانے پر سب سے زیادہ اثر ڈالا۔اب موضوعات بدل چکے تھے اور پورا منظر نامہ تبدیل ہو گیا تھا لہٰذا ادب میں بھی اس کا اثر پڑا اور لوگوں نے اجتماعی نعرہ بازی کو چھوڑ کر انفرادیت کے خول میں پناہ لی،لوگوں کا اعتبار ایک دوسرے کے دلوں سے اٹھ گیا اور اس کے نتیجے میں فردیت،وجودیت،بے گانگی جیسے موضوعات اردو افسانے میں آنے لگے۔ ہندوستان میں یہ منظر نامہ ۱۹۵۵ء سے شروع ہوتا ہے اور ۱۹۶۰ء تک آتے آتے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے۔جدیدیت اسی دور کی پیداوار ہے۔رشید امجد کے خیال میں جدیدیت عصری شعور سے قدم ملا کر چلنے کا نام ہے اور انھوں نے اس رجحان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تدریجی ارتقا کا حوالہ بھی دیا ہے۔ان کے بہ قول:
’’علی گڑھ تحریک کی عقلیت پسندی ،اجتماعیت اور مقصدیت نے فرد،آزادی اور جذبہ کی جو نفی کی ،اُس کا رد عمل رومانی تحریک کی صورت ہوا اور رومانویت کی انتہائی فردیت اور مطلق آزاد جذبے اور آزادی نے ترقی پسند تحریک کے لیے راہ ہموار کی۔ترقی پسند تحریک کی خارجی عقلیت نگاری کی انتہائی صورتوں ،بعض موضوعات کو مرکزیت دینا اور بعض کو خارج کر دینا ،ایک خاص طرح کی مقصدیت ہی کو ادب سمجھنا ،وہ رویّے تھے جنہوں نے ساٹھ کی دہائی میں جدیدیت کی راہ کھولی‘‘۔[۱]
سب سے پہلے الیاس احمد گدی نے ترقی پسندی کی راہ اختیار کی لیکن جدیدیت کی تیز آندھی اردو ادب میں چلی تو فنکاروں نے اسے فیشن کے طور پر قبول کیا۔الیاس احمد گدی بھی اس زد سے نہ بچ سکے۔جدیدیت کا لفظ ’’جدید ‘‘سے مشتق ایک ادبی اصطلاح ہے جو انگریزی لفظ Modern کا ترجمہ ہے۔ماڈرن کا مادہ لاطینی متعلق فصل Modo ہے،جس کا مطلب Just Now ،ابھی یا اسی لمحے ہے۔لاطینی میں ہی Modo سے Modernus بنایا گیا جس کا مفہوم زمانۂ حال سے متعلق لیا گیا ۔عہد وسطیٰ کی فرانسیسی میں یہ لفظModerne اور جدید انگریزی میں یہی لفظ Modern بن گیا تاہم دل چسپ بات یہ ہے کہ عہدِ الزبیتھ (سولہویں صدی) میں ماڈرن کو معمولی اور پیش یا افتادہ Common Place کے معنی میں استعمال کیا گیا۔شیکسپئرکے ڈراموں میں ماڈرن اسی مفہوم میں استعمال ہوا ہے تاہم نشاۃ ثانیہ کے بعد کے زمانے کو جب ماڈرن کا نام دیا گیا تو بڑی حد تک اسی لفظ کے ابتدائی لغوی مفہوم کا بھی احیا ہوا۔دل چسپ بات یہ ہے کہ عربی لفظ ’’جدید ‘‘کا کم و بیش وہی مفہوم ہے جو Modo کا تھا لیکن اردو میں جب ’’جدید‘‘لفظ کا استعمال ہوا توہمارے ناقدین نے ایک خاص عہد تک اس کے مفہوم کو مختص کر دیا جس کا زمانہ ساٹھ کی دہائی سے اسّی کی دہائی تک محیط ہے اور اس کا پس منظر یوں ہے کہ تقسیم ہند کے بعد ہندوپاک کی عوام اجتماعیت سے اپنا اعتبار کھو بیٹھی تھی اور انھوں نے اجنبیت،انفرادیت اور داخلیت کو اپنا مقدر بنا لیا تھا لہٰذا ادب میں بھی اسی طرح کے موضوعات برتے جانے لگے اور جدیدیت نے اپنا سکہ جمانا شروع کردیا اور اسی عہد کو ادیبوں نے جدیدیت Modernism کا نام دیا۔جدیدیت،فرد کی داخلی، جلاوطنی اور بے پناہی کی ترجمانی و تنقید ہے جس کے نتیجے میں فرد تنہائی،الجھن،بے گانگی،اجنبیت،بے معنویت،مہملیت اور بے زاری کی کیفیت سے دوچار ہے۔ان رجحانات کے اعتبار سے جدیدیت ،فلسفۂ وجودیت کی توسیع ہے۔وجودیت کی فلسفیانہ تحریک کا آغاز یورپ سے ہوا۔اردو میں یہ اصطلاح انگریزی کے توسط سے آئی۔
جدیدیت دراصل ترقی پسند تحریک کی نفی کرتے ہوئے فرد کی داخلی کرب کا اظہار تھا جس میں خارجیت سے داخلیت،افراد سے فرد،شور وغل سے خاموشی اور بھیڑ سے تنہائی کی طرف سفر تھا۔جدیدیت نے وجودیت کے علاوہ اشتراکیت اور فرائڈزم کے اثرات بھی قبول کیے۔اردو افسانے میں اچانک یہ تبدیلی رونما نہیں ہوئی بل کہ پچاس کی دہائی اور اس سے کچھ قبل سے ہی ایسے ہیئت و موضوعات آنے لگے تھے جو افسانے کی تبدیلی کا پیش خیمہ تھے۔کرشن چندر کے’’غالیچہ‘‘اور’’ایک اسرائیلی تصویر‘‘ احمد علی کے ’’قید خانہ‘‘،’’میرا کمرہ‘‘ اور ’’موت سے پہلے‘‘جیسے افسانے ہیں جس میں کافکا کی ’’دی ٹرائل‘‘اور ’’دی کیسل‘‘ کی خصوصی تکنیک کے علاوہ علامتی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ممتاز شیریں کا ’’میگھ ملہار‘‘اور منٹو کا افسانہ’’پھندنے‘‘اس ضمن میں قابلِ ذکر ہیں۔ان افسانوں میں رویت سے بغاوت کا واضح رجحان ملتا ہے۔جس طرح سے پریم چند کے’’ کفن‘‘کو ترقی پسند کی بنیاد کہا جاتا ہے ٹھیک اُسی طرح منٹو کے ’’پھندنے‘‘کو جدیدیت کی بنیاد مانا جاتا ہے لیکن ۱۹۶۰ء تک آتے آتے جدیدیت کے نقوش پوری طرح واضح ہونے لگے تھے۔’’شب خون‘‘،’’اوراق‘‘ ،’’آہنگ‘‘ اور اسی طرح کے دوسرے رسائل میں ایسی تخلیقات شائع ہونے لگی تھیں جن میں ابہام کا گمان ہونے لگا تھا۔جدید افسانوں سے متعلق بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ جدیدیت کے دور میں اس صنف کی نمائش غلط طریقے سے ہوئی اور اس کی افہام و تفہیم سراب ہوگئی۔اس رجحان کے تحت لکھے گئے بعض افسانوں کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ فن کار اپنی علمیت کو مخفی رکھنے اور دوسروں کے سامنے بر تر ثابت کرنے کے لیے ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جب کہ اُن کے افسانوں سے متعلق انہی سے دریافت کیا جائے تو شاید ہی اس کی تفہیم کو وہ ہمارے لیے حل کر سکیں۔جدیدیت کے ماہرین صرف اتنا ہی نہیں کہ وہ شرح نہیں کرتے بل کہ جو لوگ اُن کے شاہ کاروں کو نہیں سمجھ پاتے ،اُن پر طرح طرح کے فقرے بھی کستے رہتے ہیں۔فاروقی صاحب جدیدیت کے علم بردار ہیں،انھوں نے میر وغالب کے مشکل اشعار کی شرح کی ہے ۔کیا ہی خوب ہوتا کہ وہ تجریدی افسانوں کے معمے کو بھی حل کردیتے۔انہی باتوں کو مدّ نظر رکھتے ہوئے حیات اللہ انصاری نے نہایت معقول بات کہی ہے:
’’جدیدیت کے امام حضرات ہم ایسے لوگوں سے جدیدیت کے رازوں کو اسی غرض سے چھپانا چاہتے ہیں جس غرض سے برہمنوں نے ویدانیت کے رازوں دویدی،ترویدی اور چترویدی کی طرح اعلا ذات بن جائیں اور ہمارے ایسے لوگ مخالف قسم کی یعنی گھٹیا ذات والے بن جائیں‘‘۔[۲]
جدیدیت ایک ایسا رجحان ہے جس کی کچھ زیادہ ہی مخالفت ہوئی۔بعض ناقدین نے اسے منفی رجحان قرار دیا تو بعضوں نے سرے سے ہی مسترد کر دیا۔اردو کی تمام اصناف میں صنفِ نظم اور صنفِ افسانہ پر یہ رجحان سب سے زیادہ اثر انداز ہوا۔دونوں ہی اصناف بیانیے کی صورتیں ہیں شاید اسی لیے ان اصناف پر شب خونی وار سب سے زیادہ ہوئے۔اگر صرف افسانوں کی بات کریں تو ناقدین نے صرف مواد کو بنیاد بنا کر اعتراضات کیے کیوں کہ اس کے مواد بعید از فہم تھے۔جدیدیت کے بانی شمس الرحمن فاروقی نے تمام ناقدین کے اعراضات کے جوابات مفصل طور پر دیے ہیں۔ان کا خیال ہے:
۱۔جدیدیت کو ترقی پسند ی کی مخالف تحریک کہنا غلط ہے۔جدیدیت ایک رجحان ہے اور اس کی فکری بنیادیں ترقی پسندی سے مختلف ہیں لیکن یہ ترقی پسندی کی ضد میں نہیں بل کہ آزاد ادبی وجود کے طور پر قائم ہوئی ہے۔
۲۔جدیدیت کے لیے سماجی شعور یا سماجی ذمہ داری کوئی مسئلہ نہیں۔تمام ادب سماج اور معاشرہ ہی میں پیدا ہوتا ہے۔ہاں جدیدیت کو سیاسی وابستگی پر اصرار نہیں اور نہ وہ کسی سیاسی مسلک کی رہ نمائی قبول کرتی ہے۔سیاسی وابستگی یا سیاسی رہ نمائی کو قبول کرنے کے نتیجے میں فن کار کی آزادیٔ رائے اور آزادیٔ فکر پر ضرب پڑتی ہے اور جدیدیت کا بنیادی موقف آزادیٔ اظہار اور فنی شعور پر عدم پابندی کا اصرار ہے۔
۳۔جدید تحریریں اس لیے مشکل ہیں کہ پڑھنے والوں کے ذہن ابھی اُن سے آشنا نہیں ۔پھر یہ بھی ہے کہ ہر نئی تحریر ،ہر نیا خیال ،ہر نیا طرزِ فکر اکثر لوگوں کو مشکل لگتا ہے۔ایک بات یہ بھی ہے کہ اشکال اور ابہام اضافی چیزیں ہیں ،جدید ادب قاری سے کہتا ہے کہ وہ اپنا معیار بلند کرے ۔جدید ادب کو قاری کی خوشی سے زیادہ اپنے تخلیقی شعور کی سچائی منظور ہے۔
۴۔جدیدیت کا مسلک انسان دوستی اور انسان مرکزیت ہے لیکن جدیدیت اُن فلسفوں کے خلاف ہے جو بشر دوستی کے نام پر انسانی آزادی کا استحصال کرتے ہیں۔جدیدیت اُن تحریکوں کے خلاف ہے جو نام نہاد امن و آشتی کی علم بردار ہیں لیکن ادیب کی آزادی پر قدغن لگاتی ہیں۔
۵۔اگر جدیدیت اس لیے سامراجی سازش ہے کہ وہ ترقی پسند نظریۂ ادب کی منکر ہیں تو ترقی پسند نظریۂ ادب (یعنی مارکسیت) بھی سیاسی مفادات کی پابندی پر مجبور ہے لہٰذا اُسے بھی کسی سازش کا نتیجہ کہا جا سکتا ہے۔
۶۔یہ درست ہے کہ جدید فن کاروں کے یہاں تنہائی ،شعور مرگ،مایوسی وغیرہ کا ذکر بہت ملتا ہے لیکن یہ باتیں جدیدیت کی خصوصیات ہیں ،صفات نہیں۔یعنی اگر جدید فن کار اپنے تجربہ ذات کی بنیاد پر کوئی بات کہتے ہیں تو یہ اُن کا ذاتی معاملہ ہے۔ایسا نہیں ہے کہ ہر وہ شخص جدید ہے جس کے یہاں تنہائی،احساس ذات وغیرہ ہو اور جس کے یہاں یہ چیزیں نہ ہوں وہ جدید نہیں ۔بنیادی بات یہ ہے کہ جدیدیت فارمولا ادب سے انکار کرتی ہے۔[۳]
جدیدیت کے تحت علامتی افسانے لکھنے والوں کی فہرست کافی طویل ہے بل کہ ایک زمانے میں ابہام پسندی کی ایسی ہوا چلی تھی کہ اکثر افسانہ نگاروں نے مہمل افسانے لکھے۔جب قارئین کی تعداد بالکل کم ہوگئی تو فن کاروں نے از سرِ نو غور فکر کرنا شروع کیا اور دوبارہ پلاٹ کی طرف لوٹ آئے اور تجریدیت کا زور کم ہوا۔یہ الگ بات ہے کہ انھوں نے کہانی پن میں بھی علامات کا استعمال کیا جس سے اُن کی معنویت دوہری ہوگئی۔
الیاس احمد گدی کے معاصر فنکاروں کی بات کی جائے تو کئی ایسے نمایاں نام سامنے آتے ہیں جن کے افسانے جدیدیت کو فروغ دینے میں نمایاں رول ادا کیا۔ان کے معاصرین میں بلراج مین را کے ہاں ’’کمپوزیشن سیریز کے افسانے‘‘ ،سریندر پرکاش کے ہاں ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘،’’رونے کی آواز‘‘،’’سرنگ‘‘،اور ’’برف پر مکالمہ‘‘ ،انتظار حسین کے ہاں’’آخری آدمی‘‘،’’زرد کتا‘‘،’’کایا کلپ‘‘، جوگیندر پال کے ہاں’’رسائی‘‘اور’’بازیافت‘‘،انور سجاد کے ’’کونپل‘‘ اور ’’گائے‘‘،خالدہ اصغر کے ’’سواری‘‘ اور ’’ایک بوند لہو کی‘‘،غیاث احمد گدی کا’’پرندہ پکڑنے والی گاڑی‘‘،بلراج کومل کا ’’کنواں‘‘،دیوندر اسر کا ’’کالی بلّی‘‘،کمار پاشی کا ’’ڈاچی والیا‘‘،انور عظیم کا ’’کھوپڑی‘‘ اور قمر احسن کا ’’اسپ کشت مات‘‘وغیرہ خاص طور پر اہم ہیں۔الیاس احمد گدی کے پہلے مجموعے ’’آدمی‘‘کی کہانیوں میں جدیدیت کا رنگ غالب ہے۔مثال کے طور پر مشہور افسانہ’’آخری حربہ‘‘کو پیش کیا جا سکتا ہے۔الیاس احمد گدی کی لکھی ہوئی ایک علامتی کہانی ہے جس میں فرقہ وارانہ تعصب کو موضوع بنایا گیا ہے۔جس کی کوئی واضح شکل نظر نہیں آتی اور نہ اس کی کوئی خاص شناخت ہے۔ اس مصیبت سے نجات پانے کے لیے شہر کے چند دانشوران آپس میں مل کر تبصرہ کرتے ہیں لیکن کوئی اس کی پختہ اور واضح دلیل پیش نہیں کر پاتا اور نہ ہی اس کی مکمل ہیئت کے متعلق حتمی طور پر پہنچ پاتا ہے ۔ ان گفتگو کے پس منظر میں جو باتیں درج ذیل اقتباسات کی روشنی میں آتی ہیں اس سے واضح طور پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس مصیبت اور تباہی کی کوئی شکل وصورت نہیں ہے بلکہ وہ ہم انسانوں کی ذہنی ، تعلیمی ، سماجی اور معاشرتی بیداری پر منحصر ہے۔ ملاحظہ ہوں یہ اقتباسات :
’’میں نے اس کی شکل تو نہیں دیکھی مگر ٹھیک اس وقت جب وہ تخت و تاراج کے بعد واپس لوٹ رہاتھا اس کی پشت دیکھی تھی، آپ یقین کیجئے اس کی پشت اتنی چوڑی تھی جسے پانچ چھہ آدمیوں کی پشت ایک ساتھ ملادی گئی ہو۔ اس کے بازو اتنے موٹے دکھائی دے رہے تھے جیسے ہاتھی کے پیر ہوں‘‘۔
’’مگر میں نے تو صاف دیکھا وہ نہایت دبلا پتلا سوکھا ہوا تھا۔ اس کی کوئی شکل نہیں تھی ۔ چہرہ غائب تھا، آنکھ کی جگہ دو انگارے دہک رہے تھے ، وہ سیدھا کھڑا تھا اور اس کے سوکھے ہوئے ہاتھ خون سے لت پت تھے۔‘‘[۴]
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آخر میں سب اس پر متفق ہوجاتے ہیں کہ یہ خطرناک شکل وشباہت کے ساتھ ساتھ انتہائی خوفناک فطرت کامالک بھی ہے۔ اس سے بچنے کی تدابیر پر مزید غور و خوض کرنا چاہیے۔ اس طرح باتیں ہوتی رہتی ہیں۔ رائے بنتی ہیں مشورے کیے جاتے ہیں لیکن حل نہیں نکلتا۔مصنف نے اس کہانی میں اپنی فن کارانہ چابکدستی اور بصری صلاحیت کا بخوبی استعمال کیا ہے۔ اس نے اس کہانی کے ذریعہ یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ شہر میں آگ پھیل جاتی ہے۔ ایک منحوس فضا طاری ہونے لگتی ہے جس کی زد میں بوڑھے ، بچے، عورتیں اور مرد سبھی آجاتے ہیں ہر طرف آگ اور دھواں چیزوں کو جلاتے اور گھٹن میں مبتلا کرتے جاتے ہیں۔ ایک خوف دل میں بیٹھ جاتا ہے جس کی وجہ سے کوئی بھی فرد نہ چین سے دن گزار سکتا ہے اور نہ رات کو سوسکتا ہے ۔لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اسے کوئی گرفت میں نہیں لے سکتا۔وہ چھلاوہ کی طرح سیکنڈ میں اپنا کام کرتے غائب ہوجاتا ہے۔پھر تباہ کاریوں کا جو طویل سلسلہ شروع ہوتاہے اس کی زد میں عام انسان آتے ہیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ وہ تباہ بھی ہوتے ہیں اور لہو لہان بھی ہوتے ہیں اور اکثر مرتے بھی ہیں لیکن سزا وار بھی انہیں کو ٹھہرایا جاتا ہے کوئی اس بدہیئت عجیب الخلقت شئے کو نہیں ذمہ دار ٹھہراتا ۔ لوگوں کی بات چیت جاری ہے سب اپنی اپنی رائے پیش کرتے ہیں مگر کوئی نتیجہ سامنے نہیں آتا ہے۔ تھک ہار کر سبھوں نے یہ ذمہ داری اوپر کے عہدے داروں پر ڈال دی ہے اور متفقہ طور پر یہ فیصلہ ہوا ہے کہ اب حکومت ہی اس کو ختم کرسکتی ہے کیونکہ عام انسان تو بہت کمزور ہے اپنی دفاع وہ کر نہیں سکتا ۔اس بلا سے نجات حکومت سے متعلق اشخاص ہی دلا سکتے ہیں۔
اس کہانی میں مصنف نے یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ کسی واردات وفسادات کے دوران رونما ہونے والی تباہیوں اور بر بادیوں کا ذکر کرتے ہیں، اس کی جسمانی ساخت پر اظہار خیال کرتے ہیں، اس کے ذریعہ بتائی گئی تباہ کاریوں کارونا روتے ہیں، اس کی خوفناک وارداتوں کا چرچا کرتے ہیں لیکن اصل جو بات ہے، اس پر کسی نے سوچا نہیں کہ آخر اس بلا کو ختم کرنے کا حربہ کیا ہے۔اس کہانی میں مصنف نے قلم کی نب اور شہادت کی انگلی ،ہتھیار کی دھار یہ سب بڑے معنی خیز الفاظ کے ساتھ مبہم انداز میں اپنا مقصد بتایا ہے۔ اس نے فرقہ وارانہ فساد کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے قلم کو ہتھیار بنایا ہے۔ اس نے یہ بتایا ہے کہ ایک ہتھیار اب بھی باقی ہے جسے پہلے کبھی استعمال نہیں کیا گیا ۔ لیکن جسے اب استعمال کرنا لازمی ہے وہ ہے قلم۔ جو گولا باری اور بھالوں کی طرح زخم نہیں دیتا لیکن ذہن پر اثر انداز ہوکر سوچنے سمجھنے کے زاویے میں ضرور انقلاب لے آتا ہے اور موجودہ صورت حال میں ایسے انقلاب کی سخت ضرورت ہے جو ذہنوں کو جگائے ۔ ان میں شعوری احساسات کو قوی کرے۔افسانہ نگار نے موضوع کی پیش کش کے ساتھ ساتھ اس کے حال کا طریقہ بھی بتایا ہے۔ افسانہ نگار حالات وواقعات کو سامنے لاکر قاری کے سامنے ایک سوال لاکھڑا کرتا ہے اور وہ سوال انسانی زندگی اور سماج کا ایک اہم قصہ ہوتا ہے۔ فساد اور فرقہ وارایت سماج کا سب سے اہم مسئلہ ہے ۔ بنیادی ضروریات کی تکمیل کی کوشش اور ذرائع کے راستے تو مختلف سماج کے لوگ آپس میں مل کر نکالتے ہیں اور یہ فلاحی جد وجہد عام انسانی زندگ میں سبھوں کے لیے راحت وسکون کاپیغام لاتی ہیں۔الیاس احمد گدی نے اپنے افسانہ کے ذریعہ فرقہ واریت اور تعصب کو ختم کرنے کے لیے قلم کو اپنانے پر زور دیا ہے۔آخری حربہ یہی ہے کہ سماج میں ایسے فعال لوگ ہوں جو اپنی فکر اپنے علم اور اپنے عمل سے معاشرہ کو ایک صحت مند نظریہ دیں۔
الیاس احمد گدی کے علامتی افسانوں میں سدھ کیا ہوا سانپ،وہ،ابورشن،مکڑا،زرد پہاڑ اور سب سے بڑا سچ جیسے کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے اور افسانہ نگار یہ خواہش بھی رکھتا ہے کہ وہ علامات کے ذریعے کوئی بات کہے تاکہ اُس میں تہہ داری اور معنویت پیدا ہو۔مذکورہ افسانوں کے موضوعات دیکھیں تو اس میں تنوع بھی ہے اور جدید افسانے کے مزاج سے مطابقت بھی رکھتے ہیں لیکن ان کے علامتی افسانے ایسے ہر گز نہیں ہوتے کہ ان کی تفہیم قارئین کے لیے ناممکن یا دشوار ہو۔یہی ایک علامتی فنکار کی بنیادی پہچان ہے۔افسانے کی تاریخ میں ایسے کئی علامتی اور تجریدی افسانہ نگار بھرے پڑے ہیں جن کے دبیز علامتی افسانے پڑھنے تو کجا ،نام لینے سے بھی گھبراتے ہیں۔جدید افسانوں کے ماسوا مابعد جدید افسانوں کی بات ہوجائے۔جدید افسانوں کی خاص پہچان یہی ہے کہ ایسے افسانوں میں علامات کا استعمال کو کثرت سے کیا جاتا ہے اور متن سے نکلنے والے معنی کو چھپا دیا جاتا ہے تاکہ اس کی معنویت میں چار چاند لگ جائیں۔بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ قاری اُن متون میں پوشیدہ علامات کو پہچان ہی نہیں سکتا یا اس کی رسائی اصل مفہوم تک نہیں ہوپاتی۔جدیدیت کا رجحان ،اردو افسانے کے لیے اس لیے ضرر رساں ثابت ہوا کہ بعض افسانہ نگاروں نے ذاتی علامات اور فرسودہ علامات کا استعمال کرنے لگے اور افسانہ ،علامات اور تجرید کے دھند میں دب گیا،اس کے اندر سے کہانی کا عنصر غائب ہوگیا اور قاری کا رشتہ اس صنف سے ٹوٹ گیا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ افسانے کی صنف میں نئی تبدیلی واقع ہو اور نئی تکنیک سامنے آئے لہٰذا ستّرکی دہائی میںاردوافسانہ رومانیت ،حقیقت نگاری،ترقی پسندی اورجدیدیت کاسفر کرتے ہوئے مابعد جدیدیت Post Modrnismکی دہلیزپرقدم رکھ چکاتھا۔ایک طویل عرصے میں اس صنف میں بہت نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ موضوع کی سطح پربھی اورہیئت کی سطح پربھی۔جدیدیت کے دور میں حدہی ہوگئی جب اردوافسانہ معمّہ بن گیا۔اسی لیے جدیدیوں کے خلاف یہ نعرہ لگایاجاتاہے کہ انھوں نے افسانے کے ساتھ سلوک روا نہیں رکھا ۔جدیدیت سے متأثرین فن کاروں نے پہلے کہانی سے کہانی کو نکالا،پھرکردارکونکالا،اس کے بعدمنظرنگاری کوبدلا، آغازکونکالا،نقطۂ عروج کونکالا،پھر ہوتے ہوتے قاری کونکالا۔کہانی میں ان چیزوں کے نکل جانے کے بعدکہانی میں صرف افسانہ نگاررہ گیا۔سترکی دہائی کے با شعورفن کاروںنے جب محسوس کیاکہ ایسے افسانوں کاکوئی مستقبل نہیں جو ابہام،اشکال اورتجریدپرمبنی ہو۔لہٰذا ایسے فن کار جو جدیدیت کے تحت افسانے لکھ رہے تھے فرسودہ فن پاروں سے انحراف کیاجولایعنی تھے ، جن کے قاری ناپیدتھے اورجو ذاتی علامات اختراع کرکے لکھے گئے تھے ۔ایسے فن کاروں کی فہرست کافی طویل ہے جن میں شفق ،شوکت حیات،سلام بن رزاق ،حسین الحق وغیرہ خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔سردست ضروری معلوم ہوتاہے کہ مابعدجدیدیت کی وضاحت ہوجائے ۔ گوپی چندنارنگ اس کی وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مابعدجدیدیت کسی ایک وجدانی نظریے کا نام نہیں بلکہ مابعدجدیدیت کی اصطلاح احاطہ کرتی ہے مختلف بصیرتوں اورذہنی رویّوں کا،جن سب کی تہہ میں بنیادی بات تخلیق کی آزادی اورمعنی پربٹھائے ہوئے پہرے یا اندرونی اوربیرونی دی ہوئی لیک کوردّکرناہے ۔یہ نئے ذہنی رویّے ،نئی ثقافتی اورتاریخی صورت حال سے پیداہوئے ہیں اور نئے فلسفیانہ قضایاپربھی مبنی ہیں۔ گویا مابعد جدیدیت ایک نئی صورت حال بھی ہے یعنی جدیدیت کے بعدکادورمابعد جدیدیت کہلائے گا‘‘۔[۵]
مابعدجدیدیت کوئی تحریک یاردّ عمل نہیں بلکہ کشادہ ذہنی رویّہ ہے جوثقافت پرزیادہ زوردیتی ہے۔کیوںکہ ثقافت کسی ملک وقوم کے عادات واطوار،رسوم واندازکی بنیادیں ہیں اوراس کارشتہ اپنی مٹی کی خوش بو سے گہراہوتاہے۔ جیسا کہ بعض لوگوں کاخیال ہے کہ مابعدجدیدیت ،جدیدیت کی ضدہے یااس کے اصول وضوابط کی نفی کرتاہے ،جو بالکل بے بنیادہے کیوںکہ مابعدجدیدفن کاروں نے جدیدیت اورترقی پسندی دونوں کے کچھ اصول اخذبھی کیے ہیں اورکچھ کو مسترد بھی کیا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہوتوادب، جمود کا شکار ہوجائے گا۔ادب میں تبدیلی نہایت ضروری ہے جو وقت اورحالات کے ساتھ بدلتارہتا ہے ۔ادب میں اسی تبدیلی کومدنظررکھتے ہوئے فاروقی صاحب نے کہاتھا:
’’آج کافن کاربعض چیزوں پرجدیدیوں کے مقابلے میں زیادہ زوردیتاہے بعض چیزوں پر کم ۔جن چیزوں میں آج کافن کار جدیدیوں سے ذرا مختلف معلوم ہوتاہے ان میں ایک تویہ ہے کہ جدیدیوں کو تجربے کا شوق زیادہ تھااوراسی اعتبارسے ابہام کووہ بالارادہ بھی اختیار کرلیتے تھے ۔آج کافن کارتجربے کی طرف اتناراغب نہیں ہے اورابہام کوارادی طور پراختیارنہیں کرتا۔اگرچہ ترقی پسندوں جیسی وضاحت اور دو اور دو چار والی منطق کوبھی مستردکرتاہے‘‘۔[۶]
مابعدجدیدیت ،جدیدیت کی ضدنہیں البتہ الگ ضرورہے اوراس کے بنیادی عناصرمنحرف بھی ہیں۔ مابعد جدیدیت اُن بنیادوں کو کالعدم کرتی ہے جن پرجدیدیت کاانحصارہے ۔یعنی بیگانگی ،شکست ذات ،حد سے بڑھی ہوئی داخلیت ،لایعنیت اور غیر ضروری ہیئت پرستی جوابہام،اشکال اوررعایت لفظی سے آگے نہیں بڑھتی ۔مابعدجدیدیت پراصرارکرنے والے ناقدین بین المتونیت کومابعدجدیدیت کامرکزی تصورگردانتے ہیں۔واضح رہے کہ بین المتونیت Intertextualityکو اصطلاح کے طور پر جولیاکرستیوانے ۱۹۶۶ء میں استعمال کیاتھا۔اس حوالے سے لکھے گئے افسانوں میں انتظارحسین کاافسانہ ’’زردکتا‘‘، سریندر پرکاش کا ’’بجوکا‘‘اور’’بازگوئی‘‘جوگیندرپال کا ’ ’ کھو د و با با کامقبرہ‘‘ ، انورقمرکا’’کابلی والاکی واپسی‘‘، شفق کا’’دوسراکفن‘‘،سلام بن رزاق کا’’ایک اورشرون کمار‘‘،’’یک لویہ کاانگوٹھا‘‘اور’’کام دھینو‘‘،منصورقیصرکا’’نئے عہدنامہ کا ایک مرثیہ‘‘،اقبال مجید کا ’ ’ لبا س ‘ ‘ ، محمد منشا یا د کا ’ ’شیراوربکری‘‘،انیس اشفاق کا ’’جنگل کاشیر‘‘،سیدمحمداشرف کا’’آخری بن باس‘‘،انورخاںکا’’ہوا‘‘،مرزاحامدبیگ کا’’گناہ کی مزدوری‘‘اورعابدسہیل کا ’’عیدگاہ‘‘اس ضمن میںاہم ہیں۔وہاب اشرفی نے مابعدجدیدیت کی تعریف اس طرح کی ہے:
’’مابعدجدیدیت ایک Complexصورت ہے جس نے روشن خیالی ،آزادیٔ جنس بل کہ زندگی کے بیش تر گوشوں کو نئے اورمتنوع ڈسکورس سے ہم کنارکردیاہے‘‘۔[۷]
افسانہ نگاروں کی بات کی جائے تواس ضمن میں پہلا اہم نام شوکت حیات کاآتاہے جنھوں نے افسانہ لکھنے کے ساتھ ساتھ مضامین لکھ کربھی لوگوںکی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے ۔شوکت حیات نے کتاب نما،دہلی کے دومختلف مہمان اداریوں میں الگ الگ وقتوں میں’’انامیت‘‘،’’انام افسانہ اورانام نسل‘‘اور’’نامیاتیت اورنامیاتی افسانہ:اعتبار، روایت اورانحراف جیسے ادارتی مضامین میں اپنی نسل کے موقف اورگوناگوں تبدیلیوں کا بھرپرجائزہ لیتے ہوئے بنیادگزارکی حیثیت رکھنے والے بنیادی عناصرکی طرف لوگوں کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ۔مابعدجدیدافسانے میں اسلوب ،زبان ،بیان اورتکنیک کی سطح پرتبدیلی ہوئی اوریہی وہ اوصاف ہیں جو مابعد جدید افسانہ ،جدیداورترقی پسندی سے مختلف ہے ۔یہاںیہ وضاحت ضروری ہے کہ مابعدجدیدافسانہ نے اپنے پیش روافسانے سے مکمل انحراف نہیں کیا بلکہ ترقی پسندوں اور جدیدیوں سے بہت کچھ مستعاربھی لیاہے۔البتہ اس کی شکل بدلی ہوئی ضرور ہے مثلاً جدیدافسانے میں علامت وتجریدکے بغیرادب کومعیوب سمجھاجاتھاتھاجب تک کسی فن پارے میں قاری کو پریشان کرنے والے استعارات وعلامات نہ ہوںتب تک وہ فن پارہ مکمل نہیں ہوسکتا۔جب کہ مابعد جدید ادب اورخصوصاً افسانہ علامات کاانحراف نہیں کرتا بلکہ افسانہ نگاروں نے ردّوبدل کے ساتھ نئی علامتیں برتی ہیں۔اس سے علامت بھی واضح ہوئی ہیں اوراس کے پے چیدگی بھی کم ہوئی ۔مابعدجدیدافسانے کے امتیازات کو واضح کرتے ہوئے طارق چھتاری رقم طراز ہیں:
’’اردوافسانہ اپنے ناتواں کندھوں پر ہرنئی ادبی تھیوری کابوجھ اٹھانے کی ہمہ وقت تیار رہتا ہے ۔یہ اس کی خوبی بھی ہے اورکم زوری بھی ۔خاص طورسے ترقی پسند اور جدید دورکے افسانوں نے اس سعادت مندی کابے پناہ ثبوت دیاتھامگر مابعدجدیددورمیں محسوس ہوتا ہے کہ اردو افسانہ کسی ادبی تھیوری سے متأثرہوکرنہیں بلکہ گذشتہ منفی ادبی رجحانات سے بیزار ہوکراپنی ہیئت کی تشکیلِ نو میں مصروف ہے‘‘۔[۸]
الیاس احمد گدی نے اس حوالے سے جو تخلیقات لکھی ہیں اُن میں موضوعات کا تنوع دکھائی دیتا ہے ساتھ ہی انھوں نے اس بات کا بھی التزام کیا ہے کہ نئے مسائل کے ساتھ نئی تکنیک کا بھی سہارا لیا جائے تاکہ نئے افسانے میں نہ صرف واقعات کا پھیلاؤ ہو بلکہ ہیئت کا بھی نظریہ سامنے آسکے۔اس ضمن میں ان کی کہانیوں کو خا ص اہمیت حاصل ہے۔عجائب سنگھ ، عزت آزا،میری کہانی ان کا فسانہ،آنکھیں،مکڑا،تکون اور ستین جیسے افسانوں کو شامل کرسکتے ہیں۔افسانہ ’’عجائب سنگھ‘‘ الیاس احمد گدی کے افسانے کا اہم کردار ہے جسے اپنی گاڑی (ٹرک)سے ایسا جذباتی لگاؤ ہے کہ جب اسے اس بات کی خبر ہوتی ہے کہ اس گاڑی کامالک اسے فروخت کرنے کا ارداہ کر چکا ہے تو وہ وحشت زدہ ہوجاتا ہے۔وہ کسی بھی قیمت پر گاڑی کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا۔عجائب سنگھ کی شادی کی بات پکی ہوچکی ہے،تاریخ بھی طے ہے اور شادی کی تیاریاں بھی جاری ہیں کہ وہ ان تمام تیاریوں کو منسوخ کرکے انہی روپیوں سے گاڑی خریدنے کا عزم مصمم کر لیتا ہے۔’’ستین‘‘شہری ماحول پر مبنی ایک کرداری افسانہ ہے جس کا کردار کلکتہ جیسے شہر میں اپنے ماں باپ،بھائی بہن کے اخراجات کے لیے اپنا جسم بیچنے پر مجبور ہے۔اس عمل میں اس کی ملاقات راوی سے ہوتی ہے جو اس کے بھائی سے شناسائی ر کھتا ہے اور بعد ازاں اس کے قریب ہوجاتا ہے۔ستین در اصل ایسا انقلابی کردار ہے جسے عام طور پر نکسلائٹ کہا جاتا ہے۔کہانی میں یہ کردار پس منظر میں ہی رہتا ہے۔اس کا چہرہ دھندلا ہے۔اس کے خد و خال ابھی واضح نہیں ہوئے ہیں کیوں کہ کہراشدید ہے لیکن الیاس احمد گدی نے جس طرح اس انقلابی تحریک کی دھمک کو آشکار کیا ہے،اس سے ان کی سماجی و سیاسی بصیرت کا پتا چلتا ہے۔اسی طرح ’’عزت آرا‘‘ایک فاحشہ عورت کی کہانی ہے جو مختلف مردوں کے ساتھ شادی کے بعد بھی جنسی تعلقات روا رکھتی ہے۔شوہر کے منع کرنے کے باوجود وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آتی ۔تنگ آکر آخر کار اس کا شوہر طلاق دے دیتا ہے اور اس شدید رد عمل کے طور پر عزت آرا خودکشی کرلیتی ہے۔
الیاس احمد گدی نے میاں بیوی کے رشتے پر بھی کئی عمدہ کہانیاں لکھی ہیں جن میں ’’میری کہانی ان کا فسانہ‘‘اہمیت کا حامل ہے۔یہ صرف مر دوزن کا افسانہ نہیں بلکہ جنسی ناآسودگی کا بھی افسانہ ہے۔جہاں دونوں کا اپنا ماضی ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے اچھی طرح سے واقف ہیں۔جب دونوں کو اس بات کا علم ہوتا ہے تو کہانی اپنے منطقی انجام کو پہنچ جاتی ہے۔کہانی ’’آنکھیں‘‘ ایک خوددار آدی باسی لڑکی کی کہانی ہے جو ایک بنگالی لڑکے کے ساتھ بھاگ کر درویشی کی زندگی گزارتی ہے۔بہ حیثیت مجموعی دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ الیاس احمد نے مابعد جدید موضوعات کوبہتر طریقے سے برتا ہے۔
اس ضمن کی ایک اور کہانی’تکون‘ہے جس میں مقدس رشتے کی پامالی کا نوحہ ہے۔اس کہانی کو پڑھتے ہوئے اکثر مقامات پر غیاث احمد گدی کے ناولٹ’پڑاؤ‘کی یاد آتی ہے۔دونوں کے موضوعات تقریباً ایک جیسے ہیں۔یہ ناولٹ تین کرداروں پر مشتمل ہے۔ایک لقوہ زدہ بیمار شخص ہے ،دوسری سونا ہے اور تیسرا کردار اُس کا باس ہے جو ہمہ وقت سونا کے ساتھ رہتا ہے جب کہ لقوہ زدہ شخص سونا کا شوہر ہے۔انہی تینوں کرداروں کے سہارے کہانی آگے بڑھتی ہے اور اپنے انجام کو پہنچتی ہے۔لقوہ زدہ شوہر کو یہ احساس ہے کہ اس کی بیوی’سونا‘اُسے چھوڑے بنا اپنے باس سے رنگ رلیاں منا رہی ہے،وہ چاہتے ہوئے بھی کچھ نہیں کرسکتا کیوں کہ ’سونا‘ہی اس کی بیماری کا ساراخیال رکھتی ہے۔بالکل اسی طرح الیاس احمد گدی کے اس افسانے میں ’رنجنا‘کا کردار ہے جسے ایک زمانے تک ’سجاتا‘ کے خیال کی تردید کرتی ہے اور یہ کہنے سے بھی دریغ نہیں کرتی کہ ’کوئی عورت جب مرد کو پتی مان چکی،جس کے ساتھ سو چکی،اس کو کیسے ٹھکرا دیا جاسکتا ہے۔پھر تو عورت،عورت نہ رہ جائے گی ،کتی ہوجائے گی۔‘اسے سجاتا کی بھی باتیں یاد آتی ہیں کہ کس طرح سے وہ اپنے بوڑھے شوہر کو چھوڑ کر ’پرکاش‘سے محبت کرنے لگی تھی اور بڈھا کو تڑپتا چھوڑ کر اپنے عاشق کے ساتھ دور علاقے میں نکل پڑی تھی۔دونوں میں اس طرح کا تضاد اس لیے ہے کہ دونوں بچپن کی سہیلی ہیں اور دونوں کے مابین کئی مشابہت بھی ہیں۔دونوں کے قول و عمل میں تضاد ہے اسی لیے وہ سب باتیں جب اس مجبور شوہر کو یاد آتی ہیں تو اُس کے لیے سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا،کبھی ذرا سی بات پر تڑپ اٹھنے والی یہ پتی ورتا عورت آج رنڈی ہے۔۔۔۔وہ سب کچھ جانتا ہے جب کہ عورت سمجھتی ہے کہ وہ کچھ بھی نہیں جانتا کہ ایک عورت فرم میں کام کرنے کے بہانے راتوں کو اس لیے غائب ہوا کرتی ہے کہ دوسرے مردوں کا بستر گرم کرے۔اس سے صبر نہیں ہوتا اور جب وہ اپنی بیوی کو ہم بستری کے لیے بلاتا ہے تو وہ ٹال جاتی ہے اور تب آتش فشاں کا پہاڑ پھوٹ پڑتا ہے۔وہ کہتا ہے’میں جانتا ہوں کہ تم کہاں کہاں،کس کس گندی نالی میں پیاس بجھاتی پھر رہی ہو‘لیکن عورت کا اس بات کا جواز اس طرح پیش کرنا مرد کو حیرت میں ڈال دیتا ہے۔وہ بھی گویا ہوتی ہے کہ یہ بات تم کہہ رہے ہو جس کے لیے میں نے ساری زندگی برباد کرلی اور اپنا جسم تک بیچ ڈالا صرف تمہارے عیش و آرام کے لیے۔یہ جواب سن کر بیمار مرد لاجواب ہوجاتا ہے۔
اسی طرح کہانی’بٹوارہ‘میں افسانہ نگار نے زمانے کے بدلتے اقدار کو موضوع بنایا ہے جہاں فنکار نے انسانیت اور حوانیت کو مدغم کر دیا ہے۔وہ انسانیت جس پر بنی نوع انسان فخر محسوس کرتی ہے،وہ شرمسار ہوکر رہ گئی ہے اور حیوانیت اُن پر غالب آگئی ہے۔وہیںدوسری جانب حیوانیت نے انسانیت سے سبقت لے جانے کی قسم کھا رکھی ہے۔کہانی میں ایک ایسے مقام کا ذکر ہے جہاں ایک نیم مردہ انسان پڑا ہوا ہے اور چرند پرند،اُس کی روح پرواز ہونے کے منتظر ہیں۔ان میں کچھ ایسے ہیں جو اپنی طاقت کا رعب جمانا چاہتے ہیں لیکن چند ایسے بھی ہیں جو مساوات کی بات کرتے ہیں اور اس بات پر مصر ہیں کہ سب کو برابر حق ملنا چاہیے۔ گدھ، کوا، کتا، گیدڑ اور چیوٹیوں کے جھنڈکی بنیادی جبلت بھوک ہے اور جو شخص جاں کنی کے عالم میں ہے ،وہ بھی بھوک کی شدت سے ہی فوت ہوگیا ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ آدمی کا نیم مردہ جسم عام راستے سے زیادہ دور نہیں ہے پھر بھی لوگ ذرا سے گردن اٹھاکر دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کرتے ہیں ورنہ اُس کی جان بچ سکتی ہے بلکہ وہ تو معمولات زندگی میں اتنے مصروف ہیں کہ انھیں خود کی بھی پرواہ نہیں۔جانوروں میں صبر کا پیمانہ لبریز ہوتا جارہا ہے اور وہ کہتے بھی ہیں کہ’یہ آدمی تو آج بھی مرتا دکھائی نہیں دیتا،کیا یہ بہتر نہیں کہ ہوگا کہ ہم لوگ پہلے سے طے کرلیں کہ کس کو کتنا ملے گا‘لیکن کچھ سمجھدار جانور کہتے ہیں کہ ہمیں کل تک انتظار کرنا ہی چاہیے اور صبر سے کام لینا چاہیے۔
الیاس احمد گدی کے اس افسانے میں مابعد جدید مسائل ہیں،دنیا سے ختم ہوتی انسانیت ہے جس کے تحفظ کی ذمے داری رب کائنات نے دوسروں کے ذمے دینے کی ٹھان لی ہے اور اس طرح سے یہ افسانہ نئے زمانے کے مسائل کو ہی پیش کرتا نظر آتا ہے۔اسی طرح افسانہ’ابورشن‘کو دیکھ لیں جس کا مرکزی کردار ایک بھینس ہے جس کے پیٹ میں بچہ مرگیا ہے اور لوگ اُس بچے کو نکالنے کی تدبیر تلاش کرکرہے ہیں تاکہ کسی ایک کی جان بچ سکے۔ڈاکٹر اپنے حساب سے طبع آزمائی کررہا ہے تو دوسرے احباب اپنی اپنی ترکیبیں لگا رہے ہیں ۔ایسے میں کسی کو یہ فکر نہیں کہ بھینس پر کیا مصیبت ٹوٹ رہی ہے۔اس علامتی کہانی کو پڑھتے ہوئے انور سجادکی ’گائے‘کی یاد آتی ہے جو بالکل نحیف ہوچکا ہے اور گھر کے سارے افراد اُسے بوچڑ خانے لے جانے کی سوچتے ہیں سوائے ’نکاّ‘کے،جسے گائے ایک ایسی شے معلوم ہوتی ہے جسے انسان نے فائدہ اٹھا کر گھر سے باہر کرنے کی قسم کھا رکھی ہے۔الیاس احمد گدی نے جس زمانے میں یہ کہانیاں لکھی ہیں وہ جدیدیت سے انحراف کا دور تھا،ایک ایسا وقت جب کہانی کا عنصر غائب ہوچکا تھا،قاری سے افسانے کا رشتہ ٹوٹ چکا تھاتو ایسے حالات میں جن فنکاروں نے اس صنف کے نئی علامت نگاری سے روشناس کرایااُن میں الیاس احمد گدی کو بھی شمار کرسکتے ہیں۔
جس طرح سے الیاس احمد گدی کے زمانے میں تین تحریکات و رجحانات نے اپنے نقوش اردو افسانے پر ثبت کیے اُسی طرح افسانہ نگاروں کی بھی فہرست ہے جو ایک ساتھ افسانے رقم کر رہے تھے اور چند ایسے بھی تھے جنھوں نے اُ س زمانے میں لکھنا شروع کیا لیکن اُن کی شناخت بعد میں قائم ہوسکی۔اس طرح سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ الیاس احمد گدی کے عہد میں پرانی تحریک میں ترقی پسند تحریک تھی،بعد میں جدیدیت آئی اور اس کے بعد مابعد جدیدیت۔اس کے علاوہ اور بھی رجحانات اردو افسانے پر اثر انداز ہوئے جن میں تانیثیت،جادوئی حقیقت نگاری،رد تشکیل وغیرہ مغربی نظریات قابل ذکر ہیں۔موضوعات کی بات کریں تو اسّی کی دہائی کے بعد کئی اہم موضوعات پر افسانے رقم کیے گئے جن میں جنسی حقیقت نگاری،معاشرتی تشدد جیسے موضوعات اہم ہیں جن پر مزید لکھنے کی ضرورت ہے اور اُسے نئے زاویے سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔
حوالہ جات
۱۔رشید امجد۔جدید ادبی تناظر۔الفتح پبلی کیشنز،راولپنڈی۲۰۱۲ء۔صفحہ نمبر ۸۲
۲۔حیات اللہ انصاری۔جدیدیت کی سیر۔کتاب دان،لکھنؤ۔۱۹۸۷ء۔صفحہ نمبر ۱۱
۳۔شمس الرحمن فاروقی۔جدیدیت:آج کل۔نئی کتاب پبلشرز،نئی دہلی۔۲۰۰۷ء ۔صفحہ نمبر ۴۲
۴۔الیاس احمد گدی۔افسانہ’’آخری حربہ‘‘مشمولہ’آدمی‘شب خون کتاب گھر،الہ آباد۔۔صفحہ نمبر ۱۰۵
۵۔گوپی چند نارنگ۔مابعدجدیدیت :اردو کے تناظر میں۔مشمولہ’’اردو ما بعد جدیدیت پر مکا لمہ‘‘۔(مرتب) گوپی چند نارنگ۔اردو اکادمی ،نئی دہلی۔ ۱۹۹۸ء۔صفحہ نمبر ۷۱
۶۔شمس الرحمن فاروقی۔جدیدیت:آج کے تنا ظر میں۔شب خون،الٰہ آباد۔شمارہ نمبر ۱۷۶۔اگست ،ستمبر ۱۹۹۴ء۔صفحہ نمبر ۷
۷۔وہاب اشرفی۔مابعد جدیدیت:مضمرات و ممکنات۔ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،نئی دہلی۔صفحہ نمبر
۸۔طارق چھتاری۔ما بعد جدید افسانہ:اردو کے تنا ظر میں۔مشمولہ’’اردو ما بعد جدیدیت پر مکا لمہ‘‘(مرتب) گوپی چند نارنگ۔اردو اکادمی،نئی دہلی۔ ۱۹۹۸ء۔صفحہ نمبر ۳۲۱
Muhammad Ghalib Nashtar
Lane Number:3,Sattar Colony,
Bariatu,RANCHI-834009
nashtar3116@gmail.com
+91-9897858093
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

