سوشل میڈیا ایک وسیع اصطلاح ہے۔ عام طور پر فیس بک اور ٹوئٹر کا ذکر مقصود ہوتا ہے۔ فیس بک کو ایک ایڈوانٹیج ہے کہ واٹس ایپ جیسی بڑی میسجنگ سائٹ کی ملکیت اس کے پاس ہے۔ انسٹا گرام بھی فیس بک گروپ کا حصہ ہے۔ ٹوئٹر نے تن تنہا اپنی اہمیت اور قوت منوائی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ دنیا بھر میں اہم شخصیات اور سماج کے فعال طبقات ٹوئٹر زیادہ استعمال کرتے ہیں۔پاکستان میں بھی ٹوئٹر ٹرینڈز اور ٹوئٹس کی خاص اہمیت ہے۔
فیس بک کا مزاج نسبتاً زیادہ عوامی ہے۔فیس بک مڈل کلاس کی سوچ کو زیادہ بہتر طریقے سے بیان کرتی ہے۔ یاد رہے کہ کسی بھی سماج کا سب سے اہم اور سوچنے، سمجھنے، لکھنے والا طبقہ مڈل کلاس سے نکلتا ہے۔ سیاسی ، نظریاتی، ادبی اور علمی تحریکیں یہیں سے جنم لیتی ہیں۔ لوئر کلاس اور اپر کلاس کے دیگر مسائل بہت سے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسی تحریکوں میں ضرور شامل ہوتے ہیں مگر ان کی تعداد چند فیصد سے زیادہ نہیں۔
لکھنے لکھانے کے خواہش مندوں کے لیے فیس بک ہی مناسب فورم ہے کہ ٹوئٹر پر تحریر کی ایک حد مقرر ہے۔ 140 الفاظ سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ٹوئٹ کرنا ممکن نہیں۔ فیس بک پر آپ دو اڑھائی ہزار الفاظ یا اس سے زیادہ طویل پوسٹ بھی کر سکتے ہیں۔مجھے ذاتی طور پر فیس بک زیادہ پسند ہے۔ اگرچہ ٹوئٹر کی طرح فیس بک پر بھی سیاسی جماعتوں کے حامی جتھوں کی شکل میں حملہ آور ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ کسی سیاسی لیڈر کے خلاف سٹیٹس لکھا جائے، فوری اس کے حامیوں کی یلغار ہو جائے گی۔ نہایت بدتمیزی اور بے شرمی سے وہ گھٹیا ذاتی حملے کریں گے۔ دشنام طرازی کی انتہا کر دی جائے گی۔ اسی طوفان بدتمیزی کی وجہ سے کئی سینئر صحافی اور کالم نگار فیس بک چھوڑ چکے ہیں۔ یہ مسائل اپنی جگہ ہیں ان کے حل کا طریقہ نکالنا پڑے گا۔ مگر سوشل میڈیا پر موجودگی تجزیہ کاروں اور لکھاریوں کے لیے ضروری ہو گئی ہے۔ اپنی تحریروں پر فوری فیڈ بیک حاصل کرنے کا اور کوئی طریقہ نہیں۔ کبھی خط لکھے جاتے تھے پھر ای میلز کا رجحان ہوا۔ ٹیکسٹ میسجز نے ای میلز کا خاتمہ کیا اور اب فیس بک نے ان سب کی جگہ لے لی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو ادب پر سوشل میڈیا کے مثبت اثرات – ساجد حمید )
ٹوئٹر پر زیادہ تر لوگ فوری خبر حاصل کرنے یا مختلف ایشوز اور خبروں پر اپنا ردعمل دینے جاتے ہیں۔ ٹوئٹر پر مختلف ٹرینڈز چلتے رہتے ہیں۔ ہر ایک اپنی دلچسپی کے مطابق ٹرینڈ میں شامل ہو کر اپنا کمنٹ داغ دیتا ہے۔ فیس بک پر ٹوئٹر کی طرح کے منضبط ٹرینڈ نہیں، مگر یہاں پر بھی بیشتر اوقات لہر سی آتی ہے۔ کسی اہم واقعے پر درجنوں بلکہ سینکڑوں پوسٹیں لکھ دی جاتی ہیں۔
فیس بک پر سیاست کے علاوہ شعر و ادب ، موسم، ماحول اور زندگی کے تہہ در تہہ پہلوﺅں پر بہت سی خوبصورت تحریریں مل جاتی ہیں۔ فیس بک پر خواتین کی بڑی تعداد موجود ہے۔ ایسی گھریلو خواتین جن کا باہر کی دنیا سے کوئی خاص رابطہ نہیں، وہ بھی فیس بک کے آئینے سے باہر جھانک لیتی ہیں۔
فیس بک پر بے شمار گروپس ہیں۔ ادبی، سیاسی، مسلکی اور نظریاتی بحث وہاں چلتی رہتی ہے۔ بہت سے گروپس صرف گپ شپ کے لیے بنائے گئے ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے توسط سے خیالات، تصورات اور مسائل کی شیئرنگ کس قدر آسان ہوگئی ہے۔ اردو ٹائپ کرنے کی دقت اب ختم ہو گئی ہے۔ موبائل پر مفت میں ایسے کی بورڈ انسٹال کیے جا سکتے ہیں جو رومن میں لکھے کا اردو میں ترجمہ کر دیتے ہیں۔صرف بول کر بھی جملے ٹائپ ہو سکتے ہیں۔ اردو کو ٹیکنالوجی نے یہ غیر متوقع فائدہ پہنچایا ہے۔
فیس بک کے توسط ہی سے اردو پڑھنے اور لکھنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ ایک بڑی کھیپ نئے لکھنے والوں کی سامنے آئی ہے۔ پچھلے چند برسوں میں کئی بہت عمدہ لکھنے والے سامنے آئے ہیں۔ کئی اعلیٰ درجے کی لکھاری خواتین نے اپنی تحریروں سے خود کو منوایا ہے۔
اردو کے مستقبل کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے جاتے رہے ہیں۔ جون ایلیا مرحوم تو تیس سال کی مدت دیتے تھے جس کے بعد اردو دم توڑ دے گی۔ میرے خیال میں سوشل میڈیا نے پورا منظرنامہ بدل دیا ہے۔ اب سینکڑوں بلکہ ہزاروں لکھنے والوں کی نئی کھیپ آ چکی ہے۔ تازہ ذہن اور گہرے مشاہدے کے ساتھ یہ لوگ بغیر کسی مصلحت کے لکھ رہے ہیں۔ لاکھوں کی تعداد میں اردو کے نئے قارئین پیدا ہوچکے ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اردو ادب کی پوری تاریخ میں اتنے قارئین موجود نہیں تھے جتنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی بدولت مل گئے ہیں۔ ماضی کے بڑے مشہور ادبی رسالے بھی چند سو یا چند ہزار سے زیادہ شائع نہیں ہوتے تھے۔ آج سوشل میڈیا کی بدولت بالکل نئے لکھنے والوں کی تحاریر لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہیں۔ اس کا کوئی ٹکڑا واٹس ایپ میسج کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک پہنچ جاتا ہے۔ یہ بالکل نیا منظر ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
قارئین کے معیار پر سوال اٹھایا جا سکتا ہے، ان کا ایکسپوژر اور وسعت مطالعہ زیادہ نہیں ہے۔ ایک دقت یہ بھی ہے کہ نوے فیصد سے زیادہ لوگ موبائل پر فیس بک پڑھتے ہیں، جہاں طویل تحریر پڑھنا مشکل ہے۔ اس لیے مختصر سٹیٹس زیادہ مقبول ہوجاتے ہیں۔
ایک خطرہ یہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ مختصر سٹیٹس کتاب کلچر کو نقصان پہنچائیں گے، لوگوں کا سٹیمنا کم ہوجائے گا۔ یہ مسئلہ ہے مگر کتابیں چھاپنے والے پبلشرز کو سوشل میڈیا مارکیٹنگ کی وجہ سے بڑا فائدہ ہوا ہے۔ اچھے پبلشر سلیقے سے فیس بک اور واٹس ایپ پر مارکیٹنگ کر کے چند ہفتوں یا دو تین ماہ میں پہلا ایڈیشن فروخت کر دیتے ہیں۔ آن لائن فروخت سے بک سٹور والے درمیان سے نکل گئے ہیں۔ کتاب براہ راست قاری کے گھر پہنچ جاتی ہے۔ بک سٹور والے پبلشرز کا باقاعدہ استحصال کرتے تھے۔ پچاس فیصد پر کتاب لی اور اسے بیچنے کے سال بعد پیسے دئیے اور وہ بھی ترسا ترسا کر۔ آن لائن فروخت اور کیش آن ڈیلیوری کی سروس نے یہ بکھیڑا ہی ختم کر دیا ہے۔
ٹیلی گرام ایک ایسی ایپ ہے جس پر ماضی میں ہمارے ہاں پابندی تھی۔ اب عام استعمال ہو رہی ہے۔ ٹیلی گرام کے چینل (گروپ) کے ذریعے کئی نایاب کتب تک رسائی ہوئی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں اردو زبان و ادب پر جدید ٹیکنالوجی کے اثرات – ساجد حمید )
سوشل میڈیا کے یہ سب ذرائع اپنی بات کہنے اور آگے بڑھانے کے نئے امکانات ہیں۔ ہم سارا دن منفی باتیں کرتے ہیں اور مایوسیوں کا زہر ایک دوسرے کے کانوں میں انڈیلتے ہیں۔ سوشل میڈیا کو گٹر میڈیا اور نجانے کیا کیا کہتے رہتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ کبھی چند لمحوں کے لیے رک کر ان مثبت نکات پر بھی نظر ڈال لیں۔ سب کچھ غلط اور منفی نہیں ہو رہا۔ ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال بھی ہو رہا ہے۔ ہمیں صرف اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔
ساجد حمید
ایم فل اردو
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
[…] متفرقات […]