Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
متفرقات

کامیابی کا  پیمانہ ؟ – عبدالرحمٰن

by adbimiras مارچ 11, 2022
by adbimiras مارچ 11, 2022 0 comment

کچھ عرصہ قبل ایک نوجوان دوست کا بذریعہ وہاٹس اپ ایک ہندی میسج موصول ہوا۔ وہ پیغام یہ ہے:

زندگی کا ہر پل لا جواب ہو نہ ہو،

زندگی کے ہر سوال کا جواب ہونا چاہیے؛

اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کتنی دیر لگے،

انسان زندگی میں کامیاب ہونا چاہیے۔

اس خوش نما شاعری کے آخری مصرعہ میں لفظ "کامیاب” نے میرے اندر ایک علمی اشتیاق پیدا کیا، اور میں سوچنے لگا کہ کسی انسان کا کامیاب ہونا آخر ہے کیا؟

کچھ دیر بعد میں نے اپنے دوست کو اس کی پوسٹ کے  جواب کے طور پر ایک سوال ارسال کردیا۔ وہ مصرعہ یہ تھا:

۔۔۔ ہماری نظر میں کامیابی کیا ہے، سنگیان ہونا چاہیے۔

یہاں، ہندی لفظ "سنگیان” کا مطلب ہے "ادراک”۔

کوئی بھی انسان  باآسانی سمجھ سکتا ہے کہ جب کوئی سخص "کامیاب” یا "کامیابی” کی اصطلاح استعمال کرتا ہے تو اس کا مطلب عام طور پر وہی ہوتا ہے جو اس وقت کے معاشرے میں شائع و ذائع ہوتا ہے۔

آج کل، ہمارے معاشرے میں، کامیاب ہونے کے معنی ہیں ــ دولت مند ہونا، شہرت یاب ہونا، سیاست یا انتظامیہ کے کسی عہدے پر فائز ہونا وغیرہ وغیرہ۔ اسی کے ساتھ اور کسی علمی تجزیہ کے بغیر، معاشرہ میں تسلیم شدہ طور طریقے، رسم و رواج اور اخلاقی اقدار، عام طور پر،  سبھی افراد بغیر کسی بحث و تنقید کے، پورے اطمینان کے ساتھ قبول کرتے رہتے ہیں۔ نتیجتاً، معاشرہ میں "بھیڑ چال” (herd mentality) یا بھیڑ کی نفسیات (mob mentality) کا اصول خود بخود، راضی برضا، نافذ ہوجاتا ہے۔

اس ضمن میں، اپنے طالب علمی کے زمانہ کی ایک خوب صورت مثال یاد آتی ہے، جس کو سبق  آموز ہونے کی وجہ سے یہاں نقل کیا جاتا ہے:

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایک مطالعاتی سفر (study tour) میں میری کلاس کے دوسرے سیکشن سے میرا  ایک دوست، تاج محل کے دیدار اور اس کی فن کاری کے مطالعہ کے لیے آگرہ جاتا ہے۔ اس وقت تک میں نے خود تاج محل نہیں دیکھا تھا۔ اس کی واپسی پر،  علمی تجسس سے لبریز میں نے اس سے سوال کیا کہ دوست،  تاج محل کیسا لگا؟

اس نے جو غیر علمی جواب دیا اس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ معاشرے کے رنگ کی پرت اس پر کتنی مضبوطی سے چڑھ چکی تھی۔ اس نے جواب دیا:

"کیسا لگنے کی کیا بات ہے، تاج محل تو ہے ہی خوب صورت۔”

اس غیر متوقع جواب کے بعد، میں نے اس سے اپنا اظہار خیال اس طرح کیا کہ  "ڈیر، مزا نہیں آیا, تمہارا جواب نہ تو علمی ہے اور نہ ہی مشاہداتی”۔

کامیابی کے تعلق سے، عہدہ اور پوزیشن (مقام) جو بھی ہوں، مال و دولت کی ریل پیل (کثرت) کو ہی آج کل معاشرہ میں  مرکزی حیثیت حاصل ہے، حالانکہ انسانی فطرت اس کے مطابق نہیں۔

اس بات کے فطرت کے مطابق نہ ہونے کی آسان پہچان یہ ہے کہ سبھی انسانوں کو ایک دوسرے سے مختلف ہونے کے باوجود، ایک یا ایک ہی جیسی چیز کیسے جاذب نظر ہو سکتی ہے؟

ہم سبھی، خاص طور پر، پڑھے لکھے افراد کو بھیڑ چال یا "ریوڑ ذہنیت” کی نفسیات (psychology) کا علمی تجزیہ کرتے ہوئے اپنی ذہنی "کھڑکیوں”  سے باہر بھی جھانکنا چاہیے، جہاں نیچے دیکھنے پر اگر کیچڑ نظر آتی ہے تو اوپر دیکھنے پر ستارے بھی نظر آتے ہیں۔

اگر ہم اپنے اطوار و اقدار اور رسم و رواج کو عملی جامہ پہنانے سے پہلے،  علمی تجزیہ کے مراحل سے گزارنا شروع کر دیں، تو  خود ہمارا مشاہدہ بھی یہ سمجھنے میں ہماری مدد کرسکتا ہے کہ مختلف اشخاص کے لیے کامیابی کے پیمانے بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔

کامیابی کے پیمانوں کا مختلف ہونا ہی تخلیق کائنات کے ڈیزائن کے عین مطابق ہے، کیوں کہ اللہ تعالی نے انفرادیت و خصوصیات کے معاملے میں انسانوں میں بعض کو بعض پر فوقیت دی ہے، تاکہ انسانی دنیا کی ترقی کا سلسلہ قیامت کے واقع ہونے تک بدستور جاری رہے۔

اس تناظر میں سبھی انسانوں کی اپنی اپنی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی کامیابی کا تعین کریں، نہ کہ بھیڑ کی نفسیات کا اتباع کرنے لگ جائیں۔

کامیابی کا پیمانہ جدا جدا ہونے کا ہی یہ کمال ہے کہ "جو جا کے نہ آئے وہ جوانی” کی کامیابی کا پیمانہ اس سے بلکل مختلف ہوتا ہے "جو آکے نہ جائے وہ بڑھاپا”  کا ہوتا ہے، جب کہ بچپن اور لڑکپن میں کامیابی کے معیارات کچھ الگ ہی ہوتے ہیں۔

پیدل چلنے والے کو سائیکل سوار کامیاب نظر آتا ہے، تو سائیکل سوار کو موٹر سائیکل والا۔  موٹر سائیکل والا کار کے مالک کو "کاش” کی نظروں سے دیکھتا ہے، تو کار والے کو مزید مہنگی کار خریدنے میں ہی اپنی کامیابی  پوشیدہ نظر آتی ہے۔ ایک کار والا، کئی کاروں کا مالک بننا چاہتا ہے، اور ایک مکان والا کئی مکانات کا۔

اسی طرح، زندگی کی تمام چیزوں کے ساتھ یہی معاملہ ہوتا ہوا نظر آتا ہے۔ بذات خود،  یہ کوئی بری چیز نہیں ہے،  بلکہ یہ سب  انسانی تہذیب و تمدن (civilization) کی بقاء اور فروغ کے لیے ضروری بھی ہیں، مگر، ان کا وقوع پذیر ہونا، بلا شبہ، ربانی شکر و اعتراف کے مطابق  اور کسی بھی قسم کی بربادی (wastage) یا فضول خرچی(extravagance) کے بغیر ہونا چاہیے، کیوں کہ اپنے  شکر گزار بندے تو اللہ تعالی کو پسند ہیں، جب کہ فضول خرچ انسان، اس کی نظر میں شیطان کے بھائی ہوتےہیں ( الاسراء-17: 27)۔

چند دن پہلے ایک خبر پڑھی کہ ایک ہونے والی ساس نے اپنے ہونے والے داماد کی ضیافت کی خاطر ایک، دو یا چار، پانچ نہیں، بلکہ 365 پکوان (dishes) تیار کئے تھے۔ کون عقلمند اس احمقانہ فیصلہ کی تحسین کرے گا؟

کچھ اسی قسم کی بے معنی مشغولیات میں ہمارا معاشرہ بھی الجھا ہوا نظر آتا ہے۔ آج کے بیشتر انسان حرص اور ہوس کی نفسیات کے  اس درجہ شکار ہو گئے ہیں کہ جائز اور ناجائز،  سہی اور غلط، یہاں تک کہ  ضروری اور غیر ضروری کے درمیان بھی تفریق کرنے سے  عاجز  پائے  جاتے ہیں ۔ جھوٹی شان کی خاطر چند اشیاء کے حصول میں ہی وہ اپنا بیش قیمتی وقت اور طاقت صرف کردیتے ہیں، اور علم کے وسیع میدان میں جہاں انسانوں کی اخروی فلاح کے لیے، علمی معرکہ آرائی کی ضرورت اور گنجائش تھی، ناکام ہوکر رہ جاتے ہیں۔  قرآن مجید کے الفاظ میں:  ” تمہیں کثرت مال کی ہوس اور فخر نے (آخرت سے)  غافل کردیا، یہاں تک کہ تم قبروں میں جا پہنچے”  (التکاثر-102: 1-2)۔

کامیاب ہونا یا کامیابی حاصل کرنا انسان کی نفسیات کا عجیب و غریب پہلو ہے۔

سپورٹس (sports) کے میدان میں،  بھارت رتن اور  معروف کرکٹر بلے باز (batsman)، سچن تیندولکر  کے لیے اگر 100 سنچری (ٹیسٹ: 51 اور ون ڈے: 49)، کامیاب ہونے کا پیمانہ تصور کی جائیں، تو سیکڑوں ایسے بلے باز لائن میں کھڑے نظر آجائیں گے، جو صرف ‘ٹیم انڈیا’ میں سلیکشن کو ہی اپنی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی مان کر جی رہے ہیں۔

بالی ووڈ (Bollywood)، یعنی ممبئی میں واقع ہندوستان کی بین الاقوامی شہرت یافتہ فلم انڈسٹری میں، اگر "بادشاہ” اور "شہنشاہ” جیسے القاب موجود ہیں، تو وہیں سیکڑوں کیا، بلکہ ہزاروں نوجوان بے چینی کے ساتھ منتظر ہیں کہ کب کسی فلم میں کسی بظاہر چھوٹے سے رول کے لیے ہی سہی، ان کا بھی انتخاب ہوجائے، اور وہ اپنی کامیابی کے خواب کی تعبیر حاصل کر سکیں۔

کسی کےلیے بہت زیادہ دولت کمانا، کسی کےلیے بہت زیادہ شہرت کمانا، کسی کےلیے دن میں  کئی کئی مرتبہ پوشاک بدلنا، کسی کے لیے اچھے اچھے دعو تی کھانے تناول کرنا، کسی کو تنگ حالی میں بھی قرض لے کر عیش کرنا اگر کامیابی کے پیمانے ہیں، تو وہیں،  کئی دوسرے لوگوں کے لئے، دولت ہونے کے باوجود  سادگی سے رہنا، اپنی دولت کا بیشتر حصہ ضرورت مندوں پر خرچ کرنا، ملک و ملت کی فلاح کے لیے ہمیشہ  سر گرداں رہنا اور علمی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا کامیاب ہونے کی نشانیاں ہیں۔

کسی چپراسی کو بابو بننے کی خواہش ہے، تو کسی شخص کا کسی کمپنی کا چیئرمین بننے کے بعد بھی خوش نہ رہنا، اس کا مزاج۔ مطلب یہ کہ جتنے انسان، کامیابی کے اتنے ہی پیمانے،

یہاں تک کہ  فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے والوں  سے لے کر ان لوگوں تک کی زندگی میں کامیاب ہونے کے  معنی مختلف ہیں، جو تقریباً، ہر بڑے شہر میں کوٹھی ؍ بنگلے کے مالک ہیں۔

انسان اللہ تعالی کا بہترین شاہکار ہے ( التین-95: 4)۔ یہ بھی خالق کائنات کی قدرت کا ہی ظہور ہے کہ ہر انسان کی انگلیوں کے نشان دوسرے تمام انسانوں سے مختلف  ہوتے ہیں، یعنی ہر انسان مختلف خوبیوں کا مالک ہے، اور اسی لیے سب انسانوں کی کامیابی کے پیمانے بھی  مختلف ہیں۔ اسی فارمولے کے تحت سبھی لوگ دنیا میں اپنی اپنی زندگی بسر کر رہے ہیں، گویا کہ اپنی اپنی آزمائش کا پرچہ حل کررہے ہیں۔ یہاں یہ تجسس  پیدا ہوتا ہے کہ کیا رب کائنات نے، دنیاوی امتحان میں  اپنے بندوں کی کامیابی کے لیے کوئی اشارہ (clue) فراہم کیا ہے، تاکہ وقت رہتے وہ چوکنّے (alert) ہوجائیں اور اپنے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کریں، اور نتیجتاً، آخرت کی جنتی دنیا میں ان کا استقبال کیا جا سکے۔

دن رات کے درمیان  پانچ وقت، مسجدوں سے  بلند ہونے والی اذان کی آواز میں اشارہ موجود ہے۔  اللہ تعالی کی بڑائی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی گواہی کے بعد اذان میں دو خاص باتوں کا اعلان کیا جاتا ہے۔ وہ دونوں  خاص پیغام یہ ہیں:

۱۔  آؤ نماز کی طرف

۲۔  آؤ کامیابی کی طرف

یعنی، نماز میں کامیابی ہے۔ اللہ تعالی کا ارشاد ہے کہ اس نے جن اور انسانوں کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے (الذاریات-51: 56)۔ جس میں لفظ عبادت کی تفسیر لفط معرفت سے کی گئی ہے، یعنی  اللہ، رب العالمین کو پہچاننا۔ یہاں تک بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ انسانوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کریں،  یا بالفاظ دیگر،  اللہ تعالی کے وجود کو اپنی خود کی ڈسکوری (دریافت) بنائیں۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی نے جگہ جگہ کھلے الفاظ میں اپنی رہنمائی فراہم کی ہے کہ اس کے بندوں کی "سچی کامیابی” کس چیز میں ہے۔ زیر نظر مضمون کو رہنمائی کی جہت فراہم کرنے کے لیے، چند قرآن حوالے یہاں  درج کئے جاتے ہیں:

(1)  "آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہےجو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کردیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے” (آل عمران-3: 185)۔

(2)  "۔۔۔ سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے۔ ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے۔ یہی بڑی کامیابی ہے”  (المائدہ-5: 119)۔

(3)  "اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے”  (الانعام-6: 16)۔

(4)  "اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے جو ایمان لائے اور جنھوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑ ے اور جان مال سے جہاد کیا، وہی کامیاب ہیں” (التوبه-9: 20)۔

(5)  "وہ مہاجر و انصار جنھوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان  کے پیچھے آئے، اللہ ان سے راضی ہوا وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی عظیم الشان کامیابی ہے” (التوبه-9: 100)۔

(6)  "سنو جو اللہ کے دوست ہیں، جو ایمان لائے، جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیار کیا ان کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں، دنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کےلئے بشارت ہی بشارت ہے، اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے” (یونس-10: 62-64)۔

(7)  "اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو، اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص اللہ اور رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی” (الاحزاب-33: 70-71) ۔

(8)  "بے شک وہ جنہوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رب ہے اور پھر اس پر ثابت قدم رہے  تو ایسے لوگوں کے لئے نہ کوئی خوف ہے اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے” (الاحقاف-46: 13)۔

(9)  "دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہو سکتے،جنت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں” ( الحشر-59: 20)۔

(10)  "اے ایمان والو، اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس  آگ سے بچائو جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے” (التحریم-66: 6)۔

(11)  "جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کئے، وہ یقیناً، بہترین خلائق ہیں۔  ان کی جزا ان کے رب کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں  جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہونگی،وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ  رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ کچھ ہے اس شخص کے لئے جس نے اپنے رب کا خوف کیا ہو” (البینه-98: 7-8)۔

ابھی تک کی ساری بحث کا نچوڑ یہی ہے کہ انسانوں کے فکری استوا اور استطاعت کے بقدر ہی ان کی  کامیابی کے  پیمانے طے ہونے چاہئیں ۔ بصورت دیگر، معاشرہ میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہو سکتاہے۔ اس لیے، سہی معنی میں "اصل کامیابی”  وہی ہے جو علمی و فکری استطاعت اور عملی جدوجہد کے نتائج کے طور پر حاصل ہو۔ اس طرح حاصل ہونے والی کامیابی ہی  ذہنی ارتقاء اور سکون و اطمینان کا باعث ہوتی ہے۔ معاشرہ کے "بڑے” لوگ  اس معاملہ میں اہم کردار ادا کرسکتےہیں۔

اگر دولت کسی کے لیے کامیابی کی علامت ہو سکتی ہے، تو علم کے بلند و بالا منازل طے کرنا بھی کسی دوسرے شخص  کے لیے اس کے کامیاب ہونے کی نشانی  ضرور ہونی چاہیے۔

یقیناً، علمی جدوجہد تقاضا کرتی ہے کہ  احساس کمتری کی نفسیات (psychology of inferiority complex) سے حفاظت اور کیفیت خود اعتمادی (self confidence) کی نشونما فروغ پائیں۔  چوں کہ  نفسیاتی پیچیدگیوں سے پاکیزگی اور خود اعتمادی کی صفت  کی پرورش علم کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے، سہی حکمت عملی یہ ہونی چاہیے کہ معاشرے میں "مرکزی مقام” علم کو حاصل ہو، نہ کہ دولت کو۔

اللہ تعالی کی کائناتی پلاننگ کے تحت، علم کا مقام لا محدود ہے، جب کہ بقدر ضرورت تو دولت بھی اللہ تعالی کی بہت بڑی نعمت ہے، بلکہ دولت کمانا، اللہ کا فضل تلاش کرنا ہے، مگر اس کے بعد اس کی افادیت زائل ہونے لگتی ہے۔  دولت مند افراد کے متقی نہ ہونے کی صورت میں، دولت، عام طور پر، تکبر، جھوٹی نمائش اور تفریح،  شیطانی مشغولیات، فضول خرچی،  بدعنوانی، ذخیرہ اندوزی اور معاشرہ میں دوسری ہزاروں برائیوں کے فروغ کا سبب بنتی ہے۔ ساتھ ہی دولت کو مرکزی مقام دینے کا مزید  سب سے بڑا نقصان یہ  ہے کہ علمی جدوجہد بھی بیشتر معاملات میں  دولت پیدا کرنے کا ہی ایک اور ذریعہ بن کر رہ جاتی ہے۔

اس طرح،  اس حقیقت کے پیش نظر کہ علم والے ہی اللہ سے ڈرتے ہیں، انسان  خالق کائنات کی معرفت اور اس کی ہدایت سے محرومی کا خطرہ مول لے لیتا ہے، یعنی ہمیشہ ہمیش کی

"نا کامی”۔

یہ انسان کی نفسیاتی کمزوری ہے کہ عیش کے وقت شکر گزاری تو دور، وہ یہ بھی بھول جاتا ہے کہ پریشانی کے عالم میں، وہ اسے دور کرنے کے لیے اللہ تعالی کے حضور گڑ گڑایا کرتا تھا (یونس-10: 12)۔

میرے ریٹائرمنٹ کے فنکشن  میں، مجھ سے  ایک سوال کیا گیا تھا کہ  "آپ کے کئی ساتھی جنرل منیجر ہوگئے، جب کہ آپ چیف منیجر کے عہدے تک ہی پہنچ پائے ہیں؟”

اس سوال کا ایک  آسان جواب جو میں نے دیا وہ یہ تھا:  ” پہلی بات تو یہ ہے کہ نعمتوں کا شکر کرنے والوں کی نظر میں، چیف منیجر کی پوزیشن بھی تو  کوئی معمولی پوزیشن نہیں، کیوں کہ ہزاروں افسر اس مقام کے بھی متمنی رہتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ  میں اس حقیقت سے بھی واقف ہوں کہ میرے کئی ساتھی آج بھی تقریباً، اسی عہدے پر ہیں، جس پر کبھی ان کی تقرری ہوئی تھی”۔  بات دراصل،  عہدے کی نہیں، بلکہ شکر اور اطمینان کی ہے۔

وہ پوزیشن ہر دوسری پوزیشن سے بڑی ہے جس میں کسی انسان کو اپنے خالق و مالک کے تئیں  کیفیت تشکر حاصل ہو۔ اللہ تعالی کی نعمتوں کے لیے، اس کا  شکر بجا لانے والے، ہمیشہ مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔

چوں کہ،  اللہ تعالی نے اپنے تخلیقی منصوبہ کے تحت سبھی انسانوں کو الگ الگ صلاحیت و خصوصیات سے مزین کیا ہے، اس لیے، شخصیت سے لے کر حیثیت تک، ہر چھوٹی بڑی چیز میں، کم یا زیادہ کا فرق ہمیشہ باقی رہے گا۔ حقیقت میں،  "کم اور زیادہ” کی یہی ربانی حکمت عملی، انسان کا امتحان ہے۔

اس پس منظر میں، ہر وہ کام، عہدہ اور مقام آپ کے کامیاب ہونے کی نشانی ہے  جس کے ساتھ آپ کے، اپنے رب کے لیے شکر کے جذبات و احساسات زندہ ر ہیں ۔

آپ کی جو پوزیشن آپ کے اندر مایوسی (hopelessness) یا  استکبار (arrogance) کی نفسیات پیدا کردے وہ کامیابی نہیں، تباہی ہے ــ نہ صرف آخرت کی نظر سے، بلکہ موجودہ دنیا کے تناظر میں بھی!

 

* عبدالرحمٰن

نئی دہلی

(سابق چیف منیجر، الہ آباد بینک)

9650539878

rahman20645@gmail.com

 

 (مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اگلی پوسٹ
پروفیسر اخلاق آہن کو شیخ سعدی ایوارڈ

یہ بھی پڑھیں

میں پٹاخے سے ہی مر جاؤں گا بم...

دسمبر 14, 2024

شبلی کا مشن اور یوم شبلی کی معنویت – محمد...

نومبر 24, 2024

تھوک بھی ایک نعمت ہے!! – عبدالودود انصاری

نومبر 19, 2024

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ  – شمس...

نومبر 9, 2024

غربت  و معاشی پسماندگی کا علاج اسلامی نقطہ...

مئی 6, 2024

اقبال ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

نومبر 7, 2023

طائر بامِ فکر و فن : ڈاکٹر دبیر...

نومبر 3, 2023

جدید معاشرے اور طلباء کے لیے ادب (...

ستمبر 28, 2023

موبائل فون ایڈکشن اور بچوں کا مستقبل –...

اگست 30, 2023

نیرنگِ خیال کی جلوہ نمائی شعر و ادب...

اگست 29, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں