آج ہمارے معاشرے میں کتب بینی کے رجحان میں تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے جس کی ایک بڑی وجہ انٹرنیٹ ہے، کتب بینی کی جگہ انٹرنیٹ نے لے لی ہے۔ لوگ اب دکانوں اور کتب خانوں میں جا کر کتابیں، رسائل و ناول پڑھنے کے بجائے انٹرنیٹ پر پڑھنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لوگوں کو گھر میں بیٹھے بیٹھے انٹرنیٹ کے ذریعے تمام نئی اور پرانی کتابیں حاصل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح لوگوں کا وقت اور رقم دونوں ضائع ہونے سے بچ جاتے ہیں۔ کتابوں کے شوقین ہمیشہ اچھی کتب کی تلاش میں رہتے ہیں، انہیں ہمیشہ ہر جگہ اچھی اور دلچسپ کتب پڑھنے کا شوق ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے کتابوں کی قیمتوں میں بے پناہ اضافے سے کتابیں خریدنے کے رجحان میں کمی آتی جا رہی ہے اور ماضی کے مقابلے میں اب کتب فروشوں نے دکانوں پر کتب بینوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انٹرنیٹ سٹوڈنٹس کمیونٹی اور تعلیم یافتہ طبقے کے لئے نہایت مفید ثابت ہوا ہے۔ طالب علم کمپیوٹر پر یونیورسٹی و کالج کے اسائن منٹس بناتے ہیں اور پھر ای میلز یا پھر دیگر انٹرنیٹ ذرائع سے ایک دوسرے کوایک ہی جگہ بیٹھے پہنچاتے ہیں۔ یوں تعلیم سے متعلق تبادلہ خیال میں بھی آسانی ہوتی ہے اور طلبہ کا اساتذہ سے رابطہ بھی رہتا ہے، مگر انٹرنیٹ کے باعث آج کل کا طالب علم صرف کورس کی کتابوں کے علم تک محدود ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ طالب علم انٹرنیٹ چیٹنگ(Chatting)اور سماجی روابط کی ویب سائٹس میں اپنا وقت ضائع کر دیتے ہیں۔
ندوۃ العلماء میں طلبہ کو مطالعہ کی تلقین جاتی تھی، وہاں کم سے کم بیس کتب خانے موجود ہیں، ہر ہاسٹل کی ایک خاص لائبریری رواق اطہر سے ایک کتابچہ شائع ہوا "آپ کیا پڑھیں” اس کتابچے میں ہر درجہ کے طالب علم کے لئے اس کے معیار کے مطابق کتابوں کا نام درج ہیں. (یہ بھی پڑھیں اردو زبان و ادب اور سوشل میڈیا : نئے امکانات – ساجد حمید )
جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی میں بھی او خاص کر شعبہ اردو میں میں کتابوں کی اہمیت اجاگر کرنے کے لئے مختلف تقاریب کا اہتمام ہوتا رہا ہے۔ کتابوں کی نمائشیں، سیمینار، سمپوزیم اور اسی طرح کے دوسرے فنکشن منعقد کر کے کتب بینی کے ذوق و شوق کو پروان چڑھانے کی زور دار کوششیں کی گئی ہیں۔ دور جدید میں اگرچہ مطالعہ کے نئے ذرائع متعارف ہو چکے ہیں اور Information technology کی برکت سے علم کا حصول اور اطلاعات کے باب میں انقلاب برپا ہو چکا ہے، مگر کتاب کی اپنی دائمی اہمیت اور افادیت اپنی جگہ قائم ہی نہیں، بلکہ اس میں حد درجہ اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں کتابوں کی اشاعت اور کتب بینی کے شائقین کی تعداد ہر گزرتے لمحے کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ لاکھوں کتابیں زیور اشاعت سے مزین ہو رہی ہیں اور بے شمار لائبریریاں وجود میں آ رہی ہیں۔ اس میں دو رائے نہیں کہ کتاب اور انسان کا رشتہ اتناہی قدیم ہے جتنا کہ خود انسانی تہذیب کا سفر اور علم و ادب کی تاریخ۔ تہذیب کی روشنی اور تمدن کے اجالے سے جب انسانی ذہن کے دریچے بتدریج کھل گئے، تو انسان کتاب کے وسیلے سے خودبخود ترقی کی شاہراہ پر قدم رکھا ہے ۔ سچ مچ کتاب کی شکل میں اس کے ہاتھ وہ راز لگا جس نے اس کے سامنے علم و ہنر کے دروازے کھول دیئے۔ ستاروں پر کمندیں ڈالنے، سمندروں کی تہیں کھنگالنے اور پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنے کا شوق اس کے رگ و پے میں سرایت کر دیا۔ جوں جوں یہ شوق پروان چڑھتا رہا کتاب اس کے لئے ایک مجبوری بنتی گئی، کیونکہ یہ اسی کتاب کی کرامت تھی کہ انسان کے لئے مطالعے اور مشاہدے کے بل پر نئی منزلیں طے کرنا آسان ہوا۔ علم و فن نے اس کی ذہنی نشوونما، مادی آسائشیں اور انقلاب فکر و نظر کا سامان پیدا کیا۔ غرض کتاب شخصیت سازی کا ایک کارگر ذریعہ ہی نہیں، بلکہ زندہ قوموں کے عروج و کمال میں اس کی ہم سفر بن گئی۔ کتاب کی اس ابدی اہمیت کے زیر نظر زندہ قوموں کا شعار، بلکہ فطرت ثانیہ ہوتی ہے کہ وہ کتب خانوں کو بڑی قدر و منزلت دیتے ہیں۔ آج کے Information technology کے انقلابی دور میں امریکہ میںLibrary of congress اور برطانیہ میں British Museum Library جن کم لاکھوں کیا اربوں کتابیں موجود ہیں، یہ کروڑوں کتابیں سے راہبری اور رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہی ہیں، اور رہی بات ہندوستان میں کتب بینی کے فروغ نہ پانے کی وجوہات میں کم شرح خواندگی، صارفین کی کم قوت خرید، حصول معلومات کے لئے موبائل، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا بڑھتا ہوا استعمال، اچھی کتابوں کا کم ہوتا ہوا رجحان، حکومتی عدم سرپرستی اور لائبریریوں کے لئے مناسب وسائل کی عدم فراہمی کے علاوہ خاندان اور تعلیمی اداروں کی طرف سے کتب بینی کے فروغ کی کوششوں کا نہ ہونا بھی شامل ہے۔ ہندوستان میں صحیح طور پر پڑھے لکھے لوگوں کی تعداد کم ہے، ان میں سے کتابیں خریدنے کی سکت رکھنے والے زیادہ تر افراد انگریزی کتابیں پڑھتے ہیں۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کتابیں قارئین کی پہنچ سے دور ہو گئی ہیں۔ ان کے بقول جب تک کتابیں غریبوں کی پہنچ میں نہیں آتیں، اس رجحان کا فروغ پانا مشکل ہے۔ کتابیں انسانی زندگی پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں۔ ادب انسانی مزاج میں نرمی پیدا کرتا ہے، اچھی کتابیں آج بھی پڑھی جا رہی ہیں۔ کتابوں کے حوالے سے موجود کئی مسائل کے باوجود دہلی کے پرگتی میدان کے کتب میلے میں ، دنیا کی بہترین کتابیں اور کتابوں کے تراجم کی اشاعت اچھی تعداد میں ہوتی ہے ۔
یاد رہے کہ ہندوستان میں کئی ادارے کتب بینی کے فروغ کے لئے کوششیں کر رہے ہیں۔ اس لئے مبصرین کے بقول ہندوستان میں کتابوں کے اچھے مستقبل کی توقع کی جا سکتی ہے۔ ملک بھر کئ ایوارڈ کتابوں سے متعلق دئے جاتے ہیں جن میں نو جوانوں کے لئے بھی بہت سے ایوارڈ ہیں مثلا
Jnanpith Award،
Sahitya Akademi،
Yuva Puraskar،
Crossword Book Award
،Saraswati Samman
،Tata Literature Live! Awards
وغیرہ شامل ہیں جن کا مقصد شوق مطالعہ کو فروغ دینا اور اچھی کتابیں تحریر کرنے والے مصنفین کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔
بلاشبہ کتاب ایک قوم کی تہذیب و ثقافت اور معاشی، سائنسی اور عملی ترقی کی آئینہ دار ہونے کے ساتھ ساتھ انسان کی بہترین دوست بھی ہے۔ عربی کا ایک مشہور مقولہ ہے "خیر جلیس فی الزمان کتاب ” یعنی زمانہ سب سے بہتر دوست کتاب ہے۔
کتابوں سے دوستی رکھنے والا شخص کبھی تنہا نہیں ہوتا۔ کتاب اس وقت بھی ساتھ رہتی ہے،جب تمام دوست اور پیار کرنے والے ساتھ چھوڑ دیں۔ اگرچہ آج Telivision ، Internet, Mobile اور OTT نے لوگوں کے ذہنوں پر قبضہ کر لیا ہے، لیکن کتاب کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ نئی نسل میں کتب بینی کا رجحان خاصا کم ہے۔ بچوں کو مطالعے کی طرف راغب کرنا اب بڑا مشکل کام بن گیا ہے، حالانکہ موجودہ دور میں بڑھتے نفسیاتی مسائل سے بچنے کے لئے آج ماہرین نفسیات بچوں کے لئے مطالعے کو لازمی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ اچھی کتابیں شعور کو جِلا بخشنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو بہت سے فضول مشغلوں سے بھی بچاتی ہیں۔ بچوں میں مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنے میں والدین اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، جونہی بچہ سیکھنے اور پڑھنے کی عمر کو پہنچے ، والدین کو چاہئے کہ اسے اچھی اور مفید کتابیں لا کر دیں۔ شروع میں یہ کتابیں کہانیوں کی بھی ہو زیادہ اچھا ہے، کیونکہ بچے کہانی سننا اور پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ اس طرح بچے کو مطالعے کی عادت پڑتی ہے۔ اس کے علاوہ والدین بچوں کے سامنے اپنی مثال قائم کر سکتے ہیں۔(یہ بھی پڑھیں ادبی میراث اور نوشاد منظر- ڈاکٹر عمیر منظر ) فارغ وقت میں ٹی وی دیکھنے یا فون سننے کے بجائے وہ کسی کتاب یا رسالے کی ورق گردانی کر کے بچے کو بھی اس طرف مائل کریں۔ جب بچہ والدین کو مطالعہ کرتے دیکھے گا تو لاشعوری طور پر اسے یہ ادراک ملے گا کہ فارغ اوقات میں مطالعہ ہی کرنا چاہئے۔ ہو سکے تو بچے کو لائبریری بھی لے جائیں۔ کہتے ہیں کہ لائبریری بچے کے دماغ کی بہترین میزبان ہوتی ہے۔ ڈھیر ساری کتابیں دیکھ کر بچہ خوش بھی ہوتا ہے۔ وہ اپنی مرضی سے مزاج اور پسند کے مطابق کتابوں کا انتخاب کر کے اپنی دماغی صلاحیتیں اجاگر کر سکتا ہے۔ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور کتابیں قومی ترقی کی ضامن ۔۔۔ چنانچہ اپنے بچوں کی کتابوں سے دوستی کروا کر آپ نہ صرف انہیں زندگی میں ایک بہترین دوست فراہم کریں گے، بلکہ ملک و قوم کی ترقی میں معاون بن جائیں گے۔ اچھی کتابیں انسان کو مہذب بناتی ہیں اور اس کی شخصیت کو وقار عطا کرتی ہیں۔ آج بھی بیشتر خواتین و حضرات کے نزدیک کتابوں پر رقم خرچ کرنے سے کہیں بہتر کپڑوں، جیولری اور زندگی کی دیگر آسائشوں پر پیسہ خرچ کرنا اہم ہے، لیکن یہ تمام چیزیں عارضی اور ضرورت کے تحت استعمال کی جانے والی اشیاء ہیں۔ کتاب سے بڑھ کر دنیا میں کوئی ایسی شے نہیں جو ہمیشہ آپ کی دوست رہے۔ کتاب سے دوستی انسان کو شعور کی نئی منزلوں سے روشناس کراتی ہے۔ سو اگر زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو خود بھی کتاب سے دوستی پکی کریں اور اپنے بچوں کو بھی اس بہترین دوست سے روشناس کروائیں۔کتابوں کے مطالعہ سے ہی انسان اپنے اخلاق اور معیار زندگی کو بلند کرسکتا ہے ، اور ہاں کتب بینی ہی زندگی کے بہت سے اسرار و رموز کے ساتھ ساتھ اسے منزل سے بھی روشناس کرا سکتی ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

