شہر نشاط کولکاتا جو علم و فن کا گہوارہ ہے۔ تعلیم و تہذیب کا مرکز ہے جس پر ہمیں بے حد ناز ہے۔ اپنے اس شہر میں اکثر و بیشتر ادبی محافل کا اہتمام ہوتا ہے۔ ایسی ہی ایک بے حد خوبصورت اور دلفریب محفل نئے سال کے آمد کی خوشی میں یکم جنوری 2022 ء کو شاعروں، ادیبوں سخن فہم، سخن شناسوں اور عمائدین شہر کے ساتھ سجائی گئی۔ جس میں ایک مخصوص مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ سر زمین بنگال کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں کی مٹی ادب کے لیے بہت زرخیز ہے۔ اور یہاں نامور عالمی شہرت یافتہ شعراء نے جنم لیا۔ طوطیٔ بنگالہ علامہ رضا علی وحشت کلکتوی، شاکر کلکتوی، شمس کلکتوی، پرویز شاہدی، عبد الغفور نساخ، علقمہ شبلی، نصر غزالی، ابراہیم ہوش، اعزاز افضل ، ظفر اوگانوی اور ایسی ہزاروں شخصیتیں ہیں جن کے لیے تاریخ کے اوراق شاہد ہیں اور جنہیں ہم فراموش نہیں کر سکتے۔
سالِ نو کی یہ شام ابراھیم ہوش کی یاد میں منائی گئی جس کے روحِ رواں معروف تاجر اور سماجی کارکن سچے ادب نواز جناب جمیل منظر صاحب ہیں۔ جب کہ نظامت کے فرائض پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی صاحب نے بخوبی نبھائی۔ مہمانانِ خصوصی میں جناب وجیندر شرما کمانڈنٹ اسپیشل ، ڈی جی ہیڈ کوارٹر ، ایسٹرن کمانڈ ( بی – ایس – ایف) اور جناب استاد الشعراء صاحب ِ دیوان شاعر حلیم صابر صاحب تھے۔ صدارت کے فرائض اکبر حسین اکبر نے انجام د اور ڈاکٹر عطا عابدی صاحب ( شاعر، ادیب، صحافی) بحیثیت مہمان ذی وقار پٹنہ سے تشریف لائے۔ ڈاکٹر عطا عابدی صاحب اردو صحافت میں بڑا نام ہے۔ موصوف بیک وقت صحافی، شاعر ہیں۔
پروگرام کا آغاز جمیل منظر کے خیرمقدمی کلمات سے ہوا ۔ اس کے بعد بنگال کے معروف شعر سید انظار البشر بارکپوری صاحب نے اپنے نعتیہ کلام پیش کیا۔ نعت کے چند خوبصورت اشعار قارئین کی بصارتوں کے حوالے :
میں یوں نعتِ سرور لکھے جا رہا ہوں
مدینے کا منظر لکھے جا رہا ہوں
مدینے نگاہوں سے میں بھی تو دیکھوں
ابھی تک تو سن کر لکھے جا رہا ہوں
مخصوص مشاعرہ بیادِ ابراھیم ہوش کا اہتمام رسالہ’’ سہیل ‘‘کی جانب سے ہوا۔ جس کے مدیر پروفیسر ڈاکٹر عاصم شہنواز شبلی ہیں اور اس پروگرام کے روحِ رواں کولکاتا کے معروف سماجی شخصیت جمیل منظر صاحب ہیں۔پروگرام ’’چھایا گھیرا‘‘ اورینت رو، پارک سرکس میں انجام پایا۔ ’’چھایا گھیرا‘‘ کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ پچھلے 16 سالوں سے ہر سال یکم جنوری کو یہاں حسین ادبی شام کا اہتمام بڑے تزک و احتشام سے کیا جاتا ہے۔ اس طرح محترم جمیل منظر صاحب شہر نشاط کے شعراء ، ادبا کو مدعو کر کے اپنی سچی ادب نوازی کا بہترین ثبوت دیتے ہیں۔ ان کے ادبی جذبے کو سلام۔ اس طرح سال کے شروع ہوتے ہی اردو ادب میں ایک نئی روح پھونک دی جاتی ہے۔ اور پھر پُر تکلف عشائیہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ اس طرح بڑے ہی شان بان سے نئے سال کی نئی شام اپنے دامن میں خلوص، محبت کا جذبہ لے کر آتی ہے۔ اور ہر سا ل دوسرے شہروں سے مہمان مدعو کیے جاتے ہیں۔ امسال بہار کی راجدھانی پٹنہ سے معروف شاعر اور صحافی جناب عطا عابدی صاحب مدعو تھے۔
بزرگ شاعر انجم عظیم آبادی نے ابراھیم ہوشؔ صاحب کے حوالے سے اپنی قربت اور رفاقت کا اظہار کرتے ہوئے ابراھیم ہوشؔ کی یہ خوبصورت شعر قارئین کے گوش گذار کیا :
ہر رہگزر پہ شمع جلانا ہے میرا کام تیور ہے کیا ہوا کا میں دیکھتا نہیں
انجم عظیم آبادی صاحب نے ابراھیم ہوشؔ ، سالک لکھنوی اور ’’آبشار‘‘ کے حوالے سے چند اہم واقعات کا تذکرہ کیا۔ جن میں ’’ترہٹی بازار‘‘ اور ’’محمد علی پارک‘‘کے چند اہم سانحہ تھے۔ وقت کی کمی کے باعث بہت سارے اہم واقعات کا ذکر نہیں کر پائے۔ میری ان سے (انجم عظیم آبادی) سے مؤدبانہ گذارش ہے کہ وہ ضرور اپنے اس مضمون کو جو ابراھیم ہوشؔ صاحب کے تعلق سے ہیںاخبار میں شائع کریں کیوں کہ یہ مضمون تاریخی دستاویز ہے اور ہم اہل کولکاتا کے لیے کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اس عظیم الشان پروگرام میں عظیم اسکالر ، صحافی اور شاعر جناب عطا عابدی صاحب بحیثیت مہمانِ ذی وقار مدعوتھے۔ عطا صاحب کی کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں۔ موصوف کا شمار معروف شاعر ناوک حمزہ پوری کے چہیتے شاگردوں میں ہوتاہے۔ اس پروگرام میں عالیہ یونیورسٹی کی پروفیسر ڈاکٹر نیلوفر فردوس کی مرتب کردہ کتاب ’ادبِ عالیہ‘ کی رسم اجراء ڈاکٹر عطا عابدی صاحب نے کی۔ اور عطا صاحب نے اس کتاب کے حوالے سے اپنے تاثرات کا اظہار بھی کیا۔ عطا عابدی صاحب نے اپنے تاثرات میں جمیل منظر صاحب کے حوالے سے کہا :’’جمیل منظر صاحب کا جمالِ نظر یہ ہے کہ یہاں شعر و ادب کا ہر منظر جمیل ہے۔ اب ہم ان کے جمالِ نظر کا کمال کہیں یا کمال نظر کا جمال کہیں کہ ان کی نظر مجھ جیسے استادوں پر پڑی تو یہ خاص طور پر شکریہ اور مسرت کی بات ہے۔‘‘پھر انہوں نے ڈاکٹر نیلوفر فردوس کو پُر خلوص مبارکباد دیتے ہوئے ان کی مزید ترقی اور کامیابی کی دعائیں کیں۔
عطا عابدی صاحب نے چند اشعار سامعین کی خوبصورت سماعتوں کے حوالے کیں :
کوئی بھی خوش نہیں ہے اس خبر سے
کہ دنیا جلد لوٹے گی سفر سے
میں صحرا میں سفینہ دیکھتا ہوں
سمندر کوئی گذرا ہے ادھر سے
یوں تماشے رت جگے کے کو بکو ہوتے رہے
سر پہ سورج آن پہنچا اور ہم سوتے رہے
روشنی کی کاشت تھی مطلوب ہم سے اور ہم
تیرگی کے شہر میں دانشوری بوتے رہے
اس پروگرام میں شاعرات بھی جلوۂ افروز تھیں جن کے اسماء گرام ہیں ۔ رونق افروزؔ، فوزیہ اختر رداؔ ، جیوتا باسو ہیں۔ جیون باسو دراصل St. Xaviers College میں Economics کی پروفیسر ہیں۔
نشانہ فوت نہ ہو چوٹ طول تک پہنچے
نکل کے تیر مچل کر کمان پر آئے
اسی کے صدقے میں رکھ دونگی آرزو اپنی
کوئی مزاج اہم کر کمان پر آئے
قریب بیٹھنے ابھی تلک گم ہے
ذرا تو دیکھوں طلب پائے دان پر آئے
رونق افروز،کولکاتا
شعرا کے اشعار قارئین کی فن شناس نظروں کے حوالے :
جو دھول چھو کے چمن کی بہار آنکھوں میں
تو کیوں چبھے نہ کلی مثلِ خار آنکھوں میں
تمہاری یاد بھی آئی تو اس طرح آئی
کہ آنسو آگئے بے اختیار آنکھوں میں
یہ کس بلا کے ہیں آثار کچھ نہیں معلوم
کہ پھر سے جمنے لگے ہیں غبار آنکھوں میں
نگاہیں جن پہ پڑی ہی نہیں زمانے کی
مناظر ایسے بھی ہیں بے شمار آنکھوں میں
اب اور ان میں کوئی خواب بس نہیں سکتا
بسا ہوا ہے تمہارا دیار آنکھوں میں
ڈاکٹر احمد معراجؔ
نگاہوں میں تیری یادیں سجائے بیٹھے ہیں
عجب بوجھ ہے پھر بھی اٹھائے بیٹھے ہیں
کسی کا عکس نظرآئے چاند میں اب بھی
اس خیال سے خود کو جھکائے بیٹھے ہیں
نوشاد مومنؔ
سید انظار البشر نے ہزل کے چند اشعار پیش کیے :
کس طرح چلتی ہے وہ رشکِ قمر باپ رے باپ
ایک من سے بھی زیادہ ہے کمر باپ رے باپ
کتی پتلی کو تو کالج میں پٹایا تو نے
میری تقدیر میں موٹی تھی بشرؔ باپ رے باپ
سید انظار البشر بارکپوری
بڑے ہم ہوگئے تو کیا ہمیں ملنے سے مت روکو
ہم اپنی داد اس سے سن کر کہانی لے کر جائیں گے
نئے گھر میں بہت ہی دلکشی ہے سچ تو ہے لیکن
پرانے گھر سے کچھ یادیں پرانی لے کر جائیں گے
شفیق الدین شایاںؔ
Mobile + Whatsapp : 9088470916
E-mail : muzaffarnaznin93@gmail.com
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

