سوال :
میرا ایک دوست ایک مٹھائی خرید کر لایا ، جس کی قیمت بارہ سو (1200) روپے کلو تھی _ اتنا مہنگا ہونے کی وجہ یہ تھی کہ اس میں خالص سونے (24 قیراط) کا ورق استعمال کیا گیا تھا _
یہ تو معلوم ہے کہ سونے کی چیزیں مَردوں کے لیے پہننا حرام ہے _ لیکن کیا سونا کھانا جائز ہے؟
براہ کرم اس کی وضاحت فرمادیں _
جواب :
اسلامی شریعت میں سونے کے زیورات کا استعمال عورتوں کے لیے حلال اور مردوں کے لیے حرام ہے _ ( ترمذی :1720) اسی طرح سونے چاندی کے برتنوں کے استعمال سے بھی منع کیا گیا ہے _ (بخاری :5634 ،مسلم : 2065)
سونے چاندی کا استعمال دواؤں میں زمانۂ قدیم سے ہوتا آیا ہے _ چنانچہ طبِ یونانی میں کشتۂ طلا (سونے کا کشتہ) ، کشتۂ نقرہ (چاندی کا کشتہ) ، ورق طلا ، ورق نقرہ وغیرہ کا استعمال عام ہے اور مختلف امراض کے علاج میں یہ دوائیں بہت مؤثر پائی گئی ہیں _ دیگر طریقہ ہائے علاج میں بھی ان کا استعمال ہوتا ہے _ یوں بھی کشتہ بنانے میں ماہیت تبدیل ہوجاتی ہے اور کسی حرام چیز کی ماہیت تبدیل ہوجائے تو وہ حلال ہوجاتی ہے _ ورق کے استعمال کی صورت میں ماہیت تبدیل نہ ہو تو بھی بہ طور علاج ان کا استعمال جائز ہے _
آج کل کھانے کی چیزوں میں سونے چاندی کا استعمال ہونے لگا ہے ، چنانچہ مٹھائیوں پر ان کا ورق لگایا جاتا ہے _ اس طرح انہیں مہنگے داموں میں بیچا جاتا ہے _ کیا جن مٹھائیوں پر سونے کا ورق لگایا گیا ہو انھیں کھانا جائز ہے؟ فقہاء نے اس سوال پر غور کیا تو انھوں نے جواز کی رائے دی ہے ، اگرچہ وجہِ جواز انھوں نے الگ الگ بیان کی ہے _ (یہ بھی پڑھیں کیا بیوی سے جھوٹ بولنا جائز ہے؟ – ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی)
بعض فتووں میں کہا گیا ہے کہ مٹھائیوں میں استعمال ہونے والا سونا حقیقی نہیں ہوتا ۔ یہ بات درست نہیں ہے ۔ ان میں خالص سونے کے اوراق استعمال ہی کیے جاتے ہیں _
بعض اصحابِ افتا نے کہا ہے کہ اگر کھانے کی چیز میں سونے کی اتنی قلیل مقدار ہو کہ اسے آگ پر تپایا جائے تو سونے کی شکل میں کچھ نہ نکلے ، ایسی صورت میں اس چیز کے استعمال میں حرج نہیں ہے ، لیکن اگر استعمال کردہ سونے کی مقدار اتنی ہو کہ اسے آگ پر تپایا جائے تو کچھ سونا حاصل ہوجائے ، ایسی صورت میں اس کا استعمال جائز نہیں ہے _
سونے کی انتہائی قلیل مقدار ہی مٹھائیوں میں استعمال کی جاسکتی ہے ، اس لیے کہ اس کی زیادہ مقدار نہ صرف یہ کہ ہضم نہیں ہو سکتی ، بلکہ اس سے متعدد امراض لاحق ہونے کا قوی اندیشہ رہتا ہے _ اس لیے میری رائے میں سونے کی اتنی قلیل مقدار کے ساتھ مٹھائی کا استعمال جائز ہے _
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

