اردو شعر وادب کے حوالے سےعام طور سے بڑے شہروں کے مقابلے چھوٹےشہروں کے شعرا و ادبا کو منظر عام پر لانے کی توجہ کم ہوئی ہے۔دہلی ،لکھنئو،عظیم آباد ،حیدرآباد، پٹنہ اور رامپور جیسے بڑےشہروں کو قارئین نے سب سے زیادہ اپنی توجہ مرکوز کی ہے ۔جبکہ شہیدوں کی نگری شاہجہاں پوراپنے ابتدائی دور سے ہی شعر وادب کا مرکز رہا ہے۔قمررئیس اوررشید حسن خاںجیسی عظیم شخصیت یہاں پیدا ہوئی ہیں۔ اس شہر کی بنیادشاہجہاں پور کے عہد میں سپہ سالار نواب بہادر خاں چغتااور بھائی نواب دلیر خاں کے رفقاکے ہاتھوں پڑی۔پٹھان اور دوسری قوموں نے شعر وادب کے لئے اس شہر کو اپنا مسکن بنایا اور علم وادب کی شمع روشن کی ،شعر وادب کی مختلف نشستیں،مشاعرےکی محفلیں وقت وقت پر یہاں سجتی رہیں ہیں۔ اس طرح شعرا و ادباپیدا ہوتے رہے۔ ابتدائی دور کے شعرا کی فہرست لمبی ہے جن میں لالہ سکھ رائےمسرور،لالہ ہت پرساد سرور،منشی اننت رام خاموش ، منشی رام کشن فرحت ،لالہ بساون لال محفوظ ،لچھمی نارائن محفوظ ،لالہ لکھپت رائے عاقل ،منشی سوہن لال حقیر،رائے کرشن سہائے فرحت ،لالہ موتی لال ساقی ،منشی ہری رام خورم ،منشی دیارام دانا،منشی پدم سکھ فائز،رائے اجودھیا پرشادزیبا،اور لالہ یگانہ مسلم قدیم شعرامیںملّا سید شیر علی عاجز،نواب فیض الدین خاں امید،قاضی سر فراز علی سیّد،شیخ احمد خاں اظہر،مولوی قطب الدین طالب ،یونس خاں،میرفضل علی فضل ،سیدمحمد محسن میاں عرشی،احمداللہ خاں شوکت،مولوی دوست محمد صاحب، قاضی سید سرفراز علی،قاضی شیخ بہادر علی،منشی محمد رفعت علی،فقیرمحمد خاں فقیر،محمد ضمیرحسن میاں دل،منشی سخاوت علی خاں،محمد حسن علی خان حسن اور ہدایت اللہ ہدایت وغیرہ کا نام قابل ذکر ہے۔ان شعرا کےکلام کا مطالعہ کریں تو پتہ چلے گاکہ اس دور کےکلام میں فارسیت غلبہ ہے۔مگررفتہ رفتہ اپنے ارتقائی منازل میں اردو کی ہمہ گیری نے فارسی کی جگہ لے لی۔بقول مولوی محمدصبیح الدین میاں اس طبقہ میں جس قدر شعرا ہوئے ہیں وہ فارسی گو تھےحتیٰ کہ ہندو شعراہندی اور فارسی دونوں زبانوں میں کہتے تھے۔مگر اردو کی ہمہ گیری نےہندی اور فارسی کورفتہ رفتہ خارج کر کےخود قبضہ کر لیا ہے۔؎۱ اس شہر کے بیسویں صدی میںجن شعرا نےنمایاں کارنامہ انجام دیا ہے ان میں حکیم مولوی ضمیر حسن خاں دل،سیدحسن احمد میاں بیباک،پنڈت جگموہن ناتھ رینہ شوق،سید تصدق حسین قرار،نواب حیدرعلی خاں حیدر،حاجی تجمل حسین تجمل،منشی عابد حسین مینائی، منشی نیاز حسن بیدل،پروفیسر عبدالسمیع خاں نکہت،علامہ اخترعلی تلہری،بابو جگدیش سہائے سکسینہ،فضل الرحمٰن خاں حبیب حسن خاں حبیب،سید محمد سلطان،سید احمد حسین شوق،اشفاق علی خاں،حکیم محمد وفا،مبارک شمیم،قمررئیس، قمراالدین، بابورامیشورپرشاد چونچ،اونکارسہائے سکسینہ میکش،محبوب حسن نظر،محمد نسیم خاں نسیم،اختیارحسین خاں اختر،محبوب حسن جمال،یوسف علی گوہر،رام کشن زیبا،رباب رشیدی اوراسرارحسین خاں تبسم وغیرہ کے علاوہ خالد علوی کے ہمعصروں میں اخترعلی خاں اختر،حکمت شاد،مرغوب حسن خاں فضا،ثریاخاتون حزیں،قمرشاہجہاںپوری، وسیم مینائی،راشد ندیم،ترنم ضیا،رئیس احمد نعمانی، محمد عظیم فرزانہ شفق،ڈاکٹر ممنون حسن خاں،محمد شمیم انصاری ،سردار آصف،جاویداللہ خاں،عزیز احمدخاں، شفق طاہری، قمر شاہجہاں پوری اور راشدندیم وغیرہ نے اردو شاعری کے افق پر آفتاب ماہتاب بن کر چمکتے نظر آتے ہیں ۔ان تمام شاعروں نے شاعری کی روایتی قدریں ،اشتراکیت کا گہرا شعور،حالات سے بیزاری اور زمانے کی زبوں حالی ،محبت واخوت اور بھائی چارے کا پیغام ،تجریدی شعور اور کلاسکی روایت کو اپنی شاعری کا حصہ بنایاہے۔خالد علوی نے بھی روایت سے انحراف کرنے کے بجائے اپنے مقامی شاعروں کے اثرکو قبول کیا اور اسی فضا میں ان کی شاعری پروان چڑھی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں قومی اتحاد و اتفاق اور انسانی دوستی کا شاعر راحت اندوری – ڈاکٹر تجمل حسین )
خالد علوی صاحب کی حالا ت زندگی کے حوالے سے بتاتا چلوں ،ان کی پیدائش۱۰ /نومبر ۱۹۴۲ میں ہوئی آپ کے والد محترم محمد مصطفیٰ علوی ایک تاجر تھے۔گھر کی معاشی صورت حال بہت اچھی نہ تھی مشکل سے درجہ دس پاس کیا اوروجہ معاش کی غرض سے شہر پیلی بھیت کی طرف رخ کیا۔ وہاں ایک ماہنامہ دفتر میں ملازمت ملی۔یہاں شعرا و ادبا کی محفلیں سجتی تھیں ۔اس ادبی فضا میں شعری طبع آزمائی کرنے لگے ۔ویسے انہیں شعرکہنے کا شغل اس وقت سے شروع ہوا جب ایک مرتبہ ان کےاردو کے استاد نے اقبال کی نظم ایک پرندے کی فریا،د پڑھارہے تھے ۔اس نظم کا ان کے دل ودماغ ہر بہت گہرا اثر ہو ا کہ بقول خود شاعر کے تین اشعار جو خالص تک بندی تھی رقم ہوگئے۔صبح دادا جان وہ تک بندی دکھائی تو انہوں نے سخت ا لفاظ میں میری سرزنش کی اور کہا یہ وقت تمہارے پڑھنے کا ہے نہ کہ فروعات کا ۔دل لگا کر پڑھو آئندہ یہ حرکت نہ کرنا۔لیکن میری تک بندی جاری رہی اور میں یار دوست کو سناتا رہا۔بہر حال چکی کی مشقت اور مشق سخن دونوں جاری رہا ؎۲۔پیلی بھیت کی ادبی فضاان کی شاعری کو نکھارنے میں اہم رول ادا کیا۔یہاں پر انہیںایک اچھے استاد کی صورت میں محمد مجتبیٰ کیف کی رہنمائی حاصل ہوئی۔مگروہ جب پاکستان چلے گئےتو الحاج حضرت نشاط پیلی بھیتی سے رہنمائی حاصل کرنا شروع کردی۔انٹر کی تعلیم پوری ہونے کےبعد ملازمت ترک کرکے شاہجہاں پور واپس آئےاور گاندھی فیض عام کاج میں آفس اسسٹینٹ کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ بقول مبارک شمیم یہاں رباب رشید ی شاہجہانپوری سے رجوع ہوئےاور بقدر ضرورت رہنمائی حاصل کرتے رہے؎۳ ۔آج انھیں شاہجہاں پور کی ادبی محفلوں میں قدر و منزلت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔۲۰۰۶ میں نوکری سے سبکدوش ہوئے۔تشنگی ان کاپہلا شعری مجموعہ کلام ہے۔
یوں تو خالد علوی نے اپنےکلام میں مختلف موضوعات پر غزلیں کہیں ہیں ۔انھوں نےبھی عام شاعروں کی طرح حسن وعشق کے معاملات کوپیش کیا ہے۔مگر تشنگی میں ایک شعر بھی ایسانہیں ہےجس پر رکاکت و ابتذال کا شبہہ ہو۔ان کی عشقیہ شاعری میں ایسی پاکیزگی اور ایسی لطافت ملتی ہےجوشاہجہاں پور کے اردو کے کم شعرا کو نصیب ہے۔ چند اشعار ملاحظہ ہو۔
آوٗ کوشش تو کریں اس کو منانے والی
ورنہ یہ عمر نہیں لوٹ کےآنے والی
آخر لگ ہی گئی اپنی محبت کو نظر
میں نہ کہتا تھا یہ ہےبات چھپانے والی
اس سے گر بچھڑوںتو اتنا مجھے اعزاز ملے
بوئے گل،رقص صبا،رنگ حناہو جاوٗں
اپنی آنکھوں میں بٹھالیجئے ہمیں کچھ دیر کو
ہم بڑی مشکل سے یارو اس بھنور تک آئےہیں
میں نے جو کچھ بھی لکھا بن گیا اس کا چہرہ
رات کاغذ پہ عجب اشکوں نے گل کاری کی
خالد علوی کے کلام میں ایسے بہت سے اشعار ملیں گے جو عشق حقیقی سے تعلق رکھتے ہیں۔شاعرعشق الٰہی کا طلب گار ہوتاہے۔ انسان خدا کی ذات میں جذب ہوجائے یہ مرتبہ کسی کوبڑی مشکل سےعطا ہوتا ہے۔ساری زندگی انسان اپنے حقیقی محبوب کی محبت میں دنیا ومافیہا سے ماورا ہوکر اپنے حقیقی رب ک لئے سر گرداں رہتا ہے۔یہ وصف صوفیا کرام کو حاصل ہے۔خالد علوی بھی دنیا کی تمام تر خواہشات کو ترک کرکے فقیری کے تاج کو فوقیت دیتے ہیں وہ دنیا کی محفلوں سے پریشان ہوکر گوشہ نشینی اختیار کر لینا چاہتے ہیں۔عشق حقیقی سے متعلق ان کے کلام کے چند اشعار ملاحظہ ہو۔
اس فقیری کو تم آسان سمجھتے ہو میاں
میں ہوں سلطان مگر تاج فضیلت کے بغیر
محفلوں میں تو فقط جی کا زیاں ہی پایا
مجھ کو اس گوشہ نشینی میں ہے آرام بہت
خالد علوی صاحب سےمجھے کئی بار ملنے کا اتفاق ہوا ہے۔وہ جتنی اچھی شاعری کرتے ہیں اتنے اچھے انسان بھی ہیں یوں کہئے ان کے چہرے سے بشاشت ٹپکتی ہے۔طبیعت میں شگفتگی اور نرم دلی اس قدر پائی ہے کہ کوئی بھی شخص ایک بار مل لے تو بار بار ملنے کا مشتاق رہے۔بلا امتیازوہ ہر ایک سے خلوص کے ساتھ ملتے ہیں ۔وہ اپنی قدرو ں سے ہر حال میں جڑے رہنا چاہتے ہیں۔جو بھی شخص اپنی تہذیب و تمدن سے کٹ جاتا ہےان کی نظر میں ان کے لئے کوئی وقعت نہیں،اپنی جڑوں سے انھیں گہرا لگاؤ ہے،وہ اپنے بزرگوں کو کسی بھی حال میں نہیں چھوڑنا چاہتے۔ وہ مشترکہ خاندان کے حامی ہیں ۔گھروں کے آنگن میں دیوار بنانے کے قائل نہیں،گھر کے آنگن میں دیوار دیکھ کران کے دل ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں۔وہ غم معاش کی صورت میں بھی اپنی مشترکہ خاندان سے دور جانے کو راضی نہیں،قدامت پسندی کا الزام انہیں قبول ہے۔مگر وہ اپنے بزرگوں کی روایت کا احترام اور ان کے زمانے کی قدروں کو چھوڑنے کو راضی نہیں ۔ انہیں اپنی مشرقی تہذیب کے ٹوٹنے بکھرنے کا گہرا رنج ہے۔مغربی تہذیب کی چکا چوندھ زندگی انہیں بہت پریشان کرتی ہے۔اس حوالے سے ان کے کلام کے چند اشعار پیش خدمت ہے۔
اپنی تہذیب و تمدن سے جو کٹ جاتے ہیں
ان کے قد کتنے ہی اونچے ہوں وہ گھٹ جاتے ہیں
جب وطن لوٹ کے آتے ہیں پرندے اپنے
سوکھے پیڑوں سے بھی رو رو کے لپٹ جاتے ہیں
گھر کی تقسیم تو حق داروں میںہوتی ہے
مگر دل بھی آنگن کی طرح ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں
جگنو،چراغ،چاند،ستارے،دھنک کے پھول
کس کس کومثل گرد سفر چھوڑنا پڑا
مٹی جاتی ہیں تہذیبیں سبھی کی
یہ دنیا کیسی نادانی کرے ہے
گئی رتوں کے حوالے سے یاد آئو ں اسے
قدم قدم پہ مگر میں تو ساتھ پاوٗں اسے
مرے خدا اسےاتنی بھی شہرتیں مت دے
زمانہ یاد کرے اور میں بھول جاوٗں اسے
غم معاش آج سبھی کے لئے ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔غم معاش ،مفلسی اور بیماری کا آپس میں چولی دامن کا رشتہ ہے۔اس کا اثر گھر کے تمام افراد کی جہالت بدحالی اور پریشانی کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔انسان کبھی بھی اپنی جڑوں سے الگ نہیں ہونا چاہتا مگر مفلسی اور تنگدستی انسان کو ہجرت کرنے پر مجبور کرتی ہے۔خالد علوی صاحب کے گھرکی معاشی صورت حال بہت اچھی نہیں تھی اسلئےانھیں بھی دوسرے شاعروں کی طرح روزگار کی تلاش میں اپنے اطن سے پیلی بھیت ہجرت کرنے پر مجبور ہونا پڑا تھا۔غم معاش کے اپنے ان گزے زمانے کو خالد علوی نے اپنے کلام میں بڑے جذباتی انداز میں پیش کیا ہے۔اس حوالے سے ان کے چندشعر ملاحظہ ہوں۔
مجھ کو تلاش رزق میں گھر چھوڑنا پڑا
چھوڑا نہ جا رہا تھا مگر چھوڑنا پڑا
جگنو،چراغ،چاند،ستارے،دھنک کے پھول
کس کس کومثل گرد سفر چھوڑنا پڑا
ان طائروں سے کوئی بھی شکوہ فضول ہے
بے برگ ہو گیا تو شجر چھوڑنا پڑا
حالات ایسے موڑ پہ لےآئے تھے مجھے
بے حد عزیز تھا وہ مگر چھوڑنا پڑا
قدموں کی آہٹوں سے نہ ٹوٹے کسی نیند
مجھ کوکس احتیاط سے گھر چھوڑنا پڑا
خالد علوی صاحب کو اپنےعہد کے سیاسی سماجی اور اقتصادی منظرنامے پر گہری نظر ہے۔وہ سماج سے تعصب کو مٹا کر اصل مسائل کی طرف لوگوں کی توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں ۔آج جب جھوٹ فریب کا بازار گرم ہےعدل وانصاف کا گلاگھونٹا جارہا ہے۔ایسے ناموافق حالات میں وہ دشمنوں کی شکت کے لئے اپنےماضی کے واقعات سےسبق لے کر ہمت اور حوصلے کے ساتھ لڑنے پر آمادہ کرتے ہیں۔زمانے کی زبوں حالی اور مظلومیت کے شکار لوگوں کو دیکھ کر وہ بیچین ہوجاتے ہیں ،ایسی صورت میں وہ حد سے گزر جانے کی تلقین کرتے ہیں ۔اس حوالے سےان کے کلام کےچند اشعار ملاحظہ ہوں۔
کوئی شکوہ نہ شکایت اسے حالات سے ہے
ایک رنجش سی فقط اس کو مری ذات سے ہے
بےنام وادیوں میں اتر جانا چاہئے
عزت پہ آنچ آئے تو مر جانا چاہئے
بے چین کررہا ہو جو موجوں کا پیچ و تاب
دریا کو اپنی حد سے گزر جانا چاہئے
باطل کو ہے فوج ہزاروں کی بہت کم
اور حق کو بہتّرکی جماعت بھی بہت ہے
کوئی خوشبو ہوں نہ میں گل کہ مہکتا جاوٗں
ایک چنگاری ہوں رہ رہ کے سلگتا جاوٗں
قہر ایام گزشتہ نہیں دیکھا جاتا
مجھ سے اب خون تمنّا نہیں دیکھا جاتا
خلاصہ کلام یہ ہےکہ شہر شاہجہاں پور کے شاعروں میں ایسے شاعر موجود ہیں جن میں وہ تمام خصوصیات موجود ہیں جو ایک معیاری شاعر کے لئے ضروری خیال کی جاتی ہیں ۔ یہاں ترقی پسند شاعربھی موجودہیں اور وہ بھی ہیں جو تجریدی شاعری کے مدح خواں ہیں مگر ان کے دوش بدوش روایات کا احترام کرنے والےشاعر بھی زندہ وتابندہ ہیں جن کے دم سے فن شاعری اب تک زندہ ہے۔خالد علوی کی شاعری بھی اسی ماحول کی آئینہ دار ہے۔ خالد علویـــ کا شعری مجموعہ ـ تشنگی اپنے ان تمام خصوصیات کا ضامن ہے جو ایک معیاری فن پارے کی لئے ضروری خیال کیاجاتا ہے۔انھوں نے اپنے کلام میں ایک طرف جہاں اپنی مشرقی تہذیب وتمدن کے ٹوٹنے بکھرنے کا گہرا غم ہے وہیں نئی تہذیب سے انحراف بھی کیا ہے ، ان کے یہاں ترقی پسند انہ خیالات اورموجودہ سیاسی سماجی حالات سےآگہی کا گہرا شعور ہے۔وہیں کلاسیکی روایت سے اپنےآپ کو ہم آہنگ بھی کیا ہے۔بقول مبارک شمیم خالد علوی جدید شعرا کے نمائندہ شاعرہیں اور سوچ سمجھ کر شعر کہتے ہیں ۔ان کے یہاں جدید و قدیم رنگ کی لطیف آمیزش ہے ۔؎۳
حواشی
(۱) عالی جناب مولوی محمد صبیح الدین میاں صاحب خلیل شاہجہا ں پوری ۔مرتب وسیم مینائی ۔ تاریخ شاہجہاں پورتاریخ صبیح) ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوس دہلی۲۰۲۰ ص۴۲۰
(۲)خالد علوی تشنگی (شعری مجموعہ) ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ۲۰۲۱ ص۵
(۳)مبارک شمیم ۔سخنواران شاہجہاں پور ۔تخلیق ر پبلیشرز ۱۹۹۵ ص۳۲۹
(۴)مبارک شمیم ۔سخنواران شاہجہاں پور ۔تخلیق ر پبلیشرز ۱۹۹۵ ص۳۲۹
تجمل حسین
صدر،شعبئہ اردو
گاندھی فیض عام شاہجہان پور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

