سوال :
کیا خواتین گھروں میں اعتکاف کرسکتی ہیں؟ خواتین کے اعتکاف کا کیا طریقہ ہو؟ کیا دس دنوں سے کم کا اعتکاف ہوسکتا ہے؟
جواب :
اعتکاف کی تین قسمیں ہیں :(1) واجب : جیسے کوئی اعتکاف کی نذر مانے _ جتنی مدّت کی نذر مانی جائے گی اتنا اعتکاف کرنا ہوگا _
(2) نفل : یہ تھوڑی دیر کے لیے ہوسکتا ہے _
(3) مسنون : یہ صرف رمضان المبارک میں ہوسکتا ہے اور وہ بھی صرف آخری عشرہ میں _ اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیشہ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف کیا ، آخری برس آپ نے بیس دن اعتکاف کیا _ آپ کے ساتھ امہات المومنین بھی اعتکاف کرتی تھیں _
اعتکاف صرف مسجد میں ہوسکتا ہے _ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَاَنۡـتُمۡ عٰكِفُوۡنَ فِى المَسَاجِدِ (البقرۃ :187)
” جب کہ تم مسجدوں میں معتکف ہو _”
اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیشہ مسجدِ نبوی میں اعتکاف کیا _ آپ کے ساتھ ازواج مطہرات بھی معتکف رہیں _ آپ کے انتقال کے بعد بھی ازواج مطہرات نے مسجد نبوی ہی میں اعتکاف کیا _ انھوں نے گھروں میں کبھی اعتکاف نہیں کیا _
فقہ حنفی میں چوں کہ عام نمازوں میں بھی خواتین کے مساجد میں جانے کی ہمّت شکنی کی گئی ہے اور گھروں میں ان کے نماز پڑھنے کو بہتر قرار دیا گیا ہے ، اس لیے فقہائے احناف گھروں میں عورتوں کے اعتکاف کرنے کی اجازت دیتے ہیں _ اس صورت میں عورت اپنے گھر کا کوئی حصہ خاص کرلے ، اس میں بیٹھ کر اعتکاف کرے اور بلا ضرورت وہاں سے باہر نہ نکلے _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

