اسلامی منہاجیات: ادب، تعبیر، تحقیق/ ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی- مبصر:۔ نوشاد منظر
زیر تبصرہ کتاب’’اسلامی منہاجات: ادب ، تعبیر، تحقیق‘‘ کوڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے تین حصوں میں تقسیم کیا ہے۔اس کے علاوہ چند ضمنی عنوانات بھی مصنفین نے قائم کئے ہیں۔کتاب کا پہلا حصہ’’ادب و صحافت‘‘ ہے۔ کتاب کے اس حصے میں مصنف نے تین ذیلی عنوانات قائم کیے ہیں۔پہلا عنوان ’’ خلیل احمد الحامدی کے سفر نامے‘‘ ہیں۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے ابتدا میں ’خلیل احمد الحامدی‘‘کے سفر ناموں کے مقاصد پر روشنی دالی ہے۔خلیل احمد الحامدی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔وہ ایک مفکر اسلام اور اصلاح پسند عالم دین تھے۔ان کے علمی کارناموں کا دائرہ کافی وسیع ہے۔مصنف نے ان کے سفر ناموں پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ گرچہ اس سفر نامے کی اہمیت سلامی احیا و اصلاح پسندی کی علمبردار تحریکات و تنظیمات اور عالم اسلام کی مقتدر شخصیات کے تعارف و تجزیہ کے اعتبار سے تو مسلم ہے مگر ان میں ادبیت، اعلیٰ اسلوب نگارش، برجستگی اور مشاہدہ کی قوت نے اس سفر نامے کو مذہبی نوعیت کے ساتھ خالص ادبی بنا دیا ہے۔مولانا الحامدی نے مسلم ممالک سے لے کر مشرقی وسطیٰ اور افریقہ ممالک کے ساتھ یوروپ کا سفر کیا۔ان تمام سفر کی روداد کوانہوں نے ہفت روزہ ایشیا لاہور میں شائع کرایا،یہی نہیں بعد میں انہوں نے ان سفر ناموں کی روداد کو کتابی شکل میں شائع کرایا۔سفر کی روداد پر مبنی مولانا کی کتابوں کے نام اس طرح ہیں۔ ’آفاق دعوت‘،’تحریکی سفر کی دستان‘، حج: تیاری سے واپسی تک‘ معروف ہیں۔مصنف نے مولانا کے سفر نامے کا نہایت تفصیل کے ساتھ تجزیہ کیا ہے۔
کتاب کے پہلے حصے کا دوسرا ضمنی عنوان’’ تابش مہدی کے کلام میں کردار سازی ‘‘ ہے۔مصنف نے تابش مہدی کے کلام کو واضح کرنے کے لیے چند عنوانات’ادب کے نام پر بے ادبی‘،’زندگی بھی فلسفہ بھی‘،’امت واحدہ کا احیا‘،’عزیمت کی شاعری‘،’انقلاب کی گھن گرج‘،’انسانیت نوازی کی تعلیم: اور ’نعت میں حد ادب‘قائم کیے ہیں۔تابش مہدی موجودہ عہد کے ایک اہم شاعر ہیں، نعت گوئی میں ان کا الگ مقام ہے۔اس کے علاوہ وہ ایک اچھے نثر نگار ہیں، ان کے اب تک کئی درجن مضامین مختلف رسائل و جرائد میں شائع ہوچکے ہیں۔انہوں نے اپنی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے یہ واضح کیا تھا ان کی شاعری دراصل ادب اسلامی کو اس کے وسیع تر مفہوم میں پیش کیا ہے۔ وہ تشکیک و تذبذب کے شکار نظر نہیں آتے۔مصنف نے تابش مہدی کی علمی و ادبی نظریات پر گفتگو کرتے ہوئے انہیں جدیدیت کے زمرے میں رکھا ہے، مصنف کا خیال ہے کہ تابش مہدی کے لیے اقتصادی مسائل کے ساتھ زندگی کے دوسرے مسائل بھی اہم معلوم ہوتے ہیں، شاید یہی وجہ تھی کہ تابش مہدی ، ترقی پسندی سے کچھ خائف نظر آتے ہیں۔جہاں تک تابش مہدی کے مذہبی افکار کا تعلق تو اس ضمن میں مصنف کا خیال ہے کہ وہ تمام مسالک کو ایک دھاگے میں پرونے کے قائل ہیں۔ تابش مہدی کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو ملی اجتماعیت کے لیے فرقہ وارانہ فکر سے باہر نکلنا چاہیے۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے تابش مہدی کی غزلیہ شاعری پر بھی روشنی دالی ہے، بالخصوص ان کے پہلے مجموعہ کلام’تعبیر‘ پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس مجموعہ میں شامل غزلیں 1986 سے 1988 کے دوران کہی گئی ہیں۔ چونکہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے یہ سال کئی اعتبار سے اہم ہے،۔ مصنف کا خیال ہے کہ ’تعبیر‘ میں اس درد و کرب کو ایک قاری با آسانی محسوس کرسکتا ہے۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی کا خیال ہے کہ تابش مہدی نے بھیانک راتوں اور ظلم و بربریت کی روح فرسا داستانوں کے اظہار میں قنوطیت کے بجائے مظلوموں کی آہ، محروموں کی فریاد، بے گناہوں کی چیخ اور قید و بند کی زنجیروں سے بغاوت اور انقلاب کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ دراصل تابش مہدی قوم کے اندر ناامیدی اور مایوسی کی جگہ امید اور حوصلہ پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
مذکورہ کتاب کے پہلے حصے کا تیسرا ضمنی عنوان’’بچوں کا ادب اور اسلام‘‘ ہے۔بچے بنیادی طور پر قوم و ملت کی امانت جیسے ہیں، اگر ن کی بہتر طور پر تربیت نہ کی گئی تو وہ قوم و ملت کے لیے ناسور بن سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مفکرین نے بچوں کے تعلیم و تعلم پر خاصہ توجہ صرف کیا ہے۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے ایک حدیث پیش کی ہے جس میں بچوںکو جنت کے پھول سے تعبیر کیا گیا ہے۔ظاہر ہے جس طرح پھول کے نشوونما میں کافی محنت کی ضرورت پڑتی ہے ٹھیک اسی طرح بچوں کی تعلیم و تربیت پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔مصنف کا خیال ہے کہ بچوں تک مثبت، تعمیری اور صحت مند اقدار حیات کو پہنچانے اور ان کی ذہنی سطح کے لحاظ سے انہیں مخاطب کرنے کی ذمہ داری محض مدارس، معلمین کی نہیں بلکہ والدین ، رشتے دار اور معاشرہ کو بھی اس ضمن میں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔بچوں کی تعلیم اور تربیت کے لیے ملک و بیرون ملک کے کئی سرکاری و غیر سرکاری اداروں نے کوشش کی ہے، کئی نصاب تیار کیے گئے، تحقیقی کام بھی ہوئے ہیں۔ مصنف نے دعوۃ اکیڈمی(پاکستان ) کا ذکر کیا ہے۔ یہ ادارہ کافی متحرک ہے اور بچوں کے نصاب کی تیاری کے لیے مختلف سمینار، ورکشاپ اور تربیتی پروگرام کا انعقاد بھی کرتا ہے۔ مصنف نے س ادارے کے زیر اہتمام شائع ہوئی بعض کتابوں کا جائزہ پیش کیا ہے۔
زیر نظر کتاب’’اسلامی منہاجیات: ادب، تعبیر، تحقیق‘‘ کا دوسرا حصہ ’ منہج و اصول ‘ہے۔اس باب کو مصنف نے کئی ضمنی عنوانات میں تقسیم کیا ہے۔ مصنف سیکولرزم کی پیوند کاری، کثیر قومی ثقافت، اسلامی منہج کی تلاش، علمی و تمدنی مرعوبیت، جہاد واجتہاد کا فقدان، خلافت کا انحطاط اور ادراک کے نام پر تنقیص جیسے عنوانات قائم کر اپنے نظریات و خیالات کا اظہار کیا ہے۔مصنف نے ’’بھگوت گیتا اور اسلامی آثار‘‘ کے نام سے ایک ضمنی عنوان قائم کیا ہے۔بھگوت گیتا ہندو عقائد کی ایک اہم کتاب ہے۔ بھگوت گیتا بنیادی طور پر سنسکرت میں ہے، مگر اس کے تراجم مختلف زبانوں میں ہوئے۔ شیخ عبد الرحمن چشتیؒ نے بھی بھگوت گیتا کا ترجمہ سنسکرت سے فارسی زبان میں’’مراۃ الحقائق‘‘ کے نام سے کیا ہے، مصنف کی تحقیق کے مطابق یہ کتاب مخطوطہ کی شکل میں مولانا آزاد لائبریری، علی گڑھ میں محفوظ ہے۔دراصل یہ تلخیص ہے، جو بقول مصنف ۲۴ اوراق پر مشتمل ہے۔ ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے اس ترجمے کے تعلق سے لکھا ہے کہ شیخ عبد الرحمن چشتی نے شری کرشن اور ویر ارجن کے درمیان ہونے والے مکالموں کا سراغ اسلامی آثاروتعلیمات میں لگانے کی کوشش کی ہے۔یعنی قرآن و حدیث اور صوفیا کے اقوال کی روشنی میں ان دو مذاہب کے درمیان مشترکہ تعلیمات اور وحدت الوجود کے اسرار کو واضح کرنے کی کوشش کی ہے۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے مخطوطے سے چند حوالے بھی پیش کیے ہیں۔جن کے مطالعے سے ان کے خیالات کی تائید ہوتی ہے۔
زیر نظر کتاب کا آخری باب ’’تعلیمی تناظر‘‘ ہے۔مصنف نے اس باب کو دو ضمنی عنوانات ’ مغرب کا نظریہ تعلیم‘ اور ’تعلیم و تحقیق اور اسلام‘ میں تقسیم کیا ہے۔ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی نے نہایت تفصیل کے ساتھ مغربی نظریہ تعلیم اور اسلامی تعلیم و تحقیق پر گفتگو کی ہے۔مصنف نے نشاۃ ثانیہ کی تحریک،پیسٹالوزی کے نظریات، تجربی طریق تعلم، فریڈرک فروبل، کھیل اور تفریح کی اہمیت کے علاوہ جرمن مفکرین اور اقبال کی تنقید تعلیم کے حوالے سے اپنی گفتگو کی ہے۔ جہاں تک اسلامی تعلیم و تحقیق کا تعلق ہے تو اس ضمن میں مصنف نے احیائے سلام کا دور، تعلیم کا کردار، عصر جدید کا چیلنج، تنقید و اجتہاد، مقصدیت اور قربانی، اور تسخیر کائنات کی تیاری وغیرہ عنوانات قائم کر اسلام میں تعلیم کی اہمیت اور اسلامی نظریہ تعلیم اپنے خیالات پیش کیے ہیں۔
مجموعی طور پر ڈاکٹر عبید اللہ فہد فلاحی کی مذکورہ کتاب’’ اسلامی منہاجیات: ادب، تعبیر، تحقیق‘‘ کئی لحاظ سے اہم اور قابل مطالعہ ہے۔

