صوبۂ بہار شروع سے ہی ہرطرح کے علم و فن میں اپنی انفرادیت رکھتا ہے۔اُردوشعر و ادب کی کوئی بھی تاریخ بہار کو فراموش کرکے مکمل نہیں ہوسکتی۔اُردوکے ابتدائی زمانے سے ہی بہار میں اُردو نثرو نظم کی مستند تاریخ موجود ہے۔ دبستان عظیم آباد کے چارعظیم ستون میںراسخؔ،جوششؔ،فقیہؔ،دردمندؔہیں،جبکہ ان کے بعد شادؔعظیم آبادی کو دبستان بہار کی آبرو سمجھاجاتا ہے۔ یہاں دبستان عظیم آباد (بہار) کی تاریخ مقصود نہیں بلکہ سرِ دست کلیم عاجزؔکی غزل گوئی کامطالعہ مقصود ہے جو کہ بہار کے ایک گوہر نایاب کہے جاسکتے ہیں۔
کلیم عاجزؔاُردوشعروادب میں ایک محترم شاعر کے مقام پر فائزہے۔ انہوں نے اپنی شاعری کی شروعات غزل گوئی سے کی۔ان کی شاعری میں میرؔکے مترادف دل اور دلّی(ان کے گاؤں ’’تلہاڑا‘‘میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد) کا مرثیہ ہے۔کیونکہ بچپن میں ان کے گاؤں ’’تلہاڑا‘‘ میں ایک فرقہ وارانہ فساد ہوا،جس میں ان کے اہل خانہ اور عزیز و اقارب قتل کر دئے گئے ۔ جس کا غم کلیم عاجزؔکو زندگی بھر ستاتارہاانہیں وجوہات کے سبب ان کی شاعری میں میرؔکی سی جھلک ملتی ہے۔مگراس بات سے خود کلیم عاجزؔنے انکار کیا ہے :
’’…یہ میرا اپنا ہے اور کسی کے مشورے سے بھی نہیں اپنایاگیاہے۔ یہ میرکی پیروی نہیں میں پیروکسی کا نہیں…اگرپیروی میرے مزاج میں ہوتی تو میں بہ آسانی غالبؔ کی پیروی کرسکتا ہوں ۔‘‘
(’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا‘‘،کلیم عاجزؔ)
اسی تعلق سے کلیم عاجزؔدوسری جگہ رطب اللسان ہیں کہ :
’’یہ صرف مغالطہ ہے۔ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ میں نے میرؔکارنگ اختیارکرنے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ میرؔکو میں جانتابھی نہیں تھا۔میرؔ میرے کورس میں بھی نہیں رہے ہیں۔ میرؔسے میری شناسائی لکچرر ہونے پر ۱۹۶۵ میں ہوئی۔
(سِہ ماہی ’’بھاشاسنگم‘‘کلیم عاجزؔنمبر،مضمون نگار :ڈاکٹر اسلم جاوداں،ص:۷۷)
اوپرکی باتیں اپنی جگہ مسلم کیونکہ یہ خود شاعر کا بیان ہے ۔مگریہاں یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ عاجزؔکی غزلوں میں میرتقی میرؔکا پرتو دکھلائی دیتا ہے۔اس تعلق سے مثال ملاحظہ فرمائیں ۔میرتقی میرؔکہتے ہیں ؎
پتا پتا بوٹا بوٹا حال ہمارا جانے ہے
جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ تو ساراجانے ہے
اب کلیم عاجزکاشعر دیکھئے ؎
وقت آئے تو اہل چمن بھی اہل زبان بن جاتے ہیں
ڈالی ڈالی جو بیتی ہے پتا پتا بولے ہے
میر ؔکی ہی طرح مصوری عاجزؔنے بھی کی ہے۔ اس حوالے سے صرف ایک شعر دیکھئے۔شاعربے دماغ میرؔ ؎
ادا کھینچ سکتا ہے بہزاد اس کی
کھینچے ایسی صورت تو یہ ہم نے مانی
کلیم عاجز کا شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
تم مرے فکر و فن کا اگر حوصلہ بڑھاؤ
دنیا میں کھینچ لاؤں فضائے بہشت کو
کلیم عاجزؔکی غزلوں میں دل کادرد،سوزو گداز،احساس کا کرب سیاسی اور سماجی حالات کی ترجمانی وغیرہ کی بھی اچھی عکاسی ہے۔وہ اپنی غزل کو ایک طرف خون سے سینچنے کا حال جانتے ہیں تودوسری طرف شکرکے ساتھ نیم کاکاڑھابھی پلانے کا ہنران کو خوب معلوم ہے۔اس تعلق سے اُردوکے معروف نقاد کلیم الدین احمد لکھتے ہیں :
’’اُن کی غزلوں میں دل کی باتیں بھی ہیں اور سیاسی باتیں بھی۔ ان کے شعروں میں پھول بھی ہیں پتھربھی اور پھول پتھر بن جاتے ہیں اور پتھرپھول بن جاتے ہیں۔اس کام کے لئے بھی سلیقے کی ضرورت ہے۔‘‘
(’’وہ جو شاعری کا سبب ہوا،ص:۲۴)
درج بالا اقتباس کی روشنی میں کلیم عاجزؔکی غزل گوئی کااندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے۔اب مناسب معلوم ہوتا ہے۔ چند اشعار پیش کردئے جائیں تاکہ میرے دعویٰ کو مزید تقویت حاصل ہو سکے۔اشعار پیش خدمت ہے ؎ (یہ بھی پڑھیں کلیم عاجزکی غزل گوئی ( بہت دشوار ہے جتنا سمجھنا، اتنا سمجھانا) – ڈاکٹر سرورالہدیٰ )
لگے ہے پھول سننے میں ہر اِک شعر
سمجھ لینے پے انگارہ لگے ہے
درد سازی کا ہے کار خانہ غزل
ہم اُسی کارخانے کے مزدور ہیں
رکھنا ہے کہیں پاؤں تو رکھو ہو کہیں پاؤں
چلنا ذرا آیا ہے تو اترائے چلو ہو
کلیم عاجزؔکی غزلوں میں غم کی سب سے بڑی وجہ ان کے بچپن میں ہوئے ’’تلہاڑا‘‘کافساد ہے۔ جس میں ان کے اہل خانہ کو ظالموں نے ہلاک کر دیا۔اپنوں سے بچھڑجانے کا غم عاجزؔکو پوری زندگی بھر رہا ۔کلیم عاجزؔغزل گوئی میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا انداز بالکل جداہے۔ان کالب ولہجہ بھی منفرد ہے۔ان کی غزلوں میں’’چلے ہے‘‘، ’’کروہو‘‘، ’’چلوہو‘‘،’’جانے ہے‘‘ وغیرہ الفاظ جو خاص اُن کے علاقے کی زبان ہے۔اس طرح کے اچھوتے الفاظ کا استعمال ان کی شاعری کے لب ولہجے کے لئے ہی خاص ہے جس کو انہوں نے بڑی خوبصورتی سے اپنی غزلوں میں بڑے فنکارانہ اندازمیں استعمال کیا ہے جو غزل کا اہم جزو معلوم ہوتا ہے۔ان کے یہاں عشق کے واردات کا بھی بیان ہے۔ محبوب سے چھیڑ چھاڑ کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس تعلق سے شعر دیکھئے ؎
پھونک ڈالا ہے گلستاں کا گلستاں جس نے
کون کہتا ہے ترا شعلہ رخسار نہیں
تم تو جوانی کی مستی میں کھیل سے پتھر پھینک گئے
جس کو چوٹ لگی ہے پیارے ، اس کا ہی دل جانے ہے
اخیرمیں پروفیسر سیّدآلِ ظفرکے ایک مضمون سے ایک اقتباس پیش کرکے اپنی بات ختم کروں گا۔جوکلیم عاجزؔکی غزل گوئی کی سچی ترجمان ہے :
’’بلاشبہ کلیم عاجزؔایک بڑے فنکار تھے۔ اس لئے ان کی غزلیں بالعموم فکر بلنداور فنِ لطیف کا حسین نمونہ نظرآتی ہیں اور ان خوبیوں کی بدولت وہ تاریخ ادب اُردومیں ہمیشہ زندہ و تابندہ رہیں گے۔‘‘
(’’ادبی جرنل(۲)‘‘۲۰۱۹،مضمون نگار،ڈاکٹر سیّدآلِ ظفر،ص،:۷۹)
کلیم عاجزؔاُردو غزل میں ایک منفرد آواز اور بے باک غزل گوکی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ ان کے اشعار تیرونشترکاکام کرتے ہیں۔انہوں نے اپنی غزلوں میں اپنے دور کے ہر ظالم و جابر طاقت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا ہے۔انہوں نے دل اور دنیاسب کی ترجمانی کی ہے۔عاجزؔکی غزلوں کی بنیاد حقائق پر رکھی گئی ہیں۔انہوں نے زمانے کی روش سے ہٹ کر اپنی ایک الگ ڈگر بنانے کی کوشش کی ،جس میںوہ کامیاب بھی نظرآتے ہیں۔ان کے اشعار میں سہل ممتنع کی عمدہ مثالیں ملتی ہے۔ان کے یہاں آپ بیتی جگ بیتی بن جاتی ہے جو ایک اچھے فنکار ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ان تمام خوبیوں کی وجہ سے کلیم عاجزؔ اپنے تمام ہم عصروں میں ایک الگ مقام و مرتبہ پر فائز نظرآتے ہیں کیونکہ ؎
ابھی کلیمؔ کو پہچانتا نہیں کوئی
یہ اپنے وقت کی گدڑی میں لال ہے پیارے
درج بالا شعر میں ’’گدڑی میں لال‘‘بالکل دیہی علاقے کا لفظ ہے۔ جس کو کلیم عاجزؔنے اپنی غزل میں بڑی ہی خوبصورتی سے جگہ دی ہے۔اس سے ان کی قادرالکلامی کااندازہ بخوبی لگایاجاسکتاہے۔ وہ ہر قسم کے الفاظ کواپنی غزلوں میں اس طرح سے استعمال کرتے ہیںجس کی توقع کسی ایرے غیرے سے نہیں کی جاسکتی ہے۔اخیرمیں مَیں اپنی بات کو کلیم عاجز کے ہی اس شعر پر ختم کروں گا کہ ؎
گزر جائیں گے جب دن گزرے عالم یاد آئیں گے
ہمیں تم یاد آؤگے تمہیں ہم یاد آئیں گے
Imamuddin Imam
(M.A. (Urdu) J.N.U., New Delhi)
S/O.- Md. Salahuddin
Vill.- Damodari۔ P.O.- Bishundattpur
Via- Patanhi۔ P.S.- Kanti
Distt.- Muzaffarpur (Bihar)
Mob.- +91 62061 43783
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

