طبع موزوں سے استفادہ کرنے والا ہر شخص شاعر ہو یہ کوئی قاعدہ ٔ کلیہ نہیں ۔بعض دفعہ صرف اپنے ادبی ذوق کی تسکین کے لیے لوگ اپنی موزونیٔ طبع کا استعمال کرتے ہیں اور شعر و شاعری کا مزہ لیتے ہیں۔انھیں دوسرے شعرا ء کے اشعار اَز بر ہونے لگتے ہیں اور بر محل ان اشعار کو پڑھ کر سنا دیا کرتے ہیں۔ایک شاعر بھی ان کے حافظے پر عش عش کر اٹھے گا ۔مگر کچھ صاحبِ نظر اپنی طبیعت کی موزونیت سے اس درجۂ کمال کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں ،جہاں پر متمکن ہو کر وہ اپنے شاعر ہونے کا اعلان کر دیتے ہیں۔نیز کسبِ فن کے لیے جی جان لگا دیتے ہیں۔نامساعد حالات کبھی ان کے سد راہ نہیں ہوتے۔آخر کار ان کے فن کا چشمہ ابل پڑتا ہے اوردیکھتے ہی دیکھتے ایک سیراب کن دریا میں تبدیل ہو جاتا ہے۔امتیاز احمد دانشؔ بھی انھی خوش نصیب فنکاروں میں شمار کئے جائیں تو غلط نہیں ۔صوبہ بہار کے ضلع آرہ (بھوجپور) سے تعلق رکھنے والے پیشے سے تاجر امتیاز احمد دانشؔ نے اپنے شعری ذوق کو اس حد تک بلیغ کیا کہ ان کے پاس ایک قابل قدر شعری سرمایہ جمع ہو گیا ہے جس کا کچھ حصہ ایک مدت مدید کی ریاضت کے بعد منتخب سو۱۰۰ غزلیات کی شکل میں ’’خموشی چیختی ہے‘‘ (طبع اوّل ۲۰۲۰)کے عنوان سے بنا کسی شور شرابےانھوں نے نذر قارئین کر دیا ۔یہ ان کی غزلوں کا پہلا انتخاب ہے۔
امتیاز احمد دانشؔ کی غزلیں ہمیں ان کی فنی بصیرت کے مختلف پہلوؤں پر غور و خوض کرنے کی دعوت دیتی ہیں۔ان کا کلام نظرانداز کر دینے والا کلام قطعی نہیں ہے ۔اس میں مقناطیسیت موجود ہے۔کسی غزل کو اگر مطلعے سے شروع کیا جائے تو اسے نا مکمل چھوڑنے کا جی نہیں چاہتا۔قاری کی علمی ادبی سطح جس درجہ بلند و بلیغ ہوگی وہ کسی شاعر کے کلام سے محظوظ ہونے کےاتنے ہی مواقع تلاشے گا۔تشنہ کامی کی گنجایش نظر آتے ہی اسے شاعر سے شاکی ہونے کا پورا پورا حق ہے۔میں نے بھی امتیاز احمد دانشؔ کے کلام سے محظوظ ہونے کی حد درجہ کوشش کی ہے۔ ان کی غزلوں کے معیار کو فنی تقاضوں کی روشنی میں دیکھنے کی سعی میں جو کچھ میرے ہاتھ لگا وہ سب کچھ ضابطۂ تحریر میں لانے کی کوشش کر رہا ہوں۔اس سے ہمیں ایک ایسے شاعر کی فکری وسعت کو سمجھنے میں مدد ملے گی جس کو اردو شعروادب کی توقیر کا پاس ہے۔امتیاز احمد دانشؔ انتہائی سنجیدہ طبیعت واقع ہوئے ہیں۔انھوں اپنی سنجیدگی کو اپنی شاعری کا محورِ خاص بنا یا ہے۔شاعرانہ خود اعتمادی ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔اگرچہ منکسرالمزاج طبیعت انھیں یہ کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ’’شاعری میرے بوتے کی چیز نہیں۔‘‘
غزل کا اپنا مزاج بہت لوچدار ہے ،وہ تبدیلی کو قبول کرتی ہے اور شاعر کے مزاج کے تغییرات بھی قبول کرنے میں کبھی سرکش نہیں ہوتی،مگر شاعری کے فن کے تقاضے کچھ اور ہی مطالبہ کرتے ہیں۔شاعر اپنے فکر و فن سے ان تقاضوں کو کہاں تک پورا کر پا یا ہے اس کی بحث تنقید کی عدالت میں ہوتی ہے اور اس کا فیصلہ بھی اسی عدالت میں طے پایا جاتاہے۔امتیاز احمد دانشؔ کی شاعری بھی اس سےمبرّا نہیں ہو سکتی۔لہٰذا ہمیں یہ دیکھنا ہوگا انھوں نے اپنے خیالات کو حدودِ شعرمیں لانے کے لیے کتنی فنکاری سے کام لیا ہے اور کہاں کہاں اس میں کامیاب ہوئے ہیں ۔
امتیاز احمد دانشؔ کا لہجہ بہت متوسط ہے۔جس کو انھوں نے خاموشی سے تعبیر کیا ہے۔مگر اس کی چیخ سننے کے لیے گوشِ دل درکار ہیں۔بس یہیں سے وہ رموز و اسرار کے سفر پر گامزن ہوتے ہیں جہاں سے اشعار کی معنویت کی پڑتال شروع ہوتی ہے۔ان کی مجموعۂ کلام سے پہلی غزل کا مطلع احتجاجی ہے وہاں خاموشی نہیں ہےمگر احتیاط کی بندشیں عاید ہیں؎
زمیں تو چھین لی اب آسمان رہنے دے
دلِ حزیں میں شفق کا گمان رہنے دے
مگر اس شعر میں شاعر کا مخاطب کون ہے یہ پتا نہیں چلتا،اس کو انھوں نے رمز کے پردے میں رکھا ہے۔خاموشی کا استعارہ انھوں نے چن تو لیا ہے مگر زبان کی ضرورت ان کے لیے آخری حربے کی حیثیت رکھتاہے جس کے سہارے انھیں زمانے سے اپنا دفعہ بھی کرنا ہے؎
یہی تو آخری حربہ بچا ہے میرے لیے
خدا کے واسطے منہ میں زبان رہنے دے
انسانی فطرت کو سمجھنے کا بلیغ شعور امتیاز احمد دانش ؔ کے یہاں موجود ہے۔اچھے برے کا فرق اور اس کو بیان کر نے کی قدرت زندگی کی تجربہ گاہ میں حاصل کیے ہوئےگْر ہیںجن کا استعمال وہ بخوبی کرتے ہیں۔ایک بہت اچھا شعر ان کے غزل سے حدود نظر میں داخل ہوا جس پر رک کر داد دینے کا جی چاہتا ہے۔مجھے یقین ہے آپ بھی اس سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہیں گے؎
تیری حساس مزاجی پہ ہنسی آتی ہے
ایک قصہ بھی تجھے درد بھرا یاد نہیں
بھئی واہــ! کس خوبصورتی سے انھوں نے طنز کا پیرایہ اختیار کرتے ہوئے اپنی بات کی بھرپور ترسیل کی ہے۔ایک ایک لفظ اس شعر میں اپنی جگہ پر نگینے کی طرح جڑا ہوا ہے۔یہی تو شاعری کا حسن ہے۔استفہام جدید شاعری کا جزو اعظم ہے۔جو شاعر اپنے کلام میں کیوں او ر کیا کی سبیل نہیں پیدا کرتا اس کے فن میں فرسودہ پن از خود دَر آتا ہے۔آج کے دور میں کسی حساس شخص کے پاس اگر کچھ پوچھنے یا سوال اٹھانے کی صلاحیت نہیں تو یقین جانئے اس کے پاس کچھ کہنے کو بھی باقی نہیں ہوگا۔ایک غزل میں یہ استفہامی لہجہ کتنا بلیغ ہے چند منتخب اشعار کے ذریعہ ملاحظہ فرمائیں؎
وہ حوصلہ ہی کہاں بازؤں میں جان کہاں
ہمارے ہاتھ میں اب وقت کی کمان کہاں
تم اپنے ذہن کو خود ہی کرید کر دیکھو
کسی بھی شخص کے منہ میں ہے اب زبان کہاں
نگاہ پھیر کے اٹھنے لگے ہو محفل سے
سنا رہا ہوں تمہیں اپنی داستان کہاں
چلئے تیسرے شعر کی تہ داری پر غور کر لیں۔شاید یہ اس غزل کا سب سے اچھا شعر بن پڑاہے۔ایک شعر کا حسن اس بات میں بھی مضمر ہے کہ وہ سہل ممتنع کا مرقع بھی ہو اور جیسے جیسے اس کو لہجہ بدل کر پڑھتے جائیںتو اس کی معنویت کی تہیں کھلتی چلی جائیں۔
شعر کے پہلے مصرعے میں بات سادہ سی ہے۔نگاہ پھیر کے اٹھنے والا گویا شاعر کا مخاطب نہیں جسے وہ اپنی داستان سنا رہا ہے۔مگر ایہام کی کار فرمائی یہی اشارہ کر رہی ہے کہ شاعر کا مخاطب محفل سے یک بہ یک اٹھ کے جانے والا ہی ہے۔ لطف دوسرے مصرعے کی کرامت سے پیدا ہوتا ہے۔آپ سرسری طور پر اس مصرعے کو پڑھیں تو شاعر کی بے توجہی بتا رہی ہے کہ وہ اٹھ کر جانے والے کو اپنی داستان نہیں سنا رہا۔مگر لفظ ’’کہاں‘‘ کو تاکید میں تبدیل کرتے ہی لہجہ کی تبدیلی واقع ہوگی جس میں گویا شاعر محفل سے اٹھنے والے سے کہہ رہا ہےــ’’میں تمہیں (ہی) اپنی داستان سنا رہا ہوں کہاں(چلے)۔‘‘ایک بہترین منظر کشی ایک مکمل تصویر بناتا ہوا یہ شعر اپنی داد قاری سے چھین کر لےگا۔اسی غزل کا ایک اور شعر پیکر تراشی میں امتیاز احمد دانشؔ کے ہنر کا مظاہرہ کرتا ہوا ،اچھا شعر ہے۔استفہامیہ کو بھی بخوبی برتا گیا ہے۔شعر دیکھیں؎
مِرا موازنہ تم اس سے کر نہیںسکتے
میں ایک سنگ کا ٹکڑا وہ اک چٹان کہاں
استفہام پر میرا زور اس لیے زیادہ کہ استفہام انشا کےذیل میںآتا ہے اور شعر میں انشا کو خبر سے ہمیشہ بہتربتایا جاتاہے۔شعر گوئی کے بنیادی اصول میں اس کو خاص اہمیت حاصل ہے۔اس امر کے تناظر میں ہم ایک اچھے شاعر کے کلام پر محاسن کی دریافت کرتے ہیں۔
شاعر امتیاز احمد دانشؔ نے اپنی حساسیت سے بہت فائدہ اٹھایا ہے۔شعر میں اپنے جذبات کو کس طرح الفاظ کی نشست و برخاست میں جگہ دیتے ہیں اس کی مثال میں ان کا ایک مطلع دیکھئے؎
جو زہر صفحۂ قرطاس پر انڈیلا تھا
حقیقتاََ وہ مِری زندگی کا نوحہ تھا
اس مطلعے میں کوئی لفظ حشو نہیں۔جذبات کی ترسیل بھی آسانی سے کرتے چلے گئے ہیں۔ایک اچھے شاعر سے ہمیں اسی طرح کی امید رہتی ہے۔شاعر متحرک شعر کہنے میں کامیاب ہے تو اس کے فن میں جمود کی گنجایش کم ہی ملے گی ۔یہی تحریک ایک شاعر کے فن کوتا دیر زندہ رکھنے کے لیے ضروری بھی ہے۔
بہت تلاشنے پر بھی شاعر امتیاز احمد دانشؔ کے یہاں سرور و انبساط کے شعر کم نظر آتے ہیں۔شاید انھوں نے غم واندوہ کو اپنی زندگی کے تمام تجربات کی معراج سمجھ لیاہے۔حالانکہ شاعر کی ایک خوبی یہ بھی ہونا چاہئے کہ بھلے ہی اس کی زندگی میں خوشی کے مواقع کم میسر آئیں مگر اس کو اپنےفن پر اس قدر گرفت ہونا چاہئے کہ مشاہدہ کی بنا پر نشاط زندگی کی تصویر کھینچنے میںبھی قدرت رکھتا ہو،اور اپنے قارئین کی دلجوئی کے لیے ہی سہی کچھ اشعار ایسے بھی کہے جنمیں حرارت زیست موجود ہو۔جو پڑھنے والے کے قلب کو ایک قسم کی شادابی عطا کر سکے۔فقط ہائے ہائے سے اگر کام چلتا تو غالب ؔ کے یہاں ہمیں سرور و انبساط سے مملو اشعار نظر ہی نہیں آتے۔ یہاں میری مراد یہی ہے کہ شوخی،ظرافت،معاملہ بندی ،مضمون آفرینی جیسی خصوصیات محض غم و اندوہ کا بیانیہ اختیار کرلینے سے کلام سے ایک دم مفقود ہو جاتی ہیں۔اس کے لیے شاعر کو اپنی فکر کے کینوَس کو وسیع کرنا ہوتا ہے۔قوت متخیلہ کو اکسانا ہی تو شاعری ہے۔امتیاز احمد دانشؔ اس میدان میں بہت اچھے شعرنہیں کہہ پائے۔یا اب تک کہ انھوں نے جو اپنے کلام کا انتخاب کیا اس میں جان بوجھ کر ایسے اشعار سے گریز کیا۔ایک شعر مجھے ذرا بدلتی ہوئی آواز کا نظر آیا مگروہ اس قدر سقیم ہے کہ اس کی شعریت میں اسے پست شعر سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔آپ بھی فیصلہ کریں میں شعر درج کرتا ہوں؎
اپنے دل کی خواہشوں کےرَو میں بہہ جاتا ہوں میں
ہے ابھی قابو سے باہر یہ جوانی کیا کروں
ثانی مصرعہ ہی شعر کو مبتذل بنا گیا۔حالانکہ ایسے بہت سے اچھے اشعار شعر و ادب کی جان ہیں جن میں شوخی و معاملہ بندی کے ساتھ ساتھ مضمون آفرینی کا جوہر ملتا ہے۔غالبؔ کا ایک مشہور شعر صرف آپ کا ذہن ان خصوصیات کی جانب مبذول کرنے کی نیت سے رقم کرتا چلوں؎
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماںہونا
مجھے امید ہے اگر امتیاز احمد دانشؔ میری بات پر غور فرمائیں گے تو آیندہ ان کے انتخاب میں شاعری کی مندرجہ بالا خصوصیات سے مزیّن اشعار بھی اپنے قارئین تک ضرور پہنچائیں گے۔
امتیاز احمد دانشؔ نے اپنے مخصوص رنگ کو قایم رکھتے ہوئے بھی کچھ اشعار ایسے کہے ہیں جن میں ان کے باقی اشعار کے مقابلے زیادہ چمک مموجود ہے۔پہلے ان کے اس انداز کوچنداشعار میں ملاحظہ فرمائیں؎
کسی کے سامنے فریاد بھی کرنے سے کیا حاصل
اگر کچھ بات بھی ہوگی تو صورت دیکھ کر ہوگی
؎ خون کرنے کا ارادہ ہے کسی کا پھر کیا
نصف راتوں میں مجھے تم نے پکارا کیسے
؎ذات کا کتنا اثر ہےدیکھئےانسان پر
ایک پاگل ایک پاگل کی حمایت کر گیا
بلا شبہ ان اشعار میں طنز کا عنصر غالب ہے۔اور ایسے طنز آمیز اشعار میں جس طرح کی نشتریت درکار ہے وہ ہمیں محسوس ہوتی ہے۔
امتیاز احمد دانشؔ نے بے شک اپنی شاعری میں سنجیدہ روَش اختیار کرتے ہوئے ،کھلی آنکھوں سے نظر آنے والے مہیب حالات کا مشاہدہ پیش کیا ہے۔ان کے یہاں فسادات کے موضوع پر کرب آگین اشعار دیکھنے کو ملتے ہیں۔دورِ حاضر میں تو یہ خوف ہر انسان کی زندگی میں لمحہ بہ لمحہ بنا ہی رہتا ہے کہ نہ جانے کب کون سی ایک چھوٹی سے چنگاری تعصب کی ہوا پا کر شعلہ جوالہ میں تبدیل ہو جائے اور بستیوں کی بستیاں اس کے رقص شرر انگیز میں خاکستر ہوتی چلی جائیں۔چند اشعار اسی قبیل کے ملاحظہ کیجئے؎
ہمارے گھر میں وہ پتھر ہزار پھینکے گا
لبادہ بغض کا اک دن اتار پھینکے گا
؎نہ جانے کیا ہو نظام حیات کا دانشؔ
دیارِ امن میں شعلہ اگل رہی ہے ہوا
؎بس ایک پل میں ہو گیا یہ گھر دھواں دھواں
دیکھا جو اپنے شہر کا منظر دھواں دھواں
؎کیسی ہوا چلی ہے جہالت کی آگ میں
سب کچھ ہی جل کے رہ گیا نفرت کی آگ میں
تم خود ہی اپنی آنکھ سے دیکھو کہ کس طرح
جھونکے گئے مکان سیاست کی آگ میں
؎ ہر ایک روزفضا میں وہ گھولتے ہیں زہر
یہاں پہ آنا ابھی رام راج مشکل ہے
امتیاز احمد دانش ؔ کے کلام میں ایسے اشعار کی بھرمار ہے۔ان پر ایک الگ عنوان قایم کرتے ہوئے تجزیہ کئے جانے کی گنجایش رہے گی۔لہٰذا ہم اپنی بحث کا رخ مضامین شعر سے محاسن و معایب شعر کی طرف موڑتے ہوئےاپنے تجزئے کے آخری پڑاؤ کی جانب چلتے ہیں۔
شعر کی جمالیات کا دار و مدارشعر گوئی کے بنیادی اصول کی سمجھ اور ان کےبرتاؤ پر منحصر ہوتا ہے۔جب شاعر کا اپنا یہ دعویٰ سامنے ہو کہ ’’میری خوش نصیبی کہ بچپن کا سہانا پل ادیبوں اور شاعروں کے گلشن میں پروان چڑھا‘‘تو اس مقولے کی روشنی میں یہ دیکھنا اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ شاعر نے ایسے تربیت کنندہ ماحول سےکس طرح کسب فیض کیا ہے۔فن کے رموز و نکات کو کہاں تک سممجھا اور اپنی شاعری میں کیسے برتا ہے۔امید کی جاتی ہے کہ شاعر نے ان بنیادی اصول سے چشم پوشی نہیں کی ہوگی جن کی روشنی میں شعر کے محاسن ابھرتے ہیں ۔دوسری جانب ان سے تساہلی برتنے کا انجام شعر کی خرابی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔جسے قدما ءنے معایب سخن کہا ہے۔محاسن کے ضمن میں اسی مضمون میں ہم نے شاعر امتیاز احمد دانشؔ کے استعاراتی نظام اور پیکر تراشی کے کچھ نمونوں کو بھی دیکھا۔استعارہ ہمیشہ تشبیہ سے بہتر ہوتا ہے۔استاد شاعر استعارہ وضع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور متوسط درجے کے شاعر سے کم از کم اتنی امید کی جاتی ہے کہ وہ پہلے سے وضع کردہ استعاروں کو برتنےکی صلاحیت رکھتا ہو۔امتیاز احمد دانشؔ نے کوئی استعارہ وضع تو نہیں کیا،مگر پہلے سے موجود استعاروں کو برتنےمیں حد درجہ کامیاب رہے ہیں۔بطور مثال دو ایک شعر دیکھیں؎
جس کی شاخوں پر پرندے چہچہاتے تھے کبھی
میرے آنگن کا گھنا وہ پیڑ بھی کٹ جائے گا
؎اس شہرِ نگاراں میں دہشت کا یہ عالم ہے
اے کاش کسی در سے پائل ہی صدا دے دے
؎چمن کی گود میں خوش رنگ تتلیاں ہی نہیں
کلی کلی بھی بہت بے نقاب ہو کے پھری
ان کی شاعری میں علامتوں کی زبان استعمال ہوئی ہے۔ان علامتوں میں بہت حد تک وہ اپنی بات کو انتہائی خوبصورتی سے ادا کر گئے ہیں۔
؎میں کہیں تجھ سے بچھڑ کر نہ اکیلا ہو جاؤں
اس گھنے دشت کے منہ کا نہ نوالا ہو جاؤں
اس شعر میں علامت نگاری کے ساتھ ساتھ پیکر تراشی بھی ہے۔استفہامی کیفیت نے شعر کو اچھا بنانے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ایک شعر اور دیکھیں بہت اچھی علامت کے ساتھ ادا ہوا ہے؎
؎یہ جو چشمہ ہے زندگانی کا
کھیل ہے ایک بوند پانی کا
شاعر نے اپنی شاعری کو ممکنہ طور پر اچھی شاعری کے زمرے میں داخل کرنے کی کوشش بلیغ کی ہے تا ہم امتیاز احمد دانشؔ کے کلام میں کچھ زبان و بیان کے نقایص بھی نظر آتے ہیں۔جو شاید ان کی بے توجہی کے سبب ان کے سخن میں دَر آئے ہیں۔یہاں دو باتیں عرض کر دینا چاہتا ہوں،شعر کا عیب اور شعر میں غلطی یہ دونوں ایک چیز نہیں ہیں۔شعر میں غلطی مثلاََ تذکیر و تانیث کا مسٔلہ ایک گھڑی شعر کے حسن میں حائل نہ بھی ہو مگر عیب جیسے عروض کی کوئی خامی یا وزن سے شعر کا ساکت رہ جانا،شعر دو لخت ہونا،عجز بیان،اشکال ،اورحشو کی موجودگی سے شعر اپنا تاثر کھو دیتا ہے۔چونکہ امتیاز احمد دانشؔ کے تازہ ترین اوّلین شعری مجموعے کی شکل میں موجود ہم خود ان کی غزلیات کو اپنے مطالعے میں لے کر ایک صائب رائے قایم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،تو یہ بھی ضروری ہے کہ ہم شاعر کے اغلاط سخن اور عیوب سخن کی الگ الگ درجہ بندی کرتے ہوئے کچھ عرض کر دیں۔جس سے شاعر کی توجہ آیندہ کے لیے ہوشیار ہو سکے اور اگلے ایڈیشن یا اگلے مجموعے میں یہ کمیاں نہ رہ جائیں۔سب سے پہلے تذکیر و تانیث کی کچھ غلطیاں ملاحظہ کیجئے۔مکمل شعر کی جگہ ہم مصارع لکھ رہے ہیں؎
ؑؑع رخِ احساس پر لوٹا نہیں مسکان برسوں تک (لوٹی نہیں ہونا چاہئے)
ع قایم رہا نہ چہرے پہ مسکان چند روز(قایم رہی)
ع خدا نے چاہا تو ہم سب کی کرے گی بیڑا پار ہوا (ہم سب کا)
ع اچھے اچھوں کا بھی وہ چھکے چھڑا دیتا ہے (کا کی جگہ کے )
ع کیا بتائیں کہ میرے آنے کی (آنے کا)
ع جس کو نسبت نہیں رہا غم سے (رہی)
زبان پر علاقائیت کا اثر ہونے کی وجہ سے شتر گربہ بھی امتیاز احمد دانشؔ کے کلام میں نظر آیا ،لغزش کو محسوس کریں؎
یہ بھی عجیب ہے انداز کج کلاہوں کا
کہیں بھی منصبی سکہ اچھال آتا ہے
شعر سے ظاہر ہے کہ فاعل جمع غائب کی طرف اشارہ کر رہا ہے اور فعل ’’اچھال آتا ہے‘‘واحد غائب کی طرف منسوب ہے۔
ایک شعراور دیکھئے؎
بہر صورت مِری تم سے یہی ہے التجا یا رب
بلائے ناگہانی کو وطن سے دور کر دینا
؎ گم ہوئے کچھ بھی نہیں سب کچھ یہاں آباد ہے
مٹیوں کے ڈھیر میں سب داستاں آباد ہے
مندرجہ بالا شعر میں الفاظ کے غلط برتاؤ نے شتر گربہ جیسا عیب پیدا کیاہے۔اس شعر کو با آسانی یوں بھی کہا جا سکتا تھا؎
گم ہوا کچھ بھی نہیں سب کچھ یہاں آباد ہے
مٹیوں کے ڈھیر میں ہر داستاں آباد ہے
ان کے کلام میں دو لخت مصرعوں والے اشعار بھی نظر سے گزرے مگر ایک شعر جو خاص طور پر دو لخت ہونے کی وجہ عجز بیان کا شکار ہو گیا آپ کی توجہ کے لیے رقم کیا جاتا ہے؎
آ تو یہاں گیا ہوں جوش و جنوں میں لیکن
مجھ کو پناہ دے گی غم کی سرنگ کب تک
جوش و جنوں میں انسان پناہ نہیں تلاشتا۔مقابلہ کرتا ہے۔
امتیاز احمد دانشؔ سوچ سمجھ کر شعر کہتے ہیں ،ان کے یہاں بہت سے اشعار اس خوبی کے حامل ہیں مگر کہیں کہیں انھوںنے ایسی عجلت اختیار کی ہے جہاں شعر میں اشکال پیدا ہو گیا ہے۔ایک شعر دیکھیں ؎
مرے آنگن میں آ کے کیسے کوئی
گرا دے پیار کی دیوار کوئی
تقابل ردیفین کے عیب کو بھی اس شعر میں دخل ہے۔
پیار کی دیوار نہیں ہوتی پیار کا بندھن ہوتا ہے۔شعر اس پیار کی دیوار سے ہی اپنی معنویت کھو رہا ہے۔ایک اور شعر جس میںرعایت لفظی کا قطعی دھیان نہیں رکھا گیا ہے۔تاویل سے اس کے دوسرے معنی نکالے جا سکتے ہیں مگر مجھے امید ہے شاعر نے شعر کو اس کے معنی کی پہلی سطح پر ہی رکھا ہے۔شعر دیکھیں؎
ہیرے کی جستجو میں اتر آئے ہیں مگر
دریا میں زندگی کو سمو دیں نہ ہم کہیں
ہیرا دریا میں ہوتا ہی نہیں۔ہیرا کان مین پایا جاتا ہے۔اس شعر میںایک تاویل یہ ضرور ہو سکتی ہے کہ ہیرے کی دریا میں تلاش کرنا کارِ فضول ہے جس کا انجام صرف غرق آبی ہے اور کچھ نہیں۔
عروضی اسقام کو ان ان اشعار میں دیکھیں؎
آندھی کا بار سہہ نہ سکے تیز لہر میں
جس ناؤ پہ سوار تھے یہ خوش نصیب لوگ ( یہ مصرعہ نا موزوں ہے)
؎بہت میں بھولنے کی سعیِ پیہم کرتا ہوں لیکن
ابھی تک وہ تباہی کی نشانی یاد آتی ہے
اس شعر میں سعی پیہم کو دبا کر پڑھنا غلط ہے لہٰذا مصرع از خود ناموزوں ہو گیا۔
؎ ابھی تو شاید دیکھ رہی ہے موسم کے آثار ہوا
سلگ اٹھے گا چمن چمن جب چلے گی شعلہ بار ہوا
اس شعر میں دوسرا مصرع ناموزوں ہے۔چمن چمن سے بحر ٹوٹ رہی ہے۔
؎ میں اک اہلِ قلم ہوں مر بھی جاؤں گا مگر دانشؔ
رہے گا کم ازکم زندہ مرا دیوان برسوں تک
دوسرا مصرع اپنی ناموزونیت کی قسمیں کھا رہا ہے۔
خامیوں سے کوئی انسان مبرا نہیں۔امتیاز احمد دانشؔ کی شاعری میں پائی جانے والی لغزشیں زبان و بیان کی صحت کےلیے نادرست ہیں۔مگر ان کا ازالہ ہونے کی گنجایش بھی ہے۔نشاندہی کرنے والا نشاندہی کر سکتاہے۔کلام میں خوبیاں ،خامیوں کی تعدادپر سبقت لے جانے والی ہیں۔امتیاز احمد دانشؔ اپنے فن و فکر کے محور پر خوبصورتی سے اشعار کہہ پانے میں کامیاب رہے ہیں۔کچھ بہت اچھے اشعار جو میری نظر سے گزرے ان کو میں نے مضمون کے آخر کے لیے بچا کر رکھا تھا ۔ان میں زبان و بیان کے ساتھ ساتھ تخئیل کی وسعت صاف طور پر نظر آتی ہے۔وہاں تشبیہات و استعارات کے ساتھ جس طرح کی مشاقی سے کام لیا گیا ہے وہ دیکھتے ہی بنتا ہے۔چنداشعار اسی قبیل کے سر دست ملاحظہ فرمائیں؎
ہوا میں جب شرر پنہا ں نہیں ہے
تو کیوں شاخ ہنر جلنے لگی ہے
؎ اب عیش و طرب کا کوئی ساماں نہ ملے گا
موسم ہی تو پتجھڑ کی دکاں کھول رہا ہے
؎ خاموش شمع اپنی اداؤں میں گم رہی
پروانہ جل رہا تھا محبت کی آگ میں
؎ ہمارے خواب کی تکمیل ہو سکی بھی کہاں
ہوس کی کائی پہ یہ زندگی پھسلتی رہی
؎ مجھے ذرا بھی اگر تم سے کچھ حسد ہوتی
خوشی کی میز پہ غم کا ایاغ رکھ دیتا
؎ کبھی نہ ابر کا سایہ مجھے نصیب ہوا
سلگتی دھوپ ہی گھر میں سحاب ہو کے پھری
مجموعی طور پر امتیاز احمد دانشؔ کی شاعری میں ہم اس فضا کو پاتے ہیں جس میں ایک شاعر کے فن کی بقا کی ضمانت لی جا سکتی ہے۔ایک حساس شخص اور سماج کا فرد ہونے کے ناتے امتیاز احمد دانشؔ نے اپنی شاعر ی میں معاشرے کو اچھے برے کی تمیز برتنے کا پیغام عام کیا ہے۔ہر ایک ذی ہوش اور ذی روح انسان کی طرح انھوں نے بھی جیو اور جینے دو کی مشعل کو آگے بڑھایا ہے۔غزل کا سوز و گداز ان کے یہاں موجود ہے۔جدید مسائل کی رَو میں زبان کی شکست و ریخت سے بچتے بچاتے وہ اپنے شعری سفر پر گامزن نظر آتے ہیں۔ایک بہت اچھی بات یہ بھی ہے کہ امتیاز احمد دانشؔ نے اپنی آنکھوں کو نئے خوابوں سے محروم نہیں رکھا۔ ان کے یہاں غم و اندوہ کا جو ہجوم نظر آتا ہے اس سے ٹکرانے اور آگے بڑھنے کی ہمت بھی سر اٹھاتے ہوئے چلتی ہے،اور ایک زندہ دل انسان کی یہ سب سے بڑی پہچان ہے۔
محمد عشرت صغیر
محلہ باڑو زئی اوّل شاہجہاں پور
اتر پردیش
9648906342
(اگر زحمت نہ ہو تو ادبی میراث کے یوٹیوب چینل کو ضرور سبسکرائب کریں https://www.youtube.com/@adbimiras710/videos
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

