غالب کے خطوط کی اہمیت کے سلسلے میں بہت سی تحریریں شائع ہو چکی ہیں۔ غالب نے اس معاملے میں پرانی روایات سے احتراز کرتے ہوئے فارسی آمیز زبان اور القاب و آداب کے ساتھ گفتگو کی ابتدا کرنے کے بجائے آسان اور بے تکلف اردو زبان کا استعمال کیا، جس نے جدید اردو کی تشکیل اور اس کی نشو و نما میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ خطوط غالب کی مدد سے اس زمانے کی تاریخ پر تو روشنی پڑتی ہی ہے ساتھ ہی ان خطوط میں اتنا کچھ مواد موجود ہے جس سے خود غالب کی زندگی کا بیشتر حصہ بھی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ غالب کے خطوط کی اسی اہمیت کا خیال کرتے ہوئے نثار احمد فاروقی نے ان کے خطوط کی مدد سے خود غالب کی سوانح تیار کی ہے۔ پہلے پہل یہ ایک مضمون کی صورت میں ’غالب کی آپ بیتی‘ کے عنوان سے رسالہ ’نقوش‘ کے آپ بیتی نمبر (1964) میں شائع ہوئی تھی۔ بعد ازاں اسے تلاش غالب (1969) میں شامل کرنے کا ارادہ تھا لیکن ’غالب کی آپ بیتی‘ کی خصوصیت کو دیکھتے ہوئے نثار احمد فاروقی نے اس میں اور بھی اضافے کیے اور اسے الگ سے کتابی صورت میں شائع کرنے کا پروگرام بنایا۔ میرے پیش نظر کتاب کا دوسرا ایڈیشن ہے جس پر سال اشاعت 1997 درج ہے۔ اس ایڈیشن کے دیباچہ (طبع ثانی) میں نثار احمد فاروقی نے کتاب کے پہلے ایڈیشن کی بابت 1969 میں شائع ہونے کا ذکر کیا ہے لیکن اسی کتاب میں موجود پہلے دیباچے پر تاریخ یوم جمہوریہ 1971 درج ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کتاب کے شائع ہونے کے بعد اس پر مقدمہ لکھ کر دو برس بعد اسے کتاب میں شامل کیا جائے۔ عین ممکن ہے کہ طبع ثانی چونکہ ایک زمانے بعد ہوئی تھی اور نثار احمد فاروقی نے اپنی یادداشت کی بنا پر اسے پہلی مرتبہ 1969 کا شائع کردہ بتا دیاہو، جس کی وجہ سے یہ مسائل پیدا ہوگئے۔ کتاب کے تیسرے صفحہ پر عنوان کے نیچے یہ تحریر درج ہے:
’’یعنی مرزا غالب کے خطوط سے انھیں کے لفظوں میں ترتیب دی ہوئی مکمل سوانح حیات جس کا ہر لفظ مستند ہے۔‘‘ 1؎
کتاب کے عنوان سے ہی غالب کی سوانح حیات ہونے کی تصدیق ہوتی ہے۔ لیکن اس کے نیچے درج تحریر سے پوری طرح واضح ہوجاتا ہے کہ غالب کی مکمل سوانح پیش کرنے میں نثار احمد فاروقی نے غالب کے خطوط کو ہی ماخذ کے طور پر استعمال کیا ہے اور ان خطوط کی مدد سے ہی غالب کی سوانح قارئین کے سامنے پیش کی ہے۔ یہ معاملہ بذات خود دلچسپ ہے کہ غالب کی آپ بیتی ان ہی کی زبانی پڑھنے کو مل رہی ہے۔ نثار احمد فاروقی بھی کتاب کی اہمیت سے واقف تھے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’غالب کی آپ بیتی، 1969 میں وفات غالب کی صد سالہ یادگار کے موقعے پر خود مرزا غالب کی متفرق تحریروں کی مدد سے مرتب کرکے شائع کی گئی تھی۔ اسے دلچسپ تو ہونا ہی تھا اس لیے کہ ان الفاظ کے پردے میں خود غالب بول رہے ہیں۔‘‘ 2؎
عرصہ ہوا ’غالب کی آپ بیتی‘ کا پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا تھا۔ غالب انسٹی ٹیوٹ نے 1997 میں غالب کے دو صد سالہ تقریبات کے موقع پر اسے دوبارہ شائع کیا ہے۔ 1997 میں غالب انسٹی ٹیوٹ کی پبلی کیشن کمیٹی کے چیئرمین سید مظفر حسین برنی تھے۔ ’غالب کی آپ بیتی‘ کے دوسرے ایڈیشن میں ان کا پیش لفظ بھی شامل ہے۔ انھوں نے اس کتاب پر گفتگو کرتے ہوئے اسے پہلی بار رسالہ نقوش لاہور کے آپ بیتی نمبر (1994) کے لیے مرتب کیا گیا بتایا ہے۔ مجھے لگتاہے کہ سید مظفر حسین برنی نے اسے 1964 ہی لکھا ہوگا لیکن کاتب کی غلطی کی وجہ سے 1994 چھپ گیا ہے۔
نثار احمد فاروقی کو غالب کے خطوط کی مدد سے ان کی سوانح تیار کرنے کا خیال کہاں سے آیا؟ اس کے متعلق انھوں نے بڑی ایمانداری سے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ:
’’عرصہ ہوا میں نے رسالہ ’آج کل‘ دہلی میں جناب محمد عتیق صدیقی کا ایک مضمون پڑھا تھا جس میں غالب کی زندگی کے حالات اس کے خطوط کی عبارتوں کو جوڑ کر بیان کیے گئے تھے۔ یہ خیال مجھے پسند آیاا ور جب 1963 میں نقوش (لاہور) نے آپ بیتی نمبر کے لیے مضامین کا مطالبہ کیا تو میں نے غالب کے اردو خطوط کی مدد سے ایک مفصل آپ بیتی تیارکرکے بھیج دی جسے عام طور پر بہت پسند کیا گیا۔3؎
نثار احمد فاروقی غالب کو ایک شاعر کی حیثیت سے تو دیکھتے ہی ہیں ساتھ ہی انھوں نے غالب کو ایک تہذیبی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’پروفیسر رشید احمد صدیقی نے بالکل صحیح کہا ہے کہ مغلوں نے ہندوستان کو تین چیزیں دی ہیں: تاج محل، اردو اور غالب۔ یہ تینوں ایک ہی تہذیبی وحدت کے مختلف مظاہر ہیں۔ تاج محل کے سنگ و خشت کو اگر لفظ و بیان میں تحلیل کردیا جائے تو وہ غالب کی شاعری سے مختلف کوئی شئے نہیں ہوگی اور غالب کی شاعری اردو میں اظہار و ادا کے امکانات کا سب سے حسین، توانااور دلکش مظہر ہے۔‘‘ 4؎
شاعری کی طرح غالب کے خطوط کی اہمیت بھی مسلم ہے۔ کہا جاتاہے کہ اگر غالب نے صرف خطوط ہی لکھے ہوتے تب بھی غالب کا نام ہمیشہ اردو دنیامیں زندہ رہتا۔ غالب کے خطوط کا زیادہ تر حصہ 1857 کے بعد کا ملتا ہے۔ چونکہ اس وقت جنگ آزادی کی ناکام کوشش کے عوض میں انگریزوں نے بہت سے ہندوستانیوں کو قتل کردیا اور بہت سے لوگوں کو شہربدر کردیا۔ شعر و شاعری کی محفلیں بھی اجاڑ دی گئی تھیں۔ ایسے ماحول میں غالب بھی تنہا رہ گئے تھے۔ ان کے بھی بیشتر عزیز و اقارب 1857 کے ہنگامے میں کام آگئے یا دلّی چھوڑ کر کسی دوسرے شہر کی راہ لی۔ غالب نے اپنی تنہائی کو کاٹنے اور وقت بتانے کے لیے دوستوں اور شاگردوں کو خطوط لکھنے شروع کیے جس میں اس وقت کے حالات کے ساتھ ساتھ غالب کی اندرونی کیفیت،اس کی جذباتیت اور لوگوں سے اس کے مراسم پر بھی روشنی پڑتی ہے۔ نثار احمد فاروقی لکھتے ہیں:
’’شاعری کی طرح اس کے خطوط بھی ایک معمولی انسان کی غیرمعمولی سرگذشت ہیں۔ آج سے ایک صدی پہلے کے سماج میں ایک نابغہ (Genius) کی طرح بسر کرتا تھا۔ اس کے مشاغل، مصروفیات، آرزوئیں، ولولے، حوصلے، ناکامیاں، جھوٹی تسلی، مصائب اور مکارِہ، کس طرح اسے چاروں طرف سے اپنے نرغے میں لیے ہوئے تھے، وہ کیسا شاعر تھا، کیسا مفکر تھا، یہی نہیں ایک استاد ایک شوہر ایک ہمسایہ ایک درباری اور ایک د وست کی حیثیت سے وہ کیا تھا، کتنا بلند اور گھٹیا تھا، کیسا خوشامدی اور خوددار تھا۔ یہ سب رنگارنگ جلوے اس کے خطوں میں ملیں گے، جن کا ہر فقرہ جہان معنی ہوگا، ہر لفظ عالم کیفیات لیے ہوگا۔ غالب کے سوا نہ دوسرے شاعر کے اتنے اور ایسے خطوط ملتے ہیں، نہ اتنی سحرکار شخصیت سے ہم کہیں دوچار ہوتے ہیں۔‘‘ 5؎
نثار احمد فاروقی نے غالب کے اردو خطوط کی تعداد کا بھی ذکر کیا ہے۔ خطوط غالب مرتبہ مہر میں:
1848] سے[ 1851 تک فی سال ایک خط ملتاہے، 1852 کے پانچ، 1853 کے سات، 1854 کے پانچ اور 1856-57 کے تین تین خط ملتے ہیں۔ 1858 سے 1868 تک صرف دس سال کا وقفہ ایسا ہے جس میں اردو خطوط کی تعداد چار سو سے زائد ہے۔ یہی زمانہ ہے جب غالب نے زیادہ تر اردو نثر میں لکھا ہے اور اپنی زندگی کی شب و روز کی جزئیات تک قلم بند کردی ہیں۔‘‘ 6؎
نثار احمد فاروقی نے ان تمام اردو خطوط کا مطالعہ کرنے کے بعد بڑی محنت سے خطوط کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے سے جوڑ کر غالب کی سوانح تیار کی ہے۔انھوں نے اسے تیار کرتے ہوئے متعدد ذیلی عنوانات کا سہارا لیا ہے۔متعدد خطوط کا مطالعہ کر کے ان میں سے کسی موضوع کے تحت کی جانے والی گفتگو کو صحیح ترتیب سے بٹھانا بھی ایک دشوار ترین اور تحقیقی عمل ہے۔ چند اقتباسات ملاحظہ کریں:
کہتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
خاندان کے متعلق لکھتے ہیں:
میں اسداللہ خاں عرف مرزا نوشہ، غالب تخلص، قوم کا ترک سلجوقی ہوں… میرا دادا قوقان بیگ خاں ماوراء النہر سے شاہ عالم کے وقت سمرقند سے ہندوستان آیا۔ سلطنت ضعیف ہو گئی تھی، صرف پچاس گھوڑے، نقّارہ و نشان سے شاہ عالم کا نوکر ہوا۔… باپ میرا عبداللہ بیگ خاں … راؤ راجابختاور سنگھ کا نوکر ہوا۔ وہاں کسی لڑائی میں بڑی بہادری سے مارا گیا۔ …نصر اللہ بیگ خاں میرا حقیقی چچا مرہٹوں کی طرف سے اکبرآباد کا صوبہ دار تھا۔ اس نے مجھے پالا۔7؎
اپنی پیدائش کے سلسلے میں لکھتے ہیں:
عالم دو ہیں: عالم ارواح اور عالمِ آب و گِل… ہر چند قاعدہ عام یہ ہے کہ عالمِ آب و گل کے مجرم عالمِ ارواح میں سزا پاتے ہیں، لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالمِ ارواح کے گنہ گار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں۔ چنانچہ میں آٹھویں رجب ۱۲۱۲ھ (۲۷ دسمبر ۱۷۹۷۔ یک شنبہ) میں روبکاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا۔8؎
اولاد کے متعلق رقم طراز ہیں:
میں لم یلد و لم یولد ہوں۔ اکہتر برس کی عمر تک ساتھ بچّے پیدا ہوئے، لڑکے بھی لڑکیاں بھی اور کسی کی عمر پندرہ مہینے سے زیادہ نہ ہوئی۔9؎
مکان کے سلسلے میں لکھتے ہیں:
میں کالے صاحب کے مکان سے اُٹھ آیا ہوں، مارچ 1852 سے بلی ماروں کے محلے میں ایک حویلی کرائے کو لے کر اُس میں رہتا ہوں۔ وہاں کا میرا رہنا تخفیف کرائے کے واسطے نہ تھا۔ صرف کالے صاحب کی محبت سے رہتا تھا۔ 10؎
مزید لکھتے ہیں:
میرا مکان گھر کا نہیں ہے۔ کرائے کی حویلی میں رہتا ہوں۔ جولائی 1864سے مینہ شروع ہوا۔ شہر میں سیکڑوں مکان گرے اور مینہ کی نئی صورت، دن میں دو چار بار برسے اور ہر بار اس زور سے کہ ندی نالے بہہ نکلیں۔ بالا خانے کا دالان جو میرے اُٹھنے بیٹھنے، سونے جاگنے، مرنے جینے کا محل ہے، اگر چہ گرا نہیں لیکن چھت چھلنی ہو گئی۔ مالک مرمّت کی طرف توجہ نہیں دیتا۔ کشتی نوح میں تین مہینے رہنے کا اتفاق ہوا۔
دیوان خانے کا حال محل سرا سے بدتر ہے۔ میں مرنے سے نہیں ڈرتا، فقدانِ راحت سے گھبراتا ہوں۔ چھت چھلنی ہے۔ ابر دو گھنٹے برسے تو چھت چار گھنٹے برستی ہے۔11؎
اتنی محنت اور وقت صرف کرنے کے بعد بھی نثار احمد فاروقی اس سوانح حیات کو مختصر اور تشنہ قرار دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ غالب جیسے عظیم شاعر کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنے کی چاہت تشنگی کا احساس دلاتی ہے۔ ایسی صورت میں جب کہ غالب کی سوانح خود اس کے خطوط سے ہی تیار کی گئی ہو تو یہ طلب اور بھی بڑھ جاتی ہے:
آواز پہ مرتا ہوں ہر چند سر اڑجائے
جلاد سے لیکن وہ کہے جائیں کہ ہاں اور
حوالے:
1؎ غالب کی آپ بیتی، ص 3
2؎ نثار احمد فاروقی، دیباچہ طبع ثانی، ص 7
3؎ نثار احمد فاروقی، عرض بساط، غالب کی آپ بیتی، ص 11-12
4؎ ایضاً، ص9
5؎ ایضاً، ص 10
6؎ ایضاً،ص 11
7؎ ایضاً، ص13-14
8؎ ایضاً، ص14
9؎ ایضاً، ص52
10؎ ایضاً، ص51
11؎ ایضاً، ص51-52
ثاقب عمران
گیسٹ ٹیچر، شعبۂ اردو
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی۔۱۱۰۰۲۵
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

